ہفتہ، 13 جولائی، 2019

صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کے کردار پر ایک نظر

صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار کے کردار پر ایک نظر
ساجد خان نقشبندی
قارئین کرام ! مذہب اسلام کو شروع دن سے ہی باطل فرقوں اور مذاہب کی سازشوں کا سامنا ہے ۔جنہوں نے ہر طرح سے یہ کوشش کی کہ کسی نہ کسی طرح اس مذہب کو کمزور کیا جائے انہی باطل فرقوں میں سے ایک فرقہ یا گروہ جاہل ’’صوفیاء‘‘ کا گروہ ہے ۔ جنہوں نے تصوف جیسے مقدس نام کی آڑ لیکر دین اسلام کو ایک مذاق بنادیا ہے۔انہی جاہل ، بدعتی اور گمراہ صوفیوں میں سے ایک نام
نہاد صوفی کا نام ’’مسعود احمد لاثانی سرکار‘‘ ہے ۔ جوکہ پیپلز کالونی فیصل آباد کا رہنے والاہے۔ اور نقشبندی سلسلے میںولی محمد جوکہ بریلوی امیر ملت پیر جماعت علی شاہ کا خلیفہ تھا کا مرید و خلیفہ ہے۔یہ شخص اپنے بارے میں خدائی اختیارات کا دعوی رکھتا ہے اور اپنے جھوٹے خوابوں کی بنیاد پر خود کو شریعت میں ہر قسم کی ترمیم و تنسیخ کا مجاز سمجھتا ہے۔اس شخص نے اپنے مریدوں کے جھوٹے خوابوں کو بنیاد بنا کر دین اسلام کے مقابلے میں اپنی ایک نئی شریعت ایجاد کرلی ہے ۔یہ لوگو ں کے سامنے اپنا ایک دیومالائی کردار پیش کررہاہے بقول اس کے حضور ﷺ کی نظر ہر وقت مجھ پر ہوتی ہے ، مجھ سے بیعت نبی ﷺ سے بیعت ہے میرا انکار نبی ﷺ کا انکار ہے میرا در نبی ﷺ کادر ہے ۔ معاذ اللہ۔مجھ پر اعتراض کرنے والے اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر اعتراض کرنے والے ہیں اسلئے کہ میں جو بھی بولتا ہوں جو بھی کرتا ہوں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم سے کرتا ہوں۔العیاذ باللہ۔
لیکن دوسری طرف جب ہم اس شخص کے کرادر کا تنقیدی نظر سے جائزہ لیتے ہیں تو ایک بڑی بھیانک تصویر ہمارے سامنے ابھرتی ہے کہ یہ شخص مرشد اکمل،ولی ،کمالات ، صفات و بزرگی میں ’’لاثانی‘‘ تو کیا ’’شریف آدمی‘‘ بھی کہلائے جانے کے لائق نہیں۔
سب سے پہلے ہمیں آپ حضرات کے سامنے اس شخص کا کردار پیش کرنے کی ضرورت اس لئے پیش آئی کہ ہر مصلح کیلئے ضروری ہے کہ وہ کردار کا کھرا ہو اس لئے کہ جب وہ اپنی اصلاح نہ کرسکا تو قوم اور اپنے ماننے والوں کی کیا اصلاح کرے گا؟۔خود نبی کریم ﷺ کی ذات اس سلسلے میں ہمارے لئے مشعل راہ ہے کہ جب جبل ابو قبیس میں آپ ﷺ نبوت کا دعوی کرنے کیلئے گئے تو سب سے پہلے اپنا کردار اپنی قوم کے سامنے پیش کیا اور سب نے بیک زبان ہوکر کہا کہ ہم نے آپ سے زیادہ سچا او ر امانت دار کسی کو نہ پایا آپ تو صاد ق و امین ہیں۔اب آئے ہم اسی اصول پر صوفی مسعود صاحب کا کردار آپ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور فیصلہ آپ پر چھوڑتے ہیں۔
دینی و دنیاوی لحاظ سے ناقص تعلیم
تعلیم کے لحاظ سے صوفی صاحب بالکل ناقص (صفر)آدمی ہیں۔دنیاوی تعلیم تو انہوں نے جیسے تیسے کرکے ۱۲ بارہویں جماعت تک حاصل کرلی (مرشد اکمل،ص ۳۳،نوری کرنیں،ص ۱۳۹)مگر دینی تعلیم کے متعلق ان کا کوئی ریکارڈ ہمیں میسر نہ ہوسکا کہ انہوں نے کسی دینی مکتب میں بیٹھ کر قرآن پڑھا ہو یا بنیادی دینی تعلیم حاصل کی ہو۔
(۱) مرشد اکمل
(۲) فیوض و برکات
(۳) مخزن کمالات
(۴) نوری کرنیں
(۵) میرے مرشد
یہ پانچ کتابیں خاص طور پر صوفی صاحب کی سوانح اور کمالات پر مشتمل ہیں مگر یہ تمام کتابیں ان کی دینی تعلیم کے متعلق ہمیں کوئی ریکارڈدینے سے قاصر ہیں۔البتہ اگر انہوں نے کچھ تھوڑا بہت دین کے متعلق پڑھا بھی تو وہ کسی ماہر عالم دین کے زیر سایہ رہ کر نہیں بلکہ اپنے ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر جبکہ وہ اس دوران کالج کی پڑھائی سے’’ مفرور ‘‘تھے اور’’ سگریٹ نوشی‘‘ کی لت پڑ چکی تھی چنانچہ صوفی صاحب لکھتے ہیں:
’’دنیا کی بڑھتی ہوئی بے حیائی،مادہ پرستی اور نفسانفسی کا عالم دیکھ کر دل تو دنیا سے پہلے ہی اچاٹ رہنے لگا تھا اب یہ بے رغبتی اس حد تک بڑھی کہ دنیاوی تعلیم کو بھی خیر باد کہہ دیا اور دینی کتب کا مطالعہ شروع کردیا ۔یہ مطالعہ اس قدر وسعت اختیار کرگیا کہ سینکڑوں احادیث و واقعات ازبر ہوگئے‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص:۳۴،۳۵)
سینکڑوں احادیث ازبر ہونا بھی صوفی صاحب کی کذب بیانی ہے ان کی دو کتابیں’’مرشد اکمل‘‘ اور ’’رہنمائے اولیاء‘‘ ان کی جہالت کا منہ بولتا ثبوت ہے جس میں
پچا س صحیح حدیثیں بھی مشکل سے ملیں گی۔ان دونوں کتابوں پر عنقریب ہم اپنا تجزیہ ایک الگ مضمون میں پیش کریں گے۔باقی ان کا یہ کہنا کہ دنیا کی بے حیائی سے دل اچاٹ لگنے لگا بھی صریح کذب بیانی ہے اس لئے کہ صوفی صاحب بیعت ہونے کے باجود بھی اس بے حیائی میں ملوث رہے ہیں ثبوت آگے آرہا ہے۔
صوفی صاحب کا بچپن
قارئین کرام!اولیاء اللہ کا بچپن بھی گناہوں اور دنیاوی غلاظت سے پاک ہوتا ہے اور پھر صوفی صاحب جیسے آدمی جنکا دعوی صرف ولی اللہ ہونے کا نہیں بلکہ’’لاثانی‘‘ ہونے کا ہے ان کی تو ہر ہر ادا ہر ہر پل ہر ہر لمحہ باقی دنیا سے ’’لاثانی‘‘ ہونا چاہئے مگر دوسری طرف وہ خو د اپنی کتاب میں جگہ جگہ اپنی ’’نجس‘‘زندگی کی پردہ کشائی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
’’سارا منظر میری آنکھوں کے سامنے بھی ایسے دکھائی دے رہا ہے جیسے ٹیلی ویژن کی سکرین پر منظر دکھائی دیتا ہے ۔میں یہ دیکھ کر بہت زیادہ حیران ہوا کہ آپ سرکار سے میری زندگی کا کوئی ایک لمحہ بھی پوشید ہ نہ رہایہ دیکھ کر میں آپ کے حضور معافی کا طلبگار ہوا کیونکہ بندہ بشر ہونے کے ناطے میں نے بھی اپنی زندگی میں دانستہ یا نادانستہ طور پر کئی گناہ اور غلطیاں کیں تھیں اور غلط خیالات بھی آئے تھے‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص: ۴۸)
صوفی صاحب کو نمازوں کا بھی پتہ نہیں
قارئین کرام نماز دین اسلام کا ایک بنیادی رکن ہے مگر ولیوں کے سردار ہونے کا دعوی کرنے والے اس ’’جاہل صوفی‘‘کو جوانی تک او ر بیعت ہونے کے بعد بھی نماز جیسی بنیادی عبادت کے بارے میں کوئی علم نہ تھا چنانچہ خود لکھتاہے کہ:
’’نماز فجر کا وقت ہوچکا تھا اور تھوڑی ہی دیر بعد آستانہ عالیہ پر نماز کیلئے جماعت کھڑی ہوگئی جب ہم فرض پڑھ چکے اور میں سنتوں کیلئے نیت باندھنے لگا‘‘۔
(مرشداکمل۔ص :۴۹)
غور فرمائیں اس جاہل شخص کو اتنا بھی علم نہیں کہ فجر کی سنتیں فرض سے پہلے ادا کی جاتی ہیں اور اگر کسی وجہ سے قضاء ہوجائیں تو طلوع آفتاب سے پہلے ادا کرناجائز نہیں ۔ جب سارا بچپن کسی کے ’’غلط خیالات‘‘ میں گزار دیا ہو تو نماز روزے سیکھنے کا خیال آخر کب آیا ہوگا ۔پھر یہ بھی دیکھیں کہ اس شخص کا پیر بھی وہیں موجود تھا مگر اس کو ٹوکا نہیں معلوم ہوا جیسا جاہل مرید ویسا جاہل پیر۔
صوفی صاحب نماز کے بالکل پابند نہیں
حقیقت یہ ہے کہ صوفی صاحب کو نمازوں سے کوئی رغبت نہیں ہے اور معمولی معمولی باتوں پر کئی کئی نمازوں کو قضاء کردینا صوفی صاحب کا معمول بن چکا ہے ۔ملاحظہ ہو اس سلسلے میں چند حوالے:
’’اسی رات خواب میں پیر و مرشد تشریف لائے اور تنبیہ فرمائی لوگ تجھے درویش سمجھتے ہیں اور تو نمازیں قضاء کرتا ہے ۔تونے تین فرض نمازیں قضاء کردیں یہ تونے منہ پر داڑھی کا بورڈ لگارکھا ہے‘‘۔
(مرشد اکمل ۔ص :۶۳)
صوفی صاحب کے مریدوں سے بھی ہم گزارش کریں گے کہ وہ صوفی صاحب کی داڑھی دیکھ کر ان کو نیک اور بزرگ نہ سمجھیں یہ تو بقول آپ کے داد پیر صاحب کے اس شخص نے اپنی جھوٹی درویشیت ثابت کرنے کیلئے داڑھی کا بورڈ لگایا ہوا ہے۔ایک اور حوالہ ملاحظہ فرمائیں:
’’انہی دنوں ایک مرتبہ پھر میرے ساتھ ایسا ہی ہوا کیفیات کچھ ایسی ہوتیں کہ میری تین چار نمازیں قضاء ہوگئیں۔اس کے بعد جب آستانہ عالیہ حاضر خد مت ہوا تو پیر و مرشد نے سب لوگوں کے سامنے میرا ہاتھ پکڑ کر میری کمر پر ہلکے ہلکے دو تین مکے لگائے یہاں تک کہ میرا سر دیوار سے جا ٹکرایا پھر جلال میں فرمایا:
ظالم نمازیں قضاء کرتا ہے تو نے فر ض نمازیں قضاء کردیں۔
(مرشد اکمل۔ص: ۶۴)
لیجئے فاسق فاجر تو تھا ہی یہ شخص تو خود اپنے پیر کی زبان سے’’ ظالم‘‘ بھی ثابت ہوا۔ایک اور جگہ صوفی صاحب لکھتے ہیں:
’’نماز پڑھنے کو دل نہ چاہتا کئی دفعہ تو ایسا ہوا کہ نماز کیلئے کھڑا بھی ہوگیا لیکن پوری نماز نہ پڑھی بمشکل فرض ہی ادا کرپاتا سنتیں اور نوافل نہ پڑھ پاتا‘‘ ۔
(مرشد اکمل۔ص: ۶۶)
نبی ﷺ تو فرماتے ہیں کہ نماز میری آنکھوں کی ٹھنڈک ہے نماز کو مومن کی معراج کہا جاتا ہے کہ اس عبادت میں بندہ اپنے رب سے مخاطب ہوتا ہے مگر یہ کہتا ہے کہ نماز پڑھنے کو دل ہی نہیں چاہتا ۔یہ کیسا صوفی ہے ۔؟کیا ولی ایسے ہوتے ہیں۔ ؟ خدارا اس شخص کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کریں اور اس گمراہ کے ہاتھ پر بیعت ہوکر اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔صوفی صاحب کی جماعت کے لوگوں نے ایک کتاب’’نوری کرنیں‘‘ کے نام سے شائع کی جس کے متعلق ان کا عقیدہ ہے کہ یہ نبی کریم ﷺ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالی عنہ کے حکم پر لکھی گئی آئے دیکھتے ہیں کہ اس کتاب میں بے نمازی کیلئے کیا وعیدیں ہیں:
’’جنت کے لوگ دوزخ میں جلنے والوں سے پوچھیں گے کس چیز نے تمہیں دوزخ میںڈالا۔وہ کہیں گے کہ ہم نماز نہیں پڑھتے تھے۔القرآن‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص: ۱۱۰)
’’ابو االہیث سمر قندی نے قرۃ العیون میں حضور ﷺ کا ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص فرض نماز بھی جان بوجھ کر چھوڑ دے اس کا نام جہنم کے دروازے پر لکھ دیا جاتا ہے اور اس کو اس میں جانا ضروی ہے ‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص:۱۱۰)
ہم صوفی صاحب کے مریدوں سے عرض کریں گے کہ آپ کے پیر صاحب کا نام تو جہنم کے دروازے پر لکھا جاچکا ہے جس میں وہ ہر صورت میں داخل ہونگے یہ میں نہیں کہہ رہا نبی کریم ﷺ فرمارہے ہیں اب ایک جہنمی کو اپنا امام اور پیر بنانے والے کیا خود اس کے ساتھ جہنم میں نہیں جلیں گے۔؟جو شخص خود جہنمی ہے وہ بھلا کسی اور کو جہنم سے کیا بچائے گا۔اسی کتاب میں نمازیں قضاء کردینے والوں کے متعلق بھی وعیدیں ذکر کی گئی ہیں ان کو بھی ملاحظہ فرمائیں:
’’حضور ﷺ سے نقل کیا گیا ہے کہ جو شخص نماز قضاء کردیگا وہ بعد میں پڑھ بھی لے پھر بھی اپنے وقت پر نہ پڑھنے کی وجہ سے ایک حقب جہنم میں جلے گا اور ایک حقب کی مقدار اسی (۸۰) برس ہوتی ہے اور ایک برس ساٹھ دن کا اور قیامت کاایک دن ایک بر س کے برابر ہوگا ‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص :۱۱۲)
اب فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ ایسے شخص کو جس پر جہنم واجب ہوچکی ہے پر لعنت بھیج کر کسی حقیقی اللہ والے کو تلاش کرکے اس کے ہاتھ پر بیعت ہوتے ہیں یا اس جہنمی کی اقتدء کرکے خود بھی جہنم کو اپنا مقدر بناتے ہیں
پسند اپنی اپنی امام اپنا اپنا
صوفی صاحب نماز جمعہ کی بھی پابندی نہیں کرتے
اسی کتاب نوری کرنیں میں نماز باجماعت ادا نہ کرنے والوں کے بارے میں لکھا گیا ہے کہ :
’’باجماعت نماز نہ پڑھنے والوں کیلئے وعید۔۔۔کافروں اور
منافقوں کا فعل‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص: 114)
اس کے بعد ایک حدیث نقل کی گئی اور اس کی تشریح میں لکھا کہ:
’’اس حدیث پاک میں نماز باجماعت ادا نہ کرنے والوں کو کافر اور منافق کہا گیا ہے گویا مسلمان سے یہ بات ہوہی نہیں سکتی‘‘۔
(نوری کرنیں،ص 115)
اور آگے ایک اور حدیث نقل کی کہ :
’’آدمی کی بد بختی کیلئے یہ کافی ہے کہ موذن کی آواز کو سنے اور نماز کو نہ جائے‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص: 115)
ان حوالوں سے مندرجہ ذیل امور واضح ہوئے کہ :
(۱) نماز باجماعت ادا نہ کرنے والا کافر ہے۔
(۲) منافق ہے۔
(۳) مسلمان سے اس قسم کا گناہ ہوہی نہیں سکتا۔
(۴) ایسا شخص بدبخت ہے۔
اب آئے نماز باجماعت کے متعلق لاثانی انقلاب کے پیر و مرشد کا حال بھی معلوم کرلیں اس فرقے کی ایک کتاب ’’مخزن کمالات‘‘ ہے اس میں یہ لوگ اپنے پیر کی مدح سرائی میں ایک واقعہ لکھتے ہیں مگر حقیقت میں اپنے ہاتھوں سے اپنے پیر کے چہرے سے صوفیت کا جعلی نقاب نوچ کر اس کا اصل چہرہ عوام کے سامنے ظاہر کردیتے ہیں اور لکھتے ہیں کہ:
’’ ایک آدمی جمعہ کے دن آیا ۔ اس نے دیکھا کہ سرکار نے اپنے آستانہ عالیہ میں اکیلے ہی نماز جمعہ ادا کی ۔ اور کہا یہ کیسا پیر ہے جو دوسروں کو تو نماز باجماعت کی تلقین کرتا ہے خود اکیلا نماز ادا کرتا ہے ۔ اس کے بعد اس آدمی نے لنگر کھایا اور گھر چلا گیا ۔ اس رات تقریبا ً چار ، پانچ بجے کے قریب وہ آدمی آستانہ عالیہ پر آیا وہ بہت گھبرایا ہوا تھا ۔ لوگوںنے پوچھا تمہارے ساتھ کیا مسئلہ پیش آیا تو اس نے اپنا واقعہ سنایا اور پھر کہا کہ جب میں گھر جا کر سویا ہوں تو کیا دیکھتا ہوں کہ میرے آقا رحمۃ اللعا لمین حضور ﷺ تشریف لائے ، آپ ﷺ کو دیکھتے ہی میرا دل باغ باغ ہوگیا ، میں اپنے مقدر پر ناز کرنے لگا لیکن اگلے ہی لمحے میں نے جو سنا اس سے میری ساری خوشی خاک میں مل گئی ، آپ ﷺ نے فرمایا تم کون ہوتے ہو لاثانی سرکار پر اعتراض کرنے والے ، لاثانی سرکار نے تو کل نماز جمعہ ہمارے ساتھ پڑھی ہے روحانی طور پر‘‘۔
( مخزن کمالات۔ ص: 122)
نوری کرنیںمیں لکھا کہ جماعت سے نماز نہ پڑھنے والا کافر منافق بد بخت ہے اور یہاں خود واضح کردیا کہ صوفی مسعود جماعت کا پابند نہیں و ہ بھی جمعہ جیسے عظیم الشان اجتماع کا پس ثابت ہوا کہ صوفی مسعود :
(۱) منافق
(۲) کافر
(۳) بدبخت
(۴) بے دین ہے۔
اور ظاہر بات ہے کہ ایک کافر منافق بد بخت کبھی بھی نبی کریم ﷺ کا محبوب نہیں ہوسکتا لہٰذا خواب میں نبی کریم ﷺ کا تشریف لانا سراسر جھوٹا اور من گھڑت واقعہ ہے یوں لاثانی فرقے کے لوگ گستاخ رسول ﷺ اور کذا ب بھی ہوئے۔
صوفی صاحب نشے کے بھی عادی ہیں
صوفی صاحب کو چونکہ بچپن سے کوئی دینی ماحول نہیں ملا اس لئے آوارہ گر د دوستوں کی صحبت میں رہ کر صوفی صاحب بہت سی معاشرتی برائیوں میں بھی ملوث ہوگئے تھے انہی برائیوں میں سے ایک برائی نشہ کرنے کی عادت بد بھی ہے چنانچہ صوفی صاحب اپنی اس عادت کے متعلق خود لکھتے ہیں کہ:
’’کوئی بھی ایسا شخص جو پان ،بیڑی،حقہ ،سگریٹ یا تمباکو پینے والا اور بغیر داڑھی والا ہو ختم خواجگاں کی محفل میں نہیں بیٹھ سکتا تھابیعت کے ابتدائی دنوں کی بات ہے کہ کئی مرتبہ ایسا ہوا کہ جب میں آستانہ عالیہ جاتا اور وہاں ختم خواجگاں کی محفل کاوقت ہوتا تو دیکھتا جو کوئی پان،سگریٹ ،حقہ ، تمباکو پینے والا ہوتا خود ہی محفل سے الگ ہوکر ایک طرف جاکر بیٹھ جاتا میری چونکہ ابھی داڑھی بھی نہیں تھی اور میں سگریٹ پیتا تھا اس لئے ایک طرف جاکر بیٹھ جاتا‘‘ ۔
(مرشد اکمل۔ص: ۵۳،۵۴)
اس حوالے میں خود صوفی صاحب نے صاف اقرار کیا ہے کہ وہ نہ صرف داڑھی منڈھے فاسق فاجر تھے بلکہ سگریٹ پینے کے عادی بھی تھے۔
ایک او ر جگہ لکھتے ہیں کہ:
’’سب سے بڑی بات کہ میں سگریٹ پیتا تھا اور میری داڑھی بھی نہیں تھی پس میں نے اس وقت کچھ پس و پیش سے کام لینا چاہا تو آپ نے فرمایا
بابوجی !ہم جو کہہ رہے ہیں آپ امامت کراؤ جی
’’پس میں نے آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے امامت کرائی‘‘ ۔
(مرشد اکمل۔ص: ۵۵)
یہاں صوفی صاحب کے مرشد کی بد بختی دیکھئے کہ ایک چرسی موالی اور داڑھی منڈھے فاسق فاجر کو نماز کا امام بنادیا اورسب کی نمازیں خراب کردیں جبکہ فقہاء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ فاسق خاص کر داڑھی منڈھے کے پیچھے نماز پڑھنا اور اس کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے او ر پھر بنایا بھی تو صوفی مسعود جیسے شخص کو جو نہ صرف فاسق فاجر بلکہ جاہل بھی جس شخص کو فجر کی نماز پڑھنا نہ آتی ہو وہ امامت کیا خاک کروائے گا؟۔
صوفی صاحب کی والدہ بھی اپنے بیٹے کے کرتوتوں سے بیزار
ہر وقت کی آوارہ گردی اور نشے کی لت نے صوفی صاحب کی ماں کو بھی صوفی صاحب سے بیزار کردیا تھا چنانچہ نوری کرنیں میں ہے کہ :
’’آپ کی والدہ محترمہ آپ کے ہمراہ آستانہ عالیہ (ملتان شریف)حاضر خدمت ہوئیں تو حضور میاں صاحب سے شکایتاً عرض کی حضور! یہ کوئی کاروبار نہیں کرتا اور سگریٹ پیتا ہے آپ ہی اسے کچھ سمجھائیں‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص: ۱۴۹)
بلکہ اس شخص کی حرکتوں سے تو اس کاپورا خاندان ہی بیزا رتھا چنانچہ صوفی صاحب اپنے
بار ے میں خاندان اور برادری کے تاثرات ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں کہ:
’’یہ نشہ بھی کرتا ہے اور جوا ء بھی کھیلتا ہے کیونکہ ہر وقت نشے کی حالت میں رہتا ہے‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص: ۵۹)
صوفی صاحب زنا کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے
صوفی صاحب کی زندگی پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شخص کو کسی عورت کے ساتھ زناء کرنے میں ذرا بھی شرم محسوس نہیں ہوتی اور جہاں اس کو موقع ملتا ہے یہ شخص اپنی ہوس بجھانے کی کوشش کرتا ہے چنانچہ خود لکھتا ہے کہ:
’’ایک دن جب گرمی بہت زیادہ تھی۔سب اپنے اپنے گھروں میں آرام کررہے تھے ۔اس وقت بازار کی رونقیں بھی گرمی کی وجہ سے ماند پڑی ہوئیں تھیں ۔ میں غلہ منڈی اپنی دکان پر اکیلا تھا۔اتنے میں ایک گانے بجانے والی عورت وہاں آئی۔شیطان نے مجھے ورغلایا اور اسے دیکھ کر میری نیت میں فتور آگیا تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے میں نے فعل بد کا ارادہ کیا اور اس کی مرضی سے اسے اندر لے آیا ۔اندر آکر میں نے دروازے کی کنڈی لگالی ۔پھر جیسے ہی میں نے غلط ارادے سے اس کی طرف ہاتھ بڑھایا اسی وقت میں نے دیکھا کہ پیر و مرشد چادر والی سرکار تیزی سے آستانہ عالیہ سے پرواز کرتے ہوئے وہاں تشریف لائے آپ نے مجھے ایک زور دار تھپڑ رسید کیا اور بڑے جلال میں فرمایا
’’او کتے یہ کیا کررہا ہے تو‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص: ۹۲)
العیاذ با اللہ غور فرمائیں یہ ہے کہ اس شخص کا اصل مکروہ چہرہ محترم قارئین اللہ کا ولی تو وہ ہوتا ہے کہ جو تنہائی میںبھی اللہ کا خوف دل میں رکھے اسے یہ احساس ہو کہ اگر میں لوگوں کی نظروں سے چھپ بھی گیاتو میرا رب تو مجھے دیکھ رہا ہے ۔۔مگر اس جعلی ولی کو دیکھیں کہ جیسے ہی تنہائی میں موقعہ ملا فورا اپنی خباثت پر اتر آیا ۔یہ تو صر ف ایک واقعہ ہے جو اس شخص نے ذکر کیا اور یہاں بقول اس شخص کے پیر نے اسے بچالیا غور فرمائیں بیعت ہونے سے پہلے اس شخص نے کیا کیا گل کھلائے ہونگے۔
پھر اس کا جھوٹ دیکھیں کہ میں نے دیکھا کہ چادر والی سرکار اپنے آستانے سے اڑ کر آرہے ہیں خود فیصل آباد کے ایک بند کمرے میں بیٹھا ہوا ہے اورمنظر ملتان کا دیکھ رہا ہے پیر ملتان سے اڑتے ہوئے اس کو نظر آگیا لعنۃ اللہ علی الکاذبین جھوٹ بولنے کیلئے بھی سلیقہ چاہئے ۔پھر لاثانی سرکا ر کا عقیدہ ہے کہ جو اللہ کا ولی بولے وہی حق سچ ہوتا ہے اور اسے کوئی ٹال نہیں سکتا یہاں اس کے پیر نے صاف لفظوں میں اسے ’’کتا ‘‘ کہا اب لاثانی کے مرید خود فیصلہ کریں کہ وہ ایک ’’کتے‘‘ کی پیروی کررہے ہیں یا کسی ’’ولی اللہ‘‘ کی؟۔
پسند اپنی اپنی امام اپنا اپنا
مگر یہاں صوفی صاحب کہہ سکتے ہیں کہ آپ مجھے کیوں کوس رہے ہیں میں نے تو جس شخص کے ہاتھ پر بیعت کی ہے وہ خود آدھی آدھی رات کو اپنی مریدنیوں کو ’’فیض‘‘ دینے پہنچ جاتا تھا چنانچہ صوفی صاحب اپنے پیر کے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’حضرت چادر والی سرکار کی مرید ایک عورت (جس پر آپ کی بہت نظر کرم ہے)وہ بتاتی ہیں کہ آپ سرکار روزانہ تہجد کے وقت اس سے ملنے کیلئے جسم سمیت تشریف لاتے ہیں کچھ دیر قیام فرماتے ہیں اور پھر اس کے بعد واپس تشریف لے جاتے ہیں اور اس پر یہ کرم کافی عرصہ سے جاری ہے‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص:۱۴۴)
کیوں صوفی صاحب ایک غیر محرم عور ت کے پاس آدھی رات کے بعد آپ کے پیر صاحب کونسا ’’کرم ‘‘ کرنے جاتے ہیں اور یہ ’’نظر کرم‘‘کس کس طرح ہوتی ہے صاف صاف بتائے گا ۔معذرت کے ساتھ کیا آپ کسی اور کو بھی یہ اجازت دیں گے کہ وہ بھی آدھی رات کو ’’جسم سمیت‘‘ آکر آپ کی زوجہ صاحبہ پر اسی طرح نظرم کرم کرے۔؟یا یہ کرم فرمائیاں صرف دوسروں کی ماں بہنوں کیلئے ہیں۔؟
شرم تم کو مگر نہیں آتی
قارئین کرام! حقیقت یہ ہے کہ صوفی صاحب کے نزدیک بزرگی نام ہی معاذ اللہ عورتوں سے منہ کالا کروانے کا ہے۔چنانچہ صوفی صاحب کے ایک مرید نے صوفی صاحب کے کمالات پر ایک کتاب لکھی جس میں ایک بزرگ کا واقعہ لکھتے ہیں کہ:
’’پیر صاحب وہ شراب لے کر اپنے حجرے میں چلے گئے اور کچھ دیر بعد مخمور سے باہر تشریف لائے اور مرید سے کہنے لگے میرا دل چاہتا ہے کہ کوئی خوبصورت عورت ہو ،کیا تم کسی کو لاسکتے ہو ،وہ مرید اپنے گھر گیا کہ اس کی نئی شادی ہوئی تھی اور بیوی بھی بے حد خوبصورت تھی کہنے لگا آج تک تم سے کوئی بات نہیں منوائی زندگی میں پہلی مرتبہ ایک بات منوانا چاہتا ہوں کہ آج پہلی مرتبہ میرے پیر صاحب نے ایسی خواہش کا اظہار کیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی ہو،میری گزارش ہے کہ خوب بن سنور کر اور سنگھار کرکے میرے ساتھ چل اور پیر صاحب تجھے جو بھی حکم دیں اس میں کسی طرح بھی سرتابی نہ کرنا اس نے اپنی بیوی کو پیر صاحب کی خدمت میں پیش کردیا پیر صاحب نے پوچھا یہ کون ہے کہنے لگا حضور ہی کی لونڈی ہے پیر صاحب سمجھ گئے کہ یہ اس کی بیوی ہے۔انہوں نے پوچھا کہ کیا کوئی بازاری عورت نہیں ملی تھی۔ مرید نے جواب دیا کہ میری غیرت نے گنوار ا نہ کیا کہ کوئی بازاری عورت لے کر آؤں اور یہ کہ مجھے تو یہ بہت زیادہ خوبصورت لگتی ہے پیر صاحب کہنے لگے کہ ہاں ہے تویہ بہت خوبصورت اور اسے اپنے حجرے میں لے گئے اور اسے حجرے میں بٹھا کر فورا ہی باہر تشریف لے آئے تو دیکھا کہ مرید نماز میں تھا،آہٹ محسوس کرکے اس نے سلام پھیر دیا اور پریشان ہوکر عرض کرنے لگا کہ حضور کیا ہوا؟آپ باہر کیوں تشریف لے آئے ۔انہوں نے فرمایا کہ پہلے یہ بتاؤکہ تم کونسی نماز پڑھ رہے تھے ۔مرید کہنے لگا کہ میں تو سجدہ شکر ادا کررہا تھا کہ آپ نے میری خدمت قبول کرلی۔بزرگ نے ارشاد فرمایا تمہیں یہ خیال نہیں آیا کہ یہ سب گناہ کبیرہ ہے میں کیسے یہ سب کچھ کر سکتا ہوں ؟۔اس شخص نے عرض کی حضور میرا ایمان ہے کہ بڑے سے بڑا شرابی،زانی،فاسق ،فاجر،شخص خواہ کافر ہی کیوں نہ ہو اگر آپ اس کے سر پر ہاتھ ہی رکھ دیں تو وہ آپ کی ذا ت بابرکات کے طفیل ہی بخش دیا جائے گا تو خود آپ کو کیسے اللہ تعالی ان گناہوں پر گرفت کریگا‘‘۔
(میرے مرشد ۔ص: ۱۳۹،۱۴۰)
غور فرمائیں دین اسلام اور اس کے ماننے والوں کے ساتھ کس قدر کھلا مذاق ہے یہ بدبخت اپنی بیوی زنا کیلئے پیر کے سامنے پیش کررہا ہے کیا یہ کھلی بے غیرتی نہیں۔۔۔؟؟؟پیر کیلئے بازاری عورت لانے پر تو اس دیوث کو غیرت آئی مگر پیر سے اپنی بیوی کا منہ کالا کرواتے ہوئے اس کو غیرت نہیں آتی،اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں کہ لاطاعۃ المخلوق فی معصیۃ الخالق خالق کی نافرمانی میں مخلوق کی اطاعت جائز نہیںمگر یہ بد بخت نہ صرف زناء کروانے پر تیار بلکہ اس پر خدا کا شکر کرتے ہوئے شکرانے کے نوافل ادا کررہا ہے جو کھلا اور صریح کفر ہے عقائد کی کتابوں میں یہ بات مصرح ہے کہ اگر گناہ کبیرہ کوحلال سمجھ کر کیا جائے تو مرتکب اور اس کا اعتقاد رکھنے والا کافر ہوجاتا ہے مگر یہ بدبخت تو نہ صرف حلال سمجھ رہا ہے بلکہ اس پر خدا کا شکر بھی ادا کررہا ہے العیاذ باللہ۔پھر کہتا ہے کہ پیر صاحب اگر کافر کے سر پر بھی ہاتھ پھیر دیں تو اس کی بخشش ہوجائے گی جبکہ اللہ تو فرماتا ہے کہ
اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَ َیغْفِرُ مَادُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ
اللہ شرک کرنے والے کو تو معا ف نہیں کرے گا اس کے علاوہ جس کو چاہے معاف کردے
مگر یہ بدبخت کہتا ہے کہ نہیں یہ قول درست نہیں میرا پیر تو اگر کسی مشرک کافر کے سر پر صرف ہاتھ پھیر دے تو اس کی بھی بخشش ہوجائے میرے نبی ﷺ تو کفار مکہ کیلئے ساری ساری رات روتے رہے ان کی مغفرت نہ ہو مگر اس کا پیر صرف ہاتھ پھیر دے تو مغفر ت ہوجائے پھر یہ کہنا بھی کس قدر جہالت ہے کہ اللہ پیر صاحب کو زناء کرنے پر بھی کوئی سزا نہیں دیگا معاذ اللہ کیوں۔؟ْکیا پیر صاحب نے اللہ سے کوئی وعدہ لے رکھا ہے کہ جو چاہے کرو ۔؟کیا تم نے معاذ اللہ، اللہ کو ظالم سمجھا ہوا ہے یا کمزور کہ اللہ عام مخلوق کو تو عذاب دے اور آپ کے پیر صاحب چونکہ اللہ سے بھی معا ذ اللہ زیادہ طاقتور ہیں اس لئے وہ چاہے زناء کرے چاہے شراب پیئے اس سے کوئی پوچھنے والا نہیں۔
آخر اس جھوٹی حکایت کو بیان کرنے کا مقصد کیا ہے؟؟؟یہی نہ کہ صوفی صاحب کے مریدو! اپنے پیر کی اطاعت اس مرید کی طرح کرنا صوفی لاثانی جب شراب مانگے تو بلا چوں و چراں لے آنا جب ان کو دل قوم کی بہو بیٹوں کی عزت کو تار تار کر نے کی خواہش کرے تم اپنی بہو بیٹیوں اور بیویوں کو صوفی صاحب کی خدمت میں پیش کردینا ہر صورت اس کی اطاعت کرنا اعتراض ہر گز نہ کرنا اس لئے کہ اگر وہ تمہارے گناہ بخشواسکتا ہے تو اپنے گناہوں پر اس سے باز پرس کرنے والا کون ہے۔۔؟؟؟العیاذ باللہ
صوفی صاحب خدا کاخوف کریں ایک دن مرنا ہے اللہ کو منہ دکھانا ہے یہ کونسا دین ہے جوآپ اپنے مریدوں کو سکھارہے ہیں۔۔۔؟؟؟کیا آپ نے بھی اپنی بہن بیوی کو کبھی پیر کے سامنے ان مقاصد کیلئے پیش کیا ہے۔۔؟؟؟ہم ایسے پیروں پر ہزا ربار لعنت بھیجتے ہیں۔
سادگی یا عیاشی
صوفی صاحب کی سادگی کے بارے میں ان کے مرید رقمطراز ہیں کہ:
’’عام اور سادہ لباس زیب تن فرماتے ہیں‘‘ ۔(نوری کرنیں۔ص: ۱۵۱)
اب ذرا اس سادگی کی ایک جھلک خود صوفی صاحب کی زبانی ملاحظہ فرمالیں:
’’ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رنگ دار چیزیں فیشن کے طور پر استعمال کرتا ہوں ، میں نے اپنی مرضی اور خواہش سے نہیں بلکہ اللہ و رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کے حکم سے شروع کیا ہے۔ آج سے کئی سال پہلے میرے مالک و معبوداللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ’’ تم سرخ ، سبز ، سیاہ ، سفید ، سنہری ، گولڈن ، اور جو گیا رنگ پہنا کرو ۔ ‘ پھر چند سال بعد اللہ تعالیٰ شانہ‘ نے دوبارہ کرم فرماتے ہوئے ارشاد فر مایا : ’’ اپنے پرانے کپڑے اور جوتے استعمال نہ کیا کرو ، یہ تقسیم کردیا کرو ، ہم چاہتے ہیں کہ تمہارا لباس ، جوتا ، رہائش کی جگہ اور دیگر استعمال کی چیزیں برتن ، بستر وغیرہ بہت اچھے ، بیش قیمت ہوں ‘‘۔
(راہنمائے اولیا ء معہ روحانی نکات۔ ص :۲۳۲)
یہ کتنا بڑا اللہ تعالیٰ کی ذات پر بہتان عظیم ہے کہ جو حکم اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کو تو دیا نہیں یہ کہتا ہے کہ مجھ کویہ حکم ہوا ۔ احادیث مبارکہ میں مردوں کو سرخ کپڑا پہننے کی ممانعت موجود ہے اس کے برعکس یہ کیسے شریعت کی مخالفت کررہا ہے حدیث مبارکہ سے تو ثابت ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا لباس سادہ ہوتا تھا ، تکلف سے پاک بسا اوقات پرانا پیوند لگا ہوا ۔ مگر صاف ستھرا ، اور اکثر خوشبو سے معطر ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ وسلم کا ارشاد تھا جب تک پیوند نہ لگوالیا جائے ، کپڑا نہ اتارا جائے ۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہٖ و سلم نے جن کپڑوں میں وفات پائی وہ موٹے کپڑے تہہ بہ تہہ پیوند لگے ہوئے تھے ۔ (تاریخ اسلام کامل ص : ۴۳ ، ۴۴ ، ۴۵ از حضرت مولانا محمد میاں صاحب ؒ ) ۔ جس شخص کی زندگی شریعت کی تعلیمات کے برعکس ہے ، وہ کیسے پیر ہو سکتا ہے …؟
حضرت امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’زاہد کو ایک کپڑے سے زائد نہ رکھنا چاہئے حتی کہ جب اس کپڑے کو دھوئے تو ننگا ہو اگر آدمی کے پاس دو کپڑے ہونگے تو زاہد نہیں ہے کمتر لباس ایک کڑتا ٹوپی او ر جوتا ہے اور اکثر لباس یہ ہے کہ ایک پگڑی اور ازار بھی ہو اور جنس لباس میں ٹاٹ ادنی ہے اور موٹا پشمینہ متوسط اور روئی کا موٹا کپڑا اعلی ہے اگر باریک اور نرم کپڑے کا لباس ہوگا تو پہننے والا زاہد نہ رہے گا ۔جناب سلطان االانبیاء علیہ السلام نے جس وقت انتقال فرمایا تم ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ ایک کملی اور ایک موٹا تہبند لائیں اور فرمایا کہ حضرت ﷺ کا یہی لباس تھا‘‘۔
اور مزیدی فرماتے ہیں کہ:
’’حضرت امیر المومنین رضی اللہ تعالی عنہ کے کپڑے پر ۱۴ پیوند لگے ہوتے تھے‘‘۔
(کیمیائے سعادت:ص ۵۱۰مترجم)
حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’عمدہ اور نفیس پہننااور اس کے ساتھ مزین کرنا اور اس پر فخر و مباحات کرنا صاحبان شرف و جلالت کے شایان شان نہیں بلکہ عورتوں کی صفات اور انکی نشانیاں ہیں‘‘۔
(مدارج النبوۃ:ج۱:ص ۷۸۳)
حضرت عمر و بن العاص رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ:
’’مجھے نبی کریم ﷺ نے دو زرد رنگ کے کپڑوں میں دیکھا تو فرمایا تیری والدہ نے یہ پہنے کا حکم دیا میں نے عرض کیا کہ میں اسے دھو دوں آپ نے فرمایا بلکہ انہیں جلا دو ‘‘۔
(حلیۃ الاولیاء:ج:۲:ص ۳۵۸)
حضور ﷺ نے تو رنگ برنگے کپڑوں کو جلا دینے کا حکم دیں مگر یہ صوفی کہتا ہے کہ مجھے وحی آئی ہے کہ رنگ برنگے کپڑے پہنو ۔لباس کے بارے میں ایک طرف بزرگان دین کے مندرجہ بالا اقوال ہیں تو دوسری طرف صوفی صاحب کی شیطانی وحیاں آپ فیصلہ آپ نے کرنا ہے کہ آپ نے کس کو ماننا ہے۔
پیر صاحب وظائف و درود شریف کے پابند نہیں
صوفی صاحب اپنے بارے میں بزرگان کا شکوہ نقل کرتے ہیں کہ:
’’نہ ہی (اس صوفی نے ۔از ناقل) دوسروں سے زائد مصائب برداشت کئے ہیں اور نہ ہی اپنے پیر و مرشد کے بتائے ہوئے وظائف پر مسلسل باقاعدگی سے عمل کیا اور نہ ہی درود شریف (مرشد کی بتائی ہوئی تعداد ) میں پڑھاکیونکہ اس کی تسبیح کے بارہ دانے کم ہیں‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص:۱۲۹)
غور فرمائیں جو شخص خود اتنا سست اور کاہل ہو کہ اپنے شیخ کے بتائے ہوئے وظائف بھی
پور ے نہ کرسکتا ہو وہ بھلا آپ کو ذکر کی پابندی کیسے کروائے گا۔پھر ایک طرف تو لاثانیوں کا دعوی ہے کہ صوفی صاحب کا مرید دنیا میں جہاں کہیں بھی ہو جس حال میں ہو صوفی صاحب کو پتہ چل جاتا ہے اور وہ ان کی مدد کو پہنچ جاتے ہیں جبکہ اپنا حال یہ ہے کہ ہاتھ میں پکڑی ہوئی تسبیح کے دانوں کی بھی خبر نہیں؟
صوفی صاحب اپنے دادا پیر کے نافرمان
صوفی صاحب کے داد پیر ،پیر جماعت علی شاہ صاحب کے بارے میں آتا ہے کہ :
’’کسی کو قدم بوسی کی بھی اجازت نہ دیتے تھے اور سختی سے منع کرتے تھے اگر کوئی شخص مصافحہ کی بجائے پاؤں کی طرف جھکنے لگتا تو تنبیہ کرتے کہ ’’سنت ترک کرکے حرام فعل کا ارتکاب کرتا ہے اور مجھے بھی گناہ گار کرنا چاہتا ہے ‘‘۔
(سیرت امیر ملت :ص ۱۰۷)
جبکہ صوفی صاحب نے قدم بوسی کے جواز پر پورا ایک صفحہ لکھ مارا اور اپنے پیر کا یہ قول بھی نقل کردیا کہ :
’’قدم بوسی جائز ہے ،قدم بوسی جائز ہے‘‘۔(رہنمائے اولیاء مع روحانی نکات۔ص :۲۴۰)
دادا پیر کہتا ہے کہ قدم بوسی حرام ہے گناہ ہے جبکہ پیر صاحب کہہ رہے ہیں کہ جائز ہے جائز ہے اب اس میں سچاکون ہے اور جھوٹا اس کا استفسار آپ خود صوفی صاحب سے کریں۔
صوفی صاحب گھونگھٹ پہنے ہوئے
صوفی صاحب کے ایک مرید نے نہ معلوم کب زنانہ حالت میں صوفی صاحب کو دیکھ کر بے اختیار یہ شعر کہہ ڈالے
ساقی تیرا پردہ گوارا نہیں ہے کیوں گھونگھٹ ابھی تک اتارا نہیں ہے
یہ پلکوں سے چلمن ہٹا دو صدیقی ہمیں بھی تو جلوہ دکھا دو صدیقی
تھوڑا سا آنچل اٹھا دینا کافی ساقی کا پلکیں ہلا دینا کافی
ذرہ سا یونہی مسکرا دو صدیقی ہمیں بھی تو جلوہ دکھا دو صدیقی
(لاثانی کرنیں۔ص:۱۰۱)
صوفی صاحب گلیوں کا کوڑا کرکٹ
صوفی صاحب کی حقیقت کیا ہے یہ خود ان ہی زبانی ملاحظہ فرمالیں:
’’میں گلیاں دا روڑا ،کوڑا مینوں محل چڑھایا سائیاں
(نوری کرنیں۔ص:۱۵۱)
قارئین کرام! الحمد للہ اختصار کے پیش نظر آپ کے سامنے صوفی لاثانی کے کردار پر یہ چند حوالے ہم نے پیش کئے جو خود اس کی جماعت کی کتابوں میں موجود ہیں جو ببانگ دہل یہ اعلان کررہے ہیں کہ یہ شخص اللہ کا ولی یاپیر فقیر نہیں بلکہ ایک بدمعاش ،غنڈہ فراڈی ، شرابی،کبابی،چرسی ،موالی اور زانی عیاش آدمی ہے ۔آپ کے سامنے ا س شخص کا اصل کردار لانے کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ لوگ اس فتنے سے باخبر ہوجائیں اور اپنی آخرت کو برباد ہونے سے بچالیں۔صوفی مسعود احمد صدیقی لاثانی سرکار لوگوں کے سامنے ایک نیا دین پیش کررہا ہے ۔ صوفی مسعود احمد کے بتائے طریقوں پر چلنا اپنے لئے جہنم میں محل تعمیر کروانا ہے لہٰذا خدار ا اپنی آخرت برباد ہونے سے بچائیں اور اس شخص پر لعنت بھیج کر کسی صحیح اللہ والے کو ڈھونڈے جو پوری طرح شریعت محمدی ﷺ پر کاربند ہو اور اس کے ہاتھ پر بیعت کرکے اپنی باطنی اصلاح کروائیں۔یہاں میں حضرت عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی زبان میں ان جاہل صوفیوں سے مخاطب ہوں گا کہ:
’’اے پیران طریقت تم آج کے بعد صور اسرافیل کا انتظار کرو کہ تمہاری فرد جرم تمہارے سامنے لائی جائے اور تم اپنا نامہ اعمال کو ندامت کے آئینہ میں دیکھ سکو تمہاری تسبیح کا ایک ایک دانہ تمہارے فریب کا آئینہ دار ہے تمہاری دستار کے پیچ و خم میں ہزاروں پاپ جنم لیتے ہیں اور تم انہیں دیکھتے ہو مگر تمہاری زبانیں گنگ ہیں اور ان کی موت پر آنسو تک نہیں بہتے وقت کا انتظار کرو کہ شائد تمہاری پیشانیوں کے محراب کی سیاہی تمہارے چہروں کو مسخ کردے اور تمہارا یہ نام نہاد زہد و تقوی تمہاری رسوائی کا باعث بن جائے‘‘۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔