جمعہ، 12 جولائی، 2019

رضاخانی خود متحدہ قومیت کے علبردار ہیں..۔(ماخوذ از دفاع اہل السنۃ والجماعۃ جلد دوم)


ماخوذ از دفاع اہل السنۃ والجماعۃ جلد دوم مولف حضرت مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی زید مجدہ

رضاخانی خود متحدہ قومیت کے علبردار ہیں

قارئین کرام ! رضاخانی ایسے ابو الوقت ہیں کہ انہیں ماحول اور حالات کے اعتبار سے اپنا نظریہ تبدیل کرنے میں ذرا برابر نہ تو دیر لگتی ہے نہ کسی قسم کی حیاء محسوس ہوتی ہے ۔تقسیم سے پہلے ان کے نزدیک حضرت شیخ الاسلام مولانا مدنی کا سب سے بڑا جرم یہ تھا کہ انہوں نے ایک مخصوص پیرائے میں ’’متحدہ قومیت‘‘ کی بات کرلی۔ اور نواب احمد رضاخان کی آل اولاد سے لیکر آج ثاقب رضا مصطفائی تک انہیں اس جرم کی پاداش میں معاف کرنے کو تیار نہیں ۔ مگر ان اکابر کی حقانیت اور ان پر بلاوجہ زبان طعن درازی کا انجام تو دیکھیں کہ آج یہی بریلوی ’’متحدہ قومیت‘‘ کے علمبردار ہیں ۔چنانچہ’’آل انڈیا علما و مشائخ بورڈ‘‘ کے صدرسید محمد اشرف کھچوچھوی نے ۲۰ مارچ ۲۰۱۶ کو ’’انٹرنیشنل صوفی کانفرنس ‘‘ میں لاکھوں کے مجمع سینکڑوں علما و مشائخ کی موجودگی میں یہ ’’اعلامیہ‘‘ پڑھا ۔(جام نور ،مئی ۲۰۱۶،ص۲۹)۔ جس کی تیسری شق یہ ہے:

’’ہم ہندوستان کی سالمیت کے تحفظ کیلئے ’’متحدہ قومیت‘‘ کی تائید و توثیق کرتے ہوئے فرقہ پرستی کی ہر قوت کی مذمت کرتے ہیں اور اس معاملے میں ہر سازش سے اپنی برأ ت کا اظہار کرتے ہیں ۔جو لوگ ملک میں فرقہ ورانہ منافرت کے بیچ بورہے ہیں وہ ہندوستان کی سالمیت کیلئے خطرہ ہیں ،ایسے لوگوں کو بلا تفریق مذہب و ملت کیفر کردار تک پہنچایا جانا چاہئے ‘‘۔

(جام نور ،مئی ۲۰۱۶،ص۳۱)

اس پر ایک بریلوی کی طرف سے اعتراض ہوا کہ یہ تو ہمارا نظریہ نہیں تھا تو کل تک اسی نظریہ کے خلاف زہر اگلنے والے قلم کس طرح اس کے دفاع میں منہ زور گھوڑے کی طرح دوڑ رہے ہیں اور اس باب میں حضرت مدنی پر ملامت کرنے والے اپنے اکابر کی قبروں کس طرح سیاہ کیا جارہا ہے ملاحظہ ہو۔

’’متّحدہ قومیت“ کی حمایت اور حقیقت

”ورلڈ صوفی فورم“کے اس آخری اجلاس ”انٹر نیشنل صوفی کانفرنس“ میں ”آل انڈیا علماء ومشائخ بورڈ“ کی جانب سے فورم کا ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس کو صدر بورڈ مولانا سیّد محمّد اشرف کچھوچھوی نے پڑھ کر سنایا۔ یہ اعلامیہ ۲۵؍نکات پر مشتمل ہے، جس میں دہشت ووحشت کی لعنت سے دنیا کو محفوظ رکھنے اور تصوّف کے احیاء اور صوفیہ کے پیغام امن وانسانیت کے فروغ کا عزم ہے۔ انتہا پسندوں کی سازش سے دور رہ کر حضورﷺ کے اسوۂ محبّت وانسانیت کو رول ماڈل بنانے کی مسلم نوجوانوں سے اپیل ہے۔ اپنے ہم وطنوں اور ملک کے تمام مذاہب ومسالک سے صوفیہ کی قائم کردہ گنگا جمنی تہذیب کے فروغ اور معاشرتی رواداری کو عام کرنے کی گذارش ہے۔ فرقہ پرستی اور دہشت گردی کی ہر شکل کی مذمّت اور اپنی برأت کا اعلام ہے۔ تعلیماتِ تصوّف اور صوفی کلچر کے فروغ کے لیے حکومت سے مطالبات ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت کچھ۔ تاہم ہمارے بزرگ کرم فرما اور بریلوی جماعت کے مقتدر عالمِ دین مولانا یٰسین اختر مصباحی صاحب کی نگاہ اعلامیہ کی مذکورہ تمام خوبیوں اور دفعات سے اڑتی ہوئی اعلامیہ کی تیسری دفعہ کے ایک لفظ ”متّحدہ قومیت“ پر جاکر ٹک گئی اور پھر انھوں نے حسبِ سابق اس کو بنیاد بناکر ”ورلڈ صوفی فورم“ پر ایک بار بار پھر کرم فرمایا اور اہل سنّت کے علماء اور عوام کو اپنا ہم فکر وخیال بنانے کے لیے ظن وتخمین کی بنیاد پر اس لفظ کی جو تشریح وتعبیر فرمائی وہ ”ورلڈ صوفی فورم“ سے وابستہ کسی بھی فرد کے حاشیۂ خیال میں بھی نہیں آیا۔ ”متّحدہ قومیت“ کے حوالے سے مصباحی صاحب کا جو مضمون شائع ہوا ہے، اس میں فرماتے ہیں:

”متّحدہ قومیت کا یہ نظریہ ، فرقہ پرست ومسلم دشمن تنظیم آر ایس ایس کا مشہور زمانہ نسل پرستانہ نظریہ ہے، جس کے مطابق بھارت کی اصلی قوم ہندو اور صرف ہندو ہے۔“

مزید فرماتے ہیں:
”ساورکر اور گولوالکر کے ان نظریات اور کوششوں کا ہدف ”ہند راشٹر“ کا قیام ہے، جس کی بنیاد، متّحدہ قومیت، یعنی ”ہندو قوم“ ہے۔ ہندوستانی قومیت، ہندو قومیت، متّحدہ قومیت، یہ سب ہم معنیٰ اور مترادف الفاظ ہیں۔“

اور پھر حسبِ معمول اپنے ظن وتخمین کی بنیاد پر عوام وخواص کو یہ بتانے کی کوشش کی کہ اعلامیہ میں یہ دفعہ آر ایس ایس کے اشارے پر شامل کی گئی ہے۔

مصباحی صاحب کے اس فنکارانہ تفرّد وخیال کی تعبیر کے لیے مجھے ایسا کوئی مہذّب لفظ نہیں مل رہا ہے، جس سے ان کی توقیر بھی سلامت رہے، پندار نفس کو ٹھیس بھی نہ پہنچے اور ان کی اس نازک خیالی کی زیریں لہروں کا اصل مقصد وعزم بھی اجاگر ہوجائے۔ بہرحال اس ”متّحدہ قومیت“کا اصل مفہوم اس کی تاریخی حیثیت کی وضاحت سے پہلے اعلامیہ کی وہ تیسری دفعہ ملاحظہ ہو جس میں یہ لفظ مذکور ہوا ہے۔

”ہم ہندوستان کی سالمیت کے تحفّظ کے لیے متٗحدہ قومیت کی تائید وتوثیق کرتے ہوئے فرقہ پرستی کی ہر قوت کی مذمّت کرتے ہیں اور اس معاملے میں ہر سازش اسے اپنی برأت کا اظہار کرتے ہیں۔ جو لوگ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کے بیچ بو رہے ہیں وہ ہندوستان کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں، ایسے لوگوں کو بلاتفریق مذہب وملّت کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیئے۔“


”متّحدہ قومیت“ دراصل ”دو قومی نظریہ“(Two Nations Theory)کے بالمقابل(One Nation Theory)کا ایک نطریہ ہے، جس کی بنیاد پر ہندوستان کی تشکیل عمل میں آئی اور پھر آئین مرتّب کیا گیا، جس کے مطابق دستورِ ہند، ہندوستان میں بسنے والے تمام مذاہب ، ثقافت اور زبان سے تعلّق رکھنے والے لوگوں کو مساوی حیثیت دیتا ہے اور یہ سب لوگ ہندوستان کے فروغ اور تحفّظ میں برابر کے شریک ہیں۔ یہی ”متّحدہ قومیت“ یا ”گنگا جمنی تہذیب“ (Composite Culture)ہمارے ملک میں کے آئین اور دستور کی روح ہے۔

اس کے بالمقابل ”دو قومی نظریہ“ ہے، جس کی بنیاد پر پاکستان وجود میں آیا۔ آزادی سے پہلے جب حکومت انگریزوں کی تھی اور ہندوستانی جمہوریت، نیشنل ازم، ہندوستانی متّحدہ قومیت اور سیکولر دستور بالادستی نہیں ہوسکی تھی، ان مخصوص حالات میں سیاسی لیڈران اور علماء کا ایک طبقہ ”دو قومی نظریہ“ کا بھی حامی تھا۔ سیاسی سطح پر اس نظریے کی قیادت محمّد علی جناح کر رہے تھے اور اس کے بالمقابل نظریۂ متّحدہ قومیت کی قیادت گاندھی جی کے ہاتھ میں تھی، اس حوالے سے سیاسی لیڈران اور علماء کے درمیان تحریری اور سیاسی معرکے بھی رہے۔

آزدی سے قبل آر ایس ایس کی شکل میں شدّت پسند ہندوؤں کا یک طبقہ مذکورہ دونوں نظریات کا مخالف اور صرف ہندو قومیت کا حامی تھا، جس کے مطابق مستقبل کے ہندوستان کی تشکیل، ہندو تہذیب وثقافت اور قدیم آریائی نظریات پر ہونی تھی، جس میں دیگر مذاہب والوں کو ہندو سنسکرتی کی بالادستی کو قبول کرنا تھا یا اس میں ضم ہوجانا تھا۔ اسی نظریےاور خواب پر آر ایس ایس کی تشکیل ہوئی تھی، تقریباً نوّے سال گذرجانے کے باوجود ان کا یہ خواب تشنۂ تعبیر ہے۔ ہندوستانی جمہوریت، ہندوستانی نیشنل ازم اور متّحدہ قومیت کی بالادستی کے بعد ایسا فکر وخیال ان شاء اللہ کل بھی ایک خواب ہی رہے گا۔ ہم مسلمان ہونے اور ایک ہندوستانی ہونے کی حیثیت سے بھی ایسے افکار کی مذمّت کرتے ہیں، جو اسلام اور جمہوریت دونوں کی روح کے مخالف ہوں۔

اس کے ساتھ ہمیں بھی اس بات کا بخوبی احساس ہونا چاہیئے کہ ہم نہ تو سعودی عرب میں اور نہ پاکستان میں کہ کھلے بندوں جمہوریت اور ہندوستانی نیشنل ازم کی مخالفت اور بالواسطہ ”دو قومی نظریہ“کی تائید وتوثیق کریں، جو کھلے طور پر دستورِ ہند کی مخالفت اور ہندوستان سے بغاوت ہے۔ آج کے ہندوستان میں جو لوگ شعوری یا غیرشعوری طور پر مسلمانوں کو ”متّحدہ قومیت“ کے بالمقابل ”دو قومی نظریہ“ کا سبق پڑھا رہے ہیں، انھیں ہندوستانی عدلیہ کے سامنے جواب دہ رہنے کے لیے تیار رہنا چاہیئے۔


مسلمان ہمیشہ وطن کا محبّ اور اپنے وعدہ کا پابند رہا ہے اور اس نطام کا مؤیِّد رہا ہے، جو اس کے لیے معاصر حالات میں ممکن ہوں۔ نبی کریمﷺ کی زندگی میں ایک منظر میثاقِ مدینہ کا بھی ہے، جس کی دفعات میں ایک دفعہ یہ بھی ہے: انّ المسلمین مع الیھود امّۃ واحدۃ 

(یہود اور مسلمان ایک قوم ہیں)۔ یعنی اگر کوئی بیرونی طاقت مدینے پر حملہ آور ہوتی ہے تو ہم سب ایک قوم کی طرح مل کر مدینہ کی سالمیت کے تحفّظ کے لیے مقابلہ کریں گے۔ صوفی فورم کے اعلامیہ میں اسی خیال کے پیشِ نظر کہا گیا کہ: ”ہم ہندوستان کی سالمیت کے تحفّظ کے لیے متّحدہ قومیت کی تائید وتوثیق کرتے ہیں۔“ اس دفعہ میں ”متّحدہ قومیت“ کی توثیق ”ہندوستان کی سالمیت کے تحفّظ“ سے مربوط ہے، نہ آر ایس ایس کے متشدّدانہ ہندو نظریات سے۔

مزید برآن اعلامیہ کی اسی دفعہ کو قارئین دوبارہ پڑھیں اور بار بار پڑھیں، عبارت کے سیاق وسباق سے یہ حقیقت پورے طور پر واضح ہوجائے گی کہ خود یہ دفعہ کلّی طور پر آر ایس ایس کے متشدّدانہ نظریات وافکار کی تردید پر مبنی ہے۔ بھلا کوئی بتائے کہ

”ہندوستان کی سالمیت کا تحفّظ“، ”فرقہ پرستی کی ہر قوت کی مذمّت“، ”اس معاملہ میں ہر سازش سے اپنی برأت کا اظہار“، ”جو لوگ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت کے بیچ بورہے ہیں وہ ہندوستان کی سالمیت کے لیے خطرہ ہیں“، ”ایسے لوگوں کو بلاتفریق مذہب وملّت کیفرِ کردار تک پہنچایا جانا چاہیئے۔“

کیا اس دفعہ کے یہ تمام الفاظ وتعبیرات کھلے طور پر آر ایس ایس اور فرقہ پرستوں کی کھلی مذمّت نہیں کررہے ہیں؟ افسوس کہ اعلامیہ کی جو دفعہ آر ایس ایس کے نظریہ ورویّہ کی تردید ومذمّت کے لیے لکھی گئی، مصباحی صاحب نے اسے کمالِ ہنر مندی سے آر ایس ایس نوازی اور ہندو قومیت کی تائید وتوثیق کا رنگ دے دیا۔

نبی کریمﷺ کی زندگی کا ایک دوسرا منظر فتح مکّہ کے بعد وہ نقشہ پیش کرتا ہے، جس میں مسلمانوں کا وہ نظامِ حکومت تشکیل پایا، جو خالص اسلام پر مبنی تھا اور جس کا عملی اقتدار بلاشرکت غیرے صرف مسلمانوں کو حاصل تھا۔ آج پوری دنیا میں وہابی لابی اپنی حماقت مآبی کے سبب ”قیامِ خلافت“ کا نعرہ بلند کررہی ہے اور اس کے لیے انسانی خون کی ندیاں بہانے سے بھی گریز نہیں کررہی ہے۔ وہ ہندوستان اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی خلافتِ اسلامیہ قائم کرنا چاہتی ہے۔ ایسی کوششوں سے خلافتِ اسلامیہ تو قائم نہیں ہورہی ہے، البتّہ ہزاروں مسلم نوجوانوں کے ذہن ودماغ میں تشدّد کے جراثیم پیدا ہورہے ہیں اور مسلمانوں کے اردگرد شکوک وشبہات کا ہالہ بڑھتا جارہا ہے اور زندگی کا حصار تنگ ہوتا جارہا ہے۔

”ورلڈ صوفی فورم“ کے مقاصد میں ایک اہم مقصد دہشت گردی کی مذمّت اور ان افکار کی تردید بھی تھی، جن کی وجہ سے مسلم نوجوانوں میں تشدّد کے جراثیم پیدا ہوتے ہیں اور مسلمانوں کی وطن دوستی مشکوک ہوتی ہے، اس لیے واضح طور پر صوفی فورم کے اعلامیہ میں ”متّحدہ قومیت“ اور ”ہندوستانی نیشنل ازم“ کی تائید وتوثیق کی گئی تھی، جو دستورِ ہند کی روح بھی ہے۔ اب اگر کسی کو ہندوستانی نیشنل ازم یا متحدہ قومیت سے اختلاف ہے اور وہ ہندوستان میں پھر سے ”دو قومی نظریہ“ کا ہنگامہ کھڑا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کا ذاتی حق ہے، تاہم ہندوستان کے آئین کے سامنے وہ جواب دہ ضرور ہے۔ البتّہ ”متّحدہ قومیت“ کو آر ایس ایس کے ”نظریۂ ہندو قومیت“ کے مترادف قرار دینا الفاظ ومعانی کا خون اور کھلے عام مسلمانوں کو ورغلانے کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ تحریر لکھنے سے قبل ہم نے ہندوستان کے بہت سے دانشوروں سے بات کی، مگر کوئی بھی مصباحی صاحب کی اس نازک خیالی سے متّفق نہیں ہوسکا۔ طوالت اور صفحات کی تنگی کے پیشِ نظر ان دانشوروں کے خیالات فی الحال ہم شائع نہیں کر پارہے ہیں۔ پھر یہ بھی بڑی حیرت کی بات ہے کہ سیاسی سطح پر آزادیٔ ہند سے قبل جس ”نظریۂ متّحدہ قومیت“ کی مظبوط اور مؤثر قیادت گاندھی جی کررہے تھے، اگر یہ نظریہ یا اس کا مترادف آر ایس ایس کی ”ہندو قومیت“ تھا یا ہے تو پھر آر ایس ایس نے گاندھی جی کو گولی کیوں مار دی؟ آر ایس ایس کو تو ان کی حفاظت کرکے اپنے نظریاتی وینٹی لیٹر پر برسوں زندہ رکھنا چاہیئے تھا کہ جس نظریہ کی بنیاد پر وہ ایک نئے ہندوستان کی تعمیر کرنا چاہتے تھے، گاندھی جی اسی کی قیادت کررہے تھے۔

محبِّ محترم مولانا ذیشان احمد مصبا حی ہمارے ساتھ صوفی فورم کے اعلامیہ کی تحریر وترتیب میں شامل تھے، انھوں نے معروف صحافی جناب احمد جاوید (ریزیڈینٹ ایڈیٹر: روز نامہ انقلاب، پٹنہ) کے حوالے سے بتایا کہ جاوید صاحب نے جب اس مسئلہ پر مصباحی صاحب کو فون کیا اور متّحدہ قومیت کے حوالہ سے ان کے مذکورہ خیال سے اپنا اختلاف واحتجاج درج کرایا تو اس پر مصباحی صاحب نے جو کچھ کہا، وہ میرے لیے ناقابلِ یقین تھا۔ مصباحی صاحب فرماتے ہیں:

”صوفی کانفرنس کے دفتر میں کام کرنے والے نوجوانوں میں سے ایک معتبر شخص نے بتایا کہ اعلامیہ میں یہ دفعہ آر ایس ایس کے کہنے سے بڑھائی گئی ہے۔ یہ بات اوپر سے آگئی تھی، اس لیے متّحدہ قومیت کا مفہوم، یہاں پر وہی ہے، جس طرح کی قومیت کی بات آر ایس ایس کرتی ہے۔“

مصباحی صاحب کے مذکورہ بات کی تائید اس سے بھی ہوتی ہے کہ وہ بار بار فورم کے ذمّہ داران سے پانچ نکاتی سوالات کے جوابات کا تقاضہ کررہے ہیں، ان میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ: ”آر ایس ایس کا بنیادی نظریہ متّحدہ قومیت (یعنی ہندو قومیت) اعلامیہ میں کیسے شامل ہوا؟“

افسوس صد افسوس! اعلامیہ ہم نے تیار کیا تھا اور ”ورلڈ صوفی فورم“ کے اغراض ومقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے دستورِ ہند کی روح کے مطابق یہ دفعہ ہم نے اپنی مرضی سے لکھی تھی، اللہ شاہد ہے کہ اسے لکھنے سے پہلے نہ کسی نے یہ نکتہ دیا تھا اور نہ لکھنے کے بعد بطورِ خاص کسی نے اس کی تائید وتحسین کی۔ ”متّحدہ قومیت“ لکھتے وقت ذہن میں وہی مفہوم تھا جو پیچھے مذکور ہوا، لیکن حضرت مصباحی صاحب نے اس تعلّق سے جو معلومات فراہم کی وہ خود میرے ذہن ودماغ کے لیے اضافہ ہے۔ مولانا نے یہ بات کسی مجہول، معتبر نوجوان کے حوالے سے کہی ہے، اب جو اعلامیہ لکھنے والے کے لیے نئی ہو، اس کے راوی کتنے مضبوط ومستحکم ہوں گے، اس کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ افسوس کہ مصباحی صاحب کی اس پوری خیالی اور جدالی تحریروں میں مزاحیہ نگاروں کے خیالی کیرکٹروں لاغر مرادآبادی اور لق لق دہلوی کی طرح ہی ایک مجہول ”معتبر راوی“ ہوتا ہے، جس کے سہارے وہ اپنے انشائیہ کو دلچسپ بناتے ہیں۔ مجہول راوی کا سہارا لے کر مصباحی صاحب نے جو کچھ کہا ہے وہ نہ صرف کردار کُشی کے مترادف ہے، بلکہ کسی کے ایمان وعقیدے پر بلاثبوتِ شرعی کفر وضلالت کی بہتان سے کم نہیں۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ چند دنوں قبل مصباحی صاحب نے اسی طرح کے کسی مجہول ”ثقہ راوی“ پر اعتماد کرتے ہوئے کرناٹک کے جیّد عالم دین اور شیخِ طریقت مولانا سیّد تنویر ہاشمی (زیب سجّادہ: خانقاہ ہاشمی، درگاہ ہاشم پیر، بیجا پور کرناٹک) پر ”بغضِ معاویہ“ کا الزام عائد کیا۔ جب ہم نے مصباحی صاحب سے ایک ٹیلی فونک گفتگو میں براہِ راست بات کی اور بتایا کہ مولانا سیّد تنویر ہاشمی آپ کے اس الزام سے کبیدہ خاطر ہیں اور اسے اپنے اوپر بہتان کہا ہے تو مصباحی صاحب نے کمالِ استغناء سے فرمایا: ”ٹھیک ہے، تنویر ہاشمی صاحب اپنا بیان چھپوا دیں، میں رجوع کرلوں گا۔“ کسی کے دین ایمان پر سوالیہ نشان، وہ بھی کسی مجہول راوی کی بنیاد پر متعلّقہ شخص سےرابطہ کیے بغیر، کم از کم ہم جیسے طالب علم مصباحی صاحب جیسے عالم سے توقّع نہیں رکھتے، کیوں کہ جب اسی طرح کی باتیں خود ان کے متعلّق لوگ کہہ اور لکھ رہے تھے تو انھوں نے اپنی کتاب ”عرفانِ مذہب ومسلک“ میں نہایت سنجیدگی سے یہ اصول لکھا:

”حیرت ہے کہ بعض ذمّہ دار سمجھے جانے والے افراد بھی کسی سنّی فرد یا تنظیم یا ادارہ کے تعلّق سے کوئی شرعی بہتان سن کر اس پر یقین کر بیٹھتے ہیں اور کسی تحقیق کی ضرورت بھی محسوس نہیں کرتے۔ نہ وہ یہ دیکھتے ہیں کہ وہ بیان کرنے والا شخص کون اور کیسا ہے؟ نہ ہی اس پر نگاہ رکھتے ہیں کہ جس سے متعلّق بات کہی جارہی ہے وہ کون سے کس معیار کا ہے، نہ اس پر غور کرتے ہیں اس کے مزاج ومعیار سے کتنی فروتر یہ بات ہے جس کا صدور اس سے ہوسکتا ہے یا نہیں؟ نہ اس مسئلہ کی طرف توجّہ ہی دیتے ہیں کہ کسی سنّی کی طرف تحقیق وثبوت کے بغیر نسبتِ کفر وضلال کرنا، بلکہ نسبتِ گناہِ کبیرہ بھی سخت گناہ اور ناجائز وحرام ہے، جب کہ آج کل کہیں سے بھی کوئی رابطہ کرکے کسی معاملے یا واقعہ کی تحقیق وتفتیش نہایت آسان کام ہے۔ تقریباً ہر شخص کے پاس موبائل موجود ہے، اس سے منٹوں منٹ میںگفتگو کی جاسکتی ہے قاعدہ اور ضابطہ یہی ہے کہ صاحبِ معاملہ سے براہِ راست تحقیق کرکے اس کے متعلّق کوئی رائے قائم کی جانی چاہیئے۔ اس کے برخلاف اگر کسی کا عمل ہے تو وہ اپنے طرزِ عمل سے خود اپنی شخصیت ووقار مجروح کررہا ہے اور اپنے وقار واعتماد کو خاک میں ملا رہا ہے، بلکہ کتاب وسنّت کے حکم وارشاد کو اپنے عمل کے ذریعہ صراحۃً مسترد کررہا ہے؟“ 
(عرفانِ مذہب ومسلک: ؃۱۸-۱۹)

مصباحی صاحب سے مؤدّبانہ گذارش ہے کہ ورلڈ صوفی فورم، اس کے ذمّہ داران، شریک ہونے والے علماء ومشائخ، اعلامیہ مرتبین اور مولانا سیّد تنویر ہاشمی صاحب پر آپ نے جو مجہول راویوں، مفروضات اور ظن وتخمین کے ذریعہ بھاجپا نوازی، آر ایس ایس نوازی، بغضِ معاویہ اور نہ جانے کیا کیا الزامات عائد کیے ہیں، اپنی اس تحریر کی روشنی میں سنجیدگی سے غور فرمائیں۔ دہلی میں بورڈ کے ذمّہ داران موجود ہیں، آپ اگر واقعی دین وملّت کے لیے مخلص ہیں تو ان سے براہِ راست گفتگو کرکے معاملے کا تصفیہ کرنا چاہیئے۔ قلمی معرکہ آرائی سے اس طرح کے مسائل حل نہیں ہوتے۔ صدر بورڈ نے کانفرنس سے پہلے بھی آپ کو گفتگو کی دعوت دی تھی اور آج بھی وہ اس بات کے متمنّی ہیں کہ اہلِ سنّت کے درمیان کے ذریعہ معاملات کا حل ہونا چاہیئے۔ نئی نسل کے نوجوان عللماء اور اہلِ قلم کے لیے مصباحی صاحب کی حیثیت علمی وفکری امور میں ایک قائد ورہنما کی رہی ہے۔ ان کی یہ حیثیت چند برسوں سے بُری طرح مجروح ہورہی ہے، اس لیے ان سے عجز ونیاز جن نوجوان علماء کا شیوہ تھا، وہ لوگ ان کے دامن پر حریفانہ ہاتھ ڈالنے پر مجبور ہورہے ہیں۔ حضرت مصباحی کے ساتھ یہ عمل خود میرے لیے ذاتی طور پر بہت تکلیف کا باعث ہے۔
(جامِ نور، مئی ۲۰۱۶ء، صفحہ۱۷تا ۲۱)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔