ہفتہ، 13 جولائی، 2019

علمائے دیوبند پر کانگریس سے اشتراک کا بریلوی اعتراض

علمائے دیوبند پر کانگریس سے اشتراک کا بریلوی اعتراض
ماخوذ دفاع اہل السنۃ والجماعۃ جلد دوم از مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی حفظہ اللہ
(اعتراض۱۵۵):کانگریس اشتراک پر اعتراض
(اعتراض )ہندو مذہب کی کانگریس میں دیوبندی مولوی شامل
اس عنوان کے تحت اس نے بوادر النوادر ،بیس بڑے مسلمان،ص۱۸،ص۴۸۳، تاریخ دارالعلوم دیوبند ،ص۳۴۷،۳۸۵ کے نامکمل حوالے کاٹ چھانٹ کر دئے ۔
(دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف ،ص۱۵۳،۱۵۴)
مگر کسی ایک حوالے میں بھی یہ صراحت نہیں کہ
کوئی دیوبندی اکابر میں سے کانگریس میں رہا ہو۔باقی ان تمام حوالہ جات یا کانگریس کے ساتھ اتحاد کے دیگر حوالہ جات کا اصولی جواب یہ ہے کہ ان جاہلوں کو اتنا بھی علم نہیں کہ کسی قومی مفاد میں کسی جماعت کے ساتھ سیاسی اتحاد اور چیز ہے اور اس کانظریہ اپنا کر اس میںشمولیت اختیارکرنا اور چیزہے ۔ تحریک آزادی کیلئے اکابر علمائے دیوبند نے اس وقت کے حالات کے پیش نظر کانگریس کے ساتھ اتحاد کیا اس سے نہ ہمیں کل انکار تھا نہ آج اور نہ اس میں کوئی شرعی و اخلاقی قباحت ہے ۔بلکہ وقت نے ثابت کردیاکہ مکمل ہند کی آزادی اور متحدہ ہند کی آزادی کا مطالبہ ہی حق بجانب تھا۔
معترض سے ہم پوچھتے ہیں کہ آپ کے نزدیک کانگریسی بڑے کافر ہیں یا معاذاللہ علمائیے دیوبند؟ تو کیا وجہ ہے کہ علمائے دیوبند کے ساتھ تو ’’متحدہ مجلس عمل ‘‘ کی صورت میں سیاست کے مزے جائز ،تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳،۱۹۷۴ کا اتحاد جائز،نظام مصطفی ﷺ کا اتحاد جائز ،تحریک تحفظ ناموس رسالت ﷺ کا اتحاد جائز ،حدود آرڈیننس کا اتحاد جائز ،جب یہ سب اتحاد جائز ہیں تو آخر کانگریس کے ساتھ اتحاد کفر و شرک کیوں ؟ ہم آگے ان شاء اللہ بیان کریں گے کہ تحریک خلافت کانگریس کے ساتھ مل کر چلائی گئی جس میں کئی بریلوی اکابر شریک تھے آخر ان کے خلاف آپ کا قلم کیوں نہیں چلتا ؟
معترض اور ان کی جماعت آج میڈیا پر بیٹھ کر عوام کو دھوکا دیتے ہیں کہ ہم نے تو مسلم لیگ کا ساتھ دیا تھا ہمارے تمام اکابر مسلم لیگ کے ساتھ تھے لیکن مسٹر محمد علی جنا ح صاحب کی اسی مسلم لیگ کے بارے میں آپ کے مفتی اعظم ہند مفتی مصطفی رضاخان صاحب بریلی لکھتے ہیں:
’’مسلم لیگ جہاں تک ہمیں معلوم ہے وہ اب چند روز سے کانگریس سے جدا ہوئی ہے جبکہ کانگریس اپنے نشہ کامیابی میں مخمور تھی اور اس نے نہایت بری طرح ان بعض افراد کو جنہوں نے مسلم لیگ نام رکھ لیا ہے بعض مطالبات کو ٹھکرادیا ۔۔۔ جب کانگریس کا نشا ہرن ہوگا اور وہ مسلم لیگ کے ان مطالبات کو مان لے گی تو مسلم لیگ پھر کانگریس میں منضم و مدغم ہوجائے گی ‘‘۔
(فتاوی مصطفویہ ،ص۵۰۰)
مسلم لیگ جسے آج کے اہل بدعت نے مقد س گائے بنایا ہوا ہے وہ اگر کانگریس سے اتحاد کرلے تو تمہاری زبانوں کو تالے لگ جائیں قلم کی سیاہی سوکھ جائے اور علمائے حق پر اعتراض کرتے ہوکہ کانگریس سے اتحاد کیوں کیا ؟
حیات محمد علی جناح جس کے حوالے علمائے دیوبند کے خلاف مفتی حنیف قریشی صاحب نے اپنی کتاب آزر کون میں دئے ہیں اس میں رئیس جعفری صاحب لکھتے ہیں:
’’جناح جو ہندو مسلم اتحاد کا پیامبر سمجھا جاتا تھا ‘‘۔(ص۲۱،شیخ نذیر کتب خانہ بمبئی)
اس پیامبر کو تم نے ولی اللہ قائد اعظم محمد علی جناح بنایا ہوا ہے اور شیخ العرب والعجم رحمۃ اللہ پر اپنی خباثت قلمی کا اظہار کرتے ہو۔آخر قلم کی تقدیس کو منافقت و دورنگی کی نب چڑھا کر کیوں رکھا ہوا ہے ؟
اسی طرح ۱۹۳۷ کے صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں جناح نے کانگریس سے اتحاد کیا:
’’انتخابات کے دوران مسلم لیگ پھر کانگریس کی طرف جھکی اس نے بغیر کسی شرط اور سودے کے کانگریس کا ساتھ دیا مسلم لیگ کے رہنماؤں اور کارکنوں نے دوسری جماعتوں کے مقابلے میں کانگریس کے امیدواروں کی حمایت کی ‘‘۔
(حیات محمد علی جناح ،ص۲۰۷،شیخ نذیر کتب خانہ بمبئی)
پیر جماعت علی شاہ صاحب بریلوی کہتے ہیں:
’’ہندوستان کے سات کروڑ مسلمان اور تیس کروڑ ہندو میرے ساتھ ہیں ‘‘۔
(سیرت امیر املت ،ص۵۹۸)
تم تیس کروڑ ہندوؤں کو ساتھ ملنے کی بونگیاں مارو تو کوئی مسئلہ نہیں اور حضرت جی کی کرامت بن جائے، اور ہم ایک کانگریس کو ساتھ ملالیں تو اعتراض ؟ شرم ۔۔۔۔شرم ۔۔۔شرم۔۔۔
نواب احمد رضاخان صاحب کا کا نگریس کی حمایت میں فتوی
مولانا عبد العزیز لدھیانوی صاحب نے کانگریس کی حمایت میں پانچ سو علماء سے فتاوی جات حاصل کئے اور اسے ’’نصر ۃ الابرار‘‘ کے نام سے شائع کیا اس میں مولانا احمد رضاخان صاحب کا فتوی بھی موجود ہے ملاحظہ ہو :
’’سوال نمبر ۳:جماعت قومی مسمیٰ نیشنل کانگریس جو ہندو وغیرہ سکنائے ہند کے واسطے رفع تکلیف و جلب منافع دنیاوی چند سال سے قائم ہوئی ہے ان کا اصل اصول یہ ہے کہ بحث انہی امور میں جو کل جماعتہائے ہند پر ہوں اور ایسے امر کی بحث سے گریز کیا جائے جو کسی ملت و مذہب کی مضر ہوں ۔۔۔ایسی جماعت میں شریک ہونا درست ہے یا نہیں ؟ (نصرۃ الابرار ،ص۱۳)
اس کے جواب میں نواب صاحب بریلی لکھتے ہیں:
’’جب معاملات دنیاوی میں شریک ہونا ہندو سے بموجب آیت اور حدیث مذکورہ جواب دوم درست ہوا تو اس مجلس میں شریک ہونا کیونکر منع ہو ؟۔(نصرۃ الابرار ،ص۱۴)
یاد رہے کہ پروفیسر مسعود نے نہ صرف نصرۃ الابرار کو تسلیم کیا بلکہ نواب صاحب کی اس پر تائید کو بھی تسلیم کیا چنانچہ وہ لکھتے ہیں:
’’جب محدث بریلوی سے فتوی لیا گیا توانہوں نے مسلمانوں کی شرکت کو ایسے شرائط کے ساتھ مشروط کردیا ‘‘۔
(محدث بریلوی،ص۶۰)
اللہ تعالی نے گاندھی جی کو مذکر بناکر بھیجا (معاذاللہ)مولوی عبد الماجد بدایونی بریلوی
مظہر اعلیحضرت جنا ب حشمت علی رضوی بریلوی لکھتا ہے :
’’عبد الماجد بدایونی نے دہلی جلسہ میں کہا :االلہ تعالی نے ان گاندھی کی طرف اشارہ کرکے تمہارے لئے مذکر بناکر بھیجا ہے ‘‘۔
( رسائل رضویہ ،ج۲،ص۱۸۴ حامد اینڈ کمپنی لاہور)
بریلوی عالم کا فتوی گاندھی مذکر مبعوث من اللہ معاذاللہ
بریلوی محب سنت خادم دین قویم مولوی ابو المسعود محمد عبد العظیم لکھتا ہے :
’’سب سے بڑھ کر گاندھی جسے میاں عبد الماجد بدایونی نے مذکر مبعوث من اللہ کہا ‘‘۔
(مصحح دماغ مجنون ،ص۵،مطبع نادری بریلی)
تمام بدایونی بریلوی علماء نے گاندھی جی کو اپنا قائد مانا
مورخ بریلویت جناب مولانا عبد الحکیم شرف قادری صاحب لکھتے ہیں:
’’گاندھی نے تحریک خلافت میں شریک ہوکر قائدانہ پوزیشن حاصل کرلی تھی ‘‘۔
(تذکرہ اکابر اہلسنت ،ص۲۰۳)
اب اسی صفحہ پر اپنے مسلک کے مجاہد ملت مولانا عبد الحامد بدایونی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’تحریک خلافت شروع ہوئی تو مولاناعبد الباری فرنگی محلی نے لکھنو سے مولانا محمد علی جوہر اور مولانا شوکت علی کو حضرت مولانا شاہ عبد المقتدر بدایونی کی خدمت میں بدایوں بھیجا انہوں نے مہمانوں کی خوب خاطر مدارت کی اور اپنے خاندان کے تمام افراد کو عموما اور مولانا عبد الحامد بدایونی اور مولانا عبد الماجدبدایونی کو حکم دیا کہ انگریزی استعمار کے خاتمے کیلئے علی برادران اور ان کے رفقاء کے ساتھ دیں پیر و مرشد کے حکم کے مطابق مولانا عبد الماجد بدایونی اور مولانا عبد الحامد بدایونی نے ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں جاکر تحریک خلافت کا پیغام پہنچایا ‘‘۔
(تذکرہ اکابر اہلسنت ،ص۲۰۳)
جس تحریک کا قائد گاندھی جی ہوں(یہ بھی اس زمانے میں مسلم لیگ کا پروپگنڈاتھا ورنہ حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہ تھا۔ساجد) آپ کے اکابر اس تحریک کا پیغام لیکر ملک کے گوشہ گوشہ میں پہنچائیں تو بقول آپ کے ہندو نواز آپ ہوئے یا ہم ؟
بریلوی علامہ زماں فاضل اجل کانگریس کا صدر
مولانا عبد الحکیم شریف قادری صاحب ’’علامہ زماں فاضل اجل مولانا غلام محمد گھوٹوی (تذکر اکابر اہلسنت ،ص۳۳۵) کے متعلق لکھتے ہیں:
’’مولانا غلام محمد گھوٹوی ابتدائی نیشنل کانگریس ملتان ڈویژن کے صدر تھے ‘‘۔
(تذکرہ اکابر اہلسنت ،ص۳۳۷)
گاندھی جی ہمارا امام و پیشوا ہے بریلوی امام الہند
مولوی حشمت علی رضوی صاحب امام الہند مولانا عبد الباری فرنگی محلی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’گاندھی کو اپنا امام ،پیشوا اور رہنما بنادیا ہے ‘‘۔ (رسائل رضویہ ،ج۲،ص۱۸۴)
بریلوی فتوی بازی
بریلوی فرید ملت جناب فرید الدین صاحب فتوی دیتے ہیں:
’’اس وقت کفر و اسلام کا مقابلہ ہے قائد اعظم ایک مسلمان ہے اور اسلام کا نمائندہ ہے جبکہ گاندھی کافر ہے اور کفر کا نمائندہ ہے اس لئے اس موقع پر قائد اعظم کا ساتھ دنیا اسلام کا ساتھ دینا ہے اور گاندھی کا ساتھ دینا دانستہ یا نادانستہ طور پر کفر کا ساتھ دینا ہے ‘‘۔
( تذکرہ اکا بر اہلسنت ،ص۳۷۷)
ماقبل میں مفتی مصطفی رضاخان صاحب کا حوالہ گزرچکا کہ مسلم لیگ نے کانگریس کا ساتھ دیا کچھ عرصہ کیلئے الگ ہوئی ہے لیکن دوبارہ اس میں مدغم ہوجائے گی لہذا اس فتوے کی رو سے نہ صرف مسلم لیگ بلکہ تحریک خلافت اور کانگریس کا ساتھ دینے والے یہ سارے بریلوی اصاغر و اکابر کفر کے نمائندے بن گئے لہذا ہندو نوازی ہم نے نہیں تمہارے فتوے سے تم ہی نے کی ہے۔
کانگریس سے مسلم لیگ کا اتحاد جائز ہے
مولانا عبد الستار خان نیازی جسے بریلوی اپنے اکابر میں سے مانتے ہیں کا بیان ملاحظہ ہو :
’’لاہور ۱۱ مارچ مولانا عبد الستار خان نیازی ایک بیان میں فرماتے ہیں کہ اس مرحلہ پر پنجاب میں لیگ کانگریس ایک ہوکا نعرہ میری سمجھ سے بالاتر ہے ،مسلم لیگ کانگریس باعزت سمجھوتہ کیلئے ماضی میں ہمیشہ آمادہ رہی اور اب بھی آمادہ ہے ‘‘۔
(نوائے وقت ۱۳ مارچ ۱۹۴۶ بحوالہ تحریک پاکستان اور نیشنلسٹ علماء ،ص۶۴۹،۶۵۰)
اس کتاب کے حوالے بریلوی مولوی نے ہمارے خلاف دئے ہیں پس اگر یہ ہمارے خلاف حجت ان کی نظر میں بن سکتی ہے تو ان کے خلاف تو بدرجہ اولی بنے گی باقی اس کتاب کی حقیقت ہم اپنے مقام پر کھولیں گے (انشاء اللہ )سردست میرا سوال یہ ہے کہ بقول نیاز ی صاحب ماضی حال مستقبل میں جب مسلم لیگ کانگریس کے ساتھ سمجھوتے کیلئے تیار ہے آپ کو اس پر کوئی اعتراض نہیںتو علمائے دیوبند کے ساتھ اتحاد اور سمجھوتے پر تکلیف کیوں ہے ؟
اسی طرح ماہر رضویات پروفیسر مسعود صاحب لکھتے ہیں:
’’محمد علی جناح اور ڈاکٹر اقبال جیسے مفکرین ہندو مسلم اتحاد کیلئے کوشش کررہے تھے ‘‘۔
(محدث بریلوی ،ص۹۳)
ہمارا سیدھا سا سوال ہے کہ مسٹر جناح اور علامہ اقبال مرحوم اگر ہندو مسلم اتحاد کیلئے کوشش کریں تو اس کو تم نے مقدس گائے بنایا ہوا ہے اور علمائے دیوبند یہ کام کریں تو ہندو نوازی کہلائے یہ دو رنگی کیوں؟
اکابر بریلویہ کا کانگریس سے اتحاد
ڈاکٹر غلام یحیی صاحب صدر شعبہ علوم اسلامیہ ہمدرد یونیورسٹی دہلی لکھتے ہیں:
’’بعض علمائے حق جس میں بدایوں اور فرنگی محلی لکھنو کے علماء پیش پیش تھے ان تحریکوں کا ساتھ دیا اوراس طرح گاندھوی سیاست کی تائید کی ۔امام احمد رضاقادری نے ایسے علماء کا تعاقب کیا جو سنی علماء امام احمد رضا قادری کے قلم کا نشانہ بنے ان میں مولانا عبد الماجد بدایونی اور مولانا عبد الباری فرنگی محلی بطور خاص قابل ذکر ہیں ۔ مولانا عبد الباری فرنگی محلی مولانا ابو الکلام آزاد اور مسٹر گاندھی کے ہم نوا تھے ‘‘ ۔
(امام احمد رضا کے افکارو نظریات ،ص۱۱۳ کتاب محل لاہور)
جناب من ! اس میں گاندھوی سیاست اور گاندھی کی ہم نوائی کرنے والوں کو علمائے حق اور سنی علماء کہا جارہا ہے تم گاندھی کی تائید کرو پھر بھی اہلحق اور سنی اور ہم اگر اتحاد کریں تو ہندو نواز کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاءہوتی ہے۔۔۔۔!!!
اس کتاب کا پیش لفظ بریلوی ماہر رضویات پرو فیسر مسعود احمد نے لکھا ہے اور پورا زور ڈاکٹر صاحب کی جرات اور تحقیق کی تعریف میں لگایا ہے ۔
دیگر بریلوی مشایخ کی کانگریس کی حمایت
مجاہد ملت صدر المشایخ حضرت مولانا پیر فضل عثمان مجددی (تذکر ہ اکابر اہلسنت ،ص۳۸۴) کے متعلق مولانا عبد الحکیم صاحب لکھتے ہیں:
’’تحریک خلافت کے سلسلے میں مولانا محمد علی جوہر اور دوسرے لیڈروں نے افغانستان کا دوہ کیا تو آپ نے پورا پورا تعاون کیا ‘‘۔
( تذکرہ اکابر اہلسنت ،ص۳۸۵)
بریلوی شیخ الاسلام مولانا حسن جان نے تحریک خلافت میں دس ہزار کا چندہ دیا۔
(تذکر ہ اکابر اہلسنت ،ص۴۴۹)۔
اور ماقبل میں حوالہ گزرچکا کہ تحریک خلافت میں گاندھی جی کو قائدانہ حیثیت حاصل تھی لہذا یہ سب گاندھی جی کو اپنا قائد ماننے والے تھے۔
کانگریس سے اتحاد اہل بدعت کے اصولوں کی روشنی میں
یسین اختر مصباحی صاحب اپنے حجۃ الاسلام مولانا حامد رضاخان صاحب کا فتوی نقل کرتے ہیں:
’’ میں لیگ کی شرکت کو بحالت موجودہ کہ اس کے اندر بہت سے گمراہ بددین شریک ہیں نظر استحسان سے نہیں دیکھتا اور اس بناء پر میں نے آج تک اس کی شرکت کی اجازت نہیں دی مگر اس کے ساتھ جو لوگ اس میں خالص سنی رضوی شریک ہوگئے ہیں ان پر سخت حکم دینے کو بھی اچھا نہیں سمجھتا کہ جب ان کی شرکت کسی شرعی نقطہ نظر سے ہوتو تکفیر کیا معنی ؟تفسیق و تضلیل کا بھی شرعا حکم نہیں دیاجاسکتا ‘‘۔
(عرفان مذہب ومسلک ،ص۹۰)
بریلوی اصطلاح میں بددین سے مراد مسلمانان ہند (دیوبندی ،اہلحدیث ) ہوتے ہیں جنہیں یہ ہندوؤں سے بھی بدتر کافر سمجھتے ہیں معاذاللہ جب وہ مسلم لیگ میں شامل ہیں اور ان کی شمولیت کے بعد بھی اگر کوئی بریلوی اس جماعت میں اخلاص کے ساتھ شریک ہوجائے تو نہ اس پر حکم کفر نہ فسق و فجور، تو اگر کوئی سنی دیوبندی جماعت شرعی نقطہ نظرسے اخلاص کے ساتھ استخلاص وطن کیلئے کسی ہندو جماعت کے ساتھ اتحاد کرلے (جو آپ کے نزدیک حکم گمراہی میں بددینوں سے کم درجہ ہیں) تو ان پر فتوے کس اصول سے ؟ یہ اتحاد کیوں ناجائز ؟ اور اس پر اس خاص مسلک یا فرقہ کی ’’نوازی ‘‘ کا الزام کیوں؟جواب دیں حامد رضاخان صاحب کے فتوے کی روسے ہم معترض کو جاہل و ظالم مانیں یا معترض کے فتوے کی رو سے ہم حامد رضا کو بددین نواز مانیں؟
نیز حامد رضاخان صاحب کے اس فتوے کی رو سے تو کل کو اگر کوئی مرزائیوں کی کسی جماعت میں شامل ہوجائے تو اس پر بھی کوئی فتوی نہیں لگایا جاسکتا۔
معترض کے صدر الافاضل مولانا نعیم الدین صاحب مراد آبادی فتوی دیتے ہیں:
’’جہاں کفار کا غلبہ ہو یا وہ حاکم یا والی ہوں اور مجانبت کلیہ اور انقطاع تام سے مسلمانوں کے ضرر کا اندیشہ ہو وہاں ان کے ساتھ ایسے امور میں شرکت جو ممنوع نہیں ہیں اور ان سے اسلام و اہل اسلام کو کوئی ضرر نہیں پہنچتا جائز ہے ۔قلب کفر و کفار کی محبت سے فارغ ہونا چاہئے ‘‘۔
(فتاوی صدر الافاضل بحوالہ عرفان مسلک و مذہب ،ص۷۸)
اب کانگریس سے اتحاد میں مسلمانوں کا فائدہ تھا یا مسلم لیگ سے اس پر تو بحث کی جاسکتی ہے مگر اس فتوے سے اتنا تو معلوم ہواکہ فی نفسہ اگر کوئی کافروں (ہندوؤں) سے اشتراک کرنا چاہے تو وہ جائز ہے اس سے ہندو نوازی ثابت نہیں ہوتی تو آخر جمعیت علمائے ہند کے کانگریس کے ساتھ اشتراک پر آپ کو کیا تکلیف ہے؟
رضاخانی رئیس التحریف جناب ارشد القادری صاحب کہتے ہیں:
’’اسٹیج پر جو چہرے نظر آرہے ہیں ان حضرات کے ساتھ ہمارے سنگین اختلافات کل بھی تھے اور آج بھی ہیں لیکن ان کے باوجود ہم صرف اس جذبہ میں آج یہاں دوش بدوش بیٹھے ہویئے ہیں کہ حکومت ہند کو یہ باور کرادیں کہ مسلم پرسنل لاءکے تحفظ کیلئے جہا ں دیوبند اور لکھنو سینہ سپر ہیں وہاں بریلی نےبھی سر سے کفن باندھ لیا ہے ‘‘۔
(ماہنامہ قاری دہلی شمارہ جون ۱۹۸۶ ماہنامہ حجاز دہلی شمارہ محرم الحرام ۱۴۱۱ ھ ۱۹۹۰ بحوالہ عرفان مذہب و مسلک ،ص۸۲)
اگر حکومت ہند کو کسی مسئلہ کی اہمیت باور کرانے کیلئے دیوبندیوں کے جلسوں میں ان کے دوش بدوش بیٹھا جاسکتا ہے تو حکومت انگلیشیہ کو آزاد ہندوستان کی اہمیت بتلانے کیلئے کانگریس کے ساتھ شانہ بشانہ کیوں نہیں چلا جاسکتا ؟جواب قرآن و حدیث اور فقہ حنفی کی روشنی میں عنایت کریں۔
پوری جماعت رضائیہ کو ہمارا چیلنج
قرآن کی وہ آیت نبی کریم ﷺ کا وہ فرمان یا فقہ حنفیہ کا وہ جزئیہ پیش کریں جس کی رو سے دیوبندیوں کے ساتھ تو شانہ بشانہ بیٹھنا جائز ہو مگر کانگریس کے ساتھ حرام و ناجائز ہو ۔ انشاء اللہ یہ مطالبہ تاقیامت معترض اور ان کی جماعت پر ادھار رہے گا۔
خواجہ حسن نظامی بریلوی اور ہندو مسلم اتحاد
ڈاکٹر یحیی انجم صاحب لکھتے ہیں:
’’خواجہ حسن نظامی کی ذات کئی وجوہ سے یگانہ روزگار تھی ۔۔۔ خواجہ حسن نظامی اس لئے بھی مشہور تھے کہ وہ ہندوستانی مسلمانوں کے مرکز عقیدت شیخ المشائخ محبوب الٰہی حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمۃ والرضوان (۷۲۵ھ)کی عظیم الشان خانقاہ کے سجادہ نشین تھے ۔۔۔ خواجہ حسن نظامی اپنی تحریروں کی روشنی میں گوناگوں خصوصیات کی حامل شخصیت کے مالک تھے ۔ہندو مسلم اتحاد اور گنگا جمنی تہذیب کے دلدادہ ہونے کے سبب ۔۔۔خواجہ حسن نظامی کی شخصیت صحیح معنوں میں ہندو مسلم اتحاد کا سنگم تھی ‘‘۔
(امام احمد رضا کے افکار و نظریات ،ص۱۳۰،۱۳۱)
بے حیاء باش ہرچہ خواہی کنند
مسلمانوں نے آنکھیں بندکرکے کانگریس و گاندھی کا ساتھ دیا
مولوی مبارک حسین مصباحی بریلوی لکھتا ہے :
’’یہ وہ وقت تھا کہ غیر منقسم ہندوستانی مسلمانوں کی کل تعداد ۱۰کروڑ تھی اور ان میں اہل سنت و جماعت کی تعداد ۹ کروڑ تھی۔باقی ایک کروڑ میں دیوبندی ، قادیانی ، رافضی اور نیچری تھے ۔آزادی ہند کے موقع پر کانگریس سب سے بڑی سیاسی قوت تھی ۔مسلمانوں نے آنکھیں بندکرکے کانگریس کا ساتھ دیا۔بلکہ گاندھی جی کی حمایت و اعانت میں اس حد تک بڑھے کہ طاق حرم میں بھی کانگریس کی شمع روشن کرنے لگے‘‘۔
(جام نور محدث اعظم نمبر ،ص۱۰۲،اپریل۲۰۱۱)
علمائے دیوبند کے بارے میں اہل بدعت کہتے ہیں کہ مسلمان ہی نہیں (یہ الگ بات ہےکہ جب اپنا الو سیدھا کرنا ہو تو یہی علمائے دیوبند دین کے خیر خواہ بن جاتے ہیں)ادھر بقول آنجناب کے خام خیال میں ۹ کروڑ بریلوی تھے اور ان سب نے کانگریس کی بڑھ چڑھ کر معاونت کی بلکہ گاندھی جی کی حمایت میں ہر سفید و سیاہ کو جائز کردیا تو گاندھی نواز و کانگریسی ہم نہیں علمائے و عوام بریلویہ ہیں۔
علامہ فضل حق خیر آبادی ہندو مسلم اتحاد کے داعی
حکیم برکاتی صاحب مرحوم نے انگریز سے آزادی کیلئے مولانا فضل حق خیر آبادی کے جو نکات لکھے ہیں ان میں سے ایک نکتہ یہ تھا:
’’ملک میں ہندؤوں کی اکثریت ہے ان کی متعدد ریاستیں بھی ہیں باغی فوج میں ان کی تعداد زیادہ ہے ۔دہلی میں شہری آبادی کی اکثریت بھی ہندؤوں پر مشتمل ہے اور عام طور پر ہندؤوں کا انداز فکر یہ ہے کہ اس جنگ میں اگر فتح ہوئی تو پھروہی مسلمانوں کی سلطنت آجائے گی ، ہمیں کیا ملے گا ،پھر انگریزوں کے ملازمین ،مخبر اور بہی خواہ مسلمانوں اور ہندؤوں میں افتراق انگیزی کے درپے ہیں اور کوئی نہ کوئی حیلہ ایسا ڈھونڈ رہے ہیں کہ ہندو مسلم فساد ہوجائے تاکہ یہ تحریک ضعیف ہوجائے ،اس لئے ہندو مسلم اتحاد کے جدوجہد کی ضرورت ہے اور ایسی مستقل بنیادیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے جس پر ہندو مسلم اتحاد استوار کیا جائے ‘‘۔
(مولانا فضل حق خیر آبادی اور سن ستاون ،ص۲۸،۲۹)
جناب جی آپ کے امام حریت ہندو مسلم اتحاد نہ کرنے والوں کو انگریز کا بہی خواہ ،فسادی اور انگریز کا مخبر کہہ رہے ہیں ۔
گاندھی جی تمام مسلمانوں اور ہندؤوں کے واحد لیڈر تھے
بریلوی استاذ العلماءمولانا فیض احمد گولڑوی لکھتے ہیں:
’’مہاتماجی تمام ہندؤوں اور مسلمانوں کے مشترکہ اور واحد لیڈر تھے ‘‘۔
(مہر منیر ،ص۲۷۳)
کانگریس سے اتحاد ہندو نوازی مگر نریندر مودی ہندو کی سربراہی میں صوفی کانفریس عین اسلام یا للعجب !
صوفی نریندر مودی اور مشایخ بریلویہ کیلئے لمحہ فکریہ!!!!
قارئین کرام ! رضاخانی مذہب دین سے بے بہرہ اور علماء و پیران سوء کا وہ جتھہ ہے جسے متحدہ ہندوستان میں انگریز نے اپنے سیاسی مفادات کیلئے پروان چڑھایا اور ا س وقت سے لیکر اب تک ہر ایک اسلام دشمن نے اسے اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کررہاہے۔اس جتھہ کی سب سے خاص بات یہ ہے کہ اسے اپنا الو سیدھا کرنے کیلئے حلال کو حرام اور حرام کو حلال کہنے، حالات کے بدلنے کے ساتھ ہی اپنا نظریہ بدلنے میں اس گروہ کے لوگوں کو ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی۔ماضی میں جب شریف مکہ نے انگریزوں کا ساتھ دیا اور بعض لوگوں نے حج کے اسقاط کا فتوی دیا تو مولوی مصطفی رضاخان ابن مولانااحمد رضاخان نے کھل کر اس فتوے کارد کیا مگر جب آل سعود کی حکومت آئی تو خود اسی مفتی مصطفی رضاخان نے تنویر الحجہ کے نام سے حج کے حرام ہونے کا اور حج پر جانے والوں کو بے وقوف ،گستاخوں کے حمایتی ہونے کا فتوی دے کر اپنی دورنگی کا بھرپور اظہار کیا۔ابتداء میں جب تحریک پاکستان اٹھی تو اس کی بھرپور مخالفت کی محمد علی جناح اور مسلم لیگ پر کفر کے فتوے لگائے مگر جب پاکستان بن گیا تو تحریک پاکستان میں شامل نہ ہونے والوں پر کفر کے فتوے لگانے شروع کردئے،اور آج یہ تحریک پاکستان کے سب سے بڑے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔ماضی میں جب جہاد افغانستان کو امریکا کی حمایت حاصل تھی تو یہ لوگ طالبان کیلئے چندے کرتے اس گروہ کے سیاسی قائد مولانا شاہ احمد نورانی طالبان کو بریلوی مسلک کا کہتے ،مگر اب جب حالات نے پلٹا کھایا تو یہی طالبان ان کی نظر میں اس وقت سب سے بڑے دہشت گرد و خارجی ہیں۔
اسی طرح جب علماء دیوبند نے ہندؤں کے ساتھ مل کر انگریز کو اس خطے سے نکالنے کا لائحہ عمل بنایا تو انگریز کی ایماء پر اس سیاسی اتحاد کی کھل کر مخالفت اس گروہ نے کی ماضی میں ہندووں اور ان سے اتحاد کے متعلق رضاخانیوں کے پیر و مرشد کے جو فتاوی تھے ان میں سے چند کے نمونے آپ نے ماقبل میں ملاحظہ کرلئے اور آگے مزید بھی ملاحظہ کرلیں گے۔
لیکن اب جب حالات نے پلٹا کھایا تو رضاخانیوں کو بھی ان فتاوی کو اپنے پیروں تلے روندنے اور نیا عقیدہ اپنانے میںذرا بھی شرم و عار محسوس نہ ہوئی چنانچہ حال ہی میں رضاخانیوں نے ۲۰۱۶ میںآل انڈیا علماء مشائخ بورڈ کے زیر اہتمام نئی دلی کے رام لیلا میدان میں عالمی صوفی کانفرنس کا انعقاد کیاجس میں 40ممالک سے رضاخانیوں کو بلانے کے علاوہ پاک و ہند سے بھی بریلوی علماء و مشائخ کو بڑی تعداد میں مدعو کیا گیا۔اس کانفرنس کا افتتاح گجرات فسادات کے مسلم دشمن سیاست دان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے کروایا گیا اورخصوصی خطاب کروایا گیا یہ کانفرنس انہی کی سربراہی میں منعقد ہوئی۔
ہندوستان کے ایک کالم نگار غوث سیوانی اس کانفرنس کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یوں تو بظاہر اس کانفرنس کا انعقاد آل انڈیا علماء مشائخ بورڈ نامی تنظیم کررہی ہے مگر اس کی نگرانی خود وزیر اعظم نریندر مودی کی نظر ہے اور اس کے انتظامات کی ذمہ داری انہوں نے انٹیلی جنس کے سابق بیور آئی پی کے ڈائریکٹر آصف ابراہیم جو ان کے مشیر ہیں کو سونپ رکھی ہے‘‘۔
(ہفت روزہ نئی دنیا ،ص11،8تا14فروری 2016)
’’اندر کی خبر یہ بھی ہے کہ پیسے کے لین دین میں گڑ بڑی کے سبب اندرون خانہ اختلافات پیدا ہوگئے ہیں جنہیں پیسے نہیں ملے ہیں اب وہ اس کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے کا کام کررہے ہیں ‘‘
(ہفت روزہ نئی دنیا ،ص11،8تا14فروری 2016)
’’بریلوی مسلمانوںکو عام مسلمانوں سے الگ کیاجائے تاکہ اس کا سیاسی فائدہ بی جے پی کو آئیندہ چند مہینوں کے اندر ہونے والے پانچ ریاستوں کے انتخابات میں مل سکے‘‘۔
(ہفت روزہ نئی دنیا ،ص11،8تا14فروری 2016)
انٹرنیشنل صوفی کانفرنس سے آخر کیا حاصل کرنا چاہتا ہے سنگھ پریوار؟
تحریر:غوث سیوانی، نئی دہلی
وزیراعظم نریندرمودی مسلمانوں کے بیچ خانہ جنگی کرانے میں کامیاب ہوجائینگے؟ کیا وہ تصوف کو بھی اپنی سیاست کا ہتھیار بنا پائینگے؟کیا وزیر اعظم کے ہاتھ پر کچھ صوفی نما حضرات کی ’’بیعت ‘‘ سے عام مسلمان فریب میں آجائینگے؟کیا اسلام کا جمالیاتی چہرہ تصوف بھی اب جنس بازار بن جائے گا؟ کیا نریندر مودی کچھ مولویوں کے سہارے ’’دین الٰہی‘‘ قائم کرنا چاہتے ہیں؟ اس قسم کے سوالات ان دنوں عام طور پر سننے میں آرہے ہیں کیونکہ آئندہ 17مارچ سے شروع ہونے والی چارروزہ انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کا وزیر اعظم نریندر مودی ’’وگیان بھون‘‘ میں افتتاح کرنے والے ہیں، جس کا انعقاد خود بی جے پی کے خفیہ واعلانیہ تعاون سے ہورہاہے۔اس سے قبل تال کٹورہ اسٹیڈیم میں دہشت گردی مخالف کانفرنس ہوئی جس میںدہشت گردی پر کم اور وہابیوں پر زیادہ حملے کئے گئے اور ایک صاحب نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ’’ ہم آرایس ایس سے ہاتھ ملا کر وہابیوں کا ملک سے خاتمہ کردیںگے۔‘‘ وہابیوں سے اختلاف کوئی نئی بات نہیں ہے، دیوبندی اور بریلوی علماء کی تحریروں اور تقریروں کے اقتباسات موجود ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ وہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کے نظریات سے کس قدر اختلاف کرتے تھے اور اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضا فاضل بریلوی کی تحریریں بھی موجود ہیں جن میں وہابی نظریات کو شدت کے ساتھ مسترد کیا گیا ہے مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ اس اختلاف کے سبب کسی نے دشمنان اسلام کے ساتھ ہاتھ ملانے کی بات کی ہو مگر آج حالات یہاں تک پہنچ چکے ہیں کہ سنگھ پریوار کے تعاون سے مسلمانوں کے جلسے ہورہے ہیں اور ان میں جو باتیں کہی جارہی ہیں وہ خودمسلمانوں کے لئے ہلاکت خیز ہیں۔ دہشت گردی مخالف کانفرنس کے روح رواں مولانا شہاب الدین رضوی نے ’’First Post‘‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’’ یہ آرایس ایس کے لوگ ملک سے محبت کرتے ہیں،ملک کے لئے کام کرتے ہیں اور وہابی ملک کے خلاف حرکتیں کرتے ہیں اور ہمیشہ سے باہر کے سعودی عربیہ کی طرف دیکھتے ہیںہم آرایس ایس یا ایکس وائی زیڈ کوئی بھی جو ملک سے محبت کرتا ہے،اس کے ساتھ کام کرسکتے ہیںلیکن ملک کے غداروں کے ساتھ کام نہیں کرسکتے۔‘‘ اس بیان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہ کانفرنسیں مسلمانوں کو کس جانب لے جارہی ہیں اور ان کا مقصد کیا ہے؟ یہ نظریہ صرف ایک شخص کا نہیں ہے بلکہ دوسرے بہت سے لوگوں کا بھی ہے۔ سنگھ پریوار کی سرپرستی میں انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کے انعقاد کی تیاریوں میں مصروف مولانا محمد اشرف کچھوچھوی نے Mail Todayسے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’ وہابیت نے امن پسند اسلام کو ایک شدت پسندانہ نظریے میں تبدیل کردیا ہے۔ وہابی نظریہ غیراسلامی ہے اور ہم اسے شکست دے کر رہیںگے۔‘‘ مولانا نے جو باتیں کہیں ہیں ان میں کس قدر سچائی ہے؟ اس سوال سے قطع نظر یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ کوئی نئی بات نہیں کہہ رہے ہیں، اس قسم کی سوچ رکھنے والے بڑی تعداد میں موجود ہیں اور ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت غیروہابی ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ اس سے مقابلے کا جو راستہ اپنایا جارہاہے کیا وہ درست ہے؟وہابیوں سے نفرت کی قیمت پر آرایس ایس سے محبت کا عہد وپیمان خود مسلمانان ہند کے لئے کس قدر فائدہ مند ہے؟ ظاہر ہے کہ صوفیہ کے نام لیوا مسلمانانِ ہند کو جس ہلاکت خیز راستے پر لے جارہے ہیں اس کا انجام خود انھیں بھی نہیں پتہ۔ یہاں یہ بتادینا برمحل ہوگا کہ اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ دشمنان اسلام سے اس قدر نفرت کرتے تھے کہ انگریزی حکومت کے تحت آنے والے کورٹ کو ’عدالت‘(عدل کا مقام)کہنے سے منع کیا کرتے تھے۔ اسی طرح آپ لفافے پر ڈاک ٹکٹ لگاتے تو شاہ برطانیہ کے تاج والاحصہ الٹا کردیتے یعنی ڈاک ٹکٹ الٹا لگایا کرتے تھے، مگرانھوںنے ایک دشمن سے مقابلے کے لئے دوسرے دشمن سے ہاتھ نہیں ملایا۔ کس قدر حیرت کی بات ہے کہ آج انھیں کا نام لے کر اسلام دشمن سنگھ پریوار سے رشتۂ محبت استوار کیا جارہاہے اور صوفیہ کرام کی پیروی کا دم بھرنے والے دشمنان اسلام کے آلۂ کار بن رہے ہیں۔ ہم نہیں سمجھ سکتے کہ آرایس ایس سے عہد وفا باندھنے والے اور اس کی مدد سے کانفرنسوں کا انعقاد کرنے والے یہ کام کس حکمت عملی کے تحت کر رہے ہیں ؟ ہم تو بس یہ جانتے ہیں کہ زہر عشق کی ناکامی میں کھایا جاتا ہے یا غصے میں،مگر یہ پہلا موقع ہے جب اندھی دشمنی میں کوئی زہرکھاکر خودکشی کا اعلان کر رہاہے۔آخر یہ کیسی اندھی دشمنی ہے کہ خود کو محمدرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام ’’اشداء علی الکفار‘‘ کاپیروکاربتانے والے ابوجہل کی نظریاتی ذریت کا ساتھ دینے کو تیار بیٹھے ہیں۔یہ طریقہ نہ علماء کا ہوسکتا ہے اور نہ صوفیہ کا۔ یہی سبب ہے کہ مخلص علماء کی ایک جماعت اس طریقہ کار کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی ہے جن میں کچھوچھہ کے سادات سے لے کر مولانا یٰسین اختر مصباحی جیسے دانشور تک شامل ہیں۔ کچھوچھہ کے علماء اور مشائخ کے بارے میں کہا جارہاہے کہ وہ اس کانفرنس کی حمایت میں نہیں ہیں اور وہ اس میں شرکت سے گریز کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ مولانا سید محمد اشرف کچھوچھوی کے بھائی پیر طریقت مولانا محموداشرف کے بارے میں بھی کہا جارہاہے کہ وہ اس میں شریک ہونے کو تیار نہیں۔ویسے ان دنوں میڈیا میں بہت سے علماء کے بیانات کانفرنس کی مخالفت میں آرہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ان حضرات کے سامنے کانفرنس کے پیچھے کے سیاسی کھیل کا انکشاف ہونے لگا ہے۔
کیا مودی کو مسلمانوںپر بھروسہ نہیں؟
میڈیا میں جو خبریں آرہی ہیں ان کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی، کانفرنس کے جس سشن کا آغاز کرینگے وہ 17مارچ کو وگیان بھون میں منعقد ہوگا؟ جب کہ عام جلسہ 20مارچ کو رام لیلا میدان میں ہوگا۔جس پروگرام میں وزیراعظم شریک ہونگے اس میں عام مسلمان شامل نہیں ہونگے ، صرف کچھ خاص لوگوں کو شامل ہونے کی اجازت ہوگی جس میں سرکاری افسران بھی ہونگے، اور جس جلسے میں عام مسلمانوں کو شرکت کی دعوت دی جارہی ہے، اس میں وزیراعظم شریک نہیں ہونگے، آخر ایسا کیوں کیا جارہاہے؟ کیا وزیر اعظم کو مسلمانوں پر بھروسہ نہیں ہے؟ کیا انھیں لگتا ہے کہ اگر ان کے پروگرام میں عام مسلمان شریک ہونگے تو ان کی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی؟جب پروگرام کی تمام تیاریاں خود وزیراعظم کے لوگ کر رہے ہیں اور ان کی مشنری پروگرام کے ایک ایک پہلو پر نظر رکھے ہوئے ہے تو پھر عام مسلمانوں سے دوری کا مطلب صرف یہی سمجھ میں آتا ہے کہ نریندر مودی کو مسلمانوں پر بھروسہ نہیں ہے۔ویسے اگر وہ تصوف کے نام پر بھیڑ اکٹھی کر وارہے ہیں تو انھیں اس کا نظارہ کرنے رام لیلا میدان ضرور جانا چاہئے اور انھیں مسلمانوں پر بھروسہ کرنا چاہئے۔ مسلمانوں نے نہ تو بابائے قوم مہاتما گاندھی کو قتل کیا تھا اور نہ ہی سابق وزراء اعظم اندرا گاندھی وراجیو گاندھی کی سیکورٹی کے لئے خطرہ بنے تھے تو نریندر مودی کے لئے کیسے خطرہ بن سکتے ہیں؟خون خرابہ اور تشدد صوفیوں کا کام نہیں ، کوفیوں کا کام ہے۔وزیراعظم شک کرنا چھوڑیں اور اعتماد کرنا سیکھیں۔
کانفرنس کی تیاریاں
وزیراعظم نریندر مودی کی سرپرستی میں ہونے والی چار روزہ انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کی تیاریاں مہینوں سے چل رہی ہیں اور انٹیلی جینس بیورو کے سابق چیف اور وزیراعظم کے مشیر آصف ابراہیم اس کی نگرانی کر رہے ہیں جب کہ مولانا محمد اشرف کچھوچھوی اور ان کے کچھ ساتھی ملک بھر سے مسلمانوں کو اس میں جمع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ علماء ومشائخ بورڈ اپنی کانفرنس میں مسلمانوں کی بھیڑ جمع کرنے کے لئے شب وروز ایک کئے ہوئے ہے۔راجدھانی دلی سے لے کر ملک کے گائوں گائوں تک مٹینگیں ہورہی ہیں اور لوگوں کو دلی لانے کے لئے زاد سفر کا انتظام کیا جارہاہے۔مسجدوں میں اعلانات ہورہے ہیں اور مدرسوں کے اساتذہ کو بھیڑ جمع کرنے کے کام پر لگایا جارہاہے۔ ریلوے ٹکٹ بک کئے جارہے ہیں اور بسوں کا انتظام کیا جا رہاہے۔ اس بات کا بھی امکان ہے کہ انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لئے مودی سرکار ملک بھر سے خصوصی ٹرینیں چلائے۔ اسی کے ساتھ دنیا بھر میں پھیلے ہندوستانی سفارت خانوں کو کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ’’مشائخ‘‘کو دنیا بھر سے لاکر اس کانفرنس میں جمع کریں۔ اعلان کیا گیا ہے کہ اس کانفرنس میں دنیا کے لگ بھگ بیس ملکوں سے اہل تصوف جمع کئے جائینگے۔ کانفرنس کی تیاری کے سلسلے میں مولانا محمد اشرف کچھوچھوی کے بیانات اردو اور انگریزی اخباروں میں مختلف آرہے ہیں۔ انھوں نے ایک انگریزی میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے مانا ہے کہ ان کے ساتھ وزیراعظم مودی کا دفتر ہے اور وزیراعظم کے مشیر معاملات کی نگرانی کر رہے ہیں مگر اردو کے ایک اخبار کو انھوں نے کہا کہ سرکاری مدد بس پروٹوکول کی حد تک ہے۔ اس بیچ ایسی خبر بھی ہے کہ لوگوں کی بھیڑ جمع کرنے کے لئے بعض غیر اخلاقی طریقوں کا بھی استعمال کیا جارہاہے۔ ایک انکشاف یہ ہواہے کہ علامہ اختررضا خاں ازہری کےخط کا استعمال کرکے ان کے مریدین کو انٹرنیشنل صوفی کانفرنس میں لانے کی کوشش کی جارہی ہے ،جب کہ وہ خود اس کانفرنس میں نہیں آرہے ہیں۔
مولانایٰسین اختر مصباحی کا نظریہ
سنی بریلوی علماء میں دانشور اور صاحب فہم وفراست بزرگ عالم دین مولانا یٰسین اختر مصباحی نے اپنے کچھ حالیہ مضامین میں سنگھ پریوار کے زیر سایہ ہونے والی انٹرنیشنل صوفی کانفرنس کی سخت مخالفت کی ہے ۔ ’’ صوفی سیمینار وکانفرنس سے متعلق چند معروضات‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک مضمون اخبارات میں شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے مانا ہے کہ سیاسی پارٹیاں مسلمانوں کو اپنے دام فریب میں پھنسانے کے لئے علماء ومشائخ کودانہ ڈالتی ہیں اورخود انھیں خریدنے کی کوششیں بھی ہوئی ہیں۔ انھوں نے لکھا ہے کہ پی وی نرسمہاررائو کے دور اقتدار میں انھیں خریدنے کی کوشش کی گئی تھی اور حال ہی میں علماء ومشائخ بورڈ کی طرف سے بھی ان سے رابطہ قائم کیا گیا تھا مگر وہ اس کانفرنس میں شرکت کے لئے تیار نہیں ہوئے۔ انھوں نے کانفرنس پر ہونے والے کروڑوں کے خرچ پر بھی سوال اٹھایا ہے کہ یہ کہاں سے آرہاہے؟ وہ کانفرنس کے مقاصد پر شکوک وشبہات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’’سیاسی پارٹیاں جس کو قریب کرکے اس سے کچھ کام لینا چاہتی ہیں، اس کے مزاج ومعیار کو سامنے رکھ کر ہی کوئی بات کرتی اور تجویز پیش کرتی ہیں۔ مقدس شخصیات کے لئے کوئی تقدس نما عنوان تیار کرتی ہیں اور پھرانھیں اپنے دام فریب کا شکار بناتی ہیں۔جسے فریب خوردہ لوگوں کو سمجھنے میں کافی دیر ہوجاتی ہے۔اور آنکھ تب کھلتی ہے جب کسی دلدل میں پھنس چکے ہوتے ہیں۔‘‘ مولانا یٰسین اختر مصباحی کا ایک مضمون بہ عنوان ’’تصوف وصوفیا کا سیاسی استعمال ناقابل قبول‘‘ شائع ہوا ہے جس میں انھوں نے آرایس ایس کے بارے میں مختلف حوالوں سے ثابت کیا ہے کہ وہ کس قدر خطرناک تنظیم ہے اور وہ کسی بھی طرح مسلمانوں کی خیرخواہ نہیں ہوسکتی۔ ان مضامین کی اشاعت کے بعد ان مولویوں کو بھی عقل آجانی چاہئے جو آرایس ایس کو دیش بھکت تنظیم قرار دے رہے ہیں اور اس کے ساتھ ہاتھ ملا کر وہابیوں سے لڑنے کی بات کر رہے ہیں۔
اقتدار کے لئے تصوّف کو ’’جنسِ بازار ‘‘نہ بنایاجائے
شاندار انٹرنیشنل صوفی کانفرنس پر کتنا خرچ کیا جائے گا؟یہ اخراجات کہاں سے آرہے ہیں؟ کون اسپانسر کر رہا ہے؟ اس میں کالا دھن استعمال کیا جارہاہے یا سفید؟ ان سوالوں سے قطع نظر یہ بات اہم ہے کہ اس پر جس قدر خرچ کیا جارہاہے ،اس میں ایک ایسی یونیورسٹی کا قیام عمل میں آسکتا ہے جس میں تصوف پر تحقیق کا کام لگاتار ہوسکے یا مختلف زبانوں میں ایسے کئی ٹی وی چینل لانچ کئے جاسکتے ہیں جو نظریاتِ تصوف کی اشاعت پر کام کرسکیںمگر کسی یونیورسٹی کے قیام یا تصوف کی اشاعت سے سیاسی عزائم پورے نہیں ہوسکتے۔ تصوف ہمیشہ سے اقتدار کا مخالف رہاہے مگر آج ایسا لگتاہے کہ اسی کو حصولِ اقتدار کا ذریعہ بنایا جارہاہے۔ روحانیت اور مادہ پرستی میں ہمیشہ ٹکرائو رہاہے مگر آج اسی کو’’ جنس بازار‘‘ بنایا جارہاہے۔ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ(کچھوچھہ شریف)نے روحانیت کے لئے سمنان (ایران)کا تخت وتاج چھوڑ دیا تھا اور گدڑی پہن کر نکل پڑے تھے مگر آج انھیں کے بعض نام لیوا معمولی مادی فائدے کے لئے روحانیت ومعرفت کواہل اقتدار کے ہاتھوں بیچنے پر تلے ہوئے ہیں۔ ممکن ہے وہ اس کی قیمت پر کچھ حاصل بھی کرلیں مگر وہ مخدوم علیہ الرحمہ کی روح کو ناراض کردینگے اور عام مسلمانوں کا اس سے جو نقصان ہوگا سو الگ ہے۔ جب امام حسین نے ظالم کی بیعت سے انکار کردیا تھا اگرچہ اس کے لئے انھیں اپنی اور اپنے اہل خاندان کی جان کی قربانی دینی پڑی تھی تو پھر یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کوئی مسلمان ،ظالموں اور قاتلوں کی جماعت سے ہاتھ ملائے۔
سنگھ پریوار کی حکمت عملی
آرایس ایس نظریاتی اعتبار سے ایک شدت پسند مسلم مخالف جماعت ہے۔ وہ دیش بھکتی کے راگ الاپتی ہے مگر دنگے کراکر اس نے ملک کا جو نقصان کیا ہے،وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی اسی کے پروردہ ہیں اور ان کی امیج بھی ایک سخت گیرہندتوادی کی رہی ہے،ایسے میں اگر کسی کو لگتاہے کہ وہ صرف وہابیوں کے مخالف ہیں اور سنی بریلوی مسلمانوں کے ہمدرد ہیں تو وہ خود فریبی میں مبتلا ہے۔ اصل میں سنگھ پریورا کانٹے سے کانٹا نکالنے کی حکمت علمی اپنائے ہوئے ہے۔ جس طرح خلافت عباسیہ کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے لئے منگولوں نے شیعہ ۔سنی اختلافات کا فائدہ اٹھایا تھا اور پھردونوں کو تاراج کیا تھا،اسی طرح آج سنگھ پریوار بھی مسلمانوں کی مسلکی عصبیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انھیں سلفی۔صوفی کے نام پر لڑانا چاہتا ہے اور چند ناعاقبت اندیش جانے انجانے میں اس کا آلۂ کار بن رہے ہیں۔ مسلمان اگر آج وقت رہتے خبردار نہیں ہوئے اور دشمن کی چال کو نہیں سمجھا تو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑے گا کیونکہ
وہ دور بھی دیکھا ہے تاریخ کی نظروں نے
لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی
(بصیرت فیچرس)
مولوی اشرف میاں کھچوچھوی اور دیگر بریلوی علماء و مشائخ نریندر مودی کے ساتھ صوفی کانفرنس میں
نریند ر مودی صاحب کی تقریر اُن کے یوٹیوب آفیشل پیج پر جاکر دیکھی جاسکتی ہے ہم نیچے اس کا لنک دے رہے ہیں
https://www.youtube.com/watch?v=4_hvkZE79Ec
بھارت ماتا کی جے کے نعرے بھی لگ رہے ہیں۔
عجیب لطیفہ
نریندر مودی نے اپنے اس بیان میں بطور تعریف مولانا ابو الکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی ؒ کی تعریف کی کہ انہوں نے مذہب کی بنیاد پر تقسیم کو رد کردیا تھا اور ہند کی آزادی میں ان کا بہت بڑا کردار تھا۔مگر کسی بریلوی کو اس کے رد کی ہمت نہ ہوئی ۔یہ ان کی عجیب منافقت ہے کہ ہندوستان میں بیٹھ کر ہند کی آزادی غلط، مدنی کی تعریفیں اور پاکستان میں بیٹھ کر ہند کی تقسیم کی تعریفیں۔
معروف بریلوی عالم دین یسین اختر مصباحی اس صوفی کانفرنس سے پہلے بھی کانگریس کے ساتھ آپ کے علماء و مشائخ کے تعلقات کا ذکرچکے ہیں ان کے مضمون کا کچھ حصہ ہم آپ کے سامنے پیش کررہے ہیں :
نئی دہلی… کانگریسی وزیر اعظم،مسٹر نرسمہا راؤ کے دَورِ حکومت میں 6دسمبر (1992ء) وہ، اَلمناک تاریخ ہے جس میں بابری مسجد کی شہادت کا حادثہ، رونما ہوا۔ اور اس کا ذِمَّہ دار ،عام طور پر، سنگھ پریوار (بھاجپا، وِشو ہندو پَریشد، بَجرنگ دَل وغیرہ) کو سمجھا جاتا ہے۔ بیشتر سیاسی حلقے، نرسمہا راؤ کی غفلت و کوتاہی ،یا درپردہ سازِش ،یا خاموش کردار کو بھی اس کا ذِمَّہ دار مانتے ہیں۔ اور مسلمانانِ ہند، بِلاتکلُّف و توقُّف، ان دونوں(سنگھ پریوار و نرسمہاراؤ) ہی کو شہادتِ بابری مسجد کا مُجرم، گردانتے ہیں۔ اِسی لئے اِن دونوں(سنگھ پریوار و نرسمہا راؤ) سے مسلمانوں کی ناراضی، اپنے شباب پر تھی ۔جس کا سلسلہ ،اب تک جاری ہے۔ نرسمہا راؤ لابی کو ،اِس کی سخت فکر، لاحق ہوئی کہ مسلمانوں کی شدید ناراضی، کانگریسی کشتی کو لے ڈوبے گی۔ 1996ءکا پارلیمانی الیکشن، اس کے لئے موت و زیست کا سوال تھا۔ اور کچھ ایسا ہی ہُوا بھی کہ مسلمانوں نے 1996ءکے پارلیمانی الیکشن میں کانگریس کو ایسا سبق سکھایا کہ مدتوں، وہ سبق، اسے یاد ،رہے گا۔ 1999ءکی بات ہے کہ دہلی کی ایک ملاقات میں جب مسٹر ملائم سنگھ یادو ،صدر سماج وادی پارٹی سے، مَیںکچھ مسلم مسائل پر گفتگو کر رہا تھا تو دَورانِ گفتگو، انھوں نے ایک موقع پر کچھ جَھلَّا کر، کہا کہ:ہم سے ہی سارا حساب، آپ لیں گے؟ کانگریس سے حساب نہیں لیں گے؟ میں نے بَرجستہ اور بِلا تکلُّف جواب دیا کہ:لے لیا ہے اس سے حساب۔جبھی تو سڑک پر گھوم رہی ہے۔ اب اس سے اور کیا حساب لیں؟ ملائم سنگھ نے بات کا رُخ بدل کر، دوسری بات، شروع کردی۔
کانگریس کی نرسمہا راؤ لابی نے 1995ءمیں پورے ملک کا سَروے کرایا کہ :ہندوستانی مسلمانوں کا کون سا طبقہ، اکثریت میں ہے؟ سَروے کا مقصد، یہ تھا کہ: اس اکثریتی طبقہ کو رام کرکے 1996ءکا پارلیمانی الیکشن ،کسی طرح ،جیت لیا جائے۔ سَروے رپورٹ میں بتایا گیاکہ: ملک میں”بریلوی خانقاہی“ مسلمانوں کی تعداد ،اَسِّی (80) فی صد ہے۔ بَس پھر کیا تھا، کروڑوں روپے کا بجٹ، مختص ہوگیا کہ اس اکثریتی طبقے کے کے بعض، زیر دام آنے والے مذہبی حضرات کی خدمت میں مختلف ناموں اور مختلف طریقوں سے نذرانہ ،شکرانہ کی شکل میں کچھ ،پیش کرنے اور اپنی بات، آگے بڑھانے کا سلسلہ ،شروع کیا جائے۔
رابطہ کی خدمت، انجام دینے کے لئے ایک پہنچے ہوئے مَہاشے جی ،منتخب ہوئے کہ بااثر مذہبی حضرات سے رابطہ کرکے انھیں کانگریس کے حق میں رام کریں۔ اس رابطہ کا سلسلہ ،کہاں سے اور کیسے شروع ہوا ؟اور کیا کیا مَراحل، پیش آئے ؟یہ تو اندرونی بات ہے ،جسے متعلقہ افراد ہی جانتے ہوں گے۔ لیکن! باضابطہ ،مُہم، شروع ہونے سے پہلے، ایک روز ایسا ہوا کہ:لگ بھگ مئی جون 1995ءمیں ایک نمائندہ خصوصی ،میرے آفس (مٹیا محل ،دہلی ) میں تشریف لائے۔ اورتھوڑی دیر، مسلم مسائل پر گفتگوکرنے کے بعد، انھوں نے ارشاد فرمایا کہ: کسی اطمینان کی جگہ چلتے ہیں تاکہ تفصیل سے کچھ گفتگو ہوسکے۔ چنانچہ ،وہ مجھے لے کر، پرگتی میدان(نئی دہلی) پہنچے اور وہاں ایک جگہ بیٹھ کر، تمہیدی گفتگو کرنے کے بعد، انھوں نے فرمایا کہ: ”اہلِ سنَّت کی کوئی مضبوط و متحرک ،ہندوستان گیر تنظیم نہیں ہے ۔جب کہ دیوبندیوں کی جمعیةُ العُلما ،پورے ملک میں سرگرم ہے۔ مَیں چاہتا ہوں کہ اہلِ سنَّت کی ایک ایسی تنظیم بنائی جائے جو جمعیةُ العُلما سے بھی بڑی ہو۔ یہ کام، آپ کر سکتے ہیں۔ اور اِس کے لئے فنڈ کی کوئی کمی نہیں ہوگی۔“ اس بڑی پیش کش کے سننے کے ساتھ ہی ،میری” چَھٹی حِس “بیدار ہوچکی تھی۔ میں نے جواباً ،عرض کیا کہ: ”آپ کا خیال تو اچھا ہے ۔لیکن ،چند ماہ بعد ہی پارلیمانی الیکشن کی ہَماہَمی، شروع ہونے والی ہے۔ اِس لئے بہتر ہے کہ: ابھی، اِس بات کو یہیں رہنے دیں اور الیکشن ،ختم ہونے بعد، کسی روز، مل بیٹھ کر تفصیلی گفتگو کر لیتے ہیں اور ایک لائحہ عمل بنانے کے بعد، کام ،شروع کر دیا جائے گا۔“ میرا جواب ،سن کر، وہ کچھ زیادہ ہی مُرجھائے نظر آئے اور مجلس ،برخاست ہوگئی۔
مَہاشے جی کا ایک روز ،اچانک میرے پاس،فون آیا اور بغیر کسی سابقہ ملاقات و گفتگو کے، بڑے تپاک سے فلسفیانہ انداز میں سلسلہ کلام، شروع کیا اورایک گھنٹہ ،بیس منٹ تک گفتگو کرتے رہے۔ جس میں خاص زور اور اِصرار اِس بات پر تھا کہ: نرسمہا راؤ سے ملاقات کر لیجیے۔ اس کے ساتھ ہی بڑے مہذَّب انداز میں(بینَ السُّطُور) کچھ خصوصی عنایتوں اور نوازشوں کی بھی پیش کش تھی۔ میں نے دوٹوک انداز میں ،مَہاشے جی کو جواب دیا کہ:”بابری مسجد کی شہادت میں کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی طرح سے ،نرسمہا راؤ کا بھی ہاتھ ہے۔ اِس لئے مَیں، راؤ سے ملاقات نہیں کر سکتا۔“ انھیں ایام(1995ء) میں ایک صاحب ،جو مِلِّی مسائل میں برسوں سے دہلی میں سرگرم تھے ، اردو صحافی بھی ہیں، وہ، میرے پاس (مٹیا محل ،دہلی) آئے اوردیر تک مجھ سے گفتگو کرتے رہے۔ انھیں بھی میں نے ٹَکا سا جواب دیا۔ جس کے بعد وہ ،مایوس و نامراد ،واپس لوٹے۔ صحافیِ مذکور، آج کل بھی ذاکر نگر (جامعہ نگر،نئی دہلی 25) میں چلتے پھرتے اور ٹہلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
ابھی، اِسی مارچ 2016) کے آغاز میں وہ ،اچانک ایک روزمجھ سے ملے اور 1995ءکی اپنی کوشش اور ناکامی کا ذکر کرتے ہوئے کہنے لگے کہ: ”آپ، کسی طرح ،قابو میں نہ آسکے ۔ورنہ آپ کے لئے معاملہ ، بہت لمبا تھا۔“ عجز و نیاز کے ساتھ، بارگاہِ اِلٰہی میں سجدہ شکر ادا کرتا ہوں کہ:اُس نے اپنے ایک بندہ ناتواں کو ایک بہت سنگین امتحان میں کامیاب و با مُرادبنایا ۔اور: ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جُنبِش میں جسے غرور ہو، آئے، مجھے شکار کرے دو ڈھائی ماہ پہلے ”عُلما و مشائخ بورڈ“ کے ایک نمائندہ خصوصی ،میرے پاس (دارُ القلم، دہلی) آئے اور انھوں نے انٹرنیشنل صوفی کانفرنس و سیمینار ، بِالخُصوص سیمینار کے تعلق سے گفتگو کی۔ سب کچھ سننے کے بعد ،میں نے صاف الفاظ میں اپنی شرکت سے انکار کردیا۔ جب کہ اُس وقت اِس صوفی کانفرنس و سیمینار کے تعلق سے کوئی چرچا تھا، نہ ہی لوگوں کو اس کے بارے میں کچھ علم تھا۔ خود، مجھے بھی پروفیسر ،طاہر القادری اور شری ،نریندر مودی کی شرکت کا کچھ علم، نہ تھا۔ نمائندہ خصوصی کی طرف سے عدمِ شرکت کی وجہ پوچھے جانے پر میں نے جواب دیا کہ: ”دہلی کے تیس (30) سالہ سیاسی و صحافتی تجربات و مشاہدات کی روشنی میں یہ رائے ،قائم کی ہے ،اور یہ فیصلہ ،مَیں نے کیا ہے۔“ بعد کی ایک گفتگو میں اسی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ بورڈ کے صدرِ محترم ،آپ سے ملاقات کے لئے دارُا لقلم ، آنا چاہتے ہیں ۔ میں نے کہاکہ :وہ میرے پاس تشریف لائیں ۔یا۔ مَیں، ان کے پاس جا کر ملاقات کروں۔ یہ توبڑی اچھی بات ہے ۔مگر، اِس وقت، اِس موضوع پر کوئی ملاقات و گفتگو ،مناسب نہیں ۔ یہ جواب میں نے اِس لئے دیا کہ :اپنے فیصلہ اور موقف سے کسی قیمت پر، مَیں دست بردار نہیں ہو سکتا تھا اور وہ، اپنی منزل کی طرف ،اتنے آگے بڑھ چکے تھے کہ قدم، پیچھے نہیں ہٹا سکتے تھے۔ ایسی صورت میں اِس موضوع پر کوئی ملاقات و گفتگو ،نہ صرف، یہ کہ بے سود رہتی ،بلکہ خطرہ ،اِس بات کا تھا کہ:گفتگو کے کسی مَرحلے میں کسی طرف سے کوئی تلخی اور پھر، بَدمَزگی، نہ پیدا ہو جائے۔اور کسی کے تعلق سے کوئی نازیبا تبصرہ، کسی کی زبان سے نہ نکل جائے۔
(تصوف اور سیاست ،ص،۱۹ تا۲۱،لمرا فاونڈیشن نئی دہلی )
آج بھی کانگریسیوں کے ساتھ بریلوی علماء کے یارانے
مولانا انیس عالم سیوانی اپنے مولویوں کی کانگریس کے ساتھ یاری کا ذکر یوں کرتے ہیں:
’’بتاریخ ۱۵ اکتوبر ۲۰۱۱علامہ فضل حق خیر آبادی انٹرنیشنل کانفرنس بمقام کنونشن سینٹر میڈیکل کالج چوک لکھنو۔
زیر اہتمام فضل حق اکیڈمی ،مینائی ایجوکیشنل سوسائٹی لکھنو،صدر جلسہ وگ وجے سنگھ۔
مہمان خصوصی ۔۔۔جناب جگدیش چندرا ۔۔۔
مہمانا ن اعزازی ۔سری پرکاش جیسوال ،چودھری اجیت سنگھ ،بینی پرساد ورما ،۔۔۔ مولانا ادریس بستوی ،مولانا یسین اختر مصباحی ،مولانا اسید الحق ،مولانا خوشتر نورانی ۔
(راشٹریہ سہارا اردو لکھنو ۱۳اکتوبر ۲۰۱۱)
نوٹ: اندازہ لگائیے! کانفرنس علامہ فضل حق خیر آبادی کے نام سے ہورہی تھی وہابی شیعہ کو تو جانے دیجئے اس میں جتنے نام ہیں ان میں سے اکثر غیر مسلم کانگریسی نیتا ہیں ‘‘۔
(آئینہ صلح کلیت ،ص۵۶،بزم رضائے خواجہ بمبئی)
مزید لکھتے ہیں:
’’اس کانفرنس کے تمام روح رواں کانگریسی لیڈران تھے ۔۔۔مولانا مصباحی جیسے لوگوں نےکانگریس کیلئے یوپی میں ماحول سازی کی غرض سے یہ پروگرام کیا تھا‘‘۔
(آئینہ صلح کلیت ص۹۴)
صاحبزادہ فضل کریم فیصل آبادی کا کانگریسی مولویوں سے اتحاد
مولوی ابو داود صادق صاحب اپنے مرشد کے جانشین کو کانگریسی مولویوں سے اتحاد کرنے پر یوں تنبیہ کرتے ہیں:
’’صاحبزادہ صاحب موصوف کو بھی عرض کریں گے کہ ناجنسوں اور بدعقیدہ کانگریسی مولویوں اور لیڈروں سے غیر فطری اتحاد پہلے بھی بد مذہبوں کیلئے مفید اور سنی بریلوی مسلک جماعت اہلسنت کیلئے منحوس ثابت ہوا ‘‘۔
( رضائے مصطفی ،ص۱،جولائی ۱۹۸۸)
انہی فضل کریم صاحب کے القابات بھی ذرا ملاحظہ فرمالیں:
’’مجاہد ملت ۔۔۔سفیر جہاد و نشان جسارت ۔۔علم بردار توحید ۔۔ناموس محمد کا نگہبان ۔۔ اس حق آگاہ‘‘۔
(رضائے مصطفی ،ص۲۶،۲۷،جون ۲۰۱۳)
جب موصوف ’’حق آگاہ ‘‘ تھے تو یقینا کانگریسی مولویوں سے انہوں نے اتحاد حق سمجھ کر ہی کیا ہوگا۔اب ہم امید کرتے ہیں کہ معترض صاحب اپنے ان تمام ’’ہندو نواز کانگریسی مولویوں ‘‘ کے خلاف جلد سے جلد کوئی بھاری بھرکم فتوی جاری کریں گے۔
بریلوی سارے کانگریسی ہیں
حشمت علی رضوی نے ایک کتاب ’’ستر باادب سوالات ‘‘لکھی جو راقم کے پاس موجود ہے ۔ اس کے ابتداء ہی میں موصوف اپنے صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی سے گلہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اب تک حضرت والانے ان کا کچھ بھی جواب نہیں عطا فرمایا اور اس سے بھی زائد افسوس یہ ہے کہ جناب اشتیاق احمد صاحب بریلوی و جناب مولوی نذیر الاکرم صاحب نعیمی مراد آبادی و مولوی غلام معین الدین صاحب مخدوم میاں نعیمی مراد آبادی و جناب مولوی حامد حسین صاحب نعیمی خطیب بہجوئی ضلع مراد آباد و جناب صوفی صابر اللہ شاہ صاحب اشرفی مراد آبادی اور جناب ایڈیٹر صاحب اخبار دبدبہ سکندری رامپور وغیرہم حامیانِ آل انڈیا سنی کانفرنس نے ان بیچارے سنی مسلمانوں مستفتیوں کو سب و شتم و افتراء و بہتان و تہمت و تکفیر و تضلیل وغیرھا کثیر انعامات سے نوازا ہے ان غربائے اہلسنت کو کانگریسی کانگریس کا اجیر کانگریس کا وفادار خدمتگار دشمنان دین و ملت باغیان اسلام و سنیت اور ہندوؤں کا دوست مسلمانوں کا دشمن حتی کہ اسلام کش بھی کہہ ڈالا‘‘۔
(ستر باادب سوالات ،ص۲،کتب خانہ اہل سنت پیلی بھیت)
معلوم ہواکہ اول تو بریلوی مولوی گالم گلوچ کرنے والے الزامات افترات گھڑنے والے ہیں بے جا تکفیر و تضلیل کرنے والے ہیں اس لئے علمائے دیوبند نے کبھی بھی ان افترا پرداز تکفیری دشنامی بریلوی اکابر کے الزامات و افترات کو سنجیدہ نہیں لیا ۔ثانیا نعیم الدین مراد آبادی اور اس کے ٹبر کے نزدیک حشمت علی رضوی اور اس کا ٹبر جسے یہ غربائے اہلسنت کہہ رہا ہے یہ سارے کانگریسی ، کانگریس کے تنخواہ دار اور ہندوؤں کے وفادار اور بکاؤ مال ہیں ۔لہذا معترض کو ہم پر الزام تراشی کرنے کے بجائے اپنے ان کانگریسی گماشتوں کا محاسبہ کرنا چاہئے۔
مشایخ و علماء بریلویہ کانگریس میں شامل اور اس کے حمایتی ہیں
حشمت علی رضوی اپنے صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی سے سوال کرتا ہے :
’’مسلم لیگ یا کانگریس کی تائید اور مطالبۂ پاکستان یا سوراج کی حمایت میں جو کاروائیاں علمائے اہلسنّت ومشائخ اہلسنّت ومسلمانانِ اہلسنّت کہلانے والے تحریراً وتقریراً کررہے ہیں یہ دینی ہیں یا محض دنیوی، بیّنواتؤجروا‘‘۔
(ستر باادب سوالات ،ص۴)
معلوم ہوا کہ بریلوی مشایخ و علما تحریرا و تقریرا کانگریس کی حمایت کررہے تھے۔
کانگریسی مولویوں پر بریلوی فتوے
اب ذرا ان بریلوی کانگریسی مولویوں اور ان کے اتحادیوں پر خود بریلوی فتووں کی ایک جھلک معلوم کرلیں ۔مولوی ضیاء الحامدی نقشبندی مجددی لکھتا ہے :
’’کانگریسی علما کی پاکستان دشمنی کو بے نقاب کرنا اور عوام کو ان کے داغ دار ماضی سے آگاہ کرنا از حد ضروری ہے تاکہ عوام کو معلوم ہوجائے کہ قیام پاکستان سے قبل کانگریسی علماء کے پاکستان کے خلاف کیا جذبات تھے اور آج بھی یہ پاکستان دشمن مولوی اپنے سینوں میں کن خطرناک عزائم کو چھپائے ہوئے ہیں ‘‘۔
(پاکستان اور کانگریسی علما کا کردار مندرجہ دیوبندیوں سے لاجواب سوالات ،ص۷۸۸)
’’حقیقت یہ ہے کہ کانگریسی مولویوں نے ابھی تک پاکستان کو دل سے تسلیم نہیں کیا اور وہ اپنے سابقہ نظریات کی تبلیغ سے باز نہیں آئے ‘‘۔
(پاکستان اور کانگریسی علما کا کردار مندرجہ دیوبندیوں سے لاجواب سوالات ،ص۷۹۵)
پتہ چلاکہ یہ کانگریسی بریلوی مولوی آج بھی پاکستان کے دشمن ہیں اور پاکستان کیلئے دلوں میں بغض و کینہ بھرے ہوئے ہیں ۔
کانگریس سے اتحاد پر تکلیف کیوں؟
کانگریس سے علمائے دیوبند کے اس اتحاد پر بریلوی حضرات کو یہ تکلیف اس لئےہے کہ خود بریلویوں نے یہ اقرار کیا کہ :
’’صرف ایک سیاسی پارٹی کانگریس انگریزوں سے ہندوستان کو آزاد کرنے کیلئے قائم کی گئی‘‘۔
(رضائے مصطفی ،ص۱۷،اگست ۲۰۱۰)
ظاہر ہے کہ علمائے دیوبند کے اتحاد کے بعد یہ ایک عظیم قوت بن جاتی جس کا مقابلہ کرنا انگریز کے بس کی بات نہ تھا اس لئے بریلوی حضرات کے پیٹ میں اس اتحاد کے خلاف مروڑ اٹھ گئے۔
ہندو مسلم اتحاد پر سیال شریف والوں کا تاریخی فتویٰ
استفتاء
کیا فرماتے ہیںعلماء دین متین اس مسئلے میں کہ حالات حاضرہ کا لحاظ کرتے ہوئے مسلمانانِ ہند کو قوم ہنود کے ساتھ معاہدہ صلح اور دشمن قوی کے مقابلہ میں ان سے استعانت اور شراکت عمل کرنا جائز ہے یا نہ بینوا بالتفصیل توجرو امن الملک الجلیل
الجواب ماھو فی السنۃ والکتاب
باسمہ سبحانہ حالات حاضرہ کی رو سے جب کہ عیسائیت اسلام کے ساتھ محارب ہےا ور وہ چاہتی ہے کہ اسلام کی شوکت اور طاقت کو(خاک بدہن دشمن) فنا کردے اور مسلمانانِ ہند بوجہ قوت مادی نہ ہونے کے اپنے اصلی فرض سے قاصر ہیں اور تحریکات مجریہ(ترک موالات) کی کامیابی بجز اس کے متصور نہیں کہ قوم ہنود سے معاہدہ صلح اور شرکت عمل کی جاوے تو ایسی حالت میں شرعاً ہنود کے ساتھ معاہدہ صلح اور شرکت عمل جائز ہے خصوصاً جب کہ قوم ہنود خود معاہدہ اور امداد کے لئے ہاتھ بڑھارہی ہے خداوند تعالیٰ کا ارشاد ہے وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَایعنی( اے پیغمبر صلعم) اگر کفار صلح کی طرف جھکیں تو تم بھی صلح پر مائل ہوجائو۔حضور اقدس ﷺ کا طرزِ عمل بھی یہی رہا ہے چنانچہ مدینہ منورہ میں مختلف قبیلوں سے آپ نے معاہدہ صلح کیا یہود مدینہ سے چند شرائط پر صلح کی جن میں ایک شرط یہ تھی کہ یہود یا مسلمانوں کو کسی سے لڑائی پیش آئے گی تو ایک فریق دوسرے فریق کی مدد کرے گا، قبیلہ جہینہ اور قبیلہ بنی ضمرہ۔ بنی مدلج وغیرہ قبائل سے معاہدہ صلح کیا۔ صلح حدیبیہ کا واقعہ مشہور ہی ہے ۔
آیت پاک میں اگرچہ صلح کی مطلقاً اجازت ہے لیکن دوسری آیت اور آیات قتال سے اس کو مقید بالمصلحت کردیا صاحب فتح القدیر تحریر فرماتے ہیں
والآیۃ وان کانت مطلقۃ لکن اجماع الفقہاء علی تقییدھا برؤیتہ مصلحۃ للمسلمین فی ذلک بآیۃ اخری ھی قولہ تعالیٰ فلا تہنوا وتدعواالی لسلم الایۃ
ترجمہ: آیت اگرچہ مطلق ہے لیکن فقہا کا اس پر اتفاق ہوچکا ہے کہ یہ آیت دوسری آیت فلا تھنوا کے ساتھ مقید بالمصلحۃ ہے۔
فاما اذالم یکن فی الموادعۃ مصلحۃ فلا تجوز بالاجماع انتھی۔
لیکن اگر مصلحت نہ ہو تو پھر صلح بالاتفاق جائز نہیں۔
الغرض حضور کے طرز عمل اور آیت بالا سے صاف ظاہر ہے اگر مسلمین کو ضرورت داعی ہو اور مصلحت صلح ہی میں ہو تو کفار کے ساتھ معاہدہ صلح جائز ہے ، فقہا کی یہی بے شمار تصریحات اس پر موجود ہیں ہدایہ میں ہے۔
واذا رای الامام ان یصالح اہل الحرب او فریقاً منھم وکان ذلک مصلحۃ للمسلمین فلا باس بہ لقولہ تعالیٰ وان جنحوا للسم فاجنح لھا وتوکل علی اللہ ووادع رسول اللہ ﷺ اہل مکہ عام الحدیبیۃ علی ان یضع الحرب بینہ و بینھم عشرسنین انتھی
ترجمہ :اگر امام اہل حرب یا اس کے کسی فرقہ سے صلح کرنا چاہیں اور اس میں مسلمانوں کی بہبودی ہو تو صلح کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں کیونکہ خداوند ی ارشاد وان جنحواللسم الایہ اسی طرح حضور نے بھی اہل مکہ سے حدیبیہ کے سال اس بات پر صلح کی تھی کہ دس سال تک ہماری آپس میں جنگ نہ ہو۔
عالمگیریہ میں ہے:
اذا رأی الامام ان یصالح اہل الحرب ان فریقاً منھم وکان ذلک مصلحۃ للمسلمین فلا باس بہ انتھی
ترجمہ: اگر امام اہل حرب سے یا ان کے کسی فرقہ سے صلح کرنا چاہے اور اس میں مسلمانوں کی بہبودی ہو تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔
اور اسی کتاب میں آگے چل کر ہے:
ولو وادعھم فریق من المسلمین بغیر اذن الامام فالموادعۃ جائزۃ علی جماعۃ المسلمین، انتھی
ترجمہ : اگر امام کی اجازت کے بغیر کوئی فرقہ مسلمانوں کا کفار سے صلح کرلے تو یہ صلح تمام مسلمانوں پر جائز ہوگی۔
اس عبارت نے واضح کردیا کہ امام کی اجازت کے بغیر بھی صلح کرلینا جائز ہے ۔ جیسا کہ صورت مندرجہ سوال میں ہے۔
اور قدوری کے قول پر(اذا رأی الامام ان یصالح اہل الحرب او فریقا منھم وکان ذلک مصلحۃ للمسلمین فلا باس بہ)کے تحت میں صاحب جوہرہ لکھتے ہیں:
فان المواد مۃ جہاد اذا کانت خیر ا للمسلمین لان المقصود ھو رفع الشر حاصل بہ وقد وادع النبی ﷺ اہل مکۃ عام الحدیبیۃ انتھی
ترجمہ: کیونکہ صلح بھی ایک قسم کا جہاد ہے ۔ جب کہ اس میں مسلمانوں کی بہبودی ہو کیونکہ جہاد کا مقصد شر کو دور کرنا ہے ۔ اور وہ اس صلح میں حاصل ہے دوسرا یہ کہ حضور اقدس ﷺ نے خود اہل مکہ کے ساتھ صلح کی تھی ۔
شمس الائمہ سرخسی مبسوط میں تحریر کرتے ہیں:
واذا طلب قوم من اہل الحرب الموادعۃ سنین بغیر شی ء نظر الامام فی ذلک فان راہ خیراً للمسلمین لشدۃ شوکتھم اولغیر ذلک فعلہ لقولہ تعالیٰ وان جنحوا للسلم فاجنح لھا ولان رسول اللہ ﷺ صالح اہل مکۃ عام الحدیبیۃ علی ان وضع الحرب بینہ وبینھم عشر سنین الی آخرہ
ترجمہ: جب کوئی قوم اہل حرب کی طالب صلح ہو تو امام اس میں غور کرے اگر کفار کی شوکت زیادہ ہے یا کوئی اور امر ایسا ہے۔ جس کی وجہ سے صلح کرنا ہی مسلمانوں کے لئے بہتر ہے تو بموجب فرمان ایزدی وان جنحوا للسم فاجنح لھا کے صلح کرے اور اس لئے بھی کہ حضور نے خود اہل مکہ سے حدیبیہ کے سال اس بات پر صلح کی کہ دس سال تک آپس میں جنگ نہ ہوگی۔
اور در مختار میں ہے:
ویجوز الصلح علی ترک الجہاد معھم بمال منھم او منالوخیراً لقولہ تعالیٰ وان جنحوا للسم فاجنح لھا انتھی
ترجمہ: اور کافروں کے ساتھ ترک جہاد پر صلح کرلینا جائز ہے خواہ ان سے کچھ مال لے کر یا ان کو کچھ دے کر اگر یہ صلح مفید ہو کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: وان جنحوا للسلم فاجنح لھا الایۃ
اور شامی میں ہے:
قولہ منا ای مال نعطیہ ایاھم ان خاف الامام الہلاک علی نفسہ والمسلمین بای طریق کان۔
قولہ لقولہ تعالیٰ وان جنحوا للسلم ای مالواقال فے المصباح السلم بالکسر والفتح الصلح یذکر ویؤنث والایۃ مقیدۃ برؤیۃ المصلحۃ اجماعاً لقولہ تعالیٰ فلا تھنوا وتدعوا الی السلم وانتم الاعلون افاد ہ فی الفتح انتھی
ترجمہ: یعنی ہم ان کو مال دے کر صلح کریں اگر امام اپنے نفس یا مسلمانوں کی ہلاکت کا خوف کرے جس وجہ سے ہو۔
خلاصہ ترجمہ اس عبارت کا یہ ہے کہ یہ آیت یعنی وان جنحوا للسلم صلح میں مصلحت کے دیکھنے کے ساتھ مقید ہے۔اجماعاً کیونکہ اللہ جل جلالہ کا فرمان ہے۔ فلا تھنوا وتدعوا الی السلم الایۃ جیسا کہ فتح القدیر میں اس کی تفصیل مذکورہے ۔
فقہاء کی ان تصریحات سے یہ بھی ثابت ہوگیا کہ آیۃوان جنحوا للسلم منسوخ نہیں۔جیسا کہ بعض مفسرین کا زعم ہے ورنہ اتنے بڑے اجلہ فقہا اس آیت کو استدلال میں نہ لاتے۔
چونکہ بعض حضرات اس وقت بھی اس کے مدعی ہیں کہ ہنود سے عقد صلح مطلقاً ناجائز ہے اور حضور کا طرز عمل اور آیات دالہ علی الصلح سب آیتہ براءۃ کے ساتھ منسوخ ہیں اس لئے مزید اطمینان کے لئے چند اور سندیں پیش کیجاتی ہیں جن سے واضح ہوگا کہ نسخ کا قول قابل اعتماد نہیں آیت وان جنحوا کے تحت میں صاحب جمل قول نسخ کی تشریح کرنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں:
وہذا کلہ مبنی علی ان المراد بالصلح ھو عقد الجزیۃ اما اذا ارید بہ غیرہ من العقود التی تفیدھم الامن وھی البدنۃ والامان فلا نسخ مطلقاً اذ یصح عقدھا بکل کافر حاشیہ جمل بر جلالین۔
یعنی نسخ کا جھگڑا سب اس پر مبنی ہے کہ سلم سے عقد جزیہ مراد لی جائے لیکن اگر دوسری عقود صلح و امن مراد ہوں تو نسخ ہرگز نہیں۔ کیونکہ ہر کافر کے ساتھ عقد صلح و امن جائز ہے۔
اور ابن عربی اندلسی ، مالکی اپنی کتاب احکام القرآن میں آیتہ وان جنحوا للسلم کے حق میں لکھتے ہیں۔
اما قول من قال انھا منسوخۃ فدعوی فَان شرط النسخ معْدُومَۃٌ کَمَا بَیَّنا فی موضعہ
یعنی جس شخص نے یہ کہا کہ آیۃ وان جنحوا للسم منسوخ ہے یہ محض دعوی ہی دعوی ہے کیونکہ شرط نسخ اس میں نہیں پائی گئی۔ جیسا کہ ہم نے تفصیل پہلے کردی۔
اور آگے لکھتے ہیں:
واِن کانَ لِلمُسلِمِینَ مَصلَحۃٌ فی الصُّلح لِانتِفاعٍ یُجْلَبُ بِہٖ اَوضَرَرٍ یَندَفِعُ بِسَبَبِہٖ فَلَا بَاسَ اَن یَبتدِءَ الْمُسْلِمُونَ بِہٖ اِذا احْتَاجُوا اِلَیہِ وَان تجیبُوا اِذا دُعُوا اِلیہِ قَد صالِحُ النَّبِیُّ ﷺ اَہلَ خَیبَرَ عَلی شُرُوطٍ نَقَضُوْھَا فَنَقضَ صُلحَھمْ قَد وَادَعَ الضَّمریّ وَقد صَالَحَ اُکَیدرَ دَوْمَۃَ وَاہلَ نَجْرَانَ وَقَد ھَارَنَ قُرَیشًا لَعَشْرۃِ اَعْوَامٍ حَتّٰی نَقَضُوا عَھْدھُم وَمَا زَالَتَ الْخُلفَاءُ وَالصَّحابَۃُ عَلیٰ ھٰذِہِ السَّبِیْلِ الَّتِیْ شَرَحْنَاھَا سالِکَۃً وَبالوُجُوہِ الَّتِیْ شَرَحْنَاھَا عَامِلَۃً،انتھی
یعنی اگر مسلمانوں کی صلح میں بہتری ہو ۔ اس طرح سے کہ صلح سے کوئی نفع حاصل ہو یا کہ ضرر دور ہو تو مضائقہ نہیں کہ مسلمان ہی صلح کرنے کی ابتدا کریں ۔ اگر ضرورت ہو یا ان کی دعوت صلح کو قبول کرلیں حضور ﷺ نے اہل خیبر سے چند شروط پر صلح کی تھی جس پر وہ قائم نہ رہے اور صلح باقی نہ رہی ، اسی طرح خمری و اکیدر دومہ و اہل نجران سے صلح کی اور قریش مکہ سے دس سال پر صلح کی جس پر قریش قائم نہ رہے اور خلفاء و صحابہ کا بھی عملددرآمد ہمیشہ اسی پر رہا۔
تعجب ہے کہ خلفاء راشدین اور صحابہ کرام کو نسخ کا علم نہ ہوا لیکن چودہوی صدی کے علماء نسخ کی رٹ لگائے جاتے ہیں۔ علامہ عینی شرح صحیح بخاری میں آیۃ وان جنحوا للسلم کے متعلق آیتہ براۃ کے ساتھ نسخ کا قول نقل کرنے کے بعد تحریر کرتے ہیں:
قَالَ اِبْنُ کَثِیْر فِی تَفْسِیرِہٖ فِیْہِ نَظْرٌ اَیضًا لَانَ فِی اٰیَۃَ الْبَرَاءَۃِ الْاَمْرُ بِقِتَالِھِم اِذَا اَمْکَنَ ذٰلِکَ فَامَّا اِذَا کَانَ الْعَدُوُّ کَثِیْفًا فَاِنَّہ تُجورُ مَھَادَنْتُھُم کَمَا دَلَّتْ عَلیہِ ھٰذِہٖ الاٰیَتَہُ الْکَرِیمَۃُ وَکَمَافَعَلَ النَّبِیُّ ﷺ یَوْمَ الحدیبیۃ فلا منافاۃ ولا نسخ ولا تخصیص۔
یعنی ابن کثیر ا پنی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ قول بالنسخ میں نظر ہے کیونکہ آیتہ براءۃ میں قتال کا حکم اس وقت ہے جب

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔