ہفتہ، 13 جولائی، 2019

رضاخانیوں کے مسلم لیگ پر کفر کے فتوے اور تحریک پاکستان کی مخالفت

رضاخانیوں کے مسلم لیگ پر کفر کے فتوے اور تحریک پاکستان کی مخالفت
تحریر : ساجد خان نقشبندی
(ماخوذ دفاع اہل السنہ والجماعۃ جلد دوم )
قارئین کرام! آج بریلوی فرقہ ہر جگہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی آزادی میں نمایاں کردار ادا کرنے کے نعرے لگا رہا ہے اور نام نہا د ’’استحکام پاکستان‘‘ کانفرنسیں منعقد کرنے میں مصروف ہے۔جس میں دن رات علمائے اہلسنت دیوبند پر یہ الزامات لگائے جارہے ہیں کہ یہ
انگریز کے ایجنٹ ہیں ۔۔۔یہ پاکستان کے دشمن ہیں۔۔پاکستان کے مخالف ہیں۔۔یہ دہشت گرد ہیں۔۔خاص کر اگست کا مہینہ آتے ہیں اس الزام تراشی میں خطرناک حد تک اضافہ ہوجاتا ہے ۔۔۔۔تاریخ سے ناواقف عام آدمی ان کے دھوکے میں آجاتا ہے اوریہ سمجھتا ہے کہ شاید علمائے دیوبند کا سب سے بڑا گناہ پاکستان کی مخالفت اور علما بریلویہ کا سب سے بڑا کمال تحریک پاکستان کیلئے بھرپور جدوجہد ہے ۔۔۔۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی مخالف اور مسلم لیگ کی مخالفت میں کانگریس سے بھی بڑھ کر رضاخانیوں نے حصہ لیا۔۔اور باقاعدہ مسلم لیگ اور قائد اعظم کے خلاف کتابیں لکھ کر ان پر کفر کے فتوے لگائے۔اور آج یہ فتنہ محض انگریز کے ایماء پر پاکستان کی سا لمیت میں ہمیشہ بڑھ چڑھ کر حصہ لینے والوں پر الزامات کی بارشیں کررہا ہے ۔اسی سیادہ دور کے کچھ رضاخانی کارنا موں کو فقیر آپ کے سامنے پیش کر رہا ہے ۔جس میں وہ تمام حوالے آئیں گے جن میں رضاخانیوں نے مسلم لیگ پر،قائد اعظم پر کفر کے فتوے لگائے۔
نواب احمد رضاخان کے پیر و مرشد کی طرف سے مسلم لیگ پر فتوے
قارئین کرام مولوی احمد رضاخان کے مرشد گھرانے اور درگاہ مارہرہ کی اہم شخصیت اولاد رسول محمد میاں مارہری برکاتی نے ۱۹۳۹ ء میں ایک کتاب لکھی جو ’’مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری‘‘ کے نام سے شائع ہوئی۔نام سے ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کتاب میں مسلم لیگ کی کیسی کیسی بخیہ دری کی ہوگی۔یہ کتاب اصل میں چند سوالات کے جوابات تھے۔جوکے آگے آرہے ہیں۔اس کتاب اور اس کے مصنف کے مستند ہونے کیلئے اتنی ہی بات کافی ہے کہ یہی خاندان مولوی احمد رضاخان کے پیر و مرشد کا گھرانہ ہے۔اور بریلویوں کا مرکز ہے۔اس رسالہ میں پہلا سوال قائد اعظم کے بارے میں ہوتا ہے کہ:
کہ مسٹر محمد علی جناح کس مذہب کے ہیں اور ان کو قائد اعظم وغیرہ کے القابات سے یاد کرنا کیسا ہے۔(محصلہ ،ص۲)۔
اس سوال کے جواب میں کیا فرمایا جاتا ہے ملاحظہ ہو:
قائداعظم بد دین و بد مذہب ہے:
محمد علی جناح مذہبا رافضی ہے کسی بھی بد دین بد مذہب کو قائداعظم و سیدنا وغیرہ وغیرہ القاب و مدح تعظیم سے خطاب کرنا سخت شنیع و حرام ہے۔{مسلم لیگ کی زریں بخیہ دری،ص۳}
قائد اعظم محمد علی جناح جہنمیوں کا کتا ہے:
قائد اعظم کو بد مذہب اور بدعتی ثابت کرنے کے بعد اہل بدعت کے خلاف چار حدیثیں دے کر لکھتے ہیں کہ حدیث شریف میں ہے کہ اہل البدع کلاب اہل النار یعنی بد مذہب سارے جہاں سے بد تر ہیں جانوروں سے بد تر ہیں۔بد مذہب جہنمیوں کے کتے ہیں ۔۔کیا کوئی مسلمان اور سچا ،ایمان والا کسی کتے اور وہ بھی دو زخیوں کے کتے کو اپنا قائد اعظم ،اپنا سب سے بڑا پیشوا اور سردار بنانا پسند کرے گا۔۔؟؟{ایضا ،ص۴}۔
پاکستان کے چیمپئین بننے والے جمعیت علمائے پاکستان اور سنی تحریک کے رہنما اور نام نہاد رضاخانی مناظرین و معترضین دیکھیں کہ ان ک اکابر کس طر ح قائداعظم کو کتا بلکہ جہنم کا کتا ثابت کررہے ہیں۔معاذاللہ ۔۔
افسوس!!! ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ حکومت پاکستان ان دین و وطن دشمنوں کے خلاف کاروائی کرتی مگر آج پاکستان کے استحکام کیلئے ان کے پاس جارہی ہے۔۔افسوس ۔افسوس۔۔۔
پاکستان نام نہاد اور سراپا فسادی اسلامی حکومت ہے:
اسی رسالے میں مسلم لیگ کے چند کارنامے گنوائے گئے تھے اور ان پر رضاخانیوںسے تبصرے کا کہا گیا تھا کہ کیا ان کارناموں کی وجہ سے جو مسلم لیگ نے سرانجام دئے ہیںہم ان کے ساتھ ایک الگ اسلامی حکومت کے بنانے میں تعاون کرسکتے ہیں۔۔تو اس کے جواب میں مولوی احمد رضاخان کا مرشد گھرانہ کیا کہتا ہے ملاحظ ہو:
اللہ عزو جل ایسی سراپا فساد نام نہاد اسلامی حکومت سے بچے اسلام او ر مسلمانوں کو پناہ میں رکھے آمین۔{ایضا ،ص۱۳،سطر۴}۔
مسلم لیگ فتنہ و فساد کی جڑ اور مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش میں مصروف ہے:
بیشک مسلم لیگ ہی ندوہ مخذولہ کا فتنہ ہے ،جو مختلف زمانوں میں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتا رہا ،کبھی خدام کعبہ،کبھی مسلم ایجوکیشنل کاؤنسل،کبھی خلافت کمیٹی،کبھی خدام الحرمین،کبھی سیرت کمیٹی ،اور حال ہی میں مسلم لیگ کا لبادہ اوڑھ کر اٹھا ہے ۔درحقیقت ان سب کا مقصد مسلمانوں کو گمراہ کرنا ،اور اللہ اور اس کے رسول کے دشمنوں دیوبندیوں مرتدوں ،نیچری ،ملحدوں رافضی بے دینوں وغیرھم کے ساتھ اتحاد منانا،سنی مسلمانوں کا ان کے ساتھ گھال میل کراکے ان کے عقائد خراب کرنا اور جہنم کی طرف لے جانا ہے۔سنی مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ فورا کانگریس اور لیگ دونوں سے الگ ہوجائیں۔{ایضا ،ص۳۰}
قارئین کرام یہ عبارت مسلم لیگ اور پاکستان کی مخالفت میں کس قدر واضح ہے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت نہیں ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوگیا کہ دیوبند اس زمانے میں پوری طرح مسلم لیگ کے ساتھ تھے یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ بیچاری کے کفریات میں اس کو بھی گنا گیا۔۔کاش کہ آج کے چند نام نہاد رضاخانی سیاسی جماعتیں تاریخ کو مسخ کرنے کیلئے میڈیا پر نہ آتی تو ان کو رسوائی کے یہ دن اور تاریخ کا یہ کڑوا گھونٹ نہ پینا پڑتا۔۔لیکن یہ تو ابھی صرف ابتداء ہے آگے آگے دیکھئے ۔۔رضاخانیوں کو فقیر کا صرف ایک ہی پیغام ہے کہ
وہ دنیا تھی جہاںتم بند کرتے تھے زباں میری
یہ محشر ہے یہاں سننا پڑے گی داستاں میری
قارئین کرام اس وقت میرے سامنے ’’مسلم لیگ‘‘ کے خلاف بریلویوں کا لکھا ہوا ایک رسالہ ہے ۔اس رسالے میں مسلم لیگ کے متعلق کل ’’دس سوالات‘‘ کئے گئے ہیں اور ان کے جوابات تین چوٹی کے بریلوی اکابر ’’شاہ آل رسول‘‘،مولوی آل مصطفی ‘‘ اور مظہر اعلحضرت ’’حشمت علی رضوی ‘‘ نے دئے ہیں۔رسالے کا نام ’’الجوابات السنیہ علی زھاء السوالات لیگیہ ‘‘ ہے رسالے کے ’’ٹائیٹل پیج پر یہ عبارت واضح طور پر لکھی گئی ہے :
مسلم لیگ کی کفر نوازیوں اور کانگریس کی ستم شعاریوں سے بچانے والا ‘‘
اس رسالے میں پہلے ہی سوال کے جواب میں واضح کیا گیا ہے کہ ’’لیگ کے دستور اساسی کے تحت اس کے جو اغراض و مقاصد متعین کئے گئے ہیں یعنی ملک کی آزادی اور وفاقی جمہوری ریاستوں کا قیام ،اقلیتوں کے حقوق کی حفاظت ،مسلمانو ں کے سیاسی اور مذہبی حقوق کی ترقی و حفاظت یہاں کے مسلمانوں اور دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے ساتھ رشتہ اخوت بڑھانا تو یہ سب مقاصد صریح طور پر محرمات شرعیہ پر مشتمل اور حرام قطعی ہیں ۔اور کفر و ضلال کی طرف لیجانے والے ہیں ۔لہذا ان کے ہوتے ہوئے لیگ کی شرکت و رکنیت سخت حرام ہے ۔
اس کی تفصیل دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :
اولا جمہوری سلطنت کا قیام جس میں کفار مشرکین و مرتدین پوری طرح آزاد و خود سر ہوں شرعا قطعا حرام ہے۔دوم ایسی جمہوری حکومت جس کی کونسل میں کفار و مشرکین اور مرتدین بھی ممبر ہوں یہ بھی حرام ہے۔سوم ایسی جمہوریت جس میں سب غیر مسلمین کے مذہبی حقوق و مفاد کی حفاظت کیجائے اور ہر ایک کو مذہبی تبلیغ و اشاعت کی اجازت ہو یہ کھلا شرک ہے ۔چہارم اس میں مسلمانوں کے سب فرقے جو اپنے کو مسلمان کہلاتے ہیں اور سرکاری مردم شماری میں ان کو مسلمان شمار کیا جاتا ہے وہ سب مسلمان گنے جائیں گے۔اسی طرح وہابیہ ،دیوبند و غیر مقلدین ،مرزائیہ،قادیانیہ،لاہوریہ،نیچریہ،چکڑالویہ،خکسار،بابیہ،بہائیہ،روافض وغیرھم جملہ کفارو مرتدین و ملحدین سب لیگ کے نزدیک مسلمان ہیں ۔
العیاذ باللہ۔۔۔یہ بھی کھلا ہو ا کفر و ارتداد ہوگا۔{صفحہ،۳،۴}
اسی طرح اس رسالے میں لیگ کے مقاصد و اساسیت گنواکر ان پر نکتہ چینی کرتے ہوئے آخر میں لکھتے ہیں کہ :
لہٰذا علماء کرام کا فرض ہے کہ پوری قوت کے ساتھ عوام کو اس کی شرکت و رکنیت سے باز رکھنے کی کوشش کریں اور جو اس فرض شرعی کو بقدر قدرت و حسب استطاعت بجا نہ لائے گا فرمان الٰہی کا مصداق ہوگا ۔۔الخ {صفحہ ۔۱۳}
اگر مسلم لیگ والے بریلویوں سے رہنمائی لیں تو سب کچھ جائز ہوگا:
اس سے چند سطور بعد ہی اپنے اصل مقصد پر آجاتے ہیں کہ لیگ اسی وقت جائز جماعت ہوگی جب کہ وہ صرف بریلویوں کی رہنمائی میں چلے ۔ الفاظ دیکھئے:
’’اگرلیگ کو اللہ توفیق بخشے کہ وہ احکام دینیہ میں حضرات علماء اہلسنت سے رہنمائی چاہے تو اس میں شرکت و رکنیت کے بغیر بھی اس کی شرعی خرابیوں اور شریعت کے حکموں پر مطلع کیا جاسکتا ہے ،جیسے ندوہ اور خلافت کمیٹی کی رہنمائی فرمالی گئی ۔لیکن اس کی رکنیت صرف اس وقت جائز ہوگی جبکہ وہ علماء اہلسنت کی رہنمائی میں اپنے آپ کو نقائص شرعیہ سے پاک کرے‘‘۔
{صفحہ ،۱۳،سطر ۱۳ سے ۱۷}
اس عبارت میں صاف طور پر واضح کیا گیا ہے کہ بریلوی اپنے سواتمام دنیا کو کافر مانتی ہے اس لئے لیگ کی رکنیت بھی حرام ہے جب تک کہ وہ دنیا کی واحد مسلمان قوم یعنی بریلوی حضرات کو اپنے ساتھ نہ ملالے ۔بریلویوں کے کفر یہ فتووں کے افسانے پڑھنے کیلئے مطالعہ کریں
’’رضاخانیوں کی کفر سازیاں‘‘ ۔
علماء کرام کو لیگ کا کھلا رد کرنا چاہئے
صفحہ ۱۵ پر سوال ہشتم ہے کہ
’’لیگ کے ساتھ کیا طرز عمل ہونا چاہئے ؟ جواب ہے کہ
علماء کرام پر فرض ہے کہ لیگ پر رد و طرد فرمائیں۔اس کے فریبوں ،چالوں ،بطالات اور ضلالات کو عوام اہل اسلام کے سامنے واضح کرکے ان پر اللہ و رسول کے احکام پیش کریں اور ناواقف لوگوں کو لیگ سے پرہیز اور بیداری کی ہدایت کریں۔
اسی سلسلہ میں تھوڑا آگے صفحہ ۱۶ کے آخرمیں الفاظ ہیں کہ
’’لیگ کے مخالف شرع کاموں کا رد لیگ کا نام لے کر واضح ہو ورنہ گول مول الفاظ میں بد مذہبوں بے دینوں کا رد کرنے سے عوام لیگ کا رد نہیں سمجھیں گے خصوصا جبکہ لیگ کے حامی ان کو یہ سمجھاتے پھرتے ہیں کہ لیگ میں آکر بد مذہب بد مذہب نہیں رہتے بلکہ مسلمانو ں کے معظم ،مکرم شہید ملت و قائد اعظم وغیرہ وغیرہ ہوجاتے ہیں ۔
خط کشیدہ الفاظ پر غور فرمائیں کہ ’’محمد علی جناح ‘‘ کو کیا کیا کہہ دیا گیا ہے ۔اسی سے آگے صفحہ ۱۷ پر ہے کہ :
’’اس کے (لیگ کے ) ساتھ مسلمانوں کا وہی طرز عمل ہونا چاہئے جوکہ دوسرے بدمذہبوں بے دینوں مرتدین و مبتدعین کے ساتھ فردا فردا یا بحیثیت جماعت برتتے ہیں ،یعنی ان کا واضح رد کرنا اور ان سے مجابنت اور نفرت رکھنا اور اس کوخدا و رسول کا مخالف اور مسلمانوں کا دشمن جاننا‘‘۔
لیگ میں شرکت کانگریس سے زیادہ زہر قاتل ہے
اسی صفحہ پر سوال نہم کے تحت سوال ہے کہ خطرہ یہ ہے کہ لیگ کی رکنیت سے منع کرنے سے کانگریس کو فائد ہ پہنچنے کا امکان ہے ۔تو جواب میں کیا کہا گیا ملاحظہ ہو:
’’اگر یہ صحیح بھی ہو تو خود لیگ میں شرکت حراماور سب سے زیادہ قیمتی دولت یعنی ایمان کیلئے کانگریس سے زیادہ قومی اور سریع الاثر قاتل زہر ہے ۔جس سے علماء کا تغافل ہر گز جائز نہیں ۔
تھوڑا آگے صفحہ ۱۸ کے شروع میں ہے کہ :
’’کانگریس تو کھلے ہوئے کفار و مشرکین کا مسلمانوں سے اتحاد کرانا چاہتی ہے اور لیگ کفار و مشرکین و مرتدین و مبتدعین سب کے ساتھ مسلمانوں کی موالات اور مواخات منانا چاہتی ہے ۔دونوں کے مقاصد میں ہندو مسلم اتحاد داخل ہے‘‘۔
مسلم لیگ کے بارے میں بریلوی حضرات کا فیصلہ کن فتوی
لیگ کی حمایت کرنا ،اس میں چندے دینا ،اس کا ممبر بننا،اس کی اشاعت اور تبلیغ کرنا ،منافقوں اور مرتدوں کی جماعت کو فروغ دینا ہے اور دین اسلام کے ساتھ دشمنی کرنا ہے۔{صفحہ ،۳۲}
جناح کو قائد اعظم کہنے یا لکھنے سے بیوی نکاح سے نکل گئی
سوال ہے کہ جو مسلمان ایک رافضی محمد علی جناح کو قائد اعظم لکھے اور اپنا پیشوا مانے اس کیلئے کیا حکم ہے ؟۔ جواب:
’’اگر رافضی کی تعریف حلال اور جناح کو اس کا اہل سمجھ کر کرتا ہے تو وہ مرتد ہوگیا ا س کی بیوی اس کی نکاح سے نکل گئی ۔مسلمانوں پر فرض ہے کہ اس کا مقاطعہ کریں یہاں تک کہ وہ توبہ کرے۔
{صفحہ ۳۲}
آپ ذرا معترض کا حال بھی معلوم کرلیں اپنی کتاب دیوبندیت کے بطلان کا انکشاف صفحہ ۱۴۷ پر موصوف نے چار دفعہ جناح کو ’’قائد اعظم‘‘ لکھا اب نہ صرف معترض صاحب بلکہ جتنے بھی بریلوی احباب جو جناح کو قائد اعظم کہتے لکھتے ہیں وہ سب اس فتوے کی رو سے تجدید ایمان و نکاح کریں
مظلم لیگ اور نام نہاد پاکستان
ناصر الاسلام والمسلمین مظہر اعلی حضرت شیر بیشہ اہلسنت خلیفہ اعلی حضرت مناظر اعظم علی الاطلاق حضرت علامہ حافظ قاری مفتی الحاج الشاہ ابو الفتح عبید الرضا محمد حشمت علی خان صاحب قبلہ قادری برکاتی رضوی لکھنوی لکھتے ہیں:
لیکن خوب یاد رہے کہ ان احکام کی شرط یہی ہے کہ وہ جنگ کفر و اسلام ہی کی جنگ ہو ،مظلم لیگ و کانگریس کی جنگ نہ ہو ،نام نہاد پاکستان اور سوراج کی جنگ نہ ہو ‘‘۔
(فتاوی حشمتیہ ،ص۲۷۵،تنظیم اہلسنت پاکستان طبع اول جنوری ۲۰۱۶)
اعلی حضرت کا فتوی مسلم لیگ مرتد ،تقسیم سے علی الاعلان تبری کریں
حضور پر نور اعلی حضرت عظیم البرکت مرشد برحق امام اہلسنت مجدد اعظم دین و ملت رضی اللہ تعالی عنہ کے فتوائے مبارکہ الدلائل القاہرہ علی الکفرۃ النیاشرۃ میں قرآن عظیم و حدیث حمید سے بیان فرمائے گئے ہیں ۔مسلم لیگ و خاکسار و کانگریس و احرار اور نام نہاد مومن کانفرنس اور لیگ کے اصول و مقاصد کی فیصدی حامی نام نہاد سنی کانفرنس اور مرتد ابو الاعلی مودودی کی نام نہاد جماعت اسلامی اور مرتد چن بسو یشور صدیق دیندار کی نام نہاد دیندار پارٹی وغیرہا تمام مجالس کفار و جماعت اشرار سے کھلم کھلا تحریرا و تقریرا فعلا و قولا ہر طرح اپنی بیزاری کا ااظہار اور کانگریس کے مطالبہ سوراج مسلم لیگ کے مطالبہ تقسیم مرتد مودودی کے نام نہاد مطالبہ حکومت الٰہیہ سے اپنی تبری کا اعلان واشگاف و آشکار کریں ۔
(فتاوی حشمتیہ ،ص۲۷۶)
تحریک پاکستان و مسلم لیگ کی حمایت کرنا حرام ہے اور مرنے والے حرام موت مرے معاذاللہ
یہ بھی خوب یاد رہے کہ کانگریس کے مطالبہ سوراج یا مسلم لیگ کے مطالبہ تقسیم یا مرتد مودودی کے مطالبہ حکومت الٰہیہ کی حقیقت سمجھتے بوجھتے ہوئے بھی کہ اول کا مقصد اعدام مسلمین دوم کا مآل افنائے سنیت سوم کا مقصود قیام حکومت وہابیت ہے ۔اس کا عملا قولاکسی طرح بھی امداد کرنا حرام ۔ اور اس کا اصل مقصد جانتے ہوئے بھی جو شخص اس کی حمایت کرتا ہو وا مارا جائے گا وہ حرام موت مرے گا۔ ( فتاوی حشمتیہ ،ص۲۷۶)
پاکستان اسلام سوز ہے اس کی اصل نیچیریت ،زندیقیت و الحاد ہے
اسلام سوز و الحاد افروز پاکستان کی اصل نیچریانہ و زندیقانہ شکل و صورت ‘‘َ
(فتاوی حشمتیہ ،ص۲۷۶)
مسلم لیگ مرتدین
مسلم لیگیہ ۔۔مبتدعین مرتدین ‘‘۔ ( فتاوی حشمتیہ ،ص۵۶۲)
تجانب اہلسنت کی استنادی حیثیت
آج کل کے رضاخانی تجانب اہل سنت کا انکار کرتے ہیں مگر مظہر اعلی حضرت حشمت علی رضوی صاحب اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں:
’’مظلم لیگی و کانگریسی ان کے عقائد کفریہ کی اجمالی تفصیل اور ان پر شرعی رد و طردکی مختصر تکمیل فقیر کی املائ لکھوائی ہوئی کتاب مستطاب مسمی بنام تاریخی تجانب اہلسنت عن اہل الفتنۃ میں ملاحظہ ہو۔ ‘‘َ
(فتاوی حشمتیہ ،ص۲۷۳)
گویا تجانب اہل سنت خود حشمت علی رضوی کی کتاب ہے جسے اس نے اپنے داما د مولوی طیب دانا پوری کے نام سے شائع کروایا ہے ۔ اسی تجانب اہلسنت اور مولوی طیب داناپوری کے کے متعلق مولوی محمد راحت خان قادری بانی دارالعلوم فیضان تاج الشریعہ بریلی لکھتے ہیں:
’’سب سے پہلے ٖڈاکٹر اقبال صاحب کی شرعی حیثیت بیان کردی جائے ناصر سنیت مناظر اہل سنت مفتی ابو الطاہر طیب صدیقی قادری برکاتی داناپوری ۔۔ تحریر فرماتے ہیں‘‘۔
(الکلمات القاطعہ ،ص۹۰،مکتبہ نور بریلی شریف)
آگے پھر علامہ اقبال کے کفر کے ان کی تجانب اہل سنت کا اقتباس پیش کیاہے۔ اس کتاب پر بریلوی بقیۃ السلف عمدۃ الخلف مفتی محمد صالح شیخ الحدیث جامعۃ الرضا بریلی شریف ، مفتی محمد ا بو الحسن قادری بانی جامعۃ تاج الشریۃ بہرئچ شریف ،بریلوی مجاہد سنیت حضرت مولانا محمد میثم عباس قادری کی تقاریظ اور کتاب کی تائید و توثیق اور تعریفی کلمات ثبت ہیں۔
مسٹر محمد علی جناح کی تکفیر
مولوی محمد طیب دانا پوری لکھتے ہیں:
(1)…’’اور مسٹر جینا ان کا قائد اعظم ہے، اگر صرف انہیں دو کفروں پر اکتفا کرتا تو قائد اعظم کی خصوصیت ہی کیا رہتی؟ لہٰذا وہ اپنی اسپیچوں اپنے لیکچروں میں نئے نئے کفریات قطعیہ بکتا رہتا ہے۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص119)
(2)…’’بہ حکم شریعت مسٹر جینا اپنے ان عقاید کفریہ قطعیہ خبیثہ کی بنا پر قطعاً مرتد اور خارج از اسلام ہے۔ جو شخص اس کے کفروں پر مطلع ہونے کے بعد اس کو مسلمان جانے یا اس کے کافر و مرتد ہونے میں شک رکھے یا اس کو کافر کہنے میں توقف کرے وہ بھی کافر و مرتد اور شر اللئام اور بے توبہ مرا تو مستحق لعنت عزیز علام۔‘‘
(تجانب اہل سنت ص122)
مسٹر محمد علی جناح کو ولی اللہ کہنے پر پیر جماعت علی شاہ سے بھرے مجمع میں توبہ کروائی گئی
تحریک پاکستان کی آل انڈیا سنی کانفرنس منعقد ہوئی تھی اس میں غیر منقسم ہندوستان کے بے شمار اکابر علمائ کرام و مشائخ عظام شریک ہوئے ،مفتی اعظم ،محدث اعظم اور پیر جماعت علی شاہ ۔۔۔ بھی خاص طور پر مدعو کئے گئے اس دور میں پیر جماعت علی کا حلقہ ارادت بہت زیادہ وسیع تھا تقریبا ڈیڑھ لاکھ مریدین تو صرف اس کانفرنس میں آئے تھے یکے بعد دیگرے علمائے کرام کی تقریریں ہوتی رہیں ،پیر جماعت علی تقریر فرمارہے تھے کہ آپ کی زبان مبارک سے یہ جملہ نکل گیا :’’محمد علی جناح ولی اللہ ہے ‘‘ ہے ،اتنا کہنا تھا کہ سارےعلمائے حاضرین میں اس پر چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں اور سارے لوگ اسٹیج سے کھسکنے لگے مگر کسی کی مجال تھی کہ ان کو لقمہ دے سکے کیونکہ ان کے لاکھوں مریدین سے مقابلہ کرنا آسان نہ تھا اسی وقت یہ بات لوگ حضور مفتی اعظم اور محدث اعظم کی بارگاہ میں پیش کرنے ان کی قیامگاہ تک پہنچے حضرت مفتی اعظم نے بلا خوف وخطر فرمایا ٹھیک ہے اگر شریعت کی بات ہے تو ابھی چل کر حضرت پیر صاحب سے دریافت کرلیا جائے اگر ہنگامہ ہوگا تو سمجھا جایئے گا ۔چنانچہ یہ وونوں بزرگ فورا اسٹیج پر پہنچے اور عرض کیا کہ حضور نے فرمایا ہے کہ :’’جناح ولی اللہ ہے ‘‘ تو یہ آپ کی تحقیق ہے یا کسی نے بتایا ہے ؟حضرت موصوف نے فرمایا نہیں یہ میری اپنی تحقیق نہیں ہے بعض لوگوں نے مجھے بتایا ہے ،کیا لوگ اسی لئے بھاگ رہے تھے ؟ دونوں حضرات نے کہا جس نے بتایا ہے سراسر غلط بتایا ہے کیونکہ وہ ’’شیعہ (بوہرا) ہے لہذا کسی طرح اس کا مسلمان ہونا ثابت نہیں تو ولی اللہ کیونکرہوسکتا ہے ۔حضرت پیر صاحب نے فرمایا مائک قریب کرو پھر فرمایا سارے خطبائ اور سارے علمائ اور سارے حاضرین سنیں مجھ سے ایک غلطی ہوگئی ہے کہ میں نے کہہ دیا ہے کہ محمد علی جناح ولی اللہ ہے وہ ہرگز ولی اللہ نہیں ہے میں توبہ کرتا ہوں اور کلمہ پڑھتا ہوں آپ لوگ بھی توبہ و استغفار کرو اور پڑھو لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ پھر خود بھی کلمہ پڑھا اور سب سے پڑھوایا ‘‘۔
(مفتی اعظم کی استقامت اور کرامت ،ص۲۴۵،۲۴۶)
قائد اعظم شیعہ ہے اس کا مسلمان ہوناکسی طرح ثابت نہیں بریلوی مفتی اعظم اور محدث اعظم
’’ دونوں حضرات نے کہا جس نے بتایا ہے سراسر غلط بتایا ہے کیونکہ وہ ’’شیعہ (بوہرا) ہے لہذا کسی طرح اس کا مسلمان ہونا ثابت نہیں تو ولی اللہ کیونکرہوسکتا ہے ‘‘۔
(مفتی اعظم کی استقامت اور کرامت ،ص۲۴۵)
مسٹر جناح شریعت کے خلاف بکواس کرتا ہے
نواب احمد رضاخان صاحب کے پیر و مرشد گھرانے کے شاہ آل مصطفیٰ قادری کہتے ہیں:
’’مسٹر جناح نے شریعت اسلامیہ کی کھلم کھلا خلاف ورزی کی اور بمبئی ہائی کورٹ میں فرمان شرعی کے خلاف نظیر ہمیشہ کیلئے بن گئی اور مسٹر جناح نے یہ ناپاک قول بک کر شریعت مطہرہ کے خلاف کا دروازہ آئیندہ کیلئے بھی کھول دیا ‘‘َ
(ملفوظات مشائخ مارہرہ،ص۶۹)
لنگڑا پاکستان
نواب احمد رضاخان صاحب کے خلیفہ مولوی نعیم الدین مراد آبادی کہتے ہیں کہ:
’’ـچندفاش غلطیاں بھی کیں جن کی بناء پر بقول مولانا حسر ت موہانی مرحوم ’’لنگڑا پاکستان‘‘ بنا‘‘۔
(حیات صدر الافاضل :ص ۱۹۲)
سنی علماء میں سے کوئی بھی مسلم لیگ کا ممبر نہیں نہ جناح کی قیادت قبول ہے
مفتی وقار الدین بریلوی لکھتے ہیں کہ:
’’سنی علماء میں سے کوئی بھی مسلم لیگ کا ممبر نہیں بنا اور نہ محمد علی جناح کی قیادت کو قبول کیا‘‘ ۔
(وقار الفتاوی :ج۱،ص ۸)
۱۹۴۶ تک پاکستان کی مخالفت میں بریلویوں کے جلسے
ڈاکٹر اوشیہ سانیال لکھتی ہیں:
’’مارہرہ میں محمد میاں نے ۱۹۴۶ میں جماعت اہل سنت کی تشکیل کیلئے اجتماع منعقد کیا تھا جس میں پاکستان کے نظریہ کی مخالفت کی گئی تھی یہ عرس محمد میاں کے والد کا تھا‘‘۔
(عقیدت پر مبنی سیاست ،ص۱۱۲)
پیر جماعت علی شاہ کا تحریک پاکستان میں کردار مشکوک ہے
چورا شریف والے اس تحریک مسجد شہید گنج میں پیر جماعت علی شاہ کی انگریز نوازی پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اس عبارت کا ایک ایک لفظ پیر جماعت علی شاہ کی بے بصیرتی کا نوحہ کررہا ہے ۔ اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہر بات واضح ہے کہ کون کس کے ہاتھوں میں کھیل کر مسلمانو ں کے جذبات کا سودا کررہا تھا ۔اس تحریر نے پیر جماعت علی شاہ  کے تحریک پاکستان میں کردار کو بھی مشکوک بنادیا ہے ۔جس کا بہت چرچہ کیا جاتا ہے اور تحریک پاکستان میں ان کے کردار کو نمایاں کیاجاتا ہے ‘‘۔ (اثبات النسب ،ص۱۵۸)
مولانا نورانی اور ان کے اکابر تحریک پاکستان کے بدترین دشمن تھے
ہمارے پاس روزنامہ جسارت کی جمعہ کی خصوصی ایڈیشن کا ہے جس میں احمد سعید قریشی صاحب نے ناقابل تردید ثبوتوں کے ساتھ بریلویوں کی پاکستان دشمنی کو بے نقاب کیا ہے اس شمارے کا سکین بھی ہم نیٹ پر جاری کرچکے ہیں ۔ مضمون میں دئے گئے بہت سے حوالہ جات ہم نے ماقبل میں بھی نقل کردئے ہیں۔
خلاصہ کلام
(۱) قائد اعظم بددین ہے اسے قائد اعظم کہنا سخت شنیع و حرام ہے
(۲) دوزخ کا کتا ہے معاذاللہ
(۳)نام نہاد سراپا فسادی پاکستان
(۴) لیگ والے مرتد ہیں فورا ان سے الگ ہوجائیں
(۵) علماء کرام کو لیگ کا کھلم کھلا رد کرنا چاہئے
(۶) مسلم لیگ نہیں مظلم لیگ
(۷) تحریک پاکستان کی حمایت کرنا حرام ہے
(۸)پاکستان اسلام سوز ہے اس کی اصل نیچیریت و الحا د ہے
(۹) قائد اعظم شیعہ بوہرہ کافر ہے معاذاللہ
(۱۰) مسٹر جناح عقائد کفریہ کی بنائ پر خبیث مرتد ہے معاذاللہ
اس تاریخ کو کس طرح مسخ کیا جارہا ہے اس کی ایک جھلک
شاہ تراب الحق قادری نے ایک کتاب لکھی ’’تخلیق پاکستان میں علمائے اہلسنت کا کردار ‘‘ جوکہ جمعیت اشاعت اہلسنت کاغذی بازار کراچی سے شائع ہوئی۔ اس کے اندر اپنے گھر کے جھوٹے حوالوں کے ذریعہ جس قدر جھوٹ بولئے گئے اسے پڑھ کر جھوٹ کا جائز سمجھنے والا فرقہ خطابیہ بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائے
موصوف کے ہاتھوں پہلی دفعہ یہ انکشاف ہوا کہ مصور پاکستان علامہ اقبال نہیں بلکہ عبد القدیر بدایونی بریلوی تھے ۔(کتاب مذکور ،ص۱۷)
علامہ اقبال نے فتاوی رضویہ کا عمیق مطالعہ کر نے کے بعد دو قومی نظریہ اپنایا ۔
(کتاب مذکور ،ص۱۷)
حالانکہ ہم پوری دنیائے رضاخانیت کو چیلنج کرتے ہیں کہ علامہ اقبال مرحوم نے کبھی فتاوی رضویہ دیکھی بھی نہیں تھی پڑھنا تو بہت دور کی بات اور علامہ اقبال کے ساتھ جو تم نے کیا وہ بھی آگے آرہا ہے ۔اگر کسی اہل بدعت کے فرزند میں جرات ہے تو کسی مستند حوالے سے ثابت کرے کہ علامہ اقبال نے کبھی فتاوی رضویہ دیکھی تھی (پڑھنا ہم خود بخود تسلیم کرلیں گے)
سید وجاہت رسول قادری صدر ادارہ تحقیقات امام احمد رضا بھی اسی جھوٹ کو یوں بیان کرتے ہیں:
’’علامہ اقبال اور قائد اعظم نے بھی ان (احمد رضا۔ساجد) کی پیروی کی ‘‘۔
(انوار رضا کا تاجدار بریلی نمبر ۲۰۰۳،ص۲۰)
حالانکہ ڈاکٹر غلام یحییٰ انجم بریلوی صاحب لکھتے ہیں:
’’حیرت انگیز بات یہ ہےکہ ڈاکٹر اقبال جیسا دانشور کی عقابی نظروں سے امام احمد رضا قادری کی علمی شخصیت اور ان کی علمی کتابیں اوجھل رہ گئیں ۔باعث تعجب ہے ! اس سلسلے میں جہاں تک میرا خیال ہے کہ ڈاکٹر اقبال کو امام احمد رضا قادری سے دوررکھنے میں ان کے مخالفین کا زیادہ ہاتھ تھا ‘‘۔ ( امام احمد رضا کے افکار و نظریات ،ص۶۶،۶۷)
جب ڈاکٹر اقبال نے کبھی احمد رضاخان کی کسی کتاب کا مطالعہ ہی نہیں کیا ان کو احمد رضاخان کی کچھ خبر ہی نہ تھی تو پھر آخر یہ جھوٹ کس بنیاد پر پھیلایا جارہا ہے کہ ڈاکٹر اقبال نے نواب احمد رضاخان سے متاثر ہوکر دو قومی نظریہ پیش کیا؟
کسی سید انور علی ایڈووکیٹ کے حوالے سے یہ جھوٹ بولا گیا کہ سب سے پہلے نظریہ پاکستان علمائے اہلسنت کی طرف سے پیش کیا گیا اور اس کیلئے مولانا نعیم الدین مراد آبادی نے ۱۹۲۵ میں آل انڈیا سنی کانفرنس کی بنیاد رکھی ۔( کتاب مذکور ،ص۱۷)
حالانکہ یہ بھی شرمناک جھوٹ ہے ۔ہم ماقبل میں ثبوت دے چکے ہیں کہ پاکستان کی حمایت کیلئے آل انڈیا سنی کانفرنس کا سب سے پہلا اجلاس ۱۹۴۵ میں ہوا،اور وہ بھی پاکستان کی حمایت میں نہیں بلکہ عام اجلاس تھا جس میں پیر جماعت علی شاہ نے پاکستان اورمسلم لیگ کی بات رکھی تو اس پر قائد اعظم اور مسلم لیگ پر کفر کے فتوے لگے۔اور مولانا نعیم الدین نے آکر حالات کو سنبھالا۔
دو قومی نظریہ کا بانی نواب احمد رضاخان کو کہنے والوں میں اگر جرات ہے تو احمد رضاخان کی کسی تحریر کا حوالہ دو جس میں اس نے ’’دو قومی نظریہ ‘‘ کا لفظ استعمال کیا ہو یا یہ کہا کہ ہندو اور مسلمان چونکہ الگ الگ قومیں ہیں لہذا اس بنیاد پر ہندوستان کی تقسیم کی جائے ہم ماقبل میں ثابت کر آئے ہیں کہ نواب احمد رضاخان نے نہ صرف مسلم لیگ پر کفر کا فتوی دیا بلکہ تقسیم کا مطالبہ کرنے والوں کو بھی کافر کہا۔
ڈاکٹر اوشیا سانیال لکھتی ہے:
’’میں ۱۹۴۶ والے اجلاس سے متعلق کچھ گفتگو کرنا چاہوں گی جس میں پاکستان کے مسئلہ پر بحث ہوئی تھی رپورٹ کے مطابق اس اجلاس میں ۵۰۰۰مشائخ ۷۰۰۰علمائ اور دو لاکھ سنی افراد شریک ہوئے ۔قائدین میں سے مولانا نعیم الدین مراد آبادی ،مولانا مصطفی رضاخان (مولانا احمد رضاخان کے چھوٹے بیٹے ) مولانا ظفر الدین بہاری اور سید محمد اشرف جیلانی کچھوچھوی شریک تھے ۔آخر الذکر نے اجلاس کے سامنے استقبالیہ کلمات پیش کئے ۔بدقسمتی سے نہ ہی سید محمد اشرف جیلانی کے خطبے سے اور نہ ہی اجلاس میں منظور کی گئی قراردادوں سے اس جلاس کے موقع پر ہونے والے بحث و مباحثے کا کوئی اندازہ ہوتا ہے اسی طرح پاکستان کے مسئلہ پر بھی اس میں کوئی بات شامل نہیں ہے جو اجلاس کے چند ہی سالوں بعد وجود میں آنے والاتھا۔خطبہ میں سیاسی تناظر میں آخیر تک کوئی بات شامل نہیں تھی ۔اس میں پہلے اجلاسات کے خطبوں کی طرح سنی مسلمانوں سے صرف تبلیغ ،مدارس کے قیام اور دین سے تعلق قائم کرنے کے ذریعہ اپنی حالت کو بہتر بنانے کی بات کہی گئی ‘‘۔
(عقیدت پر مبنی اسلام اور سیاست ،ص۳۴۳)
غرض مسلم لیگ یا پاکستان کی حمایت اس کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل ہی نہ تھی وہ تو پیر جماعت علی شاہ کے منہ سے تحریک پاکستان کے متعلق کچھ نکل گیا تو اس پر بھی اسی کانفرنس میں فتوی بازی شروع ہوگئی۔
شاہ صاحب اپنی جھوٹ کی مشین کو مزید تیز کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’علیحدہ مملکت کا مفصل اور واضح خاکہ سب سے پہلے 1920میں اہلسنت و جماعت کے فاضل عالم محمد عبد القدیر بدایونی نے مسٹر گاندھی کے نام ایک خط میں پیش کیا ‘‘َ
(کتاب مذکور ،ص۱۶)
حالانکہ یہ مولانا عبد القدیر بدایونی تحریک خلافت کے زبردست حامی تھے اور شیخ الہند ؒ کو اپنے جلسوں کی صدارت کیلئے بلاتے جس کی وجہ سے بریلوی حضرات کی طرف سے ان پر ارتداد کا فتوی جاری ہو ا ،ملاحظہ ہو:
جماعت رضائے مصطفی بریلی کی شایع کردہ کتاب’’تحقیقات قادریہ ملقب بہ پاسبان مذہب و ملت‘‘ کے ابتدائی 16 صفحات میں ان تمام بدایونی بزرگوں کو خوب لتاڑا گیا ہے جو تحریک خلافت میں حضرت شیخ الہند رحمہ اللہ کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔ چنانچہ ان حضرات کی تکفیر کر کے ان کا تعلق اپنے سے کاٹتے ہوئے لکھا گیا کہ
’’جس نے وہابیہ، دیوبندیہ، نیچریہ وغیرہم بدمذہبوں سے علاقہ رکھا اس کا علاقہ ہمارے اکابر کرام سے ٹوٹ گیا۔ وہ قادری برکاتی دائرے سے خارج ہو گیا، بلکہ مدح و ستایش کفار پر یہ فرما دیا گیا کہ کفار کی تعریف کرنے والا انہیں کفار کے شمار میں ہے، انہیں کی رسی میں ہے، انہیں کفار کے ساتھ حشر ہو گا۔‘‘
(تحقیقات قادریہ ص9)
ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے:
’یَوْمَ نَدْعُوْ کُلَّ اُنَاسٍ بِاِمَامِہِمْ‘‘
ارشاد باری ہے: اس (قیامت) دن ہم پکاریں گے ہر گروہ کو اس کے امام کے نام سے۔ اس وقت معلوم ہو گا کہ کون بو الحسینی آل رسولی برکاتی قادری محمدی کہہ کر پکارا جاتا ہے کہ کون گاندھوی تلکی شیخ الہندوی کہہ کرپکارا جاتا ہے؟‘‘
ایک اور جگہ لکھا گیا ہے:
’’جس وقت مرتد کو شیخ الہند و صدر جلسہ بنایا ہو گا مشرکین و مرتدین وہابیہ، دیوبندیہ، نیچریہ غیر مقلدین کو مسند وعظ پر بٹھایا ہو گا، جس وقت ان کو ایڈریس دیے ہوں گے، جس وقت ان کی مدح و ثنا کے خطبے پڑھے ہوں گے… سچ کہہ دینا ورنہ دل ہی میں شرما کر توبہ کا اعلان دے دینا کہ اس وقت مسلمانوں کے آقا قاتل المشرکین والکفار محمد رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کو کیسا صدمہ عظیم ہوا ہو گا… مار ہرہ مطہرہ کے مشایخ کرام کی ارواح طیبات پر کیا گزری ہو گی؟ سیدی تاج الفحول بدایونی اور مولوی عبدالقیوم صاحب بدایونی کی ارواح کیسی بے چین و بے قرار ہوئی ہوں گی؟ قبریں لرز گئی ہوں گی۔
زمین چمن گل کھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
کیا شان الٰہی ہے۔ کل جن حضرات کے گھر سے بد مذہبوں کا چمکتا رد ہو رہا تھا۔ مشرکین و کفار پر لعنت برسائی جاتی تھی، تکفیر کفار کی مشین سرگرم تکفیر تھی، آج اس گھر میں بالعکس اس کے مشرکین و کفار و مرتدین و بدمذہباں سے اتحاد، اتفاق، دوستی محبت، مودت و مالات قایم اور ان کے نیچے کام کیا جا رہا ہے۔‘‘
ببین تفاوت راہ از کجا ست تا بکجا
(ص 9،10)
ایک اور مقام پر یوں گوہر افشانی کی جاتی ہے:
’’کدھر ہیں پارٹی والے قادری برکاتی نوری ہونے کے مدعی؟ خصوصاً جلسہ جمعیت علمائے مجموعہ وہابیہ دیوبندیہ غیر مقلدین نیچریہ مشرکین وغیرہ دہلی میں شریک ہو کر اتحادی تقریریں کرنے والے مرتد (حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن) کو اپنا صدر بنانے والے مشرک کو ہادی و مذکر مبعوث من اﷲ کہنے والے اور علمائے اہل سنت ایدہم اﷲ یعنی رضا خانیوں کو مخالف اسلام، نصاریٰ کا تنخواہ دار اور دشمن اسلام بتانے والے؟ ذرا گریبان میں منہ ڈال کر شرمائیں اور خود ہی انصاف کر لیں کہ حضرت میاں صاحب قبلہ رضی اﷲ تعالیٰ عنہ کے فرمان والا شان کے مطابق شاہ ابو البرکات و جملہ مشایخ کرام سلسلہ مارہرہ سے علاقہ رہایا قطع ہو گیا ببین کہ از کہ بریدی دبا کہ پیوستی
ولیوں سے جدا ہوا ستم گر
ایمان نکل گیا ستم گر
(شعر4 تحقیقات قادریہ ص8)
مولانا عبدالماجد بدایونی رحمہ اللہ اور مولانا عبدالقدیر بدایونی رحمہ اللہ وغیرہ پر مزید غصہ نکالتے ہوئے لکھا جاتا ہے:’’مسلمانو! دیکھا کہ جناب مولوی عبدالماجد صاحب بدایونی کے پردادا اور مولوی عبدالقدیر صاحب کے والد ماجد حضرت تاج الفحول بدایونی علیہ الرحمۃ نے وعظ میں کیا نصیحت کی کہ کفار مرتدین وہابیہ، نیچریہ روافض وغیرہم جیسے لوگوں کے ساتھ شدت بغض و عناد و عداوت کہ فعل صحابہ کرام فرمایا۔‘‘
(ص11)
تحریک خلافت ،اور تحریک ترک موالات کے متعلق بریلوی فتاوی جات آپ نے ماقبل میں پڑھ لئے جبکہ مولانا عبد القدیر بدایونی ان تحاریک کے صف اول کے رہنما تھے چنانچہ ان کے سیرت نگار لکھتے ہیں:
’’آپ نے اپنے زمانے کی تمام ملی و ملی تحریکات میں حصہ لے کر قوم کی صحیح رہنمائی کی ۔ تحریک خلافت ،تحریک موالات ،خدام کعبہ اور بزم صوفیہ جیسی تمام تحریکات میں آپ صف اول میں نظر آتے ہیں ۔تحریک خلافت اور تحریک ترک موالات کا زمانہ ہندو مسلم اتحاد کا زمانہ تھا مگر اس دور میں بعض مسلم قائدین نے جذبات میں ایسے اقدام کئے جو اسلامی نقطہ نظر سے درست قرار نہیں دئےجاسکتے ،حضرت عاشق الرسول نے آزادی ہند کیلئے ہندو مسلم اتحاد کی ضروت کو محسوس کرتے ہوئے ان بعض مسلم قائدین کے غلو اور تجاوز پر واضح الفاظ میں تنقید فرمائی ۔آپ اپنے خطبہ صدارت لاہور میں ارشاد فرماتے ہیں :
’’میں ہندو مسلم اتحاد کا حامی رہا ہوں اور اب بھی حامی ہوں اور ہر وہ شخص جو ہندوستان کیلئے مکمل آزادی کا خواہشمند ہے وہ ہندو مسلم اتفاق کا حامی ہوگا۔مگر اس طوفان اتحاد کے زمانہ میں بھی میں نے مسلمانوں کے ان اعمال کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا جو اتحاد کے غلو میں کئے گئے اور جن سے ہماری مذہبی توہین ہوتی تھی۔مسجد کے منبروں پر ہندووں کو چڑھانا ،خودمسلمانون کا قشقہ لگانا ،وغیرہ وغیرہ یہ بدترین افعال تھے جو ہندوستانی مسلمانوں کے دامن پر بحیثیت مسلمان ہونے کے اب تک بدنما داغ ہیں ‘‘۔
(مثنوی غوثیہ ص،۲۲،۲۳،تاج الفحول اکیڈمی بدایوں)
آپ نے مرکزی جمعیۃ علمائ ہند کے زیر اہتمام بدایوں میں ایک عظیم کانفرنس منعقد کی ‘‘۔ ( ایضا،۲۳)
جوآدمی تحریک خلافت کے زمانے میں ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار ہو جمعیۃ علمائے ہند کے زیر اہتمام جلسے کرواتا ہو وہ تقسیم ہند کا فارمولاکیسے پیش کرسکتا ہے ؟کیا تاریخ کو اس طرح جھوٹ کے سہارے بدلاجاسکتا ہے ؟
دلچسپ بات یہ ہےکہ اہل بدعت گاندھی جی کے نام جس کھلے خط کی بات مولانا عبد القدیر بدایونی کے حوالے سے کررہے ہیں اس میں بھی اختلاف ہے کہ آیا یہ خط ان ہی کا ہے یا کسی اور کا ؟ چنانچہ پروفیسر مسعود احمد صاحب لکھتے ہیں:
’’لیکن عبد المقتدر خان شروانی مرحوم،پروفیسر محمد ایوب قادری ،ڈاکٹر معین الحق ،محمد ضیائ الاسلام وغیرہ کا خیال ہے کہ دراصل یہ تجویز ایک غیر معروف شخص محمد عبد القدیر بلگرامی کے بھائی قاضی عزیز الدین بلگرامی کی تخلیق ہے چونکہ وہ سرکاری افسر تھےاس لئے اپنے نام سے شائع نہ کرسکتے تھے چنانچہ بھائی کا نام ڈال دیا ‘‘۔
(تحریک آزادی ہند اور السوا د الاعظم ،ص۱۵۱،ضیائ القرآن پبلیکیشنز لاہور)
دیکھا تاریخ کو مسخ کرنے میں ان حضرات کو کتنا ید طولی حاصل ہے ۔
موصوف مزید جھوٹ بولتے ہیں کہ مسلم لیگ بنی اس کے پہلے متفقہ قائد بانی پاکستان مسٹر محمد علی جناح بنے آل انڈیا سنی کانفرنس کے ذریعہ سنی مشائخ و علمائ نے اس کی حمایت کی اور ایسی تحریک چلی کہ انگریز چولہیں ہل گئیں ‘‘(ملخصا ،ص۷۰)
حالانکہ ہم نے ماقبل میں حوالوں کے ڈھیر لگادئے کہ بریلوی اکابر علمائ و مشائخ نے تن من دھن کی بازی لگادی مسلم لیگ اور جناح کو کافر ثابت کرنے میں اور پاکستان کی مخالفت کرنے میں۔موصوف جوش خطابت میں فرماتے ہیں :
آج مولانا مودودی ،مفتی محمود ،جمعیت علمائے اسلام ،مولوی فضل الرحمن ،مولوی سمیع الھق جمعیت علمائے اسلام دوسرا گروپ جماعت اسلامی یہ سب دعوے کرتے ہیں کہ پاکستان ہم نے بنایا میں آپ کو بتاتا ہوں کہ پاکستان کس نے بنایا ہندوستان سے ایک اخبار نکلتا دبدبہ سکندری اس میں ۱۰ جون ۱۹۴۶ کی اشاعت میں سنی بنارس کانفرنس منعقد ہوئی جس میں لاکھوں عوام کے سامنے 500علمائ و مشائخ اہلسنت ایک قول کے مطابق سات ہزار علمائ نے یہ فیصلہ کیا کہ تمام پاکستان کی حمایت میں ہیں اور ہماری آواز جناح تک پہنچادی جائے کہ اگر جناح صاحب اور مسلم لیگ پاکستان کے مطالبے سے دستبردار بھی ہوجائیں توہم اپنی کوشش جاری رکھیں گے ہم دستبردار نہیں ہوں گے ۔(ملخصا ص۷۶،۷۷)
ایک طرف تو دعوی کہ پاکستان کی حمایت سنی علمائ نے ۱۹۲۵ میں شروع کی لیکن تحریک کی حمایت کی پٹاری سے ۱۹۴۶ کی آل انڈیا سنی کانفرنس ۔ہم پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر بریلوی اس دعوے میں سچے ہیں کہ انہوں نے مسٹر جناح اور علامہ اقبال سے بھی پہلے پاکستان کی حمایت شروع کردی تھی تو کسی مستند تاریخی حوالے سے آل انڈیا سنی کانفرنس ۱۹۴۶ کے علاوہ کا کوئی ریکارڈ پیش کریں اور ہم سیرت امیر ملت کے حوالے سے واضح کرچکے ہیں کہ اس کانفرنس میں بھی قائد اعظم پر کفر کے فتوے لگے۔
ڈاکٹر اوشیہ سانیال لکھتی ہیں:
’’مارہرہ میں محمد میاں نے ۱۹۴۶ میں جماعت اہل سنت کی تشکیل کیلئے اجتماع منعقد کیا تھا جس میں پاکستان کے نظریہ کی مخالفت کی گئی تھی یہ عرس محمد میاں کے والد کا تھا‘‘۔
(عقیدت پر مبنی سیاست ،ص۱۱۲)
معلوم ہوا کہ یہ مخالفت صرف آل انڈیا سنی کانفرنس ہی میں نہیں کی گئی تھی بلکہ ۱۹۴۶ تک پوری جماعت بریلویہ میں پاکستان کی مخالفت زور وں پر تھی۔
پھر ایک معمولی سیاسی سوچ والابھی حیرت میں ڈوب جاتا ہے جب وہ ۱۹۴۶ کی اس نام نہاد عظیم الشان آل انڈیا کانفرنس جس میں ہزاروں علمائے بریلویہ اور لاکھوں عوام شریک ہو مسلم لیگ کے قائد جناح تو دور مسلم لیگ کا کوئی ذمہ دار آدمی موجود نہ ہو ؟کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ آج تو چند ووٹوں کیلئے ٹی پارٹی تک نہیں چھوڑی جاتی تو اتنی اہم کانفرنس جس کی وجہ سے صرف ایک سال بعد پاکستان بن گیا قائد اعظم نے اس میں شرکت کیوں نہیں کی؟کیا قائد اعظم اتنے ناواقف سیاستدان تھے ؟ کیا اتنے احسان فراموش تھے ؟
شرکت تو دور کی بات ان مشائخ کا یہ کہنا کہ مسٹر جناح تک یہ بات پہنچا دو اس بات کو بتلاتا ہے کہ ان کی حیثیت تو یہ تھی کہ وہ اس وقت تک ڈائریکٹ مسلم لیگ کے رابطے میں بھی نہیں آئے تھے بلکہ واسطوں کے ذریعہ مسٹر جناح تک اپنے پیغامات پہنچاتے ۔
بہرحال مسٹر جناح تک آپ کا پیغام پہنچا یا نہیں لیکن ماقبل کے فتووں کی روشنی میں جس میں نواب احمد رضاخان صاحب اور ان کے بیٹے مصطفی رضاخان صاحب خاص طور پر قابل ذکر ہیں یہ سات ہزار علمائے بریلویہ اور لاکھوں عوام مسلم لیگ پاکستان کی حمایت کی وجہ سے دائر ہ اسلام سے خارج ہوچکے ہیں اور اگر بغیر تجدید ایمان و توبہ اس دنیا سے گئے تو جہنم ان کا ابدی ٹھکانہ ہے ۔
شاہ احمد نورانی کی ڈھٹائی اور بے شرمی کی انتہائ کا اندازہ اس سے لگائیں کہ مولوی حامد رضا خان اور مصطفی رضاخان کو بھی مسلم لیگ اور پاکستان کی حمایت کرنے والوں میں شامل کردیا ۔
(کتاب مذکور ،ص۱۱۸،۱۱۹)
حالانکہ ان دونوں کا فتوی مسلم لیگ اور جناح کے متعلق ماقبل میں ہی گزرچکا ہے ۔
قارئین کرام ! ہم نیچے شاہ احمدنورانی ہی کا ایک جملہ نقل کررہے ہیں اور آپ سے جواب کے متمنی ہیں کہ یہ جملہ کس پر صادق آرہا ہے :
’’اب تو جناب جھوٹ اور ڈھٹائی کا یہ عالم ہے اب تو اخبارات میں ان کے مضامین تک بھی آجاتے ہیں کہ تحریک پاکستان میں علمائے دیوبند کا کردار ‘‘َ
(کتاب مذکور ،ص۱۴۰)
ماقبل کے فتووں کے بعد اب ذرا اس بے جھوٹ و بے شرمی کو بھی ملاحظہ فرمائیں
پیر مانکی شریف نے فرمایا :ہر مسلمان مسلم لیگ میں شریک ہو کیونکہ مسلم لیگ ہی ایک ایسی جماعت ہے جو صرف اسلام اور مسلمانوں کی سر بلندی اور آزادی کیلئے کوشاں ہے ‘‘۔
’’مسلم قوم کی واحد نمائندہ جماعت مسلم لیگ ‘‘۔
(کتاب مذکور ،ص۱۴۲)
ماقبل کے چوٹی کے بریلوی علمائ کے فتاوی کی روشنی میں اس بات میں کتنی سچائی ہے اور پیر مانکی شریف اس وقت جہنم کے کس درجے میں ہونگے اس کا فیصلہ ان فتاوی کو سامنے رکھ کر آپ خود کرلیں۔
’’خلیفہ اعلی حضرت مسلم لیگ جبل پور کے صدر مفتی برہان الحق نے فرمایا ۔۔۔ اپنے محترم صدر قائد اعظم مسٹر جناح کے ارشاد کی تعمیل پر ہر وقت تیا ر رہیں‘‘۔ (کتاب مذکور ،ص۱۴۳)
مسٹر جناح کو قائد اعظم کہنے کے بعد برہان الحق صاحب مسلمان رہے یا نہیں اور ان کی بیوی ان کے نکاح میں رہی یا نہیں اس کا فیصلہ ماقبل کے فتووں سے کرلیں۔
‘‘شیخ القرآن عبد الغفور ہزاروی نے فرمایا علمائ احناف کا متفقہ فیصلہ ہے کہ مسلمانوں کو مسلم لیگ میں شامل ہونا چاہئے ‘‘۔ (کتاب مذکور ،ص۱۴۳)
شیخ طریقت پیر فضل شاہ نے فرمایا :مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہوجائیں کیونکہ وہی ان کو نجات دلاسکتی ہے ‘‘۔ ( کتاب مذکور ،ص۱۴۳)
ماقبل کے مفتیان کرام احناف تھے یا وہابیہ نیز وہ فرض کے تاریک تھے یا عامل اس کا فیصلہ آپ خود کرلیں۔یاد رہے کہ یہ جتنے حوالے ہم نقل کررہے ہیں اس کیلئے تراب الحق صاحب نے کسی قسم کا مستند یاغیر جانبدار حوالہ پیش نہیں کیا بلکہ اپنے ہی مولویوں کی لکھی ہوئی کتاب سے جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہے ہیں۔
مسلم لیگ کی مخالفت کرنے والوں کا جنازہ نہ پڑھا جائے
ماقبل کے فتوے آپ نے پڑھ لئے کہ مسلم لیگ کی حمایت کرنے والے انہی کی طرح مرتد کافرہیں لیگ کی حمایت حرام ہے ،اب ذرا پیر جماعت علی شاہ کا یہ فتوی بھی پڑھ لیں:
’’میں فتوی دے چکا ہوں کہ جو مسلمان مسلم لیگ کو ووٹ نہ دیں اس کا جنازہ نہ پڑھو اور مسلمانوں کی قبروں میں دفن نہ کرو ۔۔۔فقیر اپنے فتوی کا پھر اعادہ کرتا ہے کہ جو مسلم لیگ کا مخالف ہے خواہ کوئ ہو اگر مرجائے تو اس کا جنازہ نہ پڑھا جائے ،نہ مسلمانوں کی قبر وں میں دفن کیا جائے‘‘۔ (کتاب مذکور ،ص۱۴۵)
اب بریلوی جواب دیں کہ ماقبل میں ہم نے جن بریلوی علمائ کے فتوے مسلم لیگ کی مخالفت میں پیش کئےکیا ان لوگوں کو آپ نے گاندھی جی کی ارتھی کے ساتھ آگ لگادی تھی یا یہودیوں ،عیسائیوں کے قبرستان میں ان کو دفنایا ؟
بریلوی صدر الافاضل نعیم الدین مراد آبادی اعلی حضرت کے فتوے کی زد میں
’’جب ہندو اپنی حفاظت اس میں سمجھتے ہیں کہ وہ مسلمانوں کے محلوں سے علیٰحدہ ہو جائیں اور اپنے حدود علیٰحدہ کر لیں تو مسلمانوں کو یقیناً ان کے محلوں میں جانے اور ان کے ساتھ کاروبار رکھنے سے احتیاط رکھنا چاہیے۔ دونوں اپنے اپنے حدود جدا گانہ قرار دیں اور اس نقطے کو ملحوظ رکھ کر سیاسی مباحث کو طے کر لیں، یعنی ہندوستان میں ملک کی تقسیم سے ہندو مسلم علاقے جدا جدا بنا لیں تاکہ باہمی تصادم کا اندیشہ اور خطرہ باقی نہ رہے۔ ہر علاقے میں اسی علاقے والوں کی حکومت ہو، مسلم علاقے میں مسلمانوں کی اور ہندو علاقوں میں ہندوؤں کی۔‘‘ (ماہ نامہ السواد الاعظم ، مرادآباد ،شعبان المعظّم، ۱۳۴۹ء/جنوری ۱۹۳۱ء، بحوالۂ تحریکِ پاکستان اور علماء کرام، محمدصادق قصوری، ص۱۴۴ تا ۱۴۵)
ماقبل میں اعلی حضرت کا فتوی گزرچکا کہ ملک کو اس طرح تقسیم کرنا کہ ایک حصے میں کفار کا قانون ایک میں مسلم کا یہ کفر ہے ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔