ہفتہ، 13 جولائی، 2019

حقیقت محمدیہ ﷺ اور عقیدہ حاضر و ناظر

حقیقت محمدیہ ﷺ اور عقیدہ حاضر و ناظر
تحریر : مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی
(ماخوذ کتاب : عقائد اہل السنۃ والجماعۃ ،ج۱،ص۲۲۵ غیر مطبوعہ)
حقیقت محمدیہ
مغالطہ دہی میں رضاخانیوں کا کوئی ثانی نہیں اب دیکھیں کہ یہ لوگ حاضر و ناظر کے مسئلہ کو ثابت کرنے کیلئے صوفیاء کی ایک اصطلاح ’’حقیقت محمدیہ ‘‘ سے سادہ لوح عوام کو مغالطہ دیتے ہیں۔
حالانکہ حقیقت محمدیہ کو اس عقیدہ حاضر و ناظر سے کوئی تعلق نہیں ۔حقیقت محمدیہ کا مطلب یہ ہے کہ
صوفیاء کہتے ہیں کہ دیکھو عقل سوال کرتی ہے کہ جب یہ کائنات نہ تھی تو اللہ کہاں تھا ؟ تو اس کا جواب دیا گیا کہ رب تعالی نے اپنے متعلق فرمایا کہ کُنْتُ کَنْزاً مَخْفِیّاً فَأَحْبَبْتُ أَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْقَ لِأُعْرَفَ میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے محبوب رکھا کہ میں پہچانا جاؤں پھر میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ میں پہچانا جاؤں ۔اس سے معلوم ہواکہ اللہ تعالی کی ذات کائنات و خلق کی تخلیق سے پہلے بھی اپنی تمام صفات و کمالات کے ساتھ موجود تھی مگر اس ذات کو پہچاننے والا کوئی نہ تھی اکیلی ذات تھی اب جب مخلوق کی اللہ نے تخلیق کا ارادہ کیا تو اس تخلیق سے پہلے جو ظہور امر کا پہلا مرتبہ آیا ہے یعنی اللہ تعالی کے امر و ارادے کا جو پہلا ظہور ہوا وہ اللہ تعالی کی ’’حب‘‘ کا ظہور ہوا اب اس مخلوق کی تخلیق سے بیشتر اللہ تبارک و تعالی نے نبی اکرم ﷺ کی ذات مقدسہ کو پیدا فرمایا جیساکہ روایت پیش کی جاتی ہے کہ اول ما خلق اللہ نوری ایک اور روایت میں آتا ہے کہ لولاک لما خلقت الافلاک اب جب نبی اکرم ﷺ خلق کے اعتبار سے اول ہوئے اور ادھر اللہ نے فرمایا کہ میں نے محبت کی کہ میں پہچانا جاؤں تو اللہ کی جو یہ کمال حب کا ظہور ہوا تو یہ نبی اکرم ﷺ کی تخلیق کے وقت ہوا چنانچہ آپ ﷺ اللہ تعالی کے محب بھی تھے محبوب بھی تھے محبیت ذاتی اور محبوبیت ذاتی علی وجہ الاتم وہ نبی اکرم ﷺ کی ذات مقدسہ میں موجود ہے اب جو نبی کریم ﷺ کی تخلیق کا ظہور ہوا انہیں پیدا کیا گیا تو اس خلق کو صوفیاء کے ہاں ’’تعین اول ‘‘ کہا جاتا ہے مطلب اللہ تعالی نے حضور ﷺ کو سب سے پہلے تخلیق کیا اس کے بعد تمام مخلوقات کو تخلیق کیا ۔چنانچہ مجدد الف ثانی نور اللہ مرقدہ لکھتے ہیں:
’’اور حقیقت محمدیہ علیہ و علی آلہ الصلوۃ والسلام جوکہ حقیقت الحقائق ہے مراتب ظلال کے طے کرنے کے بعد اس فقیر پر آخر کار جو کچھ منکشف ہوا وہ تعین و ظہور حبی ہے جوکہ تمام ظہورات کا مبداء اور تمام مخلوقات کی پیدائش کا منشا ہے ۔مشہور حدیث قدسی میں آیا ہے کنت کنزا مخفیا فاحببت ان اعرف فخلقت الاخلق لاعرف (میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے محبوب رکھا کہ میں پہچانا جاؤں پھر میں نے مخلوق کو پیدا کیا تاکہ میں پہچانا جاؤں )سب سے پہلی چیز جو اس مخفی خزانہ سے ظہور کے تحت پر جلوہ گر ہوئی وہ محبت تھی جو کہ مخلوقات کی پیدائش کا سبب ہوئی اگر یہ محبت نہ ہوتی تو ایجاد کا دروازہ نہ کھلتا اور عالم عدم میں مستقل طور پر اپنا ٹھکانہ رکھتا حدیث قدسی لولاک لما خلقت الافلاک (اگر تو نہ ہوتا تو میں آسمانوں کو پیدا نہ کرتا ) جوکہ خاتم الرسل کی شان میں واقع کا راز اس جگہ سے معلوم کرنا چاہئے اور لولاک لما اظھرت الربوبیت ( اگر تو نہ ہوتا تو میں ربوبیت کو ظاہر نہ کرتا ) کی حقیقت کو اس مقام میں تلاش کرنا چاہئے۔
(مکتوبات ارددو،ج3،ص1609،مترجم سعید احمد نقشبندی بریلوی)
اسی بات کو عاشق رسول ﷺ حجۃ الاسلام مولانا قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے یوں بیان کیا :
سب سے پہلے مشیت کے انوار سے نقش روح محمد بنایا گیا
پھر اسی نور سے لیکر روشنی بزم کون و مکان کو سجایا گیا
وضاحت: اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ حقیقت محمدیہ خالصۃ تصوف کی اصطلاح ہے اور ظاہر ہے کہ اس پر عقیدے کی بنیاد وہ بھی اس طرح کہ جو نہ مانے وہ کافر ہے کسی طور پر بھی نہیں رکھی جاسکتی ۔
پھر اس اصطلاح کی کامل وضاحت قرآن و حدیث میں موجود نہیں جو احادیث پیش کی گئی وہ محدثین کے ہاں سخت مجروح ہیں بلکہ اس اصطلاح کی واحد مضبوط بنیا د ’’کشف‘‘ ہے چنانچہ حضرت مجدد و منور رحمۃ اللہ علیہ نے خود یہ کہہ کر :’’مراتب ظلال کے طے کرنے کے بعد اس فقیر پر آخر کار جو کچھ منکشف ہوا‘‘ اس کی وضاحت فرمادی کہ اس کا تعلق خالصتا کشف سے ہے ۔پس کسی امتی کا کشف تو ویسے ہی کسی دوسرے پر حجت نہیں چہ جائیکہ اس سے عقیدہ بنالیا جائے ۔
ثالثا حقیقت محمدیہ کی جو وضاحت ماقبل میں گزری اس سے بریلویوں کے عقیدہ حاضر و ناظر کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہم نے جتنے بھی ماقبل میں رضاخانیوں کے عقیدے نقل کئے بتائے اس میں سے کونسا عقیدہ اس اصطلاح پرمنطبق ہوتا ہے ۔اس اصطلاح سے تو صرف ظہور اول کا تعین مقصود ہے ۔اس کو ایک عام فہم آسان سی مثال سے سمجھ لیں مثلا آپ کو کوئی سفید چٹا کاغذ دے دیا جائے جس پر کسی قسم کی تحریر کوئی لکیر کوئی نکتہ نہ ہو صاف شفاف سفید کاغذ ہو اور کہا جائے کہ اس پر کچھ لکھو تو اب جو آپ پہلا لفظ لکھیں گے سمجھ لو کہ وہی ’’تعین اول ‘‘ اور اس کے بعدجن جن الفاظ کا ظہور ہوگا وہ اس تعین اول کے ظلال ہوں گے ۔اب کوئی بے وقوف اس سے یہ مفہوم اخذ کرے گا کہ وہ پہلا لفظ اب ہر جگہ حاضر و ناظر ہے دیگر تمام الفاظ کے ذرہ ذرہ کائنات میں موجود تمام کاغذوں کے ذرہ ذرہ میں وہ پہلا لفظ موجود ہے ؟۔ہر گز نہیں مگر خدا ان رضاخانیوں کو سمجھ دے جو اس کا یہی مطلب بیان کررہے ہیں۔
خامسا: حقیقت محمدیہ کی جو تعریف راقم نے نقل کی ہے وہ میری ذاتی تحقیق ہے اگر کسی کا ذوق تحقیق مزاج یا ’’کشف‘‘ اس کے خلاف ہو تو اس کو اختلاف کا مکمل حق حاصل ہے کیونکہ ولا مشاحۃ فی الاصطلاح ۔
حقیقت محمدیہ اور پیر نصیر الدین گولڑوی
پیر نصیر لکھتا ہے :
’’بعض کم علم (جیسا کہ رضاخانی۔از ناقل)حقیقت محمدیہ سے مراد رسالت مآب ﷺ کی معروف ذات لیتے ہیں جو غلط محض ہے صوفیاء کے نزدیک جب ذات بحت نے تنزل فرمایا تو اس کا سب سے پہلا تعین حقیقت محمدیہ تھا اور جب آنحضرت ﷺ نے عروج کیا تو آپ کو اس ذات عروج کی انتہاء تنزل کی ابتداء تھی معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کے عروج اور ذات باری تعالی کے نزول کا نقطہ حقیقت محمدیہ ہے‘‘۔
(راہ و رسم منزلہا،ص63,64)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔