ہفتہ، 13 جولائی، 2019

قربانی اور غریب

قربانی کے ایام میں بعض ملحدین یہ اعتراض اٹھاتے ہیں کہ اگر ہم بجائے کروڑوں روپوں کی قربانی کرنے کے بجائے یہ رقم غریبوں کو دے دیں تو اس سے کتنے گھر آباد ہوجائیں گے کچھ عرصہ قبل یہی اعتراض ایدھی صاحب نے
بھی اٹھایا تھا۔قربانی پر یہ اعتراض کرنا سراسر جہالت اور ذہبی پستی کا شاخسانہ ہے ۔حقیقت میں قربانی سے جتنا فائدہ غریب کو پہنچتا ہے کوئی دوسرا مذہب اور رفاعی ادارہ اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے ۔مختصرا ملاحظہ ہو۔سب سے پہلے قربانی کے جانو ر رکھنے کیلئے زمین درکار ہے لہذا زمین مالکان کا کاروبار شروع ہوجاتا ہے پھر اسے برابر کرنے کیلئے مٹی ،بجری ،پتھر کی ضرورت ہے کھدائی کیلئے مزدوروں مستریوں کی ضرورت ہوتی ہے ان سب کا کاروبار ان سے وابستہ ہوجاتا ہے پھر ان سب کو بمع جانوروں کے پہنچانے کیلئے ٹرانسپورٹ کی ضرورت پیش آتی ہے تو ڈرائیورز اور کلینرز کا کام شروع ہوجاتا ہے ۔صفائی کیلئے غریب خاکروبوں کی ڈیوٹیاں لگ جاتی ہیں۔پانی ،کھانا مہیا کرنے کیلئے باورچیوں ،ویٹرز کا سبزی فروش ،پھر فروشوں کا کام شروع ہوجاتا ہے ،پھر جانوروں کی سجاوٹ کیلئے سالاسال فارغ بیٹھنے والوں کی چاندنی ہوجاتی ہے چنانچہ اخبارات کی مطابق اس سال پندرہ کروڑ کا آرائشی سامان تو صرف کراچی منڈی میں بکے گا،پھر جانوروں کا چارہ بیچنے والوں ان کی کاشت کرنے والوں کا کاروبار ان کی کٹائی کرنے والے غریب کسانوں کی روزی،پھر جانوروں کو ذبح کرنے کیلئے چاقو چھری ٹوکا بنانے والے لوہاروں ،تیز کرنے والے کاریگروں کا روزگار،پھر وہ قصائی جو عید میں فارغ ہوں گے جانوروں کو کاٹنے کیلئے ان کا کاروبار،پھر جانوروں کی چربی سے صابن بنانے والوں کا روزگار،پھر کھال لینے بیچنے والوں کا روزگار ،پھر کھال پر نمک لگانے والوں کا روزگار ،پھر کھال کی مصنوعات کا روزگار، غرض ان سب لاکھوں اربوں غریبوں کا روزگار و کاروبار اس ایک قربانی سے وابستہ ہے اس قربانی کی برکت سے غور کریں کتنے غریبوں کو گھر کو چولہا جل رہا ہے ،مگر قربان جاؤں شریعت پر اسلام مزید کہتا ہے کہ بالفرض اگر اس سب میں بھی کوئی ایسا غریب رہ گیا جسے کوئی فائدہ نہ ہو تو اس کو قربانی کے گوشت کا ایک حصہ دو اس قربانی کی برکت سے پورا سال جس کو گوشت نصیب نہ ہوا وہ بھی مزے سے بہترین پکوان سے لطف اندوز ہوتا ہے ،غرض قربانی سے جتنا فائدہ غریبوں کو ہوتا ہے شائد ہی کسی دوسری عبادت سے ہو قربانی کی مخالفت کرنے والے دراصل خود غریبوں کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔
نیز ان ملحدین کو قربانی تو نظر آجاتی ہے مگر لاکھوں کے موبائل ،ٹی وی ،ویسی آر سیٹ ،پر کبھی غریب پروری کا خیال نہ آیا،ویلن ٹائن ڈے ،نیو یر نائٹ جیسے فضول پروگرامواں پراربوں روپوں کی فضول خرچی پر کبھی غریب پروری کا خیال نہ آیا ؟معلوم ہواکہ مسئلہ غریب کا نہیں مسئلہ اسلام کا ہے۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔