بدھ, ستمبر 20, 2017

آخر بریلویوں کے ہاں جہاد فرض ہو ہی گیا

آخر بریلویوں کے ہاں جہاد فرض ہو ہی گیا


 برما میں مسلمانوں پر جو ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے اس پر ہر مسلمان خون کے آنسو رو رہا ہے کچھ دن پہلے بریلوی مسلک کے اشرف آصف جلالی بریلوی کامنی کے مقام سے امت مسلمہ پر جہاد کی فرضیت کا فتوی جاری ہوا تھااس بیان کا آنا تھا کہ اب ہر بریلوی میلاد و حلوے کی جگہ جہاد جہاد کی رٹ لگائے ہوئے ہے ۔ اس مختصر بیان میں اگرچہ جگہ جگہ انہوں نے اپنے مسلک کا خون کیالیکن ہم نے امت مسلمہ کے عظیم تر مفاد میں خاموشی اختیار کی اور اس انتظار میں تھے کہ ممتاز قادری کے نام پر پیٹ کا دھندا چلانے والے
 نام نہاد امیر المجاہدین خادم حسین رضوی صاحب ا ب گالیوں کی لڑائی سے نکل کر حقیقت میں میدان کارساز میں قدم رکھ کر ایک جماعت برما کی طرف روانہ کریں گے ۔مگر یہ دیکھ کر افسوس ہوا کہ سوشل میڈیا پر مفت کے بیانات جاری کرکے پاک فوج کو غیرت دلائی جارہی ہے کہ تم جہاد کیلئے نکلو ۔وزیر اعظم پاکستان کو للکارا جارہا ہے کہ کوئی قدم اٹھاؤایک مراثی صاحب جو اپنے فن میں کمال رکھتے ہیں آواز کے اتار چڑھاؤ اور ریڈی میڈ آنسوؤں کے ساتھ ایک مخصوص پیج سے مسلسل فوج کو غیرت دلارہے ہیں کہ کوئی ایسا کام کردو کہ رب کے سامنے سرخرو ہوجاؤ۔ان صاحب سے ہماری پہلی گزارش تو یہ ہے کہ کل تک تو جہاد دہشت گردی تھا ،خارجیت تھی،کل تک تو آپ درود والے تھے نہ کہ بارود والے تو آخر کونسی ایسی آفت آپڑی کہ جہاد فرض ہوچکا؟برما میں جو کچھ ظلم ہورہا ہے کیا اس سے پہلے چیچنیا ،فلسطین،شام ،افغانستان ، کشمیر ،عراق میں یہ سب کچھ نہیں ہوتا رہا ؟ اس سے پہلے تو وہاں جہاد کرنے والے سب دہشت گرد و خارجی تھے تو آخر وہ کونسا نیا ظلم ہے جو برما میں تو ہورہا ہے لیکن دیگر ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ نہیں ہورہا؟کیا افغانستان ،کشمیر ،چیچنیا ،فلسطین ،عراق ،شام میں شہروں کے شہر ملیا میٹ نہیں ہوئے ؟ کیا وہاں عورتوں کی عزتیں نہیں لوٹی گئیں؟ کیا وہاں مسلمانوں کو ذبح نہیں کیا گیا؟میرے سامنے شام کا وہ منظر آج بھی ہے کہ جب ایک مسلمان کو کہا جارہا ہے کہ بشار کو رب کہو مگر اس نے انکار کردیا اور اسی حالت میں زندہ اسے دفن کردیا گیا ۔۔۔میرے سامنے شام کا وہ منظر بھی ہے جس میں نصیری فوج وہاں کے علماء کی داڑھیاں اپنے ناپاک ہاتھوں سے نوچ کر ہنسی مذاق کررہے ہیں لیکن تم وہ بدبخت قوم ہو کہ شام میں ہونے والے ظلم کی حمایت میں بشار الاسد کے حق میں اور شامی مجاہدین کے خلاف مضمون لکھنے لگے جس کا جواب الجواب راقم نے دیا جو دوماہی نور سنت میں شائع بھی ہوا او ر آج بھی نیٹ پر موجود ہوکر تمہارے سیاہ ماضی کی گواہی دے رہی ہے۔آخر اس وقت جہاد دہشت گردی کیوں تھا اور آج عین ایمان کیوں؟ دوسری بات ان جاہلوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ جہاد جب فرض ہوچکا ہوتا ہے تو اس وقت فوج کی طرف نہیں دیکھاجاتا سرکاری فوج کے آسرے پر تو شاید یہ جہاد قیامت کی صبح تک نہ ہو پچھلے دنوں میڈیا پر خبر آئی کہ برما جانے والے ’’چند دہشت گردوں‘‘ کو گرفتار کرلیا گیا ہے تو آخر ایسی صورت میں اس فوج سے کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟آپ فوج و حکومت سے تو گلا کررہے ہیں کہ برما میں ہماری ماؤں ،بہنوں کی بوٹیاں نوچی جارہی ہیں اور تم یہاں قربانی کا گوشت نوچ رہے ہو ،کل قیامت کے دن اللہ کو کیا منہ دکھاؤ گے ؟سوال یہ ہے کہ ان میں سے کونسا کام ہے جوآپ نہیں کررہے ہیں؟بلکہ اس معاملے میں فوج آپ سے ایک قدم آگے ہے کہ وہ مراثی تو نہیں آپ کے مراثی پن سے تو یوٹیوب بھرا پڑا ہے ۔ان جاہلوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ جب جہاد فرض عین ہوچکا ہوتا ہے تو اس وقت سرکاری فوج کی طرف نہیں دیکھاجاتا جس طرح نماز فرض عین ہے صرف فوج پر پڑھنا لازمی نہیں ہر مسلمان پر فرض ہے اسی طرح جہاد فرض عین ہر مسلمان پر فرض ہے حتی کہ بیٹا ماں باپ کی اجازت کے بغیر اور غلام آقا کی اجازت کے بغیر میدان جہاد میں جائے گا اس بحث سے ہماری کتب فقہ بھری پڑی ہیں لیکن ان ظالموں نے ساری زندگی کتب میں فضائل حلوہ، و پراٹھا ہی تلاش کیا ہے انہیں کیا خبر کہ جہاد کیا ہے ؟ لہذا انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ فیس بک پر چیخنے چلانے کے بجائے عملی میدان میں نکلیں جس طرح علمائے دیوبند نکلے ہوئے ہیں میڈ ان چائنا کے امیر المجاہدین کو کہیں کہ بنفس نفیس میدان جہاد میں چلیں وہ اگر نہیں جاسکتے تو اشرف آصف جلالی کو نکالیں واللہ آپ کی سربراہی میں ہم آپ کے شانہ بشانہ نہ صرف برمابلکہ دنیا کے جس کونے میں تشکیل کریں ہم جانے کو تیار ہیں،بصورت دیگر ہم یہ کہنے پر مجبور ہوں گے کہ، بدعتیو نہیں نشیمن تمہارا جہاد کے میدانوں میں تم حلوہ خور ہو بسیرا کرو حلوے کی دکانوں میں کتبہ

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔