ہفتہ، 13 جولائی، 2019

صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار بریلوی کے چند گمراہ کن عقائد

صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار بریلوی کے چند گمراہ کن عقائد
ساجد خان نقشبندی
قارئین کرام !اس باب میں ہم آپ کے سامنے ’’لاثانی فتنے‘‘ کے چند گستاخانہ و شرکیہ عقائدپیش کریں گے۔
صوفی مسعود کا دیدار خدا کا دیدار ہے (معاذاللہ)
اس فرقے کے نزدیک صوفی مسعود
’’خدا‘‘ ہے اس لئے اس کا دیدار کرنا گویا خدا کا دیدار کرنا ہے ۔معاذاللہ ملاحظہ ہو یہ عقیدہ :
کرن زیارت پیر اپنے دی آگئے نے دیوانے
کر دے نے دیدار خدا دا آج سارے ایس بہانے
(لاثانی کرنیں :ص۱۷)
ایک اور جگہ ایک غا لی مرید لکھتا ہے کہ :
کیوں فتووں سے گھبراتا ہے کیوں جھکنے سے شرماتا ہے
ہے مرشد مظہر ذات خدا سبحان اللہ سبحان اللہ
(لاثانی کرنیں :ص۳۹)
ایک اور شعر ملاحظہ ہو :
تیری شا ن نرالی اے تیرا رتبہ عالی ہے
دیدار خدا دیدار تیرا ے لاثانی
(لاثانی کرنیں :ص۶۵)
یہ شعر بھی پڑھیں :
دید تیری ہے قسم خدا دی ،خالق دا دیدار
(لاثانی کرنیں :ص۸۲)
صوفی مسعود کی صورت رب کی صورت ہے معاذ اللہ
یہ فرقہ مشبہ فرقے کی طرح اللہ کے لئے چہرہ ہاتھ وغیرہ بھی مانتا ہے چناننچہ اس فرقے کا ایک غالی اپنے پیر کے متعلق لکھتا ہے کہ :
صورت تیری صورت رب دی ۔(لاثانی کرنیں:ص۵۱)کتنا شرکیہ عقیدہ ہے ۔
بندہ خدا کا عین بن جاتا ہے
’’عبد الکریم جبلی اپنی تصنیف انسان کامل میں لکھتے ہیں ۔اور اس تجلی سے خدا تعالی اپنے بندوں سے اسماء و کلام کرتا ہے پھر وہ بندہ بغیر جہت کے کلام کو سننا حکمت کے ساتھ ہوتا ہے نہ کہ کان سے پھر اس کو کہا جاتا ہے کہ تو میرا حبیب ہے ،تو میرا محبوب ہے ،تو میری مراد ہے ، تو میرا نور ہے ،تو میرا عین ہے ،تو میری زینت ہے ،تو میرا کمال ہے ، تو میر ی ذات ،تو میری صفات ،میں تیرا اسم ،میں تیری رسم ،میں تیری علامت ،میں تیری نشانی ہوں ‘‘۔ (میری مرشد۔ص:۴۸)
صوفی مسعود لاثانیوں کا قبلہ ہے
اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ سوائے پیر کا نام لینے کے انہیںکسی وظیفے کی ضرورت نہیں نہ اللہ کے ذکر کرنے کی نہ درود شریف کی۔ ان کا سب سے افضل ذکر صوفی مسعود کا نام لیناہے اور یہی صوفی مسعود ان کا قبلہ بھی ہے اس لئے وہ اسی صوفی کی طرف رخ کر کے اپنا سر جھکاتے ہیں معاذاللہ ملاحظہ ہو :
چھوڑ دے سارے ورد وظیفے بس پیر دا نام پکا لئے
پیر دے در نوں جان کے قبلہ اپنا سیس جھکا لئے
سب عملاں دی جان سمجھ کے ایہوا کو عمل کما لئے
جے رب نوں ہے راضی کرنا اپنا پیر منا لئے
(لاثانی کرنیں :ص۲۰)
صوفی کا مرید کہا ہے کہ سارے وظیفے ذکر و ازکار چھوڑدو جبکہ رب کا قرآن کہتا ہے کہ :
یاایھا الذین امنوا اذکر و ا اللہ ذکرا کثیرا(احزاب:۴۱)
پھر آپ جتنے بھی مشائخ گزرے ہیں ان کے معمولات دیکھ لیں سب نے اللہ کے ذکر و درود شریف کی تلقین کی مگر لاثانی فتنے کا یہ نرالہ طریقہ تصوف ہے کہ سارے ورود وظیفے چھوڑ کر صر ف لاثانی کا نام پکارو سچ کہا کہ بداعمالیاں آدمی سے خیر پر عمل کی قوت سلب کرلیتی ہے ۔یہ لاثانی فرقے کی بدبختی ہے کہ ان کی زبان پر ہر اللہ وقت اور اس کے رسول ﷺ کا نام قرآن کی تلاوت کی جگہ پیر صاحب کا نام رہتا ہے ۔
پیر لاثانی کا نام ’’اسم اعظم ‘‘
اسم اعظم سمجھ کے میں یارو
پیرومرشد کا نام لیتا ہوں
(لاثانی کرنیں :ص۲۷)
جبکہ حدیث میں آتا ہے کہ اللہ لاالہ الا ھو الحی القیوم اسم اعظم ہے (تفسیر ابن کثیر ۔ج:۱۔ص۲۵۵) ان بدبختوں پر خدا کی کوئی ایسی پھٹکا رہے کہ جب تک قرآن و حدیث کے مخالف کوئی بات نہ کردیں ان کا کھانا ہی ہضم نہیں ہوتا
صوفی مسعود لاثانی کے آستانے کی زیارت کرنے والا
حج اکبر کرنے والا ہے (معاذ اللہ )
ماضی میں آپ نے مرزا بشیر الدین قادیانی کے یہ الفاظ سنے ہونگے کہ مکہ مدینہ کی چھاتیوں کا دودھ خشک ہو گیا ہے اس لئے حج کرنے کے لئے اب قادیان تشریف لایا کریں قادیانوں نے قادیان کی زیارت کو نفلی حج کہا تھا مگر یہ بد بخت اپنی گمراہی میں ان سے بھی دو ہاتھ آگے نکل گئے اور صوفی کے گمراہی کے اڈے یعنی آستانے کی زیارت کرنے والے کو حج اکبر کرنے والا کہا گیا معاذاللہ :
تیرا ذکر عبادت ہے تیری یاد بندگی ہے
میرا تو حج اکبر تیرے در کی حاضری ہے
(لاثانی کرنیں :ص۴۴)
ہزار حج کا ثواب
اس فرقے کا عقیدہ ہے ک صوفی مسعود کا دیدار کرنے سے ایک ہزار حج کرنے کے برابر ثواب ملتا ہے :
اج ھو گئے بیڑے پار مرشد آگئے نے
ساڈے ہو گئے حج ہزار مرشد آگئے نے
(لاثانی کرنیں :ص ۵۱)
لاثانی کی گلی کا ایک پھیرا سو (۱۰۰) حج کے برابر
ابھی آپ نے پڑھا کہ صوفی مسعود کے آستانے کی زیارت کا ثواب ایک ہزار حج کے برابر ہے اب یہ بھی پڑھ لیں کہ جس گلی میں یہ آستانہ ہے ان حضرات کے نزدیک اس آستانے کا صرف ایک بارپھیرا کرنے سے سو حج کے برابر ثواب ملتا ہے معاذ اللہ :
مرشد کی گلی کا اک پھیرا سو حج کے برابر ہوتا ہے
( لاثانی کرنیں :ص۱۴۱)
صوفی مسعود کا آستانہ خانہ کعبہ
آپ نے ابھی ملاحظہ فرما لیا کہ ان کے نزدیک صوفی صاحب اور ان کے آستانے کا دیدار حج کے برابر ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ غالی فرقہ صوفی مسعو دکے آستانے کو اپنا خانہ کعبہ کہتی ہے ملاحظہ ہو ان کا گستاخانہ عقیدہ :
مینوں در تیرا خانہ کعبہ لگدا نقشبندی رنگ وچ آقا رنگ دا
(لاثانی کرنیں :ص۷۲)
لاثانی فرقے کا روحانی حج
قارئین کرام! حج اور عمرہ اسلام کے شعائر میں سے ہے حج ہر صاحب استطاعت پر زندگی میں ایک بار فرض ہے اللہ رب العزت کا ارشاد ہے کہ :
وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا(آل عمران۔۹۷)
اور اللہ کیلئے لوگوں کے ذمہ ہے اپنے گھر کا حج کرنا جسے طاقت ہو اس گھر تک راہ طے کرکے جانے کی۔
اسلام میں حج اور عمرہ ایک مخصوص عبادت ہے چنانچہ فقہ حنفی کی مستندکتاب میں ہے کہ :
’’انہ عبارۃ عن الافعال المخصوصہ من الطواف والوقوف فی وقتہ محرما بنیۃ الحج سابقا‘‘۔
(فتاوی عالمگری۔ج۱۔ص:۲۸۰)
حج نام ہے افعال مخصوصہ کا یعنی طواف اور وقوف اپنے وقت میں احرام کی حالت میں پہلے سے حج کی نیت کرتے ہوئے۔
جس طرح نماز روزہ ایک مخصوص عبادت ہے اور اپنے مخصوص طریقے پر مخصوص اوقات میں ہی ادا ہوتی ہے اور کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں نے آج روحانی طور پر روزہ رکھ لیا یا نماز پڑھ لی اسی طرح حج اور عمرہ بھی ایک مخصوص عبادت ہے نہ کہ کوئی روحانی کھیل تماشہ مگر لاثانیوں نے اپنے مذہب کے ماننے والوں کیلئے ایک عجیب حج و عمرہ نکالا ہواہے جسے وہ روحانی حج کہتے ہیں جس کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کو بس صوفی صاحب سے عقیدت ہونی چاہے اور پابندی سے صوفی صاحب کے آستانے کے چکر لگاتے رہے ہیں ایک نہ ایک دن یہ روحانی حج صوفی صاحب اور دیگر اولیاء اللہ کی سربراہی میں ہو ہی جائے گا۔چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
’’مسعود آباد فیصل آباد والی ایک پیر بہن بیان کرتی ہیں کہ دوران ذکر مجھ پر غنودگی طاری ہوئی اور میں نے دیکھا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لائے اور محفل میں رونق افروزہوگئے اس کے بعد کثیر تعداد میں اولیاء کرام جن میں سے مجھے صرف سرکار حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ ،داتا صاحب رحمۃ اللہ علیہ ،لعلاں والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ ،میرے دادا پیر و مرشد قبلہ حضور ولی محمد شاہ صاحب المعروف چادر والی سرکار رحمۃ اللہ علیہ ،قبلہ لاثانی سرکار کے نا م مبارک یاد رہے ،محفل میں تشریف فرماہوگئے ۔ نبی کریم ﷺ نے بہت کرم فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا محفل میں جو لوگ آئے ہیں ان سب کا حج قبول ہے اور کہہ دو کہ یہاں آکر نمازیں پڑھا کریں ،توبہ و استغار کیا کریں آپ کے اس فرمان مبارک سے نبی کریم ﷺ کی نظر میں ان محافل ذکر کی محبوبیت و مقبولیت کا اندازہ ہوتا ہے کہ آپ نے اس محفل میں آنے والوں کو حج کا ثواب عطا کیا ‘‘۔
(نوری کرنیں ۔ص:۵۹)
صوفی صاحب کی ایک مریدنی اپنے خواب کا تذکرہ کرتے ہوئے فرماتی ہیں کہ:
’’پھر اس کے بعد ایک مرتبہ روحانی طور پر میں عرض کرتی ہوں کہ میرابھی دل چاہتا ہے کہ میں حج و عمرہ کرنے جاؤں تو اسی رات قبلہ لاثانی سرکار صاحب خواب میں تشریف لائے اور مجھے روحانی طور پر حج اور عمرہ کروایا‘‘۔(فیوض و برکات۔ص:۱۰۷)
ایک اور مریدنی صاحبہ فرماتی ہیں کہ:
’’صائمہ اقبال۔حضرت چادر والی سرکار ؒ صاحب کے ہمراہ لاثانی سرکار صاحب کی زیارت ہوئی پھر حضرت لاثانی سرکا ر صاحب نے روحانی طور پر ہی خانہ کعبہ کا حج کروایا‘‘۔(فیوض و برکات۔ص:۱۲۷)
ایک مرید صاحب فرماتے ہیں کہ:
’’زاہد اقبال۔حضرت سیدنا عمر فاروق ؓ ،حضرت سیدنا عثمان غنی ؓ ،حضرت سیدنا داتا گنج بخش علی ہجویری ؒ ،حضرت سیدنا چادر والی سرکار ؒ اور لاثانی سرکار ؒ کی ایک ساتھ زیارت ہوئی پھر مرشد لاثانی سرکار نے حج کروایا‘‘۔
(فیوض و برکات:ص۱۲۷)
شائد اسی خود ساختہ روحانی حج کی وجہ سے صوفی صاحب کے فرقے کے لوگ حقیقی حج کرنے کو ضروری نہیں سمجھتے چنانچہ اس فرقہ کے بانی صوفی لاثانی سرکار ایک مالدار آدمی ہونے کے باوجود ہماری معلومات کے مطابق اب تک حج کی سعادت سے محروم ہیں۔
لاثانیوں کی نماز
اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ صوفی مسعود کو یاد کرنے سے نماز ادا ہو جاتی ہے اس لئے الگ سے نماز پڑھنے کی ضرورت نہیں :
ہے یاد تیری نماز میری ،میرا تو قبلہ ہے پیر خانہ
(لاثانی کرنیں:ص۸۳)
تما م ا نبیاء علیہم السلام کی توہین
آپ حضرات کے علم میں ہے کہ قیامت کہ روز تمام انبیاء علیہم السلا م پر اللہ کے جلال کی وجہ سے ایک خوف طاری ہوگا ساری مخلوق حساب کتاب شروع کرنے کیلئے انبیا ء سے درخواست کرے گی مگر وہ انکار کر دینگے آخر میں محمد مصفطیٰﷺ کے پاس آیا جائے گا اور میرے پیارے آقا ایسے کلمات اللہ کی مدح وثنا میں بیان فرمائیں گے کہ جس پر اللہ ان کو سوال کرنے کا کہیں گے ۔ مگر اس غالی فرقے کا عقیدہ ہے کہ نہیں ایسے موقع پر جب ساری کائنات بشمول انبیاء کرام پرلرزہ طاری ہوگا تو ایک صوفی مسعود ہوگا ہے جس نے اپنا دربار لگایا ہوگا معاذ اللہ فرمائیں:
حشر نوں سب خلقت نے یارورب دے کولوں ڈرنا اے
پیر میرے نے ہونا اتھے دربار لاثانی سجنا اے
(لاثانی کرنیں :ص۷۳ )
صوفی مسعود جنت کا ٹھیکیدار ہے
اس فرقے کا عقیدہ ہے کہ جنت صوفی صاحب کے ہاتھ میں ہے اور یہ اپنے مریدوں کو جنت کے سرٹیفیکیٹ دیتے ہیں :
مریدوں کو بچاتے ہی نہیں فقط فکر قیامت سے
جنت کی سند دے کر تسلی بھی کراتے ہیں
(لاثانی کرنیں :ص ۱۰۲)
پیر قبر میں دستگیری کرتا ہے
اس فرقے کا عقیدہ کہ مرید خواہ کتنا ہی گناہگار کیوں نہ ہو پیر قبر میں آ کر اس کی دستگیری کرتا ہے صوفی صاحب لکھتا ہے کہ :
’’کچھ لوگ تو بیعت کر کے یہ خیال کرتے ہیں کہ انہوں نے شیخ پر بہت بڑا احسان کیا ہے حالانکہ احسان تو ہرصورت میں شیخ کا ہی ہوتا ہے ۔ جو مرید کے گناہوں کی معافی کرواتا ہے اور وقت نزع ،قبر اورحشر میں بھی اس کی دستگیری کاذمہ اپنے سر لے لیتا ہے ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات:ص۳۹)
پیر کا کام مرید کو ہر حال میں جنتی بنانا
’’پیر کا پہلافرض ہی یہ ہے کہ وہ اپنے مرید ین کے ہر قسم کے گناہ معاف کروا کر جنتی بنا دے خواہ وہ (مرید)لوح محفوظ پر دوزخی ہی کیوں نہ ہو‘‘ ۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۶۸)
حالانکہ یہ محض صوفی صاحب کی گمراہانہ سو چ ہے اور مریدین کو اعمال سے بے نیاز کرنے کی گمراہانہ منصوبہ بندی ہے ۔
حضرت مطرف ؒ فرماتے ہیں کہ رب تعالی کا کوئی قاصد میرے پاس آئے اور مجھے دخول جنت یا دخول جہنم یا دوبارہ مٹی ہوجانے کا اختیار دے تو میں دوبارہ مٹی ہوجانے کو اختیار کروں گا ‘‘۔ (حلیۃ الاولیاء۔ض۱:ص:۵۰۶)
حضرت مالک بن دینا ؒ ایک بار اللہ کے حضور کھڑے ہوکر فرمانے لگے کہ اے اللہ ! جب تو اولین و آخرین کو جمع کرے تو بوڑھے مالک بن دینار پر آگ حرام کردینا ۔یہی کہتے کہتے صبح ہوگئی ‘‘۔ (حلیۃ الاولیاء:ج۱:ص:۶۶۶)
ہم نے یہاں صرف دو عبارتیں پیش کیں حلیۃ الاولیاء کتاب بزرگان دین کے اس قسم کے اقوال سے بھری پڑی ہے غور فرمائیں کہ وقت کے یہ بڑے بڑے اکابر اولیاء اللہ کے سامنے تو اس طرح لزرہ اندام ہو خو ف خدا اور خشیت الٰہی سے ان پر لرزہ طاری ہو مگر صوفی لاثانی صاحب کا مذہب و مشرب ہی نرالا ہے لوح محفوظ پر لکھے ہوئے دوزخی کو بھی جنتی بنادیتا ہے اور یہ نہیں کہ اس بیچارے کے توبہ تائب کرواکر نیک اعمال کرواکر اس کی یہ تقدیر بدلے بلکہ کہہ رہا ہے کہ پیر کہتے ہی اسی کو جو دوزخی کو جنتی بنادے ۔
قارئین کرام! آپ خود سوچیں کہ جب مریدوں کو اس طرح سوچ دی جائے تو کیا ان سے نیک اعمال کی توقع عبث نہیں؟ ہمیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ صوفی صاحب کوئی صوفی ہیں یا عیسائیوں کے پادری جو چند ٹکوں کے عوض بپتسمہ دے کر اپنے ماننے والوں کو جنت کے سرٹیکیفٹ تقسیم کررہے ہیں ۔جب انسان اپنے بارے میں قطعی طور پر نہیں کہہ سکتا کہ آخرت میں اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا تو کسی دوسرے کے متعلق یہ دعوی کس طرح کیا جاسکتا ہے ۔
فقراء اللہ کے نور سے پیدا ہو تے ہیں
صوفی صاحب کہتے ہیں کہ :
’’فقراء چونکہ اللہ ہی کے نور سے پیدا ہوتے ہیں ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۶۰)
فقیر قادر ہوتا ہے
فقیر’’ قادر ‘‘(قدرت رکھنے والا ، باا ختیا ر ولی )ہوتا ہے ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۶۰ )
قرآن تو رب کی شان بتلاتا ہے کہ ان اللہ علیٰ کل شیء قدیر یعنی اللہ ہر چیز پر قادر ہے مگر صوفی صاحب کا مذہب یہ اختیا فقیر کو دے رہا ہے۔
پکڑے ہوئے مردوں کی بخشش
’’جہاں لاکھوں لوگوں کا (مردوں کے ایصال ثواب کی غرض سے) پڑھا ہوا کلمہ و ذکر (کلام الٰہی )نا منظور ہو جائے وہاں فقیر صرف اپنی ایک توجہ سے اس کو منظور و مقبول کروا دیتا ہے یہی نہیں بلکہ فقیر تو بغیر کچھ پڑھے بھی صرف اپنی ایک نظر (توجہ)سے سے ہی پکڑ میں آئے ہوئے (مردوں)کی بخشش بھی کروا سکتا ہے ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۶۹)
حالانکہ حضرت حذیفہ ؓ کو جب دفن کیا گیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے صحابہ کے ساتھ مل کر دیر تک اللہ کی تسبیح و تکبیر بیان کی صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ آپ ﷺ نے کیوں تکبیر و تسبیح بیان کیا تو اللہ کے رسول ﷺ نے بیان فرمایا کہ اللہ کے اس بندے پر قبر تھوڑی تنگ ہوگئی تھی تو میں اللہ کی بڑائی بیان کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ تعالی نے اس پر آسانی فرمادی‘‘۔
(مشکوۃ :ص:۲۷)
تمام فقرآء کے سردارکا عمل تو یہ ہے کہ ایک نظر سے نہیں بلکہ دیر تک صحابی کی بخشش کیلئے خدا کے حضور دست بدست کھڑے اس کی پاکی اور بڑائی بیان کررہے ہیں مگر صوفی کہتا ہے کہ میں ایک نظر میں معاف کرواسکتا ہوں ۔پھر اولیاء اللہ کے سردار امتیوں کے گناہ معاف کروانے کیلئے تو اپنے رب کے حضور دست بدعا ہے مگر صوفی کے دعوے ہیں کہ یہ سب اس کے اپنے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے ۔
عام آدمی کا قبر میں حال خراب
صوفی صاحب کہتے ہیں کہ:
’’عام آدمی کا قبر میں جاتے ہی حال خراب ہو جاتا ہے لیکن جس کی نسبت کسی فقیر سے ہو جائے اس کا بیڑہ پار ہے ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۷۰)
غور فرمائیں کہ اگر عام آدمی کی نسبت حضور سے ہے قرآن سے ہے حدیث سے ہے مگر صوفی صاحب جیسے ٹھگوں سے نہیں اس کی حالت تو معاذاللہ قبر میںجاتے ہی خراب مگر فقیر سے صرف نسبت ہو جائے پھر چاہے شراب پئے جوا کھیلے اس کا بیڑہ پار اس کا اور کیا مطلب لیا جائے کہ اب نہ قرآن پر ایمان ضروری نہ حضور ﷺ پر نہ اللہ کے دین پر بس کسی فقیر سے نسبت کر لو پھر ساری زندگی عیاشی کرو کوئی تم سے پوچھنے والا نہیں۔
اجرو ثواب فقیر کے ہاتھ میں
’’اس کا اجرو ثواب مخصوص نہیں ،فقیر اپنے اختیار (تصرفات)کی بدولت جتنا چاہے فیض عطا کر سکتا ہے ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۷۲)
مگر رب کا قرآن تو کہتا ہے
وَاللّٰہُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآئُ (بقرۃ۔۲۶۱)
اور اللہ اس سے بھی زیاد ہ بڑھائے جس کیلئے چاہے
ٓاِنَّ للّٰہَ لاَ یُظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ وَّ اِنْ تَکُ حَسَنَۃً یُضٰعِفْھَا وَ یُوْتِ مِنْ لَّدُنْہ‘ اَجْراً عَظِیْماً(النسآء :۴۰)
اور اللہ ذرہ بھر ظلم نہیں فرماتا اور اگر کوئی نیکی ہوتو اسے دونی کرتا اور اپنے پاس سے بڑا ثواب دیتا ہے ۔
مَنْ ذَااَّلذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضٰعِفَہ‘ لَہُ اَضْعَافاً کَثِیْرَۃً(بقرۃ۔۲۴۵)
ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسن دے تو اللہ اس کیلئے بہت گنا بڑھا دے ۔
ان تمام آیات میں واضح کردیا گیا ہے کہ نیک اعمال پر جتنا چاہے اجر بڑھا کر دے یہ خدا ہی کا مقام ہے جب اعمال خیر خدا کیلئے تو اجر بھی خداہی دے گا ۔مجھے تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لاثانی فرقے کے لوگ اپنا کوئی عقیدہ اپنانے سے پہلے قرآن پڑھتے ہیں اور پھر جو عقیدہ قرآن میں دیا گیا ہو اس کے متضاد عقیدے کو اپنا نا اپنا جز ایمان سمجھتے ہیں۔
ایمان کی کوئی ضرورت نہیں
’’جس کے دل میں فقیر کی محبت ہے خواہ اس کی زیارت بھی نہ کی ہو (کسی مجبوری کی وجہ سے نہ مل سکا ہو )اس کی بھی بخشش ہو جائیگی‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۷۴)
ابو طالب کے دل میں حضور ﷺ کی سچی محبت تھی مگر اس کے باوجوداس کی بخشش نہ ہوسکی۔
جب تک آستانہ لاثانی کے لنگر میں نہ ڈالوگے تقدیر نہ بدلے گی
’’فیصل آباد کا ایک پیر بھائی جو کہ نہ صرف یہ کہ محافل میں حاضری دیتا ہے بلکہ محافل کے انتظامات بھی کرواتا تھا لیکن اس کے حالات خراب تھے ۔اس نے کئی دفعہ دعا کے لئے کہا لیکن حالات بہتر نہ ہوئے تو میں نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کی ایک رات میرے آقا حضور نبی کریم ﷺتشریف لائے اور فرمایا !’’ یہ محفلوں میں حاضری دیتا ہے ہم نے اسے جنت عطا کر دی،تم سے عقیدت رکھتاہے اس وجہ سے اسے مقام ولایت بھی عطا کر دلیکن کیا اس نے کوئی مالی خدمت بھی کی؟کیا کبھی آستانے کے لنگر میں حصہ ڈالا؟اگر نہیں تو پھر اس کی تقدیر کس طرح بدلے گی اور مال میں اضافہ کیونکر ممکن ہے ؟‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۹۰)
صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین تو ساری زندگی حضور ﷺ کی محفلوں میں بیٹھے رہے مگر پھر بھی آخر وقت تک آخرت کا ڈر لگا رہا مگر یہاں صوفی صاحب کی محفلوں میں بیٹھنے والوں کو جنت کی بشارتیں مل رہی ہیں اور عوام سے چندہ بٹورنے کی کاروباری سوچ تو دیکھیں کہ کس طرح اسے روحانیت کا غلاف چڑھایا جا رہا ہے کہ جنت بھی مل گئی ولی بھی ہو گیا مگر چونکہ اس کی جیب سے لاثانی صاحب کے اکائونٹ میں کوئی مال نہیں آتا اس لئے اس کی تقدیر کیسے بدلے ۔حیرت ہے ایک طرف تو صوفی صاحب کا فرقہ کہتا ہے کہ ولی کو ہر سیاہ سفید کا اختیار ہے دوسری طرف یہاں خوداقرار کیا جا رہا ہے کہ ولی تو اپنی حالت بدلنے پر بھی قادر نہیں ۔
روحانی اسمبلیاں اور سپریم کورٹ
’’جس طرح اس (ظاہری )دنیا میں عدالتیں ہوتی ہیں ۔ اس طرح باطنی و روحانی دنیا میں بھی عدالتیں ہوتی ہیں اور جس طرح ملک کی اسمبلی ہوتی ہے اور کسی بڑے اور اہم فیصلے کے لئے ارکان اسمبلی سے اظہار رائے کیلئے ووٹ لئے جاتے ہیں اور جس فیصلے کے حق میں ووٹ زیادہ ہوں وہی فیصلہ حتمی ہوتا ہے ۔اسی طرح اولیاء کرام اور فقراء کوبھی اپنی اپنی عدالتوں میں اظہار رائے کا پورا پورا حق ہوتا ہے اور جس فیصلہ کے حق میں اولیاء کرام یا فقراء کی اکثریت متفق ہو جائے وہی فیصلہ منظور ہو جاتا ہے ۔ یہ عدالتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں ۔
۱۔۔۔۔۔ مقامی عدالت ۲۔۔۔۔۔ہائی کورٹ ۳۔۔۔۔۔۔سپریم کورٹ
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص)
جبکہ اللہ تو فرماتا ہے کہ :
للہ غیب السموت والارض و الیہ یرجع الامر کلہ (ھود آیت ۱۲۳)
اس آیت کی تفسیر میں قاضی ثناء اللہ پانی پتی حنفی ؒ فرماتے ہیں کہ:
’’اور (بندوں ) کے تمام امور کا رجوع اسی کی طرف ہے آپ ﷺ کے امور کا بھی اور ان کے امور کا بھی وہی آپ کا ان سے انتقام لے گا وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے اور جیسی اس کی مرضی ہوتی ہے حکم دیتا ہے ‘‘۔
(تفسیر مظہری ۔ج:۶۔ص:۷۳)
جب آپ ﷺ کے جملہ امور کا رجوع بھی اللہ کی طرف ہے اور اللہ ہی آپ ﷺ کا کارساز ہے تو کسی اور کو یہ حق کس نے دیا کہ خدائی عدالت اور حاکمیت کے سامنے اپنی بوگس سپریم کورٹس بناتا پھرے کیا یہ State with in Stateکی باغیانہ سوچ نہیں جب ساری دنیا کے فیصلے تم لوگوں ہی نے کرنے ہیں تو پھر کیا خدا رب ذوالجلال کو معاذ اللہ ثم معاذ اللہ تم نے معطل سمجھا ہوا ہے؟
دنیا کے بادشاہ کون تبدیل کرتا ہے
’’اگر کبھی ظاہری دنیا کے بڑے فیصلے مثلا کسی ملک ک حکومت (بادشاہ یا وزیراعظم وغیرہ )کو تبدیل کرنا مقصود ہو تو پھر ایسے معاملات کا فیصلہ میرے آقا حضور ﷺ فقراء کی موجودگی میں فرماتے ہیں ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکا ت:ص۱۹۶)
اس کا مطلب ہے کہ دنیا میں جتنے فاسق فاجر ظالم گمراہ حکمران ہیں جنہوں نے اپنی بد اعمالیوں سے اس جنت کدہ کو جہنم بنا دیا ان سب کے ذمہ دار حضور ﷺ ہیں معاذاللہ کہ انہی کے حکم سے تو یہ حکمران تبدیل ہوتے ہیں ۔غور فرمائیں کتنی بڑی گستاخی کی جا رہی ہے ۔
قبر میںکوئی پوچھنے والا نہیں
’’سلسلہ عالیہ نقشبندیہ چادریہ کے سابقہ شجرہ شریف کے آخر میں اشعار میں لکھا تھا
قبر میں مجھ پر ہوں سوال آسان ولی محمد شاہ امام اصفیاء کے واسطے میرے دل کو یہ بات کچھ اچھی نہ لگی کیونکہ اس قدر مشاہدات کے بعد مجھے تو پختہ یقین ہو گیا تھا کہ جو میرے آقا کا معتقد ہو گیا منکر نکیر نے اسے پوچھنا ہی نہیں اور جب منکر نکیر نے حساب لینا ہی نہیں تو مشکل اور آسان کا سوالات کا ذکر کیسا ؟‘‘۔(مرشد اکمل :ص:۷۰)
ایک جگہ صوفی مسعوداحمد صاحب کا مرید لکھتا ہے کہ:
’’محمد احسان صاحب (سرگودھا)عالم رویا میں دیکھا کہ میںمر چکا ہوں قبر کے اندر جب جاتا ہوں منکر نکیر سوال کرتے من ربک ، من دینک ،من رسولک میں عرض کرتا ہوں کہ مجھے علم نہیں میں تو قبلہ لاثانی سرکار کا مرید ہوں‘‘۔(نوری کرنیں :ص:۴۰۲)
قارئیں کرام !ان جعلی پیروں فقیروں نے عجیب رسوائی کا طوق گلے میں پہن رکھا ہے کہ جب بھی کوئی بات کرینگے تو لازماََ پہلے قرآن وحدیث کو دیکھیں گے اس کے بعد قرآن وحدیث میں جو بات آئی ہے اس کے خلاف بات کرینگے انہیں ہر حال میں یہ ثابت کرنا ہے کہ پیروں فقیروں کا حکم خدا پر چلتا ہے حتی کہ قبر میں بھی آکر دستگیری کرتے ہیں ۔صو فی صاحب کی جماعت اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیںکہ قبر میں سوال و جواب کرنے والے منکر نکیر ہوتے ہیں جس کا معنی خوفناک شکل والے وہ کسی خانقاہ کے مجاور اور کسی چنڈو خانے کے چرسی نہیںجو کسی پیر فقیر سے ڈر کر بھاگ جائیں ۔آپ یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر لیں کہ قبر میںہر ایک سے سوال و جواب ہوگا (سوائے انبیاء علیہم السلام کے)جس نے درست جواب دیا تو اس کیلئے جنت اور جس نے غلط جواب دیا تو اس کیلئے جہنم کے ہتھوڑے چنانچہ خود حبیب پاک ﷺکا ارشاد گرامی ہے:
’’عن البراء بن عازب عن رسول اللہ ﷺ قال یاتیہ ملکان فیجلسان فیقولان لہ من ربک فیقول ربی اللہ فیقولان لہ ما دینک فیقول دینی الاسلام فیقول ما ھذا الرجل الذی بعث فیکم فیقول ھو رسول اللہ فیقولان لہ وما یدریک فیقول قرات کتب اللہ فآمنت بہ فصدقت فذلک قولہ یثبت اللہ الذین آمنو بالقول الثابت الایۃ قال فینادی منادی من السماء ان صدق عبدی فافرشوہ من الجنۃ فیفتح قال فیاتیہ من روحھا و طیبھا و یفسح لہ فیھا مد بصرہ واما الکافر فذکر موتہ قال ویعاد روحہ فی جسدہ و یاتیہ ملکان فیجلسانہ فیقولان من ربک فیقول ھاہ ھاہ لا ادری فیقولان لہ ما دینک فیقول ھاہ ھاہ لا ادری فیقولان ما ھذا الرجل الذی بعث فیکم فیقول ھاہ ھاہ لا ادری فینادی منادی من السماء ان کذب فافرشوہ من النار والبسوہ من النار وافتحو لہ بابا الی النار قال فیاتیہ من حرھا و سمومھا قال و یقیض علیہ قبرہ حتی تختلف فیہ اضلاعہ ثم یقیض لہ اعمی اصم معہ مزربۃ من حدید لو ضرب بھا جبل لصار ترابا فیضربہ بھا ضربۃ یسمعھا ما بین المشرق والمغرب الا الثقلین فیصیر ترابا ثم یعاد فیہ الروح‘‘۔ (رواہ احمد و ابو داود )
ترجمہ:حضرت براء بن عازب رضی اللہ تعالی عنہ رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ مردے کے پاس دو فرشتے آتے ہیں وہ اسے اٹھاکر بٹھاتے ہیں اور اس سے پوچھتے ہیں کہ تیرارب کون ہے ؟ وہ جواب میں کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے۔پھر فرشتے پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے ؟ وہ کہتا ہے کہ میرا دین اسلام ہے پھر وہ پوچھتے ہیں کہ جو شخص (خدا کی طرف سے ) تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ کون ہے؟ وہ کہتا ہے وہ خدا کا رسول ﷺ ہے ۔پھر فرشتے پوچھتے ہیں کہ تجھے یہ باتیں کہاں سے معلوم ہوئیں؟وہ کہتا ہے کہ میں نے خد اکی کتاب پڑھی ا س پر ایمان لایا اور اس کی تصدیق کی۔رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ یہی معنی ہے خدا کے اس قول کے یثبت اللہ الذین امنوا بالقول الثابت الآیۃ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ پھر ایک شخص آسمان سے پکارے گا کہ میرے بندے نے سچ کہا پس اس کیلئے جنت کا فرش بچھاو اور اسے جنت کا لباس پہناو اور اس کے واسطے جنت کی طرف ایک دروازہ کھول دو۔ چنانچہ جنت کی طرف کا دروازہ کھول دیا جائے گا جس سے ہوائیں اور خوشبوئیں آئیں گی اور حد نظر تک اس کی قبر کشادہ کردی جائے گی۔اب رہا کافر تو رسول اللہ ﷺ نے اس کی موت کا ذکر فرمایا اور اس کے بعد کہا کہ پھر کافر کی روح اس کے بدن میں ڈالی جاتی ہے اور اس کے پاس دو فرشتے آتے ہیں اور اٹھاکر پوچھتے ہیں کہ تیرا رب کون ہے؟ وہ کہتا ہے ہا ہا میں نہیں جانتا۔ پھر وہ پوچھتے ہیں کہ تیرا دین کیا ہے؟وہ کہتا ہے کہ ہا ہا میں نہیں جانتا۔پھر وہ پوچھتے ہیں کہ وہ شخص کون ہے جو تم میں بھیجا گیا تھا؟وہ جواب دیتا ہے کہ ہا ہا میں نہیں جانتا۔پھر ایک پکارنے والا آسمان سے پکار کر کہے گایہ جھوٹا ہے اس کیلئے آگ کا فرش بچھاو اسے آگ کا لباس پہناو اور اس کے واسطے دوزخ کی طرف ایک دروازہ کھول دو ۔آپ نے فرمایا کہ دوزخ کی طرف سے اس کے پاس گرم ہوائیں اور لوئیں آتی ہیں۔ اور اس کی قبر اس کیلئے تنگ کی جاتی ہے یہاں تک کہ ادھر کی پسلیاں ادھر اور ادھر کی پسلیاں ادھر نکل آتی ہیں ۔پھر اس پر ایک اندھا بہرا فرشتہ مقرر کردیا جاتا ہے جس کے پاس لوہے کا گرز ہوتاہے (ایسا گرز)اگر اس کو پہاڑ پر ماراجائے تو وہ ریزہ ریزہ ہوجائے وہ اسے اس گرز سے مارتا ہے جس کی آوا زمشرق سے مغرب تک تمام مخلوقات سنتی ہیں مگر انسان اور جن نہیں سنتے اور اس ضرب سے وہ ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے اس کے بعد پھر اس کے اندر روح ڈالی جاتی ہے۔
اس حدیث سے صاف معلوم ہوا کہ جو کوئی قانون الٰہی کے مطا بق جواب دیگا نجات اسی کی ہوگی لاثانیوں کی طرف سے اس قسم کے واقعات بیان کرنے کا مقصد صرف یہی ہے کے جاہل عوام خدا کو بے بس سمجھ کر ان پیروں فقیروں کے آستانوں پر جمع ہو جائیں تاکہ ان پیروں کا کام دھندا یوں ہی چلتا رہے ۔
اللہ والوں کے اختیارات
ــ’’اللہ والون کے اختیارات پر بات کرتے ہوئے ایک مرتبہ حضر ت لاثانی سرکار نے فرمایا ’’اگر دنیا والوںکو فقراء کے اختیارات کا علم ہو جائے تو ڈر ہے کہ وہ مشرک نہ ہو جائیں ۔پھر فرمایا ’’یہی بات میرے قبلہ حضرت چادر والی سرکارؒنے بھی فرمائی اور جب آپ نے ایک درویش کو مردے زندہ کرنے کا اختیار عطاء فرمایا (حضور ﷺ کے عطا کردہ خزانوں میں کچھ حصہ دیا )تو فرمایا ’’دیکھنا جی !شریعت محمدی ﷺ کا خیال رکھنا ‘‘پھر فرمایا ’’بابو جی! اگر ہم ذرا سا بھی کھل جائیں تو دنیا مشرک ہو جائے ‘‘۔
(مخزن کمالات :ص۱۳)
اس عبارت کا اس کے سوا اور کیا مطلب ہے کہ بقول لاثانی سرکار کے فقراء کو خدائی اختیارات حاصل ہوتے ہیں جس کو چاہیں زندگی دیں جس کوچاہیں مار دیں جس کو چاہیں اولاد دیں جس کو چاہیں عزت دیں اگر یہ لوگ اپنے اختیارات ظاہر کر دیں تودنیا والے خدا کو چھوڑ کر معاذ اللہ ان کو خدا مان لیں اور یوں لوگ مشرک ہو جائیں۔حالانکہ اگر اللہ چاہے اور صرف ان اللہ والوں کا بول و براز بند کر دے تو یہ اپنا بول و برازکھولنے پر قادر نہیں پھریہ کہنا بھی کس قدر شرکیہ عقیدہ ہے کہ ایک درویش کو مردے زندہ کرنے کا اختیار دے دیا حالانکہ قرآن توکہتا ہے کہ :
’’اذ قال ابراھیم ربی الذی یحی و یمیت ‘‘۔(البقرہ:آیت۲۵۹)
اور جب کہا ابراہیم نے اے میرے رب جو زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے
واللہ یحی و یمیت ‘‘۔(آل عمران :آیت ۱۵۶)
اور اللہ ہی حیات دیتا ہے ا ور موت دیتا ہے
ان اللہ لہ ملک السمٰوات والارض یحی و یمیت۔(التوبہ:آیت ۱۱۶)
بے شک اللہ ہی کے لئے بادشاہی ہے آسمان و زمین کی اور وہی زندہ کرتا ہے اور موت دیتا ہے ۔
ہم صوفی صاحب کے مریدین سے انتہائی ادب کے ساتھ درخواست کرینگے کہ قرآن کی کوئی ایک آیت ،نبی کریم ﷺ کی کوئی ایک حدیث پیش کر دیں جس میں ہو کہ اولیاء اللہ کو اتنے اختیارات ہیں کی اگر ظاہر کر دیں تو دنیا مشرک ہو جائے اور زندگی موت ان کے ہاتھ میں ہے ۔
پیر کو سجدہ کرنا جائز
کیوں فتووں سے گھبراتا ہے
ہر مرشد مظہرذات خدا سبحان اللہ سبحان اللہ
(میرے مرشد :ص۱۰۷)
حالانکہ شریعت محمدیہ میں سجدہ تعظیمی حرام ہے ۔صوفی صاحب کے ممدوح مولانا احمدرضاخان بریلوی نے سجدہ تعظیمی کی حرمت پر ایک پورا رسالہ ’’الزبدۃ الزکیہ ‘‘ لکھا ہوا ہے۔
لاثانی مذہب میں پیر کا کیا فرض ہے ؟
’’حضرت چادر والی سرکار ؒ کا فرمان ہے کہ ’’پیرکا فرض ہے کہ وہ اپنے مرید کے پاس ہو وقت نزع ،قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے وقت تاکہ اسے گھبراہٹ نہ ہو اور پھر حشر میں ساتھ ہو ‘‘۔ (نوری کرنیں۔ص:۲۲۱)
لوح محفوظ پر اولیاء اللہ کی نظر
’’ لوح محفوظ اولیاء اللہ کے پیش نظر ہوتی ہے جسے دیکھ کر وہ لوگوں کی تقدیریں بتاتے ہیں اور فقراء کیلئے تقدیریں بدل دینا ،زندگی بڑھا دینا ، کوئی مشکل کام نہیں‘‘۔(مخزن کمالات :ص۷۶)
یہ نظریہ بھی سراسر غلط ہے کہ اولیاء اللہ کی نگاہیں ہر وقت لوح محفوظ پر لگی رہتی ہیں چنانچہ جب فلاسفہ نے انبیاء علیہم السلام کیلئے یہی عقیدہ پیش کیا کہ انہیں غیب کا علم ہے کہ ان کی نگاہ لوح محفوظ پر لگی رہتی ہیں تو امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ نے جواب دیا :
وزعموا ان النبی ایضا مطلع علی الغیب بھذا الطریق(ای لاتصالہ باللوح المحفوظ و مطالعتہ)الی ا ن قال والجواب ان نقول بما تنکرون علی من یقول النبی یعرف الغیب لتعریف اللہ عز و جل علی سبیل الابتداء وکذا من یری فی المنام فنما یعرفہ بتعریف اللہ او تعریف ملک من الملائکۃ فلا احتیاج الی شیء مما ذکرتموہ فلا دلیل فی ھذا ۔
(تہافت الفلاسفہ:ص۶۱)
ترجمہ:فلاسفہ کا یہ گمان ہے کہ نبی غیب پر اس طریقے سے بھی مطالعہ ہوتا ہے یعنی چونکہ لوح محفوظ کے ساتھ انکا تعلق ہوتا ہے اور وہ ان کے مطالع میں رہتا ہے (لہذاان کو غیب معلوم ہوتا ہے)اس کے جواب میں ہم یوں کہتے ہیں کہ تم کس دلیل سے اس شخص کی بات کا انکار کرتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ نبی کو اللہ ابتداء غیب پر مطلع کر تا ہے اور اسی طرح نیند کی حالت میں خواب دیکھنے والے کو اللہ تعالی خود حقیقت حال پر مطلع کر دیتا ہے (نہ یہ کہ لوح محفوظ سے خود اخذ کرتا ہے )یا کوئی فرشتہ اس کو القاء کر دیتا ہے تمہارے مذکورہ طریقے (لوح محفوظ کے مطالعہ )کی مطلقا نہ کوئی ضرورت ہے اور نہ احتیاج اورنہ اس پر کوئی دلیل موجود ہے ۔
آدمی مرد کا مل کب بنتا ہے ؟
’’امام شعرانی فرماتے ہیں کہ ہم نے اپنے سید علی خواص سے یہ فرماتے ہوئے سناکہ ’’ہمارے نزدیک اس وقت تک کوئی مرد کامل نہیں ہوتا جب تک کہ اپنے مرید کی حرکات نسبی کو جان نہ لے ،یوم میثاق سے لیکر،اس کے جنت یا دوزخ میں داخل ہونے تک کو جان نہ لے‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص:۲۵۶)
جسے چاہے ولی بنا دے جسے چاہے ولایت سے معزول کر دے
صوفی صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’فقیر جسے چاہے ایک نظر سے ولی بنا دے (خواہ وہ دوزخی ہو )اور جسے چاہے ولایت سے معزول کردے اور جس کا چاہے مقام ولایت بھی سلب کر سکتا ہے‘‘ ۔(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات:ص۱۶۲)
ولی تقدیر مبر م کو بھی بدل سکتا ہے
’’ولی تو صرف تقدیر معلق کو بدل سکتا ہے جب کہ فقیر اللہ کے عطا کردہ اختیارات سے تقدیر مبرم کو بھی بدل سکتا ہے ‘‘۔
(راھنمائے اولیاء مع روحانی نکات:ص۱۶۲)
باطنی نظام میں ردوبدل
’’فقیر کو روحانی دنیا (باطنی نظام )کے قوانین میں ردوبدل کرنے کا اختیار بھی ہوتا ہے ‘‘۔(راہنمائے اولیاے مع روحانی نکات :ص۱۶۳)
جانور کو بھی جنت میں داخل کردے
’’فقیر اگر کسی جانور پر بھی نظر فرما دے تو اسے بھی جنت میں داخل کر سکتا ہے (اصحاب کہف کے کتے کی مثال سامنے ہے )‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۶۳)
جب فقیر کی اپنی مرضی ہوتی ہے تب مرتا ہے
’’جب فقیر کی اپنی مرضی اور ارادہ ہوتا ہے تب وہ انتقا ل کرتا ہے ‘‘۔
(راہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۶۴)
حالانکہ موت زندگی دینا اللہ کے ہاتھ میں ہے کوئی امتی نہ تو اپنی مرضی سے جیتا ہے نہ مرتا ہے۔ یہ صرف نبی ﷺ کی خصوصیت ہے کہ جب حضرت عذرائیل علیہ السلام حاضر ہوئے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا یہ ملک الموت ہے اور آپ سے اجازت مانگتے ہیں آپ سے پہلے انہوں نے کبھی کسی سے اجاز ت نہیں مانگی اور نہ آپ کے بعد کسی آدمی سے اجازت مانگیں گے کیا آپ ان کو اجازت دیتے ہیں آپ ﷺ نے ان کو اجازت دی۔
(سیرت حلبیہ ۔ج:۶۔ص:۵۰۹)
فقیر کا قد
’’فقیر جب قیام کی حالت میں کھڑا ہوتا ہے تو سدرۃ المنتیٰ تک اس کا قد پہنچتا ہے جس مقام پر فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں ،وہاں سے فقیر کی پرواز کی ابتداء ہوتی ہے ‘‘۔ (نوری کرنیں۔ص:۴۴۷)
فرشتوں کا اعلان(کتاب میں یہی عنوان ہے )
’’دنیا والو! سن لو جس کسی نے بھی حضور میاں صاحب ؒ سے محبت کی اس کا نہ قبر میں کوئی حساب کتاب ہے اور نہ ہی حشر میں کوئی حساب کتاب ہوگا‘‘۔(مرشد اکمل۔ص:۱۰۵)
دنیا کا نظام لاثانی کے پیر کے ہاتھ میں
’’ملتان میں چادر والی سرکار ؒ ہیں اس وقت تمام نظام ان کے ہاتھ میں ہے‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص:۱۱۷)
کئی موتیں
’’ایک درویش تھے ،ان کا انتقال ہوگیا تھا جی،پردہ فرمانے کے بعد جب وہ جسم سمیت دنیا میں آئے تو ان کے ایک جاننے والے نے انہیں پہچان لیا اور حیران ہوکر عرض کرنے لگا ۔حضور آپ یہاں کیسے ؟آپ تو پردہ فرماچکے تھے اور میں نے توخود آپ کے جنازہ میں شرکت بھی کی تھی۔تو انہوں فرمایا!
’’چھوڑو جی اس بات کو ایسی موتیں تو ہمیں کئی بار آچکی ہیں‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص:۱۴۰)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔