اتوار، 17 دسمبر، 2017

ایمان والدین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وضاحت





( ایمان والدین مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق وضاحت ))
یہ تحقیقی مضمون استاذ محترم کی کتاب "آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے " کا عرض مولف ہے۔
عرض مولف
قارئین کرام ! اللہ تعالی نے اس امت کو ’’امۃ وسطا‘‘ کا لقب دیا لہذا اس امت کا طرہ امتیاز ہی یہ ٹھرا کہ یہ امت محمدیہ ﷺ افراط و تفریط سے پاک ہے ۔جبکہ اس کے مقابلے میں پیدا ہونے والے گمرا ہ گروہ ہمیشہ یا تو افراط یاپھر تفریط کاشکار رہے ہیں۔ہمارے مخالفین یہاں اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کرلیں کہ ہمیں اختلاف سے انکار نہیں ،اگر یہ اختلاف اخلاصِ نیت و للٰہیت کی بنیاد پر ہو تو محمود ہے اور اگر ضد،تعصب وذاتیات پر مبنی ہو تو مذموم ہے ۔
بدقسمتی سے اہل بدعت کا اہل حق کے ساتھ اختلاف بھی کچھ اسی قسم کے مذموم اختلاف کی قبیل سے ہے ۔ہمارے دیار کے اہل بدعت کا ایک عجیب مزاج بن چکا ہے کہ جب تک یہ لوگ اختلاف کی آڑ میں اہل السنۃ والجماعۃ کی تکفیر و تضلیل نہ کرلیں ،ان پر سب و شتم نہ کرلیں انہیں کسی پل سکون ہی نہیں ملتا۔ان ظالموں کے نزدیک دین کی سب سے بڑی خدمت بس یہی رہ گئی ہے کہ کسی طرح امت مسلمہ کی اس عظیم جماعت حقہ کی تکفیر و تضلیل ثابت کردی جائے معاذاللہ من سوء الفہم۔
اس گروہ باطلہ کے حکیم الامت مولوی منظور اوجھیانوی المعروف مفتی احمد یار گجراتی متوفی ۱۳۹۱ ؁ھ کی مندرجہ ذیل عبارت سے اس گروہ کی نفسیاتی کیفیت کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے موصوف رقمطراز ہیں :
’’اگر اس زمانہ میں دیوبندیوں وہابیوں کو چڑانے کیلئے یہ نام (یعنی عبد النبی وغیرہ)رکھے تو باعث ثواب ہے ‘‘۔
(جاء الحق ،ص۳۳۷ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور)
گویا اس گروہ کے ہاں ثواب کام ہی اہل حق کو چڑانا ہے ۔بہرحال اہل بدعت نے جہاں دیگر کئی عقائد و اعمال میں افراط و تفریط کا مظاہرہ کیا وہاں نبی اکرم ﷺ کے والدین کریمین طیبیین طاہرین اعلی اللہ مقامھما کے بارے میں بھی یہ حضرات شدید افراط کا شکار ہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اس مسئلہ میں متقدمین و متاخرین علماء کا اختلاف رہاہے ۔ چنانچہ متقدمین علماء کا موقف یہ ہے کہ ان حضرات کی موت حالت کفر پر ہوئی اور اس باب میں وہ قرآن و حدیث کے ظاہر سے تمسک کرتے ہیں ۔جبکہ علامہ سیوطی ؒ متوفی ۹۱۱ ؁ھ اور ان کی اتباع میں بعد کے(چند) متاخرین علماء کا موقف یہ ہے کہ یہ مبارک ہستیاں مسلمان تھیں یا تو اہل فطرۃ ہونے کی وجہ سے یا ان کی موت تو کفر پر ہوئی لیکن اللہ تعالی نے نبی کریم ﷺ کے اعزاز میں ان کو دوبارہ زندہ فرمایا اور یہ آپ ﷺ پر ایمان لائے۔اس پر وہ ایک ضعیف حدیث سے استدلال اور قرآن و حدیث کے ظاہر میں تاویلات کرتے ہیں۔
ٍ بہرحال دونوں فریقین کے اخلاص پر کسی قسم کا شک و شبہ نہیں ہوسکتا دونوں طرف جلیل القدر علماء و اساطین علم ہیں و للناس فیما یعشقون مذاھب کے مصداق جس کو جس کی تحقیق پر اطمینان و اعتماد ہو عمل کرے۔خود فریق مخالف کے غزالی و رازی دوراں احمد سعید کاظمی صاحب متوفی۱۴۰۶ ؁ھ بھی اس اختلاف کو تسلیم کرتے ہوئے کہتے ہیں:
’’علامہ کاظمی نے مکرر فرمایاکہ مولانا فرمائے حضور ﷺ کے والدین ماجدین کے ایمان یا عدم ایمان کسی آیت قرآنیہ میں مصرح ہے یا نہیں؟ لیکن مولانا آف گوجرہ صاحب ایسے مبہوت ہوئے کہ نفی یا اثبات میں کوئی جواب ان سے نہ بن پڑا بالآخر علامہ کاظمی نے فرمایا مولانا میں دعوی سے کہتا ہوں کہ یہ مسئلہ کبھی نص قطعی میں منصوص و مصرح نہیں اور ظاہر ہے کہ جو مسئلہ منصوص قطعی نہ ہو وہ ظنی اور کبھی مجتہد فیہ ہوتا ہے اسی وجہ سے علمائے امت نے قرآن و حدیث میں غور و تدبر کیا اور اجتہاد فرمایا اجتہادی مسائل میں عموما اختلاف واقع ہوجاتا ہے اس لئے یہ مسئلہ بھی مختلف فیہ بین العلماء ہوگیا بعض نے عدم ایمان کا قول کیا بعض نے سکوت کو اولی سمجھا چونکہ تینوں قول بر بنائے اجتہاد ہیں اس لئے کسی قائل کی تضلیل و تفسیق نہیں ہوسکتی ۔اگر محض رشتہ داری ہمارے نزدیک دلیل ایمان ہوتی تو ہمارے آئمہ اہل سنت کو اجتہاد کی ضرورت ہی واقع نہ ہوتی جس طرح آپ حضرات نے محض رشتہ داری کو دلیل ایمان سمجھا ہوا ہے لیکن چونکہ اصل دین سے اس مسئلہ کو تعلق نہیں اس لئے ہمارے نزدیک یہ فروعی مسائل سے ہے ‘‘۔
(روئیداد تاریخی مباحثہ ،ص۱۰،نعمان اکاڈمی جہانیاں منڈی)
علامہ کاظمی صاحب اس مسئلہ کو فروعی مسائل میں سے قرار دے رہے ہیں اور اس کی بنیاد پر کسی کی تضلیل و تفسیق کے بھی قائل نہیں گستاخِ رسول ﷺ کا فتوی یا تکفیر تو بہت بعد کی چیز ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے والدین کو مومن نہ ماننے پر گستاخی کا فتوی اس مناظرے میں شیعہ نے اہل بدعت پر لگایا اب موجودہ دور کے اہل بدعت خود ہی اپنی اداؤں پر غور کریں کہ ان کا طرز عمل کس کی چغلی کھارہا ہے؟۔
مفتی احمد یار گجراتی صاحب اس مسئلہ کی نوعیت کے متعلق لکھتے ہیں:
’’اس مسئلہ میں چار قول ہیں ۔ایک یہ کہ دونوں حضرات زندگی میں مومن تھے نہ موت کے وقت اور نہ اب یہ قول ملا علی قاری وغیرہ کا ہے ۔دوسرے یہ کہ اس میں خاموشی چاہئے ان کا حال رب جانے۔تیسرے یہ کہ دونوں حضرات بروقت موت تو ایمان پر نہ تھے لیکن اب مومن ہیں ۔چوتھے یہ کہ وہ زندگی میں مومن موحد تھے بروقت وفات بھی توحید پر قائم رہے اور اب وہ دین اسلام پر ہیں‘‘۔(تفسیر نعیمی :۱/۵۹۷)
فریق مخالف کے علامہ زماں مولانا غلام رسول گوہر لکھتے ہیں:
’’حضور نبی اکرم علیہ الصلوۃ والسلام کے والدین کی بحث بلحاظ ان کے ایمان کے قدیما و حدیثا مختلف فیہ ہے اس موضوع میں علماء متقدمین ومتاخرین نے بہت اختلاف کیا ہے‘‘۔(نور الہدی :ص۴۷۱)
اس مسئلہ کی نوعیت کے متعلق فریق مخالف کے معتمد مفسر علامہ اسمعیل حقیؒ فرماتے ہیں :
’’اعلم ان السلف اختلفوا فی ان ابوی النبی ﷺ ھل ماتا علی الکفر اولا ‘‘۔
(روح البیان :۱/۲۱۶)
جان لیجئے کہ سلف میں اس مسئلہ میں اختلاف ہوا ہے کہ آیا نبی کریم ﷺ کے والدین کی موت حالت کفر پر ہوئی یا ایمان پر؟۔
امام ابن جریر طبری ؒ ،شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ ،امام رازی ؒ ،امام بیہقی ؒ وغیرھم نے تو نبی کریم ﷺ کے والدین کا حالت کفر پر مرنے کو کھل کر بیان کیا بلکہ ملا علی قاری حنفی ؒ نے تو اس پر باقاعدہ ایک پوری کتاب ’’معتقد ابی حنیفۃ فی ابوی الرسول‘‘ کے نام سے لکھی ۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی ؒ نے برملا اس بات کا اعلان کیا کہ نبی اکرم ﷺ کے والدین کے ایمان کا مسئلہ متاخرین علماء پر منکشف ہوا ہے:
’’ولعمری ایں علمیت کہ حق تعالی سبحانہ مخصوص گردانید بایں متاخرین را یعنی علم آنکہ آبا ء و اجداد شریف آنحضرت ﷺ ھمہ بردیں توحید و اسلام بود ہ اند و از کلام متقدمین لائح میگرد و کلمات برخلاف آن
(اشعۃ اللمعا ت :۴/۴۹۱)
ترجمہ: مجھے میرے خالق زیست کی قسم ہے کہ اسکے علم کے ساتھ یعنی آپ ﷺ کے آباو اجداد کے توحید اور اسلام پر ہونے کے علم کے ساتھ حق تعالی نے متاخرین علماء کو مختص اور ممتاز ٹھرایا ہے جبکہ متقدمین علماء کے کلام میں اس کے خلاف کلمات ظاہر ہوتے ہیں۔
اسی طرح پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی ؒ متوفی ۱۳۵۶ ؁ھ فرماتے ہیں :
’’حضرت پیغمبر خدا احمد مجتبیٰ محمد مصطفی ﷺ کے والدین شریفین کے عدم اسلام کا علما ء متقدمین کو تو یقین واثق ہے اور متاخرین ابن حجر وغیرہ کا بھی یہی مسلک ہے مگر بعض متاخرین محققین اہل فقہ و حدیث نے اسلام ابوین شریفین حضرت رسول الثقلین ﷺ کو احادیث سے ثابت کیا ہے ۔۔۔۔۔۔ گویا کہ یہ علم متقدمین میں سے ایک گونہ پوشیدہ و مستور تھا اور متاخرین پر اللہ تعالی نے اس کو کھو ل دیا ‘‘۔ (فتاوی مہریہ :ص،۱۶،۱۷)
گویا بقول شیخ ؒ و پیر صاحبؒ متقدمین میں تمام علماء کا نظریہ عد م ایمان ہی کا تھا یہی وجہ ہے کہ ملا علی قاری حنفی ؒ نے اس مسئلہ میں متقدمین کا اجماع لکھا ہے (معتقد ابی حنیفہ،ص۸۴)
ملا علی قاری ؒ کی اسی بات کو ایک بدعتی نے یوں نقل کیا:
’’یہاں یہ بات بھی سامنے رہنی چاہئے کہ ملا علی قاری نے اپنے رسالے میں بار بار کفر پر اجماع کا دعوی کیا ہے ان کے الفاظ یہ ہیں :واما الاجماع فقد اتفق السلف والخلف من الصحابۃ والتابعین والائمۃ الاربعۃ و سائر المجتہدین علی ذالک (ادلۃ معتقد ابی حنیفہ :۱) رہا معاملہ اجماع کا تو اس پر تمام سلف و خلف متفق ہیں خواہ صحابہ ہوں یا تابعین آئمہ ہوں یا دیگر مجتہدین ‘‘۔
(مجموعہ رسائل ایمان والدین مصطفی :ص۳۳،حجاز پبلی کیشنز لاہور)
مگر چونکہ بعد والے علماء نے اس مسئلہ میں اختلاف کیا لہذا علمائے اہل السنۃ والجماعۃ دیوبند جو افراط و تفریط سے پاک ہیں نے کمال احتیاط کرتے ہوئے اس مسئلہ میں توقف و سکوت اختیار کیا چنانچہ مفتی محمود الحسن گنگوہی ؒ متوفی ۱۴۱۷ ؁ھ لکھتے ہیں:
’’حق مذہب یہ ہے کہ اس مسئلہ میں نیز اس قسم کے دوسرے مسائل میں کنج و کاؤ کرنا مفید نہیں بلکہ کسی حد تک مضر ہے لہذا توقف و سکوت بہتر ہے ‘‘۔ (فتاوی محمودیہ :۱/۴۰۷)
حکیم الامت مجدد دین و ملت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب ؒ متوفی۱۳۶۲ ؁ھ لکھتے ہیں:
’’جناب رسول اللہﷺ کے والدین کی نسبت علماء کا اختلاف ہے ا س میں توقف کرنا چاہئے کیونکہ نہ تو یہ عقائد میں داخل ہے اور نہ جز و ایمان ہے اگر مومن ہیں تو ان کو کافر کہنا جائز نہیں اور اسی طرح اس کا عکس بھی جائز نہیں ‘‘۔(امداد الفتاوی :۵/۳۸۸ وجامع الفتاوی :۱/۸۴)
حضرت خیر محمد جالندھری صاحب ؒ متوفی ۱۳۹۰ ؁ھ لکھتے ہیں :
’’حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد کافر تھے اور آزر کے نام سے مشہور تھے روایا ت میں ہے کہ ان کا انتقال کفر پر ہوا ۔حضور ﷺ کے والدین کے بارے میں بعض روایات میں یہ بھی آتا ہے کہ اللہ تعالی نے ان کو زندہ کیا تھا اور وہ آنحضر ت ﷺ پر ایمان لائے تھے مگر اہل السنۃ والجماعۃ کا مسلک یہ ہے کہ ایسے مسائل میں الجھنا اور بحث کرنا جائز نہیں ‘‘۔
(خیر الفتاوی :۱/۳۲۳)
اسی مسئلہ سے متعلق ایک سوال فقیہ العصر حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی ؒ متوفی ۱۳۲۳ ؁ھ کے پاس بھی آیا تو آپ نے جواب دیا :
’’حضرت ﷺ کے والدین کے ایمان میں اختلاف ہے حضرت امام صاحب کا مذہب یہ ہے کہ ان کا انتقال حالت کفر میں ہواہے ‘‘۔
( فتاوی رشیدیہ ،۲۴۶)
امام اعظم امام ابو حنیفہ ؒ کا یہی مذہب حضرت ملا علی قاری حنفی ؒ متوفی ۱۰۱۴ ؁ھ نے اپنی کتاب ’’معتقد ابی حنیفہ‘‘ میں لکھا یہ پورا رسالہ امام صاحب کے اسی قول کے ثبوت میں ہے ۔ اور شرح فقہ اکبر میں پر زور طریقے سے لکھتے ہیں:
’’و والدا رسول اللہ ﷺ ماتا علی الکفر ھذ رد علی من قال بان والدی رسول اللہ ﷺ ماتا علی الایمان و علی من قال ماتا علی الکفر ثم رسول اللہ ﷺ دعا لھما فاحیاھما و اسلما ثم ماتا علی الایمان ‘‘َ ۔(شرح فقہ الاکبر ،ص۳۱۰)
نبی کریم ﷺ کے والدین کی موت حالت کفر پر ہوئی امام صاحب کا یہ قول ان پر رد ہے جو کہتے ہیں کہ یہ حضرات ایمان کی حالت میں فوت ہوئے یا فوت تو حالت کفر میں ہوئے پھر رسول اللہ ﷺ کی دعا سے اللہ نے ان کو زندہ کیا اور پھر یہ آپ ﷺ پر ایمان لائے اور پھر فوت ہوئے۔
ملا علی قاری ؒ صرف اسی پر بس نہیں کرتے بلکہ بڑے زور و شور سے حنفیوں کو شرم دلاتے ہیں کہ وہ کس طرح حنفی ہوکر ائمہ مجتہدین کی تقلید اور پیروی چھوڑ کر ان متاخرین و غیر مجتہدین کی تقلید کو اختیار کررہے ہیں ؟
’’قال القاری :و ھل یحل لاحد من الحنفیۃ و غیرھم ان یقلدوا ھولآ ء المذکورین و یترکوا الاقتداء بائمتھم المعتبرین مع ظھور ادلۃ الجمہور من علماء الامۃ ‘‘۔(ادلۃ معتقد ابی حنیفہ ،ص۱۳۳)
ا مام اعظم ؒ کی طرف اسی قول کی نسبت علامہ شامی ؒ متوفی ۱۲۵۲ ؁ھ نے بھی کی ہے۔چنانچہ لکھتے ہیں:
’’احیاء الابوین بعد موتھما لا ینافی کون النکاح کان فی زمن الکفر لاینافی ایضا ماقالہ الامام فی فقہ الاکبر من ان والدیہ ﷺ ماتا علی الکفر ‘‘۔ (فتاوی شامی :۳/۱۸۴۔ باب نکاح الکافر)
اسی قول کی نسبت علامہ احمد شہاب الدین الازہری متوفی ۱۱۲۶ ؁ھ نے بھی اپنی کتاب میں ان الفاظ میں کی:
’’ابا حنیفۃ صرح فی الفقہ الاکبر بان ابوی النبی ﷺ ماتا علی الکفر ھو مبنی علی القول بوجوب المغفرۃ بالفعل ‘‘۔
(الفواکہ الدوانی علی رسالۃ ابن ابی زید القیروانی :۱/۲۹ ،دارالفکر بیروت )
علامہ بیہقی متوفی ۴۸۵ ؁ھ لکھتے ہیں:
’’ وکیف لایکون ابواہ وجدہ بھذہ الصفۃ فی الاخرۃ وکانوا یعبدون والوثنی حتی ماتوا ولم یدینوا دین عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام وامرھم لا یقدح فی نسب رسول اللہ ﷺ لان انکحۃ الکفار صحیحۃ الا تراھم یسلمون مع زوجاتھم فلا یلزمھم تجدید العقد ولا مفارقتھن اذا کان مثلہ یجوز فی الاسلام ‘‘۔(دلائل النبوۃ :۱/۱۹۲)
وہ لوگ یعنی آپ ﷺ کے والدین اور دادا کیسے اس حال میں نہ ہوں گے آخرت میں حالانکہ وہ لوگ بتوں کو پوجتے تھے یہاں تک کہ وہ ان کو پوجتے پوجتے ہی مرگئے تھے اور انہوں نے عیسیٰ علیہ السلام کا دین بھی قبول نہیں کیا تھا۔ان کا معاملہ رسول اللہ ﷺ کے نسب میں کوئی عیب پیدا نہیں کرتا اس لئے کہ کفار کے نکاح صحیح اور درست تھے کیا آپ دیکھتے نہیں کہ وہ لوگ اپنی بیویوں سمیت ایمان لائے مگر ان پر ان کے نکاحوں کی تجدید لازم نہ تھی نہ ہی ان سے مفارقت لازم کی گئی جب ایسی کیفیت ہو تو اسلام میں یہ جائز ہے۔
قریشی صاحب اینڈ کمپنی کا سب سے بڑا اشکال ہی یہی ہے کہ اگر انبیاء علیہم السلام کے والدین خصوصا آزر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا والد تسلیم کرلیا جائے تو انبیاء کے نسب کی طہارت باقی نہیں رہے گی امام بیہقی ؒ پر اللہ کی کروڑوں رحمتیں ہوں کہ انہوں نے اس اشکال کا جواب کئی سو سال پہلے ہی دے دیا۔مزید فرماتے ہیں:
’’وابواہ کانا مشرکین ‘‘نبی کریم ﷺ کے والدین مشرک تھے اس کے بعد مسلم کی وہ مشہور روایت پیش کرتے ہیں جو عدم ایمان والوں کا بنیادی مستدل ہے
(سنن الکبری:۷/۱۸۹ رقم الحدیث ۱۴۴۵۸، ۱۱۴۵۹)
امام رازیؒ متوفی ۶۰۳ ؁ھ فرماتے ہیں:
’’کان عالما بکفرھم وکان عالما بان الکافر معذب‘‘۔
(تفسیر کبیر:۴/۲۸،۲۹)
حضور ﷺ کو یہ بھی علم تھا کہ ان کے والدین مسلمان نہیں اور یہ بھی علم تھا کہ کافر کو جہنم میں عذاب ہوگا۔
امام ابن جریر طبری ؒ متوفی ۳۱۰ ؁ھ نے ایک اشکال پیش کیا کہ جب حضور ﷺ کو علم تھا کہ ان کے والدین مومن نہیں اور کافر معذب فی النار ہے پھر والدین کے بارے میں یہ پوچھنا کہ نہ معلوم وہ کس حال میں ہوں گے سمجھ سے باہر ہے تو امام ابن کثیر ؒ متوفی ۷۷۴ ؁ھ اس کا جواب دیتے ہیں:
’’لاحتمال ان ھذا کان فی حال استغفار لابویہ قبل ان یعلم امرھما فلما علم ذالک تبرأ منھما واخبرانھما من اھل النار کما ثبت ھذ فی الصحیح
(تفسیر ابن کثیر :۱/۴۰۵)
ممکن ہے یہ واقعہ اس وقت کا ہو جب آپ ﷺ اپنے والدین کیلئے استغفار کرتے تھے اور انجام معلوم نہ تھا پھر جب ان دونوں کی حالت معلوم ہوگئی تو آپ ﷺ اس سے ہٹ گئے اور بیزاری ظاہر فرمائی اور صاف بتادیا کہ وہ دونوں جہنمی ہیں جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہوچکا۔
علامہ حموی متوفی ۱۰۹۸ ؁ھ لکھتے ہیں:
’’اعلم ان السلف اختلفوا فی ابوی الرسول ﷺ ماتا علی الکفر ام لا فذھب الی الاول جمع منھم صاحب التفسیر‘‘۔
(شرح حموی :۳/۲۴۰)
جان لیجئے کہ سلف میں نبی کریم ﷺ کے والدین کے متعلق اختلاف ہوا ہے کہ آیا ان کی موت حالت کفرپر ہوئی یا ایمان پر سو پہلے قول کی طرف (یعنی ان کی موت حالت کفر پر ہوئی ) سلف کی ایک جم غفیر راغب ہے۔
مفسر عظیم امام ابن جریر طبری متوفی ۳۱۰ ؁ھ لکھتے ہیں:
’’اھل الشرک من اھل الجحیم ان ابویہ کانا منھم‘‘
(طبری :۲/۴۸۱)
اہل شرک اہل جہنم میں سے ہیں اور نبی کریم ﷺ کے والدین بھی انہی میں سے ہیں ۔
اب ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اگرحضرت گنگوہی ؒ کے اس فتوے سے کسی کو اختلاف تھاتو جیسے ان سے پہلے علماء نے اپنے اس اختلاف کو مدلل انداز میں ذکر کیا اور کہیں بھی متانت وسنجیدگی کا دامن نہیں چھوڑا اہل بدعت حضرات بھی اس روش کو اپناتے لیکن چونکہ یہ فتوی دینے والی ہستی اہل السنۃ دیوبند میں سے تھی لہذا دل کی بھڑاس نکالنے کا ایک اور موقع مل گیا اور بریلی کی کفر ساز مشن گن سے کفر کے گولے برسنے لگ گئے۔واللہ ہم اس مسئلہ کو کبھی نہ چھیڑتے اور علامہ شامی ؒ کی یہ نصیحت سر آنکھوں پر کہ :
’’ و لیست من المسائل التی یضر جھلھا او یسأل عنھا فی القبر او فی الموقف ‘‘(شامی :۳/۱۸۳)
یہ مسئلہ ان اساسی مسائل میں سے نہیں جس سے جہالت ضرر رساں ہو یا قبر و حشر میں اس سے متعلق کسی قسم کا سوال کیا جائے گا۔
مگر کیا کیا جائے کہ اہل بدعت نے ایک طوفان بدتمیزی کھڑا کیا ہواہے اور نام نہاد عشق رسول ﷺ کی آڑ میں امت کے جلیل القدر ائمہ کی تکفیر و تضلیل سے باز نہیں آرہے عوام کو یہ تاثر دے رہے ہیں کہ گویا ایسا عقیدہ رکھنے والا پکاکافر و گستاخ اور ملعون شخص ہے اور امت مسلمہ میں یہ نظریہ سوائے علمائے دیوبند کے اور کسی کا نہیں چونکہ یہ لوگ گستاخ ہیں معاذاللہ اس لئے نبی کریم ﷺ کے بغض میں آپ ﷺ کے والدین کو بھی کافر کہتے ہیں استغفر اللہ۔
اس کی چند مثالیں ملاحظہ ہو:
(۱) مفتی حنیف قریشی صاحب ’’دیوبندی عقائد‘‘ کے ضمن میں لکھتے ہیں:
’’حضور ﷺ کے والد کفر کی حالت میں فوت ہوئے (فتاوی رشیدیہ ،ص۱۰۴)‘‘۔
(آزر کون تھا ،ص۶۱)
پھر آگے ان عقائد کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہ چند تحریریں بطور نمونہ ہیں وگرنہ عقائد علماء دیوبند میں اتنی گندگی ہے کہ جس کے تعفن سے کروڑوں لوگوں کا دم گھٹ رہا ہے ‘‘۔
(آزر کون تھا ،ص۶۱)
اس پر ہم صرف اتنا ہی کہہ سکتے ہیں لعنۃ اللہ علی الکاذبین۔یاد رہے کہ ہم نے فتاوی رشیدیہ کی اصل عبارت ماقبل میں نقل کردی ہے اسے دوبارہ ملاحظہ فرماکر مفتی صاحب کی دیانت کا اندازہ بھی لگالیں۔
(۲) مولوی ظہور الدین قادری لکھتا ہے :
’’یہ بات حضور ﷺ کیلئے باعث اذیت ہے اور ان کی اذیت عذاب الیم کی موجب ہے ‘‘۔(تحفظ عقائد اہلسنت ،ص۳۵۶)
(۳) بریلوی مناظر عنایت اللہ سانگلہ ہل لکھتے ہیں:
’’یہ آیت ایمان والدین مصطفی ﷺ میں صریح نص ہے (بقول کاظمی ایسی کوئی نص موجود نہیں ۔ساجد)اور اس کا منکر کافر ہے ۔اس آیت کی ناسخ قرآن میں نہیں ہے ایک بات اصولی اور طے شدہ ہے کہ نبی کریم ﷺ کافر کی قبر پر جانے اور دعا سے اللہ کریم نے منع فرمادیا۔۔۔۔۔۔آپ اپنی والدہ حضرت آمنہ رضی اللہ تعالی عنہ کی قبر پر بھی تشریف لے گئے اگر وہ مومن نہ تھیں تو کیا آپ نے معاذاللہ قرآن کے حکم کی خلاف ورزی کی ایسے سوچنے سے بھی انسان کافر ہوجاتا ہے ‘‘۔
(مقالات شیر اہلسنت ،ص۱۳۴،۱۳۵)
مزید لکھتے ہیں:
’’والدین مصطفی ﷺ مومن تھے یہ قطعی عقیدہ ہے ‘‘۔( مقالات شیر اہلسنت ،ص۱۳۵)
(۴) اہل بدعت کے شیخ الحدیث والتفسیر فیض احمد اویسی صاحب متوفی ۱۴۳۱ ؁ھ لکھتے ہیں:
’’نبی ﷺ کے والدین کو غیر مسلم مانا جائے تو نسبت نبوی میں نقص و عیب لازم آئے گا اور ہمارے حضور ﷺ از ہر جہت عیوب و نقائص سے منزہ و مقدس ہیں ‘‘۔(ابوین مصطفی ،ص۱۵)
(۵) مولوی محمد علی بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’اس طرح رشید احمد گنگوہی نے اپنا نظریہ جو ابن تیمیہ کی اقتداء میں تھا اسے امام صاحب کی طرف منسوب کرکے دھوکہ دینے کی کوشش کی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی بے ادبی اور گستاخی کی ہے ‘‘۔
(نور العینین فی ایمان آبای سید الکونین ،ص۳۸۶)
(۶) حزب الاحناف لاہور کے مفتی غلام حسن قادری لکھتا ہے :
’’کوئی بڑا ہی پلید اور جہنمی ہوگا جو اپنے آپ کو اور اپنے والدین کو تو جنتی کہے اور ان کو دوزخی کہے جن کے بارے میں فرمایا لقد جاء کم رسول من انفسکم ‘‘۔(اٹھارہ تقریریں ،ص۲۸۵)
مزید تحقیق کیلئے میں نے خود مفتی حنیف قریشی صاحب کو ۲۱ مارچ ۲۰۱۷ کو فون کیا تو موصو ف فرماتے ہیں کہ اس مسئلہ میں پہلے اختلاف کی گنجائش تھی کیونکہ تمام احادیث سامنے نہ تھیں اب جب ایمان ابوین مصطفی ﷺ کی احادیث ہمارے سامنے آگئی ہیں تو اب اس کے خلاف نظریہ رکھنا کفر ہے ۔راقم نے اس پر کہا کہ ملا علی قاری حنفی ؒ کے سامنے یہ تمام احادیث موجود تھیں انہوں نے ان احادیث کا باقاعدہ رد لکھا نیز آپ نے اپنی کتاب میں لکھا کہ والدین کو کافر ماننے پر طہارت نسبی باقی نہیں رہتی تو چاہے احادیث سامنے ہوں یا نہ ہوں جب کفر کا قول کرلیا تو طہارت تو باقی نہ رہی یہ حضرات تو منکر طہارت ہوگئے معاذاللہ۔ موصوف اس غیر متوقع گرفت پر بالکل سٹپٹاگئے اور بات کرنے سے انکار کردیا اور میری منت سماجت کے باوجود بھی فون کاٹ دیا کہ میں آپ سے بات نہیں کرنا چاہتا ۔ اس کے علاوہ مولوی مصطفی رضاخان ابن احمدرضاخان کے خلیفہ مولوی حسن علی رضوی نے بھی کھل کر گستاخی و کفر کے فتوے لگائے ایک نام نہاد مناظرمولوی امجد رضوی نے بھی کہا کہ یہ کھلی گستاخی ہے مگر جب یہی گرفت ان پر کی گئی تو ان کے پاس کوئی جواب نہ تھا اور فون کاٹ دیا یہ تمام ریکارڈنگ آپ نیٹ پر سن سکتے ہیں ۔
پشاور کے بریلوی سیفی مناظر مولوی ایاز باچا نے تو کھل کر کہا کہ بالکل ملا علی قاریؒ نے اس مسئلہ میں عدم ایمان کا قول اختیار کرکے کفر و گستاخی کا ارتکاب کیا جس پر بندے نے کہا کہ یہ صرف ان کا قول نہیں متقدمین تمام علماء کا قول ہے تو فتوی تو پھر پوری امت پر لگے گا تو موصوف کے پاس جواب ندارد۔
بعض حضرات کہتے ہیں کہ ملا علی قاری ؒ نے اپنے اس نظریہ سے رجوع کرلیا تھا کیونکہ شرح شفاء جلد اول میں وہ علامہ سیوطی ؒ کے ان رسائل کے پڑھنے کی تلقین کررہے ہیں جس میں نبی کریم ﷺ کے والدین کا ایمان ثابت کیا گیا ہے۔ مگر بندہ اسے درست نہیں سمجھتا اس لئے کہ اسی شرح شفاء کی جلد دوم میں وہ کھل کر نبی کریم ﷺ کے عدم ایمان کا قول نقل کرتے ہیں اور اس سلسلے میں اپنے اس رسالے کے پڑھنے اور سیوطی کا رد کرنے کا ذکر کرتے ہیں ۔
’’قال امامنا فی فقہ الاکبر ان والدی رسول اللہ ﷺ ماتا علی الکفر و قد کتبت فی ھذہ المسئلۃ رسالۃ مستقلۃ و دفعت فیھا ماذکر السیوطی من الادلۃ علی خلاف ذالک فی رسائلہ الثلاث ‘‘۔
(شرح الشفاء :۲/۴۴۷دارالکتب العلمیہ بیروت)
ہمارے امام صاحب نے فقہ اکبر میں فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کے والدین کی وفات کفر پر ہوئی اور میں نے اس مسئلہ میں مستقل رسالہ بھی لکھا ہے اور اس میں نے اس میں علامہ سیوطی نے اپنے تین رسائل میں جو اس کے خلاف دلائل دیے ہیں اس کا رد کیا ہے ۔
پس معلوم ہواکہ جب تک ان کو اس مسئلہ کی تحقیق نہیں تھی تو سیوطی ؒ کے رسائل پر اعتماد کیا اور جب مسئلہ ان پر کھلا تو بعد والی جلد میں کھل کر اس کا اظہار کردیا۔
پھر بقول فریق مخالف کفر سے رجوع نہیں تجدید ایمان و تجدید نکاح ہوتا ہے لہذا قاری صاحب ؒ تو ماخوذ پھر بھی ہونگے۔چنانچہ ایاز سیفی اور جامعہ نظامیہ کے شیخ الحدیث مولوی عبد التواب اچھروی بریلوی ابن مولوی عمر اچھروی بریلوی نے تو کھل کر بندے سے کہا کہ اگر ملا علی قاری ؒ نے رجوع نہیں کیا تو کفر و گستاخی کی حالت پر مرے معاذاللہ ۔لیکن یہ حضرات ذرا ہمت کریں کیونکہ اگر ملا علی قاری ؒ نے رجوع کرلیا تھا اور آپ کے فتوے سے وہ بچ گئے تو متقدمین نے تو رجوع نہیں کیا وہ تو پھر بھی آپ کے فتوے کی زد میں ہیں ۔
بہرحال ایمان ابوین مصطفی ﷺ ہی کے ضمن میں ایک مسئلہ اور آیا کہ قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد’’ آزر ‘‘کا ذکر ہے جو بنصِ قرآنی مشرک ہیں ۔شیعہ حضرات چونکہ اپنے آئمہ کے آباو اجداد کو الی آدم علیہ السلا م مومن و موحد مانتے ہیں اس لئے انہوں نے آزرکے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد ہونے کا انکار کیا یہی نظریہ موجودہ دور کے اہل بدعت نے اختیار کیا کہ نبی کریم ﷺ کے تمام آباؤ اجداد حضرت آدم علیہ السلام تک مومن موحد بایمان تھے اور چونکہ آزر کافر تھا لہذا وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد نہیں ہوسکتے بلکہ چچا تھے ۔بات اگر صرف یہیں تک رہتی تو ہمیں اس سے کوئی خاص اختلاف نہ ہوتا لیکن برا ہو تعصب کا چونکہ اس باب میں بھی علماء اہل سنت دیوبند چودہ سو سال کے علماء کی پیروی میں اس نظریہ پر تھے کہ آزر ہی حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد ہیں جن کی موت حالت کفر و شرک پر ہوئی لہذا اہل بدعت نے یہاں بھی بغض دیوبند میں افراط کا راستہ اختیار کیا اور کھل کر تضلیل ،تفسیق و تکفیر کا بازار گرم کیا ۔پنڈی کے بدعتی مناظر مفتی حنیف قریشی صاحب نے اس مسئلہ پر پورا ایک رسالہ ’’آزر کون تھا ؟‘‘ کے نام سے لکھا اس کتاب میں استعمال ہونے والی زبان کی چند جھلکیاں ملاحظہ ہوں:
(۱) مولوی امتیاز صاحب بریلوی لکھتے ہیں:
’’ایک بے لگام بے ادب مفتری نے انبیاء کرام علیہم السلام کے نسب کی طہارت پر سرعام طعن کرتے ہوئے کافر و مشرک آزر (کتاب میں آذر لکھا ہوا ہے ۔ساجد)کو خلاف حقیقت جد الانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا باپ ثابت کرنے کی ناکام کوشش کی ‘‘۔
(آزر کون تھا ،ص۹)
(۲) قاری خان محمد قادری لکھتے ہیں:
’’اس سے قبل کچھ بدبخت لوگ انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی شان میں بے ادبی اور گستاخی کیا کرتے تھے اب انہی لوگوں نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے نسبوں میں لعن و طعن شروع کردیا ہے کبھی تو پیارے آقا مصطفی کریم ﷺ کے والدین کریمین طیبین طاہرین کو مشرک کہا جاتا ہے اور کبھی لفظ اب سے لوگوں کو دھوکہ دیتے ہوئے حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوۃ و السلام کے والد کو کافر کہا جاتا ہے ‘‘۔(آزر کون تھا،ص۱۲)
(۳) مفتی حنیف قریشی صاحب لکھتے ہیں :
’’ایک دیوبندی مناظر نے اپنے گماشتے کے ذریعے ایک تحریر مولانا عبد الرحمن صاحب آف مانر کیمپ کی وساطت سے میری طرف بھیجی جس میں اپنی پرانی شقاوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے حضرت ابراہیم کو کافر و مشرک شخص آزر کا بیٹا ثابت کرکے نبی پاک ﷺ کی طہارت نسبی پر حملہ کیا گیا اور علمائے کاملین پر طعن و تشنیع کی ناپاک جسارت کی گئی ۔۔۔۔۔۔میرا مقصود عوام اہلسنت کو اپنے عقیدے پر ثابت قدم رکھنے کی کوشش کرنا ہے اور نبی پاک ﷺ کے نسب پاک پر کئے گئے حملے کا جواب دینا ہے ‘‘۔
(آزر کون تھا ،ص۷)
ایک اور مقام پر لکھتے ہیں :
’’آزر کو نسب رسول ﷺ میں داخل کرنے سے آپ ﷺ کے نسب پاک کی طہارت برقرار نہیں رہتی ‘‘۔( آزر کون تھا ،ص۱۳)
ان تمام عبارات کا خلاصہ یہ ہے کہ آزر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ ماننے کی صورت میں :
(۱) حضور پاک ﷺ کانسب پاک نہیں رہتا بلکہ معاذاللہ ثم معاذاللہ نقل کفر کفر نہ باشد ناپاک ہوجاتا ہے۔
(۲) ایسا شخص حضور ﷺ کے نسب میں لعن طعن کررہا ہے اور اس کے کفر میں کیاشک ہوسکتا ہے ؟۔
(۳) اب کے لفظ سے آزر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ ثابت کرنا لوگوں کودھوکا دینا ہے ۔
(۴) آزر کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا باپ ماننے والے شقی بدبخت ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ بریلوی حضرات کے ان فتووں کی زد میں ایک ہزار صدی کے جلیل القدر آئمہ ،محدثین ،فقہاء ،مفسرین و مورخین آرہے ہیں اور درپردہ یہ پوری امت کی تکفیر ہے کیونکہ جمہور امت کا نظریہ یہی ہے کہ آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد ہیں اور اسی پر ظاہر قرآن و حدیث ناطق ہے ۔پس ان اکابر کے دفاع کے جذبے اور قریشی صاحب کے پھیلائے گئے دجل و فریب کے تار پور بھکیرنے کیلئے راقم نے قلم اٹھایاکہ کہیں عوام قریشی صاحب کے اس دجل سے متاثر ہر کر امت مسلمہ کی ان جلیل القدر ہستیوں سے سوء ظن میں مبتلا نہ ہوجائیں کہ عوام کالانعام۔
ثانیا قریشی صاحب کے اس زعم کو بھی ختم کرنا مقصود ہے کہ شاید دیوبندیوں کا یہ نظریہ دعوی بلادلیل ہے موصوف نے جگہ جگہ تعلیاں دکھاکر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ پوری امت ان کے موقف کے ساتھ ہے اور ان کے دلائل کے جواب سے علماء حق عاجز ہیں جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے اکثر دلائل شیعہ سے سرقہ شدہ ہیں جن کے جوابات موصوف کی پیدائش سے بھی پہلے ان کے بھائیوں کو علماء اہل سنت دے چکے ہیں البتہ بندہ ناچیز اپنے اکابر کے اعتماد پر یہ بات عرض کرتا ہے کہ میں نے جو موقف اپنی اس کتاب میں دیا ہے اگر فریق مخالف کے کسی صاحب علم میں جرات ہے تو دلائل کی بنیاد پر میرے اس موقف کو غلط اورماقبل میں ذکر کردہ اپنے فتاوی کو صحیح ثابت کردے ۔صبح قیامت تک کیلئے ان کو مہلت ہے ۔فھل من مبارز ۔
نیزمیرا یہ رسالہ پڑھ کر قریشی صاحب کی دیانت ،امانت ،انصاف ،خدا خوفی ،حوالہ جات میں کتر و بیونت و تحریف کی صفات تامہ کا بھی بخوبی اندازہ ہوجائے گا ۔آخر میں دعا ہے کہ اللہ پاک میری اس حقیر کاوش کو اپنی بارگاہ میں شرف قبولیت بخشے ،عوام کیلئے اسے نفع بخش اور میرے لئے ذخیرہ آخر ت بنادے اور مرتے دم تک علماء اہل حق علما ء اہل السنۃ دیوبند کے نظریات پر کاربندرہنے کی توفیق عطا فرمائیے آمین۔
ساجد خان نقشبندی
۱۱ اپریل ۲۰۱۷
۳ رجب ۱۴۳۸ ؁ھ بروز شنبہ
دارالعلوم مدنیہ

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔