ہفتہ، 13 جولائی، 2019

جسٹس منیر تحقیقانی رپورٹ


جسٹس منیر تحقیقانی رپورٹ
مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی
ماخوذ از دفاع اہل السنۃ والجماعۃ جلد دوم
معترض نے اپنی کتاب کے صفحہ ۱۴۸،۱۴۹،پر جسٹس منیر انکوائری رپورٹ کے حوالے پیش کئے ۔لہذا ہم ان تمام ہی اعتراضات کا ایک ہی اصول جواب دے رہے ہیں ۔
اولا ہماری نظر میں اس رپورٹ کی کوئی
حیثیت نہیں جسٹس منیر ایک مرزائی نواز اور علماء بے زار قسم کا جج تھا۔تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ میں جب ناظم الدین صاحب نے مارشل لاء لگا کر مرزائیوں کو کافر کہنے والے دس ہزار مسلمانوں کا خون سڑکوں پر بہادیاتو اس ظالم حکومت کے جج اور اس کی تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے شرم آنی چاہئے۔
تحقیقاتی رپورٹ کمیشن کا سربراہ جسٹس منیر پاکستان کو سیکولر بنانا چاہتا تھا
ملک کے معروف صحافی محترم اوریا مقبول جان اس رپورٹ کے متعلق لکھتے ہیں:
’’جوڈیشل کمیشن بنانے کا آغاز 1953ء میں ہوا جب یکم فروری کو پنجاب اور خصوصاً لاہور میں قادیانیوں کے خلاف تحریک کا آغاز ہوا جو دیکھتے ہی دیکھتے شہروں، قصبوں اور گلیوں محلوں میں پھیل گئی۔ تشدد اور انتظامی ناکامی نے مارشل لاء کو راہ دکھائی اور بالآخر 19 جون 1953ء کو چیف جسٹس پاکستان جسٹس منیر کی سربراہی میں ایک عدالتی کمیشن بنا جس نے یکم جولائی 1953ء سے 23 جنوری 1954ء تک سماعت کی اور دس اپریل کو اس کی رپورٹ جاری کردی گئی۔ یہ واحد رپورٹ ہے جو انگریزی، اردو اور بنگالی میں شایع ہوئی اور اس قدر کثیر تعداد میں شایع ہوئی کہ آج بھی فٹ پاتھ پر موجود کباڑیوں کے پاس مل جاتی ہے۔ اس رپورٹ اور اس کمیشن کا بظاہر مقصد لوگوں کی توجہ اصل معاملے سے ہٹا کر انہیں اسلام اور تصور پاکستان کے بارے میں مشکوک کرنا تھا۔ مدتوں اس رپورٹ کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جاتا، صرف یہ ثابت کرنے کے لیے کہ پاکستان تو ایک سیکولر بنیادوں پر تیار ہوا ملک تھا اور قائداعظم کا تصور بھی ایسا تھا۔
لوگ کمیشن سے یہ توقع نہیں رکھتے تھے کہ وہ اس سطح پر اپنی رپورٹ میں مبالغہ شامل کریں گے اور دانستہ طور پر مواد کواپنے حق میں بدلیں گے‘‘۔
(کالم جوڈیشنل کمیشن کی کہانی ،ہفت روزہ ضرب مومن)
http://www.zarbemomin.com.pk
/index.php/oriya-maqbool-jaan/675-judicial-
commission-ki-kahani
جبکہ جسٹس منیر پاکستان میں بدنام زمانہ نظریہ ’’نظریہ ضرورت‘‘ کے موجد بھی ہیں۔جسٹس منیر کی دیانت کا اندازہ معروف کالم نگار ڈاکٹر صفدر محمود کے ان الفاظ سے لگالیں:
’’ سیکولر کا لفظ کبھی قائداعظم ؒکے منہ سے نہیں نکلا۔ کچھ روشن خیال قائداعظم ؒپر سیکولرازم کا غلاف چڑھانے کے لئے جسٹس منیر کی کتاب ”جناح ٹوضیا“ کا حوالہ دیتے ہیں۔ ان کی خدمت میں عرض ہے کہ کاؤس جی، پرویز ہود بھائی اور دوسرے سیکولر دانشور اس کتاب سے جن الفاظ کاحوالہ دیتے ہیں وہ الفاظ جسٹس منیر نے قائداعظمؒ کے منہ میں ڈالے ہیں اور برطانوی نژاد سلینہ کریم اپنی کتاب ”سیکولر جناح“ میں تحقیق سے ثابت کرچکی ہے کہ وہ الفاظ قائداعظمؒ کے نہیں ان کی انگریزی گرائمر بھی غلط ہے اور الفاظ بھی جسٹس منیر کے ہیں‘‘
(روزنامہ جنگ ،کالم نظریہ پاکستان کے منکر ۱۹ اپریل ۲۰۱۳)
اسی جسٹس منیر کی بدمذہبی کا ایک اور ثبوت ملاحظہ ہو :
پروفیسر خورشید احمد صاحب لکھتے ہیں:
’’جنرل ایوب خان نے ۱۹۶۲ کے دستو ر میں پاکستان کے نام کے ساتھ ’’اسلامی ‘‘ کا لفظ نکالا اور قرار داد پاکستان میں بھی ترمیم کرڈالی تھی،لیکن انہی کے نظام کے تحت وجود میں آنے والی اسمبلی نے ایوب خان اور ان کے وزیر قانون ریٹایرڈجسٹس منیر کی ساری تگ و دو کے باوجود اسلام کو بحیثیت ’’پاکستان آئیڈیالوجی‘‘کتابِ قانون پر رقم کیا ۔اس کے حق میں خود ذوالفقار علی بھٹو نے زوردارتقریر کی ۔اس بحث کے دوران میں سب سے برا حال جسٹس منیر کا تھا ،جنہوں نے پہلے مخالفت کی اور پھر کہا کہ مجھے کوئی اعتراض نہیں ،اسمبلی یہ اضافہ کرلے ،مگر ان کی بددیانتی کا حال یہ رہا کہ خود یہ سب بھگتنے کے باوجود اپنی کتاب From Jinnah to Ziaمیں وہی رٹ لگائی کہ ’’پاکستان آئیڈیالوجی‘‘ کی اصطلاح جنر ل ضیاء الحق کی اختراع تھی ۔علمی بددیانتی اور حقائق کو مسخ کرنا اس طبقے کا شیوہ ہے ‘‘۔
(ترجمان القرآن ،نصیحت اور انتباہ اپریل ۲۰۱۶)
یہاں محترم حسین خان صاحب کا جسٹس منیر کے حوالے سے ایک کالم کا کچھ حصہ نقل کرنا فائدہ سے خالی نہ ہوگاان کا یہ کالم روزنامہ جسارت میں تین حصوں میں شائع ہوچکا ہے:
’’پاکستان کی اصل آئیڈیالوجی کے خلاف لادینیت کی مہم کا آغاز جسٹس منیر نے کیا تھا۔ اُنہوں نے بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح ہی کو سیکولر یعنی لادین ثابت کرنے کی کوشش کی تھی۔ ان کی کتاب From Jinnah to Zia 1979 میں شائع ہوئی تھی جس میں انہوں نے یہ انکشاف فرمایا تھا قائد اعظم ایک لادین آدمی تھے۔ اس انکشاف کی بنیاد انہوں نے قائد اعظم کے نام سے ایک جھوٹے حوالہ پر رکھی تھی۔ اس کتاب کی اشاعت کے بعد 25 سال تک سارے سیکولر دانشور اور صحافی اس کو سچ سمجھ کر اسی حوالہ کو جسٹس منیر کے نام سے پیش کرتے رہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ سب سے مشہور کتاب رہی۔ سارے لکھاری اسی کتاب کے حوالہ سے اپنے لادینی تصورِ پاکستان کو پیش کرتے رہے۔ 2005ء میں لندن سے ایک کتاب شائع ہوئی جس میں جسٹس منیر کے جھوٹے حوالہ کی پول کھولی گئی، ورنہ 25 سال تک سیکولر دانشور اس جھوٹ کو سچ کے طور پر پیش کرتے رہے۔ لندن سی"Secular Jinnah" کے نام سے 2005ء میں ایک کتاب شائع ہوئی ہے جس میں اس جھوٹ کا پول کھولنے والی مصنفہ سلینہ کریم کا کہنا ہے کہ جسٹس منیر نے قائد اعظم کے حوالہ سے یہ بتایا کہ قائد اعظم نے پاکستان کے بارے میں یہ الفاظ استعمال کیے ہیں کہ یہ ایک ”جدید جمہوری مملکت“ ہوگی جس میں ”حاکمیت کا انحصار عوام کے ہاتھوں میں“ ہوگا۔ مصنفہ کا کہنا ہے کہ اگر واقعی قائد اعظم نے اپنے تصورِ پاکستان کو ان الفاظ میں پیش کیا ہو تو یقیناً اس کا مطلب ایک سیکولر یا لادین پاکستان ہوگا۔ مصنفہ نے اپنی تحقیق سے بتایا کہ قائداعظم نے یہ الفاظ کبھی نہیں استعمال کیے۔ جسٹس منیر نے جو حوالہ دیا ہے اس میں کہیں بھی یہ الفاظ نہیں ہیں، جسٹس منیر نے خود ہی اپنی طرف سے یہ الفاظ گھڑ کر قائداعظم کے نام سے پیش کر کے دنیا کو دھوکا دیا ہے۔ مصنفہ نے اس جھوٹ کو کیسے پکڑا جسے25 سال سے پاکستان کے سارے دانشور سچ سمجھتے چلے آرہے تھے، یہ ایک دلچسپ داستان ہے۔ جسٹس منیر کی کتاب میں قائداعظم کے نام سے یہ الفاظ دیکھ کر مصنفہ پریشان ہوگئیں کہ یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قائداعظم ایسی دوغلی باتیں کریں۔ کیونکہ مصنفہ کے سامنے قائداعظم کا یہ بیان بھی تھا جو انہوں نے ریاست ہائے متحدہ امریکا کے لوگوں کے لیے فروری 1948ء میں ریڈیو پر نشر کیا تھا:”مجھے یقین ہے کہ پاکستان کا دستور جمہوری طرز کا ہوگا، جو اسلام کے بنیادی اُصولوں پر مبنی ہوگا....اسلام اور اس کی اُصول پسندی نے ہمیں جمہوریت کا سبق دیا ہے۔ اسلام نے ہمیں تمام انسانوں کے ساتھ مساوات، انصاف اور ہر ایک کے ساتھ حُسنِ سلوک کا درس دیا ہے۔“ یہ اور اس طرح کے کئی اور بیانات سے واضح ہوتا ہے کہ قائداعظم پاکستان کو ایک لادینی یا سیکولر ریاست نہیں بلکہ اسلامی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ اور اسلامی ریاست میں جمہور نہیں بلکہ حاکمیت کا انحصار اللہ پر یعنی اللہ کی دی ہوئی شریعت پر ہوتا ہے جسے کوئی عوامی یا جمہوری طاقت تبدیل نہیں کرسکتی۔ یہ تصور ”عوام کی حاکمیت والی جدید جمہوری حکومت“ سے مختلف ہے۔ اس لیے مصنفہ کو شبہ ہوا کہ جسٹس منیر کے حوالے میں ضرور کہیں غلطی ہے۔ مصنفہ نے جسٹس منیر کے حوالے کو بار بار خوب غور سے پڑھا تو اُنہیں اس میں انگریزی زبان کی بھی ایک غلطی نظر آئی۔ بظاہر غلطی معمولی تھی کہ جسٹس منیر کو جہاں لفظ will استعمال کرنا تھا، وہاں انہوں نے would استعمال کیا تھا۔ مصنفہ کو یقین تھا کہ قائداعظم انگریزی زبان کی کبھی ایسی غلطی نہیں کرسکتے۔ جسٹس منیر نے قائداعظم کے نام سے جو جھوٹا حوالہ دیا تھا، اس کے الفاظ یہ تھے:
The new state would be a modern democratic state with soveregnity resting in the people and the members of the new nation having equal rights of citizenship regardles of religion, caste or creed - Munir 1980, p.29, Empasis added by Munir جسٹس منیر کی کتاب کا ذکر کئے بغیر ڈان کے کالم نگار اردشیر کاؤس جی نے 2000ء میں اپنے ایک کالم ''Back to Jinnah'' میں بھی قائداعظم کے تصور پاکستان کو لادینیت پر مبنی قرار دینے کی کوشش میں اسی مذکورہ بالا جملے کا حوالہ دیا تھا۔ مصنفہ نے جب ان سے ایک ای میل کے ذریعے پوچھا کہ اس جملے کا اصلی متن کہاں مل سکتا ہی؟ تو انہوں نے گول مول جواب دیا کہ انہوں نے کہیں یہ پڑھا تھا لیکن انہیں یاد نہیں رہا کہ کہاں؟ لیکن کاؤس جی نے مذکورہ بالا جملے کی انگریزی صحیح کر کے اپنے کالم میں اسے پیش کیا تھا۔ انہوں نے جسٹس منیر کی غلط انگریزی کو صحیح کر کے اپنے کالم میں would کی جگہ will کا لفظ استعمال کیا تھا۔ شاید وہ اسی لیے جسٹس منیر کا نام لینے سے پرہیز کررہے تھے کہ انہوں نے جسٹس منیر کے اصلی حوالے میں اپنی طرف سے ایک لفظ کی ہیر پھیر کردی تھی۔ اس سے مصنفہ کی تشویش اور بڑھ گئی کہ جسٹس منیر نے قائداعظم سے منسوب کرکے غلط انگریزی کیوں لکھی ہے۔ جب کاؤس جی بھی اس غلط انگریزی کو اپنے کالم میں استعمال نہیں کررہے ہیں تو پھر بھلا ایسی غلط انگریزی قائداعظم کیسے استعمال کرسکتے ہیں! انہیں یقین ہوگیا کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے۔ مصنفہ نے قائداعظم کو سیکولر قرار دینے والے دوسرے بڑے بڑے دانشوروں کی کتابیں پڑھیں، جن کے نام یہ ہیں: ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی (سابق وزیر اور سابق وائس چانسلر کراچی یونیورسٹی)، عبدالستار غزالی(صحافی)‘ پروفیسر پرویز امیر علی ہود بھائی اور پروفیسر حمید نیر۔ ان سب دانشوروں نے قائداعظم کے تصور ِ پاکستان کو سیکولر قرار دینے کے لیے جسٹس منیر کی کتاب کے مندرجہ بالا حوالے کو اپنی بنیاد بنایا تھا۔ جسٹس منیر کا کہنا تھا کہ 1946ء میں نئی دہلی میں خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے نمائندہ Donn Campbell کوانٹرویو دیتے ہوئے قائداعظم نے یہ الفاظ استعمال کیے تھے۔ مصنفہ نے بہت تلاش کیا لیکن کہیں اس انٹرویو کا اصلی متن نہیں مل سکا۔ یہ انٹرویو ملا تو ایک دوسری تاریخ کا تھا May 21, 1947 کی تاریخ کا۔ Donn Campbellکے انٹرویو کا اصل متن بزمِ اقبال کی طرف سے خورشید احمد خاں یوسفی کی مرتّبہ 4 جلدوں میں سے چوتھی جلد میں ملا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جسٹس منیر نے اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لیے اس انٹرویو کی تاریخ ہی غلط بتا دی تاکہ اگر کبھی کوئی اس کو تلاش کرنے کی کوشش کرے تو اصل متن ہی نہ مل سکے جس سے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک ہو۔ اس پورے متن میں کہیں بھی اس جملے کا کوئی وجود نہیں ہے جسے جسٹس منیر نے اپنی طرف سے گھڑ کر قائداعظم سے منسوب کردیا ہے۔ چوتھی جلد میں یہ انٹرویو آج بھی ہر شخص پڑھ کر دیکھ سکتا ہے کہ اس طرح کی کوئی بات قائداعظم نے کہیں نہیں کہی۔ اس کتاب میں اس انٹرویو کو روزنامہ ڈان May 22, 1947 کے حوالے سے شائع کیا گیا ہے۔ مصنفہ نے قائداعظم کو سیکولر کہنے والے سارے دانشوروں کا مطالعہ کیا ہے۔ ان کے دلائل کا جواب بھی دیا ہے اور یہ چیلنج بھی کیا ہے کہ قائداعظم نے اپنے سارے بیانات، تقاریر اور انٹرویوز میں کہیں بھی کبھی بھی Secular کا لفظ ایک جگہ بھی استعمال نہیں کیا۔ جس شخص نے اپنی زندگی میں کبھی بھی جس بات کا کہیں ذکر ہی نہ کیا ہو اُس کو زبردستی سیکولر ثابت کرنے کی کوشش کرنا سراسر زیادتی نہیں تو اور کیا ہے!‘‘۔
اب ایسے متنازعہ و لادین آدمی جو جھوٹ بولنے میں بھی ذرا نہ شرماتا ہو اس کی مرتب کردہ رپورٹ کو ہمارے خلاف پیش کرنے پر معترض کو کچھ تو حیائ و شرم آنی چاہئے۔
اس بدبخت نے اپنی کتاب میں کھل کر اس بات پر زور دیا کہ اگر تعلیم کو کسی نظریہ (اسلام) کے ساتھ مربوط کردیاجائے تو آپ نے تعلیم کے مقصد کو فوت کردیا اس کی سرحدوں کو محدود کردیا
(From Jinnah to Zia , pg 26)
اس نے کھل کر اس بات کو بیان کیا کہ قائد اعظم کے ذہن میں ایک سیکولر جمہوری ریاست کا خاکہ تھا ۔
The Pattern of Government wich the qauid i azam had in mind was a secular democratic government.
(From Jinnah to Zia , pg 26)
اس آدمی نے اپنی کتاب میں نظام مصطفی کا عنوان باندھ کر باقاعدہ اس پر تنقید کی اسلامی سزاوں کے عنوان کے تحت اس نے کھلے عالم سزائے موت دینے اور ہاتھ کاٹنے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اس سے معاشرے پر برے اثرات پڑتے ہیں ۔
(From Jinnah to Zia , pg121)
غرض اس نے پوری کتاب نظام مصطفی ،نظریہ اسلام ،حدود و قصاص کے قوانین پر تنقید کرنے کیلئے لکھی اور پورا زور اس پر صرف کیا کہ پاکستان کو ایک سیکولر ملک ہونا چاہئے ۔اےسے بدبخت کی بنائی ہوئی رپورٹ پر علمائے دیوبند کو الزام دینا کہاں کا انصاف ہے ؟
حیرت ہے کہ اس متنازعہ رپورٹ میں بریلوی حضرات کو مجلس احرار کی پاکستان مخالف تقاریر تو مل جاتی ہیں مگر اسی رپورٹ میںجو یہ بات کھل کر سامنے آتی ہے کہ مجلس احرار اور اس کے قائدین نے اس دور میں مرزائیوں کی ناک میں دم کررکھا تھا ۔حکومت کی ہر طرح کی دھمکیوں ،لالچ اور دباؤ کے باوجود احرار اپنے موقف سے نہیں ہٹی حتی کہ حکومت کو مارشل لالگانا پڑا ۔
آخر اہل بدعت کو مجلس احرار کی یہ عظمت کیوں نظر نہیں آتی؟ا س رپورٹ کے مرتبین کا تعصب اور علمائے دیوبند کی عظمت کا اندازہ اس حوالے سے لگائیں:
’’واضح تنبیہ بالکل بیکار ہے اور اگر احرار بحیثیت جماعت کچھ مدت تک احمدیوں کو گالیاں دینے سے محترز بھی رہیں تو بخاری (عطاء اللہ شاہ بخاری )ہرگز باز نہ آئے گا کیونکہ اس کا تو اس کے سوا کوئی وصف ہی نہیں کہ وہ احمدیوں کو گالیاں دیتا ہے اور ضدی اور ہٹیلا آدمی ہے ۔۔۔ لہذا بخاری کو جب تک عام جلسوں میں شرکت سے منع نہ کردیا جائے یا اسے کوئی اور شخص نہ بتادیا جائے جسے وہ بر سر عام گالیاں دے کر اپنا شوق پورا کرے وہ ہر گز احمدیوں کے خلاف اپنے معمول کو ترک نہ کرے گا بلکہ اس سے بھی بد تر رویہ اختیار کرے گا‘‘۔
(تحقیقاتی رپورٹ ،ص۶۸)
جہاں ایک طرف اس اقتباس کا ایک ایک حرف تعصب کا منہ بولتا ثبوت ہے اور پوری رپورٹ ہی ا س طرح کی بے تکی باتوں سے بھری پڑی ہے مگر حیرت ہے کہ پورے زو ر کے باوجود ایک گالی کا ثبوت بھی نہ دے سکے وہاں دوسری طرف علمائے دیوبند کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس قدر حکومتی دباو کے باوجود اس کا سپوت قادیانیوں کی مخالفت سے باز نہیں آتا بلکہ عدالتی کاروائی کے بعد تو اس کے رویہ میں مزید سختی آجاتی ہے ۔
رپورٹ کے مرتبین کی دیانت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ انہوں نے حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ پر گالیوں کے الزام کیلئے یہ ثبوت دیا:
’’اگرچہ مر زا غلام احمد جھوٹا تھا لیکن ہم اس کو الزام نہیں دیتے کیونکہ صرف کبھی کبھی زنا کرتا تھا ہمارا اعتراض موجودہ خلیفہ پر ہے جو ہر روز زناکاری کا ارتکاب کرتا ہے ‘‘۔
(تحقیقاتی رپورٹ ،ص۳۵)
حالانکہ جو ناقص عبارت نقل کی یہ حضرت شاہ جی ؒ کے اپنے الفاظ نہ تھے وہ اپنی طرف سے کوئی الزام نہیں لگارہے تھے بلکہ یہ تو مرزائیوں کے لاہور ی گروپ کے اخبار کا اقتباس تھا جسے مرزائی نام نہاد خلیفہ مرزا محمود نے اپنے خطبہ جمعہ میں بیان کیا اور اصل اخبار کا عکس آپ محترم متین خالد صاحب کی لاجواب کتاب ’’ثبوت حاضر ہیں ‘‘ میں ملاحظہ فرماسکتے ہیں۔
اور ذرا اس اقتباس پر بھی غور فرمائیں:
’’احمدیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا مطالبہ سب سے پہلے یکم مئی ۱۹۴۹ کو پنڈ داد خان کے ایک احراری جلسہ میں کیا گیا اس کے بعد سے احرار کے تماجلسہ ہائے عام میں صرف احمدی ہی تقریر کا موضوع بن گئے ‘‘۔ ( تحقیقاتی رپورٹ ،ص۳۵)
اہل بدعت یہ کریڈٹ اپنے لوگوں میں تقسیم کرتے ہیں مگر ان کی محبوب رپورٹ تو کہہ رہی ہے کہ یہ کام سب سے پہلے علمائے دیوبند نے کیا ۔اسی رپورٹ میں اسلام کے ایک قانون ’’ارتداد کی سزا‘‘ پر نکتہ چینی کی گئی ملاحظہ ہو عنوان :’’افغانستان میں احمدیوں کی سنگساری اور الشہاب ‘‘ ایسے دین بیزار ججوں کی رپورٹ پر اعتماد کرتے ہوئے کچھ تو خدا کا خوف کرنا چاہئے ۔
احرار کے ایک جلسہ میں مرزائیوں کے خلاف نعرے لگے :مرزائیت مردہ باد ،سر ظفر اللہ مردہ باد ،مرزا بشیر احمد مردہ باد اب ان نعروں پر رپورٹ کیا تبصرہ کرتی ہے خود ملاحظہ فرمائیں کہ کیا یہ زبان مرزائیت در دہن منیر کا مصداق نہیں؟:
’’اس میں شک نہیں کہ احراری لیڈر اور کارکن ہماری مملکت اسلامی اور اس کے امن و امان کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور احمدیوں کو خلاف نفرت پیدا کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ان کا ظاہری مقصدتو احمدیوں کے خلیفہ اور سر ظفر اللہ خان کو بدنام کرنا ہے لیکن ان کا اندرونی مقصد یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بد نظمی اور لاقانونیت پیدا کریں‘‘۔
(تحقیقاتی رپورٹ ،ص۷۸)
اسی رپورٹ کے صفحہ ۱۱۶ پر یہ بکواس کی گئی کہ :’’اگر ہم احراریوں کو یہ حق دے دیں کہ وہ احمدیوں کو کافر کہیں تو احمدیوں کو بھی یہ حق دینا چاہئے کہ وہ منبر پر اپنے علاوہ سب کو کافر کہیں ‘‘۔
اسی رپورٹ میں رد قادیانیت پر علمائے دیوبندکی خدمات کا ذرا اس اقتباس سے اندازہ لگائیں:
’’پہلا شخص جس نے خواجہ ناظم الدین وزیر اعظم کی توجہ قادیانی تحریک کی سنگینی کی طرف مبذول کروائی وہ قاضی احسان احمد شجاع آبادی تھا قادیانیت کی مخالفت اس شخص کی زندگی کا واحد مقصد معلوم ہوتا ہے اور وہ جہاں کہیں بھی جاتا ہے اپنے ساتھ ایک بڑا چوبی صندوق لے جاتا ہے جس میں احمدیوں کا اور احمدیوں کے خلاف لٹریچر بھرا ہوا ہوتا ہے ‘‘۔
(تحقیقاتی رپورٹ ،ص۱۹۵)
اسی رپورٹ کے ص۳۱۴ پر مسٹر محمد علی جناح صاحب قائد اعظم کی یہ تقریر پیش کی گئی :
’’پاکستان میں کسی مسلک کو کوئی امتیازی حقوق حاصل نہ ہوں گے تمام مسالک کے درمیان فرق و امتیاز نہیں تمام شہریوں کو برابر حقوق حاصل ہوں گے ‘‘
اس کے بعد یہ تاثر دیا کہ اگر ہم احمدیوں (قادیانیوں ) کو کافر قرار دیں تو یہ اس تقریر کی کھلی خلاف ورزی ہوگی ۔کہئے معترض صاحب آپ اس سے متفق ہیں؟
اسی رپورٹ کے صفحہ ۳۳۵ تا ۳۴۰ مختلف علماء سے بشمول مولانا ابو الحسنات قادری بریلوی سے مسلمان کی تعریف پیش کی گئی اور پھر یہ تاثر دیاگیا کہ یہ علماء تو مسلمان کی تعریف پرمتفق نہیں ہوپارہے ہیں تو قادیانیوں کو کس منہ سے کافر دلوارہے ہیں؟۔
اسی رپورٹ کے صفحہ ۳۴۱ تا۳۴۳پر یہ کہا گیا کہ اگر ہم مفتی شفیع صاحب کو مملکت کا سربراہ بنادیں تو وہ تمام بریلویوں کو کافر و مرتد قرار دیکر قتل کردے گا اسی طرح ابو الحسنات کو سربراہ بنادیں تو وہ تمام دیوبندیوں کو کافر و مرتد قرار دے دیگا ،یہی حال سنی شیعہ کا ہے اور یوں مسئلہ ارتداد اور مرزائیت کو متنازعہ بنانے کی بھرپور مکارانہ کوشش کی گئی اس جج کی طرف سے ۔
ذرا اس زبان کو بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’احرار کا ماضی بلاشبہ نہایت مکروہ تھا لیکن انہوں نے نہایت عیاری سے کام لے کر اپنے پرانے اسلحہ خانہ سے ایک مذہبی قضیہ منتخب کیا اور علماء کی ایک بڑی جماعت نے ان کے ساتھ اتفاق کرلیا ‘‘۔ ( تحقیقاتی رپورٹ ،ص۴۵۰)
اس رپورٹ کے مرتبین کا تعصب اس عبارت سے بھی خوب واضح ہورہا ہے :
’’اس اثنا میں احراریوں نے ایک گمنام کتابچہ جو اصلا پاکستان کے لاٹ پادری مولانا شبیر احمد عثمانی کا لکھا ہوا تھا ‘‘۔(تحقیقاتی رپورٹ ،ص۴۷۴)
استغفر اللہ ! یہ ہے زبان جج صاحبان کی اور یہ ہے ان کی تہذیب ۔
اسی رپورٹ کے صفحہ ۵۹۰ ،۵۹۱ پر بریلوی مسجد وزیر خان اور بریلوی مولانا عبد الستار خان نیازی کو فسادیوں کا گڑھ اور سربراہ کہا گیا۔اور مسجد کو سیل کرکے نیازی صاحب کو گرفتار نہ کرنے پر برہمی کا اظہار کیا گیا ،دوسری طرف نیازی صاحب ہمیں یہ کہتے ہوئے نظر آتے ہیں:
’’میں نے مسجد وزیر خان کو مرکز بنایا اور وہاں سے تحریک کو آگے بڑھایا اور تحریک پر امن چلتی رہی میں نے لوگوں کو ہدایت کی کہ مثبت نعرے لگائیں اور تصادم سے بچیں جبکہ حکومت چاہتی تھی کہ تصادم ہو اور میں نے تصادم کے سب راستے بند کردئے ‘‘۔
(تحریک تحفظ ختم نبوت اور مجاہد تحریک ختم نبوت مولانا عبد الستار خان نیازی ،ص۱۱، ۵۳ ،مرکزی شعبہ نشر واشاعت جمعیت علماء پاکستان طبع اول)
تحقیقاتی رپورٹ کہتی ہے کہ مولانا عبد الستار خان نیازی فسادی تھے اور ان کی مسجد فسادیوں کا مرکز تھی اور نیازی صاحب خود کہتے ہیں کہ نہ میری مسجد فسادیوں کا مرکز تھی نہ میں، فساد حکومت نے کروایا ، اب معتر ض صاحب جواب دیں تحقیقاتی رپورٹ کی بات جھوٹ پر مبنی ہے یا آپ کے نیازی کی ؟
ذرا اس رپورٹ کی یہ قادیانیت نوازی بھی ملاحظہ ہو :
’’۔۔۔لہٰذا قادیان کی آخری شمولیت کے متعلق اندیشے محسوس کئے جانے لگے اور چونکہ احمدی اس کو ہندوستان میں شامل کرنے کا مطالبہ نہ کر سکتے تھے۔ لہٰذا ان کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ باقی نہ رہا تھا کہ اس کو پاکستان میں شامل کرانے کے لئے جدوجہد کریں۔ احمدیوں کے خلاف معاندانہ اور بے بنیاد الزامات لگائے گئے ہیں کہ باؤنڈری کمیشن کے فیصلے میں ضلع گورداسپور اس لئے ہندوستان میں شامل کر دیا گیا کہ احمدیوں نے ایک خاص رویہ اختیار کیا اور چوہدری ظفر اللہ خان نے جنہیں قائد اعظم نے اس کمیشن کے سامنے مسلم لیگ کا کیس پیش کرنے پر مامور کیا تھا خاص قسم کے دلائل پیش گئے۔ لیکن عدالت ہذا کا صدر جو اس کمیشن کا ممبر تھا۔ اس بہادرانہ جدوجہد پر تشکر و امتنان کا اظہار کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے جو چوہدری ظفر اللہ خان نے گورداسپور کے معاملے میں کی تھی۔ یہ حقیقت باؤنڈری کمیشن کے کاغذات سے ظاہر و باہر ہے اور جس شخص کو اس مسئلے سے دلچسپی ہو ۔ وہ شوق سے اس ریکارڈ کا معائنہ کر سکتا ہے ۔ چوہدری ظفر اللہ خان نے مسلمانوں کی نہایت بے غرضانہ خدمات انجام دیں۔ ان کے باوجود بعض جماعتوں نے عدالت تحقیقات میں ان کا ذکر جس انداز میں کیا ہے وہ شرمناک ناشکرے پن کا ثبوت ہے۔‘‘
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت برائے تحقیقات فسادات پنجاب1953ء۔ صفحہ 209)
جسٹس منیر کی انہی کرم نوازیوں کو دیکھتے ہوئے قادیانی قاضی جلال الدین شمس اس رپورٹ کی تعریف میں یوں رطب اللسان ہیں:
’’فاضل ججوں نے کار موفضہ کی تکمیل کیلئے نوماہ تک جس لگاتار کوشش و مصروفیت سے کام کیا اور جس دلی توجہ و محنت سے اسے انجام دیا وہ ہر پاکستانی کیلئے لائق صد شکریہ ہے۔انہوںنے تحقیقات کے متعلق ایک ضخیم رپورٹ تیار کرکے پاکستان کی ایک ناقابل فراموش خدمت سرانجام دی ہے۔اگر اس رپورٹ کی حسب منشاءپاکستان کی گورنمنٹیں خواہ صوبائی ہوں یا مرکزی ،قانو ن و انتظام کے مسائل کوسیاست ،خود غرضی اور پر دلعزیزی کی خواہش سے مبرا رکھیں اور عدل و انصاف کی میزان کو ہر حال میں قائم رکھیں تو بفضلہ تعالی پاکستان میںاس قسم کے فسادات کا کریہہ منظر پھر کبھی دیکھنے میں نہیں آسکتا ‘‘۔ ( تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ پر ایک نظر ،ص۳)
اس کمیشن کی جانب داری کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جسٹس منیر کی جرح کے جواب میں حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمہ اللہ کا تاریخی بیان اس رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا اسی طرح مجلس احرار کی طرف سے عدالت میں داخل کئے گئے جواب کو بھی رپورٹ کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ اس جواب کی اشاعت پر ہی پابندی لگادی ۔
محترم شورش کاشمیری ؒ نے ’’سید عطاء اللہ شاہ بخاری سوانح و افکار ‘‘ کے صفحہ ۱۶۲ تا ۱۸۱ اس رپورٹ کی خوب خبر لی ہے ۔تفصیل کیلئے تو آپ کتاب کی طرف مراجعت کریں ہم یہاں ایک دو اقتباس نقل کردیتے ہیں:
’’بہرحال رپورٹ کا غالب حصہ جانبدارآلائشوں پر مشتمل ہے ۔اور کسی لحاظ سے بھی اس رپورٹ کو کسی جج کا تجزیہ نہیں کہا جاسکتا ۔اگرچہ اس کے مصنف جج تھے ۔ڈاکٹر جاوید اقبال خلف الرشید علامہ اقبال نے اپنی کتاب ایک کتاب کے دیباچہ میں لکھا ہے کہ یہ ایک ایسی دستاویز ہے جو اسلام کے خلاف خود مسلمان ججوں کے قلم سے نکلی ہے اس کی اشاعت روک لی جائے بلکہ اس کتاب کو ضبط ہونا چاہئے ،دنیائے اسلام میں آج تک نفس اسلام کے خلاف ایسی دستاویز شائع نہیں ہوئی ۔ یہ سب سے بڑی تحریر ہے جس میں دو مسلمان ججوں کے ہاتھ سے مسلمانوں کی رسوائی کا سامان کیا گیا ہے۔امتداد زمانہ کے ساتھ یہ رپورٹ مرچکی ہے ۔جسٹس کیانی نے راقم سے کہا تھا کہ وہ اس کتاب کی اشاعت سے پریشان و پشیمان ہیں اور جو حصہ اس میں اسلام کے خلاف ہے وہ جسٹس منیر کے قلم سے ہے ‘‘۔
(عطاء اللہ شاہ بخاری حیات و کارنامے ،ص۱۶۳)
تمام رپورٹ میں ضروری شہادت کا مدار زیادہ تر سی آئی ڈی کی رپورٹوں پر ہے اور ان کے بارے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سی آئی ڈی سے زیادہ ناکارہ عنصر ملک بھر میں شاید ہی موجود ہو ۔ ان رپورٹوں کا لب و لہجہ غایت درجہ معاندانہ بلکہ بڑی حد تک احمقانہ تھا۔بسا اوقات خیال ہوتا ہے کہ سی آئی ڈی کے حکام قادیانی امت کے ساتھ مل کر اپنی رپورٹیں لکھتے لکھاتے اور تجزیہ و تبصرہ کرتے تھے ‘‘۔
(عطاء اللہ شاہ بخاری حیات و کارنامے ،ص۱۶۵)
اس کے علاوہ مولانا احمد رضا مکیش بریلوی نے ’’محاسبہ ‘‘ جبکہ جماعت اسلامی کے جانب سے ’’تبصرہ‘‘ کے نام سے اس رپورٹ پر تجزیہ شایع لیا گیا مولانا مکیش صاحب کا محاسبہ تو اس وقت ہمارے سامنے نہیں البتہ جماعت اسلامی کا تبصرہ موجود ہے جس میں کھل کر اس رپورٹ کے مندرجات سے اختلاف کیا گیا ہے۔
خود حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری اس کمیشن اور جسٹس منیر کے متعلق اپنے خدشات کا اظہار یوں کرچکے تھے :
’’شاہ جی اس کمیٹی سے تعاون کے حق میں نہ تھے ۔۔۔شاہ جی کو اصرار تھا کہ تحقیقاتی کمیٹی جسٹس منیر کی وجہ سے کبھی صحیح نتائج مرتب نہ کرسکے گی میں ذاتی طور پر منیر کو جانتا ہوں وہ احرار کا دشمن اور احمدیوں کا دوست ہے اسکی ضرورتیں احمدی بکمال و تمام پوری کرسکتے ہیں بہتر ہے کہ ہم اس فتنہ کا ساتھ نہ دیں ۔۔۔منیر دنیا دار انسان ہے وہ آخرت کو نہیں جانتا اور نہ اس کو توحید ورسالت سے آگاہی و ارادت ہے ‘‘۔
(سید عطاء اللہ شاہ بخاری ،ص۲۴۷،۲۴۸و مولانا محمد علی جالندھری سوانح و افکار ،ص۶۵)
جس کے بارے میں خود شاہ جی ؒ ایسے نظریات رکھتے ہوں اسی آدمی کے اقوال کو شاہ جی ؒ کے خلاف استعمال کرنا آخر کونسی منطق ہے ؟
بہرحال اس رپورٹ میں دیگر بھی کافی متنازعہ باتیں ہیں مگر ہم نے دیوبندی بریلوی اختلاف کو سامنے رکھ کر اس کا مختصرا تجزیہ پیش کیا ۔چونکہ تحریک ختم نبوت ۱۹۵۳ مجلس احرار اسلام اور اس کے امیر حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ نے شروع کی تھی اور اس تحریک نے مرزائیوں اور مرزائی نواز حکومت کی ناک میں دم کررکھا تھا ،حکومت نے ہر طرح کی لالچ ،دھمکی دی مگر علمائے دیوبند اپنے مشن سے ہٹنے والے نہ تھے ان کاایک ہی مطالبہ تھا کہ وزیر خارجہ ظفر اللہ مرزائی کو معزول کیا جائے اور قادیانیوں کو کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے ،مرزائیوں کو کافرقرار دیا جائے ۔
اس کے جواب میں حکومت نے مرزائیوں کے دباو میں آکر مارشل لالگادیا اور ملک میں مسلمانوں کے خون کی ہولی کھیلنا شروع کردی۔رپورٹ کی بنیاد اس وقت کی سی آئ ڈی کی خبروں پر مبنی ہے جس کی رگ رگ میں احرار دشمنی رچی بسی ہوئی تھی،وہ سی آئی ڈی جنہوں نے مرزائیوں کو خوش کرنے کیلئے دس ہزار مسلمانوں کا خون بہایا ۔لہذا اس کے تمام مندرجات پر ہر گز یقین نہیں کیا جاسکتا ۔حکومت نے اپنے چہرے پر سے اس سیاہ داغ کو دھونےکیلئے جسٹس منیر کی سربراہی میں ایک کمیشن بٹھایا ،اس کمیشن نے اول تو تحریک کے قائدین کو پاکستان دشمن قرار د دے کر ان کے مطالبے کا رخ موڑ کر ان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی ،اسے فسادی جماعت کہا اور تمام تر ملبہ احراریوں پر ڈال کر مرزائیوں اور حکومت وقت کو معصوم ثابت کرنے کی کوشش کی ۔شاید شاہ کی اسی وفاداری کے صلہ میں جسٹس منیر کو بعد میں پاکستان کا چیف جسٹس بنادیا گیا۔
یہاں ایک سب سے دلچسپ بات بھی آپ کو بتاتے چلیں کہ جب ہم نے پہلی دفعہ اس رپورٹ کا نام مختلف بریلوی کتب میں پڑھا اور اس کی تلاش میں نکلے تو ہمیں مرزائیوں کے لاہور ی گروپ کے پاس سے یہ رپورٹ دستیاب ہوئی ۔اب عقلمند آدمی خود اندازہ لگالے کہ یہ رپورٹ کن کے کہنے پر تیار کی گئی ۔آخر میں ہم اسی رپورٹ سے دو مندرجات پیش کررہے ہیں ۔اگر بریلوی حضرات اس رپورٹ کو درست تسلیم کرتے ہیں تو تحریرا و تقریر ان دو حوالہ جات کو بھی قبول کرنے کا اعلان کرے ۔
مولوی ابو الحسنات قادری بریلوی کا اقرار کہ اگر ہندوستان میں مسلمانوں کے ساتھ شودروں والاسلوک کیا جائے تو انہیں کوئی اعتراض نہیں
’’مولانا ابو الحسنات سید محمد احمد قادری صدر جمعیۃ العلماء پاکستان
سوال : کیا آپ ہندؤوں کا جو ہندوستان میں اکثریت رکھتے ہیں یہ حق تسلیم کریں گے کہ وہ اپنے ہاں ہندو دھرم کے ماتحت مملکت قائم کرلیں ؟
جواب : جی ہاں
سوال : اگر اس نظام حکومت میں منو شاستر کے تحت مسلمانوں سے ملیچھوں یا شودروں (انتہائی نچلی ذات کے ہندو جنہیں انتہائی ذلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے ،ساجد)کاسلوک کیا جائے تو آپ کو کوئی اعتراض ہوگا ؟
جواب : جی نہیں‘‘۔
(رپورٹ تحقیقاتی عدالت المعروف منیر انکوائری رپورٹ ،نیاز مانہ پبلکیشنز لاہور ،ص۳۵۴)
اس حوالے میں مولانا ابو الحسنات نے جہاں ایک طر ف معاذاللہ مسلمانوں کو شودر بنائے جانے پر رضامندی کا اظہارکرکے اپنی بے حسی کا مظاہرہ کیا وہاں دوسری طرف ہندؤوں کو ہندوستان میں اپنی مملکت بنانے کی اجازت دینے پر کفر کا بھی ارتکاب کیا کیونکہ نواب احمد رضاخان صاحب فتوی دیتے ہیں:
’’گورنمنٹ تنہا تمہیں ملک دیگی کہ اس میں اسلامی قوانین جاری کرو یہ تو ممکن نہیں تنہاانکو ملے پھر شرکت رکھو گے یا ملک بانٹ لوگے ک ایک حصہ میں تم اسلامی احکام جاری کرو ایک میں وہ تو ان لاکھوں مسلمانوں پر اپنی شریعت مطہرہ کے خلاف احکام تم نے اپنی کوشش سے جاری کرائے اور اس کے تم ذمہ دار ہوئے اور لم یحکم بما انزل اللہ فاولٔک ھم الکافرون ھم الظلمون ہم الفاسقون کے تمغے پائیے ‘‘۔ ( فتاوی رضویہ قدیم ،ج۱۰،ص۱۵۶)
باقی موصوف نے تحقیقاتی رپورٹ اور نیشنلسٹ علماء کے حوالے سے جو کہا ہے کہ حضرت شاہ جی ؒ پاکستان کو بازاری عورت سمجھتے یا پاکستان کی پا بھی کوئی نہیں بناسکتا پاکستان خاکستان ہے ۔ ہمارے نزدیک ان سب میںکوئی سچائی نہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ حضرت شاہ ؒ اوائل میں پاکستان بننے کے مخالف تھے لیکن یہ مخالفت بھی کیسی تھی خود انہی کی زبانی ملاحظہ ہو :
’’اختلاف تھا تو اتنا کہ ہم کہتے تھے کہ آزادی مل جائیے ذرا سنبھل لیں اور اس کے دس سال بعد مرکز سے بھی علیحدہ ہوجائیں گے،مگر لیگ کہتی تھی کہ نہیں مرکز کے ساتھ ہمارا کوئی الحاق نہیں رہ سکتا ۔تقسیم ملک کے ہم بھی قائل تھے کرپس فارمولااب بھی موجود ہے ۔اس میں تقسیم ملک ہی کا قصہ درج ہے۔ہم پورے چھ صوبوں پر مصر تھے لیکن کانگریس نے تقسیم در تقسیم کو قبول کیا او ر گائے کا قیمہ بناکر اس کے کوفتے بنادئے۔بس اب ہمارا مسلم لیگ سے کوئی اختلاف نہیں ،نہ پہلے ہمارے اور ان کے درمیان مذہبی اختلاف تھا نہ خدا کا نہ رسول کا ،نہ ہم ولی ہیں نہ لیگ والے قطب ،اگر لیگ والے گناہ گار ہیں تو ہم کون سے ولی اللہ ہیں ۔ہمارا اور ان کا اختلاف صرف مرکز سے علیحدگی پر تھا اور داغ کے الفاظ میں یوں کہنا چاہئے
مدت سے میری ان کی قیامت کی ہے تکرار
بات اتنی ہے وہ کل کہتے ہیں میں آج
ہمارا اور لیگ کا اختلاف کوئی کفر و ایمان کا اختلاف نہ تھا ‘‘َ
(حیات امیر شریعت ،ص۴۰۳)
شاہ صاحب کا اختلاف بس یہی تھا جیسا کہ وہ عرض کرتے ہیں کہ :
’’مسلم لیگ سے ہمارا اختلاف صرف یہ تھا کہ ملک کا نقشہ کس طرح بنے یہ نہیں کہ ملک نہ بنے بلکہ یہ کہ اس کا نقشہ کیونکر ہو ‘ یہ کوئی بنیادی اختلاف نہیں تھا ‘‘ ۔
(ایضاً ۳۲۰)
اور پاکستان بننے کے بعد حضرت بخاری ؒ ارشاد فرماتے ہیں کہ :
’’ میری آخری رائے اب یہی ہے کہ ہر مسلمان کو پاکستان کی فلاح وبہبود کی راہیں سوچنی چاہیے اور اس کیلئے عملی اقدام اٹھانا چاہئے۔ مجلس احرار کو ہر نیک کام میں حکومت پاکستان کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے ‘‘۔
(حیات امیر شریعت ص ۳۰۹ )

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔