ہفتہ، 13 جولائی، 2019

روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والا کا مضمون سید البطحاءحضرت ابو سفیان رضی اللہ عنہ

روزنامہ اسلام میں شائع ہونے والے استاذ محترم کا مضمون
سید البطحاءحضرت ابو سفیان؄
ساجد خان نقشبندی(مدرس جامعہ مدنیہ)
حضرت ابو سفیان؄ کا شمار جلیل القدر صحابہ میں ہوتا ہے ۔اسلام لانےکے بعد آپ ؄ نے اپنی اولاد سمیت اسلام کی ترویج میں بھرپور حصہ لیا ۔ یہ اسلام ہی سے محبت تھی کہ آپ نے اس دین کی خاطر غزوہ طائف اور پھر جنگ یرموک میں اپنی دونوں آنکھیں گنوادیں ۔اسلام آپ میں اور آپ کی اولاد میں کس قدر رچ بس گیا تھا اس کا اندازہ کرنے کیلئے آپ کی بیٹے حضرت امیر معاویہ ؄ہی کافی ہیں۔ جنہیں نے آدھی دنیا پر اسلام کا ڈنکا بجادیا تھا اور اسلامی سرحدوں کے اندر خانہ جنگی کا مکمل خاتمہ کردیا تھا۔افسوس کہ
بہت سے لوگ آپ ؄ کی سیرت سے واقف نہیں ۔اس لئے بندہ یہاں مختصر آپ کا تعارف کرانے کی سعادت حاصل کررہا ہے ۔
آپ کا پورا نام :
صخر بْن حرب بْن أمية بْن عبد شمس بْن عبد مناف بْن قصي بْن كلاب بن مرة ابن كعب بْن لؤي، أَبُو سفيان القرشي الأموي
آپ کی کنیت:
مشہور کنیت تو ابو سفیان ہے مگر ایک غیر معروف کنیت ابو حنظلہ بھی ہے ۔غسیل ملائکہ حضرت حنظلہ ؄آپ ہی کے بیٹے تھے۔
(اسد الغابۃ جلد دوم ،ص۳۹۲)
آپ کی پیدائش:
عام الفیل سے دس سال قبل آپ کی ولادت ہوئی۔یوں آپ حضور ﷺ سےعمر میں دس برس بڑے تھے۔
اسلام کیلئے خدمات:
فتح مکہ کے دن اسلام لانے کے بعد آپ؄ حضور ﷺ کے ساتھ غزوہ حنین و طائف میں شریک ہوئے ۔غزوہ حنین کے دن آپ کو نبی کریم ﷺ نے مال غنیمت میں سے سو اونٹ اور چالیس اوقیہ چاندی دی ۔اور اتنا ہی آپ کے دونوں نامور بیٹوں حضرت یزید؄ اور معاویہ؄ کو بھی دیا۔،آپ کو نبی کریم ﷺ نے اپنی زندگی ہی میں نجران کا والی بنادیا تھا۔
(اسد الغابہ ،ج۲،ص۳۹۲،الاستیعاب ،ص۲۱۵)
آپ؄ کے اوصاف و کمالات:
آپ؄ کاشمار سرداران قریش میں اور وہاں کے بڑے تاجروں میں ہوتا۔شام میں مال تجارت فروخت کرتے۔زمانہ جاہلیت میں جن تین افراد کی رائے کو سب پر ترجیح دی جاتی ان میں ایک آپ بھی تھے۔(اسد الغابہ ،ج۵،ص۱۴۸)
علامہ ابو نعیمؒ جب حضرت ابو سفیان ؄ کا ذکر کرتے ہیں تو بے ساختہ فرماتے ہیں:
سَيِّدُ الْبَطْحَاءِ، وَأَبُو الْأُمَرَاءِ
(معرفۃ الصحابہ ،۱۵۰۹)
حضور ﷺ نے آپ کو یہ شرف بخشا کہ فتح مکہ کے دن ان کے گھر کے متعلق یہ اعلان کیا کہ جو ان کے گھر میں داخل ہوگیا اس نے امن پالیا ۔اس کی وجہ یہ لکھی گئی کہ جب آپ ﷺ مکہ میں ہوتے توان کے گھر قیام کرتے ۔
(المنتظم فی تاریخ الامم ،،ج۵،ص۲۸)
غزوہ طائف میں آپ ؓکی ایک آنکھ ضائع ہوگئی تھی۔تو حضور ﷺ نے ان سے فرمایا کہ کونسی آنکھ تمہیں پسند ہے جنت کی یا یہ والی؟ کہ میں اللہ سے دعا مانگو اور تمہاری آنکھ ٹھیک ہوجائے ؟تو آپ ؓ نے فرمایا کہ مجھے اس کے بدلے جنت کی آنکھ چاہئے ۔
(سمط النجوم العوالی،ج۲،ص۲۴۶،مختصر تاریخ دمشق،ج۳،ص۴۸۸،تہذیب الکمال ،۱۳،ص۱۲۰)
اللہ اکبر آخرت پر کتنا پختہ ایمان و یقین تھا اسی ایک واقعہ سے اندازہ لگالیں۔زمانہ جاہلیت میں بھی جھوٹ اور غلط بیانی سے پرہیز کرتے ۔ چنانچہ ہرقل بادشاہ کا قصہ جوکہ مشہور ہے اور ابن ماجہ کے علاوہ تمام صحاح ستہ کی کتب میں منقول ہے۔ اس میں رسول اللہ ﷺ کے بارے میں ہرقل کے سوالات پر بالکل سچ سچ کہا اور کسی قسم کی غلط بیانی نہیں کی۔
زمانہ جاہلیت میں بھی اخلاق ،وقار،اور روایات کے امین تھے ۔چنانچہ ایک دفعہ اپنی زوجہ محترمہ حضرت ہندہ ؅اور بیٹے حضرت امیر معاویہ ؄ کے ساتھ کہیں جارہے تھے کہ سامنے سے حضور ﷺ تشریف لائے آپ نے اپنے بیٹے امیر معاویہ کو سواری سے نیچے اترنے کا حکم دیا اور حضور ﷺ کو سوار ہونے کا کہا جس پر حضور ﷺ سوا ر ہوگئے اور آپ کو اسلام کی دعوت دی جسے آپ خاموشی سے سنتے رہے۔
(مختصر تاریخ دمشق ،ج۳،ص۴۸۹)
ایمانداری کا حال یہ تھا کہ تمام مکہ والے اپنا مال آپ کو تجارت کیلئے دیتے ۔حتی کہ ایک دفعہ نبی کریم ﷺ نے بھی آپ کو اپنا مال تجارت کی غرض سے دیا۔ عبد اللہ ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ جب میرے والدفوت ہوئے تو حضرت عثمان غنی ؄ نے بیت المال میں ایک ہزار دینا کی تھیلی دیکھی جس پر ابو سفیان کیلئے مہر تھی ۔آپ نے ان کو پیغام بھیجا کہ بیت المال میں آپ کا مال پڑا ہوا ہے آکر لے جائیں ۔حضرت ابو سفیان ؓ نے جواب دیا کہ اگر اس مال میں میرا کوئی حق ہوتا تو حضرت عمر ؓ کبھی مجھے اس سے محروم نہ کرتے اور یہ کثیر رقم نہیں لی۔
(مختصر تاریخ دمشق ،ج۳،ص۴۹۶)
ان صفات محمودہ کی وجہ سے آپ ﷺ کو بھی آپ ؓ پر بے پناہ اعتماد تھا ۔چنانچہ جب غزوہ حنین میں چھ ہزار قیدی ہاتھ لگے تو نبی کریم ﷺ نےان کو زیر حراست رکھنے کیلئے آپ ؓ کا انتخاب فرمایا ۔(مختصر تاریخ دمشق،مصنف عبد الرزاق)
اسی طرح قدید کے مقام پر مناۃ بت کو گرانے کیلئے آپ ؓ ہی کو بھیجا ۔(تہذیب التہذیب ،ج۴،ص۴۱۲)
علامہ ذہبی فرماتے ہیں:
كَانَ عُمَرُ يَحْتَرِمُهُ وَذَلِكَ لأَنَّهُ كَانَ كَبِيْرَ بَنِي أُمَيَّةَ.
(سیر اعلام النبلا،ج۳،ص۴۰۷)
حضرت عمر ؄ آپ کا بے پناہ احترام کرتے کیونکہ آپ کا شماربنوامیہ کے بزرگوں میں ہوتا۔
آپ کا جذبہ جہاد:
جنگ یرموک میں آپ’’ قاص‘‘ کے عہدے پر فائز ہوئے ۔یہ عہدہ اس خطیب اور واعظ کو دیا جاتا جو پورے لشکر کے جذبہ جہاد و حریت کو اپنے خطیبانہ جوش و ولولے سے گرماتا ۔چنانچہ جنگ یرموک میں آپ کے ولولہ انگیز خطابات تاریخ میں بکھرے پڑے ہیں چند جملے نقل کررہا ہوں:
’’یہ اللہ اور اس کا رسول ﷺ اور جنت تمہارے سامنے ہے ۔اور شیطان تمہارے پیچھے ہے ۔اے عربو!اللہ سے خوف کرو ۔تم اسلام کے امدادی ہو اور روم والے شرک و نصرانیت کے امدادی ہیں ۔اے اللہ تیرے ایام میں سے بڑا اہم یوم ہے ۔اپنے بندوں پر اپنی خاص رحمت نازل فرما‘‘۔
اور عورتوں کو برانگیختہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’جس مرد کو فوج میں سے بھاگتے دیکھو تو ڈنڈو ں اور پتھروں سے اس کی خاطر مدارت کرو یہاں تک کہ فوج میں وآپس لوٹ جائے‘‘۔(البدایہ ،مختصر تاریخ دمشق وغیرہما)
مروی روایات:
آپ سے صحاح ستہ میں حضرت عباس ؓ نے حدیث ہرقل نقل کی ہے ۔جبکہ ابو نعیم ایک اور روایت بھی نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مردار کھانے اور خون پینے سے منع فرمایا۔
حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا أَبُو أَيُّوبَ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ، قَالَ: " نَهَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمَيْتَةِ وَالدَّمِ "
(معرفۃ الصحابہ ،ص۱۵۱۱)
آپ ؄ کی ایک بہت بڑی فضیلت اور آپ کو برا بھلا کہنے والوں کیلئے وعید:
آپ ؄ کی ایک بہت بڑی فضیلت یہ بھی ہے کہ آپ کی بیٹی حضرت ام حبیبہ حضور ﷺ کی زوجہ محترمہ ہیں ۔اور یوں آپ ؄ نبی کریم ﷺ کے سسرالی رشتہ دار ہوئے۔اور اپنے سسرالی رشتہ داروں اور صحابہ کے متعلق آپ کا فرمان ہے :
ْ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ دعوا لِیْ أَصْحَابِیْ وَ أَصْھَارِیْ فَمَنْ سَبَّھُمْ فَعَلَیْہٖ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِیْنَ
(الشریعۃ للآجری ،ج:۳،ص:۵۲۰،۵۲۱،رقم ۲۰۱۳)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میری خاطر میرے صحابہ اور میرے سسرالیوں کو کچھ نہ کہو جوان کو برا بھلا کہتا ہے تو اس پر اللہ اس کے فرشتوں اور تمام مخلوق کی لعنت ہے ۔
ایک اور موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا
قال رسول اللہ ﷺ سالت ربی ان لا اتزوج الی احد من امتی ولا ازوج احد من امتی الا کان معی فی الجنۃ فاعطانی ذالک
(بغیۃ الباحث عن زوائد مسند الحارث للامام نور الدین علی بن سلیمان ابی بکر الہیثمی الشافعی ج2 ص 919 رقم 1008،
کنز العمال ،ج12،ص94، رقم 24147
مجمع الزوائد ،ج9،ص737،رقم 16388
فیض القدیر للمناوی ج9 ص 20،
الجامع الصغیر للسیوطی ،ج2ص149 حرف السین ،دارالکتب العلمیۃ ،
المعجم الاوسط ،ج6ص50رقم 5762،دارالحرمین،القاہرۃ
المطالب العالیہ لابن حجر العسقلانی ،ج11،ص248،رقم 3987، دارالعاصمۃ ،الریاض)
ترجمہ:نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اپنے رب سے درخواست کی کہ جس مسلمان گھرانے میں میں اپنا نکاح کروں یا جس مسلمان گھرانے میں اپنی کسی بیٹی کا نکاح کردوں وہ لوگ جنت میں میرے ساتھی ہوں گے۔ اللہ نے میرے اس خواہش کو قبول فرمالیا۔
اسی طرح حضرت مجاہد ؒ فرماتے ہیں کہ قرآن کی اس آیت میں محبت سے مراد حضور ﷺ کاحضرت ابو سفیان سے سسرالی رشتہ ہے۔
عَسَى اللهُ أنْ يَجْعَلَ بَيْنَكُمْ وبَيْنَ الذِينَ عادَيْتُمْ مِنْهُمْ مَوَدَّةً " قال: مصاهرة النبي صلى الله عليه وسلم إلى أبي سفيان بن حرب.
اسی طرح آپ کی نواسی حضرت لیلی حضرت امام حسین ؓ کی زوجہ محترمہ تھیں۔آپ کے بیٹے حضرت امیر المومنین امیر معاویہ ؄ کو کاتب وحی ہونے کا اعزاز حاصل ہے ۔راقم نے بفضلہ تعالی ان کے فضائل میں چالیس احادیث کا مجموعہ ’’الاربعین فی مناقب امیر المومنین ‘‘ جمع کیا ہے جو شایع ہوچکا ہے ۔یہ فضائل نہ بھی ہوتےتو بھی آپ؄ کے فضائل کیلئے یہی کافی ہے کہ آپ صحابی رسول ﷺ ہیں۔
آپ کی اولاد امجاد:
(۱) حضرت ام حبیبہ زوجہ رسول اللہ ﷺ بنت ابی سفیان
(۲) امیر المومنین حضرت امیر معاویہ بن سفیان
(۳)حضرت ابو خالدیزید بن سفیان۔ آپ ؓ حضرت عمر فاروق ؓ کے زمانے میں طاعون عمواس میں فوت ہوئے۔
(۴)والی مصرحضرت عتبہ بن ابی سفیانؓ
(۵) حضرت عمر و بن سفیان
(۶)زیاد بن ابی سفیان ؓ
(۷)غسیل ملائکہ حضرت حنظلہ بن ابی سفیانؓ
(۸)جویرۃ بنت ابی سفیان ؓ
(۹)حمنۃ بنت ابی سفیان ؓ
(۱۰)درۃ بنت ابی سفیان ؓ
(۱۱)عزۃ بنت ابی سفیان ؓ
(۱۲)ام الحکم بنت ابی سفیان ؓ
وفات حسرت آیات:
سن ۳۱ ہجری میں اور ایک قول کے مطابق سن ۳۲ ہجری میں ۸۸ سال کی عمر میں فوت ہوئے ۔بعض نے ۳۴ ہجری بھی لکھا اور عمر ۹۴ سال بتائی ۔آپ کی نماز جنازہ حضرت عثمان بن عفان؄ نے پڑھائی ۔اور جنت البقیع میں آپ کو دفنایاگیا۔
(مختصر تاریخ دمشق ،اسد الغابہ ،ج۲،ص۳۹۳)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔