ہفتہ، 13 جولائی، 2019

تفسیر ابن کثیر ؒ میں علم غیب کے حوالے سے رضاخانی و سیفی مغالطوں کا منہ توڑ جواب


تفسیر ابن کثیر ؒ میں علم غیب کے حوالے سے رضاخانی و سیفی مغالطوں کا منہ توڑ جواب
مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی
قریبا ایک سال سے ہمارے مضمون و چیلنج سے مفرور اور حال ہی میں حضرت مفتی ندیم صاحب مدظلہ العالی کے ہاتھوں ندائے غیر اللہ کے موضوع پر شرمناک شکست کھانے والے مولوی ایاز باچا سیفی نے اپنی رسوائی پر پردہ ڈالنے کیلئے سوات مناظرہ کے نام سے ایک غیر معروف مولوی کے ساتھ علم غیب پر مناظرہ کا ڈھونگ رچایا جس میں نہ متکلم کا پتہ نہ معاون کا نہ صدر کا عجیب طرفہ تماشہ لگا ہوا ہے اسی مناظرے میں ایاز سیفی صاحب بار بار تفسیر ابن کثیر سے حضرت ابن عباسؓ کا ایک موضوعی اثر پیش کرتے ہیں بعد میں اسی اثر کے متعلق انہوں نے متکلم اسلام مولانا الیاس گھمن صاحب کو بھی فون کیا حضرت مفتی ندیم صاحب محمودی مدظلہ العالی نے اپنے ایک بیان میں
اس جعلی و موضوعی روایت کی خوب خبر لی ہے جس کے جواب میں رضاخانی سوائے لغوی کی لغوی واصطلاحی و اصطلاحی کی لغوی و اصطلاحی گردان کے کچھ نہ بول سکے مناسب معلوم ہوا کہ افادہ عام کیلئے اس روایت کا تحریری طور پر بھی ایک محققانہ جائزہ لے لیا جائے تاکہ دوبارہ اہل بدعت کو اس روایت کو پیش کرنے کی جرات ہی نہ ہو ۔
تفسیر ابن کثیر کی عبارت
کان رجلا یعلم علم الغیب (تفسیر ابن کثیر ،ج5،ص175)
الجواب بعون الوہاب
روایت کے راویوں پر ایک نظر
اس روایت کا پہلا راوی محمد بن اسحق ہے جو مختلف فیہ راوی ہے اس کے بارے میں تفصیلی جرح کیلئے امام اہلسنت مولانا سرفراز خان صفدر صاحب ؒ کی کتاب احسن الکلام کا مطالعہ کریں یا پھر مفتی ندیم صاحب محمودی کا بیان سماعت فرمالیں ۔
جن حضرات نے محمد بن اسحق کی توثیق کی ہے وہ مغازی کے متعلق ہے چنانچہ امام احمد بن حنبل فرماتے ہیں کہ مغازی میں تو اس کی روایت لے لی جائے گی البتہ حلال و حرام میں اس سے احتجاج نہیں کیا جاسکتا یحی بن معین بھی یہی کہتے ہیں کہ میں فرائض میں اس کی روایت سے احتجاج کو پسند نہیں کرتا۔
(الجرح والتعدیل ،ج7ص193مطبوعہ حیدر آباددکن)
جب اس کی روایت حلال و حرام میں معتبر نہیں تو عقائد کے باب میں کیسے پیش کی جاسکتی ہے ؟
ہم یہاں اختصارا اتمام حجت کیلئے بریلوی مناظر اعظم مولوی نظام الدین ملتانی جس کا شمار مفتی عبد الحکیم شرف قادری نے تذکرہ اکابر اہلسنت میں اپنے اکابر میں سے کیا ہے کی جرح پیش کررہے ہیں:
’’تمام محدثین نے مانا ہے جس کو یحیی بن قطان چھوڑ دیں گے ہم بھی اس کو چھوڑ دیں گے اور یحیی بن قطان نے محمد بن اسحق کے بارے میں لکھا ہے : اشھد ان محمد بن اسحق کذاب اور میزان الاعتدال اور مالک نے اس کو دجال کہا ہے اور سلیمان تیمی نے کذاب اور علامہ بدر الدین عینی نے اس کو مدلس لکھا ہے اور امام نووی نے لکھا ہے لیس فیہ الا التدلیس دیکھو بناء جلد اول ص711اور اسی صفحہ میں لکھتا ہے کہ جب مدلس عن سے روایت کرے تو وہ روایت قابل تسلیم نہیں ہوا کرتی : وھو الذی قلنا مدلس اذا قال عن فلان لا یحتج بحدیثہ عند جمیع المحدثین مع انہ قد کذبہ مالک و ضعفہ احمد و قال لایصح الحدیث عنہ ۔۔۔الخ یعنی ہم کہتے ہیں کہ جب مدلس عن فلان کہے تو حدیث اس کی حجت نہ ہوگی نزدیک تمام محدثین کے اور امام مالک نے محمد بن اسحق کو کذاب کہا ہے اور امام احمد نے ضعیف کہا ہے اس سے حدیث بیان کرنا صحیح نہیں ہے۔ اور کہا ابو زرعہ نے اس کا اعتبار کسی شے میں نہیں کیا جاسکتا۔
(انوار شریعت ،ج2ص49)
نظام الدین ملتانی اور اس کی انوار شریعت سے استدلال کرتے ہوئے مولوی سید احمد علی شاہ سیفی لکھتا ہے :
’’اس کے علاوہ مولانا نظام الدین بریلوی نے بھی اشارہ کو منع لکھا ہے حالانکہ وہ اپنے وقت کے مناظر تھے اور اشارہ کرنے کے بارے میں کئی دلائل نقل کئے ہیں (جامع الفتاوی ج2ص113حصہ چہارم المعروف انوار شریعت)
(مجموعہ رسائل حصہ دوم ،ص354)
آپ کے امین باجوڑی سیفی نے احمد علی شاہ کو جید اہلسنت عالم اور پیر سیف الرحمن کا مرید لکھا ہے (الشدائد علی المکائد ص4مطبوعہ باجوڑ ایجنسی )
معلوم ہواکہ نظام الدین ملتانی بریلوی اور سیفی دونوں کا معتبر آدمی ہے۔یہی نظام الدین ملتانی اپنے ایک اور فتوی میں لکھتے ہیں:
’’محمد بن اسحق بن یسار راوی ہے جو قابل سند بیان کرنے کے نہیں کیونکہ اس کے حق میں یحیی بن قطان جن کو تمام محدثین نے مانا ہے وہ محمد بن اسحق کے متعلق لکھتے ہیں:اشھد ان محمد بن اسحق کذاب یعنی میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد بن اسحق بڑا جھوٹا ہے اور امام مالک نے اس کو دجال لکھا ہے اور سلیمان بن دار قطنی نے اس سے دلیل پکڑنے کو منع کیا ہے اور صاحب تقریب نے اس کو مدلس لکھا ہے ‘‘۔(فتاوی نظامیہ ،ص228مطبوعہ لاہور)
حسن بن عمارہ
اس روایت کا دوسرا راوی ہے
امام شعبہ کسی ایسی روایت سے احتجاج نہیں کرتے جس میں حسن بن عمارہ ہوتے۔یحی بن معین کہتے ہیں ضعیف ہے ۔امام احمد بن حنبل سمیت کئی محدثین کہتے ہیں متروک الحدیث ۔(تاریخ بغداد ج9ص361)
قال النسائی حسن بن عمارہ متروک الحدیث (الضعفاء والمتروکین ص169)
متروک الحدیث کی جرح محمد بن اسحاق پر بھی ہے اور یہ جرح مفسر ہے (تدریب )
شعبہ کہتے ہیں کہ حسن بن عمارہ سے روایت جائز نہیں وہ حدیث رسول پر جھوٹ بولتا ( الضعفاء الکبیر ج4ص237)
ابن عیینہ نے اس کو ضعیف قرار دیا عبد اللہ ابن مبارک نے اس کی روایت کو ترک کردیا تھا (الکامل فی ضعفاء ج3ص280)
امام احمد بن حنبل کہتے ہیں منکر الحدیث ،اس کی احادیث موضوعی ہیں ،لا یکتب حدیثہ (تہذیب التہذیب ،ج1،ص204)
قال ابو حاتم و مسلم و النسائی ووالدار قطنی متروک الحدیث (تہذیب التہذیب ،ج1،ص205)
میزان الاعتدال ج1ص341 میں بھی اس پر تفصیلی جرح موجود ہے ۔
ایسے ضعیف او ر موضوعی راویوں سے جعلی روایت پیش کرنے پر اور پھر سوات مناظرے میں ایاز سیفی کا یہ کہنا کہ ابن عباسؓ کی یہ روایت مدرک بالقیاس نہیں اس لئے حکما مرفوع ہے کچھ تو ان لوگوں کو شرم کرنی چاہئے ۔
ایاز سیفی کی اپنی رائے
کچھ دن قبل محمد بن اسحق کے متعلق ایاز سیفی صاحب کو فون کیا گیا (ریکارڈنگ محفوظ ہے )اور ان کے سامنے فون کا مدعیٰ پیش کیا گیا تو موصوف فرماتے ہیں جی آپ اشکال پیش کرسکتے ہیں جب ان سے کہا گیا کہ محمد بن اسحق کو امام مالک ؒ کے کذا ب و دجال کہا ہے آپ کی اس کے بارے میں کیا رائے تو سوال گندم جواب چنا دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے فقہاء نے اس کی روایتوں سے ’’استحباب ‘‘ کو ثابت کیا گیا جب کہا گیا کہ فقہاء کو چھوڑیں اپنی رائے دیں تو ایک دم سے بھپر گئے کہ میں کسی کی دعوت پر آیا ہوں تم شاگرد ہو استاذوں کو بلاؤ موصوف سے کہا گیا کہ طالب علم ہیں اسی لئے تو فون کیا اگر طالب علم کو جواب دینا جائز نہیں تو کل سے مدرسے بند کردو کہ تم طالب علم ہو تمہیں کیا پتہ ۔۔۔جس کے بعد ایاز صاحب نے فون کال کاٹ دی ۔
بہرحال اس سے کم سے کم اتنا تو معلوم ہواکہ سیفی صاحب کے نزدیک بھی محمد بن اسحق کی روایت سے زیادہ سے زیادہ استحباب ثابت کیا جاسکتا ہے حلال و حرام فرض و واجب کے وہ بھی قائل نہیں تو پھر اس روای کو عقیدہ کے مسئلہ میں پیش کرنا جس کیلئے نص قطعی چاہئے کیا صریحا دجل و فریب نہیں؟
بر سبیل تسلیم
اگر بالفرض اس روایت کو درست تسلیم کرلیا جائے تو یہ عبارت مولانا احمد رضاخان صاحب کے اصول پر کفریہ عبارت ہے
اہل علم حضرت ملاحظہ فرمائیں کہ یہاں ’’علم الغیب ‘‘ ہے مرکب غیر مفید ہے یعنی علم کی اضافت غیب کی طرف ہے ۔اور یہ جملہ مرکب اضافی ہے اور مولانا احمد رضاخان صاحب کہتے ہیں:
’’علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے ‘‘۔(ملفوظات حصہ سوم ،ص36رضوی کتب خانہ بریلی)
عبارت ماول ہے
کسی کیلئے علم غیب کا عقیدہ رکھنا ہمارے نزدیک کفریہ عقیدہ ہے اور مولانا احمد رضاخان کی مندرجہ بالا عبارت کی رو سے تفسیر ابن کثیر کی یہ عبارت آپ کے مذہب میں بھی ’’کفریہ ‘‘ ہوئی کیونکہ اس سے علم غیب ذاتی متبادر ہورہا ہے ۔ لہذا اس عبارت کو ظاہر پر محمول نہیں کیا جائے گا بلکہ تاویل کی جائے گی ۔اور تاویل یہ کہ اس عبارت میں علم غیب سے مراد علم غیب اصطلاحی نہیں جو کلی ذاتی ازلی ہو بلکہ مراد علم غیب لغوی ہے یعنی غیب کی کسی بات کا علم،(ثبوت بفردما) اور ظاہر ہے کہ غیب کی کسی بات کا جان لینا بطور انباء الغیب یا اخبار الغیب کسی کے ہاں بھی کفر نہیں ۔ علم غیب لغوی و اصطلاحی کی یہ تفریق ہماری خانہ زاد نہیں بلکہ آپ کے مسلک کے شیخ الحدیث مولانا غلام رسول سعیدی صاحب جن کے بارے میں مفتی منیب الرحمن صاحب لکھتے ہیں:
’’مصنفاتِ علامہ سعیدی ،شرح صحیح مسلم اور تبیان القرآن کو ہمارے عہد کے دو ممتاز اکابر علماء اہلسنت علامہ عبد الحکیم شرف قادری اور علامہ محمد اشرف سیالوی مد اللہ ظلہما نے مسلک اہلسنت وجماعت کیلئے مستند مو متفق علیہما قرار دیا ہے ،یہ امر ملحوظ رہے کہ یہ دونوں اکابر ہمارے مسلک کیلئے حجت و استناد کی حیثیت رکھتے ہیں ‘‘۔
(تفہیم المسائل ۔ج۳۔ص۱۷ ۔ضیاء القرآن پبلی کیشنز طبع دوم ۲۰۰۹)
معلوم ہوا کہ نہ صرف اشرف سیالوی بلکہ تبیان القرآن و شرح مسلم بھی رضاخانی مسلک میں حجت و استناد کا درجہ رکھتی ہیں۔اسی تبیان القرآن میں مولانا غلام رسول سعیدی صاحب لکھتے ہیں:
اعلی حضرت امام احمد رضا متوفی 1340ھ لکھتے ہیں:
علم غیب عطا ہونا اور لفظ عالم الغیب کا اطلاق ۔۔۔ہماری تحقیق میں لفظ عالم الغیب کا اطلاق حضرت عزت عز جلالہ کے ساتھ خاص ہے کہ اس سے عرفا علم بالذات متبادر ہے کشاف میں ہے المراد بہ الخفی الذی لا ینفذ فیہ ابتداء الا علم اللطیف الخبیر ولھذا لا یجوز ان یطلق فیقال فلان یعلم الغیب غیب سے مراد وہ پوشیدہ چیز ہے جس میں ابتدا صرف اللہ تعالی کا علم نافذ ہوتا ہے اس لئے مطلقا یہ کہنا جائز نہیں کہ فلاں شخص غیب کو جانتا ہے ۔۔۔علامہ سید شریف قدس سرہ حواشی کشاف میں فرماتے ہیں وانما لم یجز اطلاق فی غیرہ تعالی لانہ یتبادر منہ تعلق علم بہ ابتدا ء فیکون مناقضا واما اذا قید قیل اعلمہ اللہ تعالی الغیب او اطلعہ علیہ فلا محذور فیہ (اللہ تعالی کے غیر کیلئے علم غیب کا اطلاق کرنا اس لئے جائز نہیں ہے کیونکہ اس سے متبادر یہ ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ علم کا تعلق ابتداء سے ہے تو یہ تو قرآن مجید کے خلاف ہوجائے گا لیکن جب اس کو مقید کیا جائے اور یوں کہا جائے کہ اس کو اللہ تعالی نے غیب کی خبر دی ہے یا اس کو غیب پر مطلق فرمایا ہے تو پھر اس میں کوئی حرج نہیں ۔(فتاوی رضویہ ،ج9،ص81دارالعلوم امجدیہ )
نیز اعلی حضرت فرماتے ہیں۔۔۔علم جب کہ مطلق بولا جائے خصوصا جب کہ غیب کی طرف مضاف ہو تو اس سے مراد علم ذاتی ہوتا ہے ‘‘۔(ملفوظات حصہ سوم ،ص34مدینہ پبلشنگ کراچی)
اعلی حضرت بریلوی اور شبیر احمد عثمانی دونوں نے ہی یہ تصریح کی ہے کہ علوم اولین و آخرین کے حامل ہونے اور بکثرت غیوب پر مطلع ہونے کے باوجود نبی ﷺ کو عالم الغیب کہنا اور آپ کی طرف علم غیب کی نسبت کرنا ہر چند کے ازروئے لغت اور معنی صحیح ہے لیکن اصطلاحا صحیح نہیں ہے ‘‘۔
(تبیان القرآن ج4،ص487)
معلوم ہواکہ اگر کسی کی عبارت میں ’’علم الغیب ‘‘ کا لفظ آجائے تو اس سے مراد اصطلاحی علم غیب نہیں ہوگا جس میں آپ کا اور ہمارا کفر و اسلام کا اختلاف ہے بلکہ لغوی اعتبار سے غیب کی باتوں کا بطور انبا ء معلوم ہونا مراد ہوگامگر چونکہ یہ اطلاق بھی ایہام شرک و کفر سے خالی نہیں اس لئے اس کے اطلاق کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اگر کسی کتاب میں اس کا اطلا ق ہو تو اسے تعبیر کی غلطی پر محمول کیا جائے گا۔
مولوی احمد رضاخان صاحب کے بارے میں سیفیوں کے آفتاب ہدایت سید احمد علی شاہ لکھتے ہیں:
آج کے عہد میں اس قسم کے اختلافی مسائل میں ہم اہل سنت کیلئے امام اہل سنت اعلی حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کا قول فیصل ہے ‘‘۔
(مجموعہ رسائل ،جلد دوم ،ص291ناشر جامعہ امام ربانی کراچی)
لہذا اب سیفی مولوی احمد رضاخان اس لغوی و اصطلاحی کی تفریق علم الغیب کے مسئلہ میں تسلیم کریں۔
لغۃ و اصطلاح کی لغوی و اصطلاحی تعریف
ایازباچا سیفی نے سوات کے نام نہادمناظرے میں اور ان ہی کے ایک ہم مشرب نے حضرت مفتی ندیم صاحب محمودی مدظلہ العالی کے ایک محققانہ بیان پراس موقع پر لایعنی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ لغۃ کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو اور پھر اصطلاح کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔ گویا ان عقل کے دشمنوں کے ہاں یہ سوال ایسے لا ینحل ہیں کہ پوری دنیا چھان لینے کے بعد بھی شائد ان سوالات کے غوامض ، دقائق و لطائف تک رہنمائی نہ ہوسکے بہرحال اتمام حجت کیلئے ہم ان سوالوں کے جوابات بھی دے دیتے ہیں۔
لغۃ کی لغوی و اصطلاحی تعریف
من باب رضی یرضی لغی یلغی اذا لھج بالکلام۔
ھی فعلۃ من لغوت اای تکلمت حدیث میں آتا ہے من قال فی الجمعۃ صہ فقد لغا ای تکلم۔
حد اللغۃ: اصوات یعبر بھا کل قوم عن اغراضھم
و قال الاسنوی اللغات عبارۃ عن الالفاظ الموضوعۃ للمعانی
(المزھر فی علوم اللغۃ ،ج۱ص۱۱)
قال ابن الحاجب فی مختصرہ حد اللغۃ کل لفظ وضع لمعنی(مجلۃ التاریخ العربی ،ص5227)
ھی ما یعبر بھا کل قوم عن اغراضھم (لتعریفات ،ص،192)
علمی فائدے کیلئے لغت کی لغوی و اصطلاحی تعریف کے بعد اب ’’علم لغت‘‘ کی تعریف بھی ملاحظہ فرمالیں:
ان علم اللغۃ ھو معرفۃ افراد الکلم وکیفیۃ اوضاعھا (تاج العروس ،ج۱،ص۵۲)
فھو علم یبحث فیہ عن مفردات الالفاظ الموضوعۃ من حیث دلالتھا علی معانیھا بالمطابقۃ ( البلغہ فی اصول اللغہ ،ص۶۶)
اصطلاح کی لغوی و اصطلاحی تعریف
الاصطلاح من باب افتعال وزنا و مادتہ صلح۔
الاصطلاح اتفاق قوم علی تسمیۃ الشیء باسم ما ینقل عن موضوعۃ الاول
(التعاریف للمناوی ،ص 68)
اتفاق طائفۃ مخصوصۃ من القوم علی وضع الشیء او الکلمۃ
(کشاف اصطلاحات الفنون ج۱ص27)
الاصطلاح ھو اتفاق القوم علی وضع الشیء وقیل اخراج الشیء عن المعنی اللغوی الی معنی آخر لبیان المراد
(کتاب الکلیات لابی البقاء ص184)
قال ابن الحاجب : الاصطلاح :عبارۃ عن اتفاق قام علی تسمیۃ الشیء باسم ما ینقل عن موضعہ الاول ۔الاصطلاح اخراج اللفظ من معنی لغوی الی آخر لمناسبۃ بینھما و قیل الاصطلاح اتفاق طائفۃ علی وضع اللفظ بازاء المعنی و قیل الاصطلاح اخراج الشیء عن معنی لغوی الی معنی آخر لبیان المراد و قیل الاصطلاح لفظ معین بین قوم معینین ۔
(التعریفات ،ص32دارالکتب العلمیہ بیروت )
لیجئے رضاخانی سیفی ایاز صاحب آپ کے بے مقصد سوالوں کے جوابات ہم نے ایسی کتب سے دے دئے ہیں جو آپ کو پڑھنا تو کیا دیکھنابھی نصیب نہ ہوں گی اس علمی فائدے پر ہمارا شکریہ ادا کرنا نہ بھولئے گا ۔مگر سوال یہ ہے کہ آپ کے ان سوالوں کے جوابات آنے کے بعد بھی مسئلہ جوں کا توں موجود ہے اس لئے دوران مناظرہ اگر کوئی اس قسم کے لایعنی سوالات کے جوابات نہ دے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسے علم نہیں بلکہ وہ اس میں لگ کر اپنا قیمتی وقت برباد نہیں کرنا چاہتا مثال کے طور پر جب آپ کو محمد بن اسحق کے متعلق فون کیا گیا توتھوڑی ہی دیر میں جب آپ لا جواب ہونے لگ گئے تو یہ کہہ کر فون کاٹ دیا کہ میں دعوت پر آیا ہوں کھانا کھا رہا ہوں تم طالب علم ہو اپنے استاذ کو بلاؤ:اب آپ سے سامنے والا پوچھے :
(۱) دعوت کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
(۲) کھانے کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
(۳) طالب علم کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
(۴) استاذ کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
(۵)بلکہ فون پر بات کررہے ہو فون کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
(۶) مناظرے میں کتاب پیش کی کتاب کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
(۷) دلیل کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
(۸) متکلم ،صدر مناظر ،معاون مناظر کی لغوی و اصطلاحی تعریف کرو۔
ھلم جرا اب آپ بتائیں اگر آپ کی طرح کوئی اور اس لغوی و اصطلاحی کی گردان شروع کردے تو بات کہاں تک پہنچ جائے ؟ اور دل پر ہاتھ رکھ کر انصاف سے جواب دیں کہ کیا آپ ان لایعنی سوالوں کے جواب دینا پسند کریں گے؟
اس حوالے کے متعلق دیگر بھی کئی معروضات پیش کی جاسکتی ہیں سردست اتنا کافی ہے ایاز سیفی صاحب اس سے قبل بھی ہمارے ایک مضمون کے اب تک قرضدار ہیں یہ الگ بات ہے کہ اپنے حواریوں کو خوش کرنے کیلئے کہتے ہیں کہ میں نے ساجد خان کے مضمون کے جواب میں ایک حوالے کے رد میں بیس بیس حوالے نقل کئے ہیں مگر شائد وہ حوالے فی الوقت غار سر من رای میں شیعوں کے بارہویں امام کے پاس نظر ثانی کیلئے بھیج دئے گئے ہیں جو اب تک منظر عام پر نہیں آئے ۔ اب یہ ایک اور قرض ایاز سیفی پر ۔موصوف اور ان کے اعوان و انصار میں جرات ہے تو ہمارے اس مضمون کا جواب لکھے مگر جواب لکھنے سے پہلے ’’لکھنے‘‘ اور ’’جواب‘‘ کی لغوی و اصطلاحی تعریف ،اگر جواب کسی رسالے میں ہے تو ’’رسالے ‘‘ کی لغوی و اصطلاحی تعریف،اگر بذریعہ خط تو ’’خط ‘‘ کی لغوی و اصطلاحی تعریف لکھنا نہ بھولنا۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔