ہفتہ، 13 جولائی، 2019

غیر مسلموں کے تہواروں مثلا کرسمس وغیرہ کی خوشی منانا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
غیر مسلموں کے تہواروں مثلا کرسمس وغیرہ کی خوشی منانا
تحریر:ساجد خان نقشبندی
نوٹ : یہ مضمون فیصل آباد کے ایک جعلی پیر کے خلاف لکھا گیا تھا اب موقع کی مناسبت سے ان کا نام نکال کر مناسب ترامیم کرکے شایع کیا جارہا ہے ۔
قارئین اہلسنت! عیسائی اسلام کی نظر میں کافر ہیں اور ان کی نجات اس وقت تک ممکن نہیں جب تک
اپنے باطل مذہب کو چھوڑ کر اسلام قبول نہ کرلیں چنانچہ رب تعالی کا ارشاد ہے کہ :
لَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوْ ٓا اِنَّ اللّٰہَ ھُوَ الْمَسِیْحُ ابْنُ مَرْیَمَ وَ قَالَ الْمَسِیْحُ یٰٓبَنِیْ اِسْرَآئِیْلَ اعْبُدُوْآ اللّٰہَ رَبِِّیْ وَ رَبَّکُمْ اِنَّہ‘ مَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَقَدْ حَرَّمَ اللّٰہُ عَلَیْہِ الْجَنَّۃَ وَمَاْوٰہُ النَّارَ وَمَا لِلظَّاِلمِیْنَ مِنْ اَنْصَارٍلَقَدْ کَفَرَ الَّذِیْنَ قَالُوآ اِنَّ اللَّہَ ثَالِث’‘ ثَلاَثَۃ وَمَا مِنْ اِلٰہٍ وَّاحِد’‘ وَّ اِنْ لَّمْ یَنْتَھُوْا عَمَّا یَقُوْلُوْنَ لَیَمَسَّنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا مِنْھُمْ عَذَاب’‘ اَلِیْم’‘۔
(سورۃ المائدہ:آیت ۷۲۔۷۳)
ترجمہ:بے شک کافر ہیں وہ لوگ جو کہتے ہیں کہ اللہ وہی مسیح ابن مریم کا بیٹا ہے حالانکہ مسیح نے تو یہ کہا تھا کہ اے بنی اسرائیل اللہ کی عبادت کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی بلاشبہ جس نے اللہ کا شریک ٹھرایا تو اللہ نے اس پر جنت حرام کردی اور جھنم اس کا ٹھکانہ ہے اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں اور بے شک کافر ہیں وہ جو کہتے ہیں کہ بے شک اللہ تین خداؤں میں سے ایک ہے اور خدا تو نہیں ہے مگر ایک اور اگر یہ اپنے بات سے باز نہ آئے تو جو ان میں کافر (مریں گے) ضرور ان کو دردناک عذاب پہنچے گا۔
ان آیات مبارکہ میں واضح طور پر اللہ پاک نے عیسائیوں کو کافر کہا اور واضح فرمادیا کہ اگر یہ اپنے مشرکانہ عقائد سے توبہ نہ کریں تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہے ۔اور عیسائیوں اور یہودیوں سے دوستی کے متعلق ارشاد فرماتا ہے کہ :
یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اَمَنُوْا لَا تَتَّخِذُوْا الْیَھُوْدَ وَ النَّصَارٰی آوْلِیَآئً بَعْضُھُمْ اَوْلِیَآئَ بَعْضٍ وَّ مَنْ یَّتَوَلَّھُمْ مِنْکُمْ فَاِنَّہ‘ مِنْھُمْ اِنَّ اللَّہَ لاَ یَھْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ۔(سورۃ المائدہ: آیت ۵۱)
ترجمہ:اے ایمان والو! یہود و نصاری کو دوست نہ بنانا ،ان میں بعض بعض کے دوست ہیں اور جو کوئی تم میں سے ان کی طرف پھرا تو وہ انہی میں سے ہے اور اللہ ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا۔
اس آیت میں واضح طور پر ارشاد فرمادیا کہ عیسائیوں اور یہودیوں سے ہر گز دوستی اور محبت کے پینگے نہ بڑھانا یہ تمہارے دوست نہیں بلکہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں اس واضح ممانعت کے بعد بھی اگر تم باز نہ آئے تو پھر یہی سمجھو کہ تم خود بھی انہی میں سے ہو۔حضرت قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’ومن لم یکفر احدا من النصاری والیھود وکل من فارق المسلمین او وقف فی تکفیرھم او شک قال القاضی ابو بکر لان التوقیف والاجما ع اتفقا علی کفرھم فمن وقف فی ذالک فقد کذب النص التوقیف والشک فیہ والتکذیب او الشک فیہ ولا یقع الا من کافر ۔ (الشفاء :ج۲:ص ۱۷۰۔حقانیہ)
ترجمہ:اجماع ہے اس کے کفر پر جو کسی عیسائی یہودی یا کسی ایسے شخص کو جو دین اسلام سے جدا ہوگیا ہو کافر نہ کہے یا اس کے کافر کہنے میں توقف کرے یا شک کرے امام قاضی ابو بکر نے ا سکی وجہ یہ فرمائی کہ نصوص شرعیہ و اجماع امت ان لوگوں کے کفر پر متفق ہیں تو جو ان کے کفر میں توقف کرتا ہے وہ نص و شریعت کی تکذیب کرتاہے یا اس میں شک رکھتا ہے اور یہ بات کافر ہی سے ہوسکتی ہے ۔
ان تمام نصوص سے یہ بات واضح ہوئی کہ عیسائی کافر ہیں انہیں کافر نہ سمجھنے والا بھی کافر ہے ان سے دوستی و موالات حرام ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ بعض نام نہاد مسلمان ،محبت ،اخوت ،بھائی چارہ اور امن کے خوبصورت ناموں کی آڑمیں عیسائیوں کے ساتھ پیار ومحبت دوستی یاری کے ایسے تعلقات قائم رکھنا چاہتا ہے کہ تمام مذاہب ایک گلدستہ کی شکل اختیار کرلیں اور امن کے نام پر عیسائیوں کے مذہبی تہوار’’کرسمس‘‘ کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا جنم دن مان کر بڑے دھوم دھام سے اس دن کو عیسائیوں کے ساتھ مل کر منایا جارہا ہے ۔حالانکہ علماء اسلام نے کافروں کے تہواروں کی تعظیم اور اس میں شرکت کو کفر لکھا ہے۔
کرسمس کے دن خدا کا غضب نازل ہوتا ہے
اخبرنا ابو بکر الفارسی انا ابو اسحاق الاصبھانی نا ابو احمد بن فارس نا محمد بن اسماعیل البخاری :قال :ابن ابی مریم نا نافع بن یزید سمع سلیمان بن ابی زینب و عمرو بن الحارث سمع سعید بن ابی سلمۃ سمع اباہ سمع عمر بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ انہ قالـ:اجتنبوا اعدآء اللہ الیھود والنصاری فی عیدھم یوم جمعھم فان السخط ینزل علیہم فاخشی ان یصیبکم ولا تعلموا بطانتھم تخلقوا بخلقھم۔
(شعب الایمان :ج۷:ص ۴۳۔دارالکتب العلمیہ بیروت)
ترجمہ:ہمیں خبر دی ابو بکر فارسی نے ان کو ابو اسحق نے ان کو ابو احمدنے ان محمد بن اسمعیل بخاری نے وہ کہتے ہیں کہ ابن مریم نے انکو خبر دی نافع بن یزید سے اس نے سناسلیمان بن ابو زینب سے اور وہ عمر بن حارث سے اس نے سعید بن ابو سلمہ سے اس نے اپنے والد سے سنا اور انہوں نے حضرت عمر ؓ سے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ اللہ کے دشمنوں یھود و نصاری سے بچو ان کی عید میں اور ان کے اکھٹے ہونے کے دنوں میں بے شک ان پر اللہ کی ناراضی اترتی ہے میں ڈرتا ہوں کہ کہیں وہ تمہیں بھی نہ پہنچ جائے اور ان کی اندرونی باتیں مت جانا کرو کیونکہ تم ان کی عادتیں سیکھ جاو گے (یعنی ان سے متاثر ہوجاوگے)اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ :
اخبرنا ابو القاسم عبد الرحمن بن عبد اللہ الحرفی نا علی بن محمد بن الزبیر الکوفی نا الحسن ابن علی بن عفان نا زید بن الحباب نا عبد اللہ بن عقبہ حدثنی عطاء بن دینار الھذلی ان عمر بن الخطاب قال: ایاکم و مواطنۃ الاعاجم و ان تدخلوا علیہم فی بیعھم یوم عیدھم فان السخط ینزل علیہم۔
(شعب الایمان :ج۷:ص۴۳)
حضرت عمر ؓ نے فرمایا تم اپنے آپ کو بچاؤ اہل عجم کے ساتھ بود و باش سے اور اور اس بات سے منع کیا کہ ان کے عبادت خانوں میں ان کے عید کے ایام میں داخل ہوا کریں کہ اللہ کا غضب اس دن نازل ہوتا ہے ۔
قارئین اہلسنت ! حضرت عمر ؓ تو عیسائیوں کو اللہ کا دشمن کہہ رہے ہیں اور کرسمس کے موقع پر جمع ہونے سے منع کررہے ہیں کہ اس دن اللہ کا غضب و ناراضگی نازل ہوتی ہے مگر یہ جعلی صوفی کہتا ہے کہ یہ خیر و برکت والا دن ہے ۔اب ہم اس کی مانیں یا حضر ت عمر ؓ کی ؟
کافروں کے ایام کی تعظیم کرنا کفر ہے
ملا علی قاری حنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:؎
فی فتاوی الصغری من اشتری یوم النوروز شیئا و لم یکن یشتریہ قبل ذالک اراد بہ تعظیم النوروز ،کفر ای لانہ عظم عید الکفرۃ۔ ((شرح فقہ الاکبر :ص ۴۹۹ ۔بیروت)
اگر کسی نے نوروز (مجوسیوں کی عید) کے دن کوئی ایسی چیز خریدی جو اس سے پہلے نہیں خریدتا تھا ،اس کا ارادہ اس اشتراء سے نوروز کے دن کی تعظیم کرنا تھا تو کافر ہوجائے گا،اس لئے کہ ا س نے کافروں کی عیدکی تعظیم کی۔
مزید لکھتے ہیں کہ:
لوان رجلا عبد اللہ خمسین عاما ثم جاء یوم النوروز فاھدی الی بعض المشرکین یرید تعظیم ذالک الیوم فقد کفر با اللہ العظیم و حبط عملہ خمسین عاما۔
(شرح فقہ الاکبر:ص ۵۰۰)
اگر کسی شخص نے پچاس سال تک اللہ کی عبادت کی پھر نوروز کا دن آگیا اور اس نے کسی مشرک کو کوئی ہدیہ کردیا اس کی نیت اس ہدیہ سے اس دن کی تعظیم کرنا تھی تو اس نے اللہ کے ساتھ کفر کیا اور اس کی پچاس سال کی عبادت برباد ہوگئی۔
اور آگے لکھتے ہیں کہ:
’’و علی قیاس مسالۃ الخروج الی النیروز المجوسی الموافقۃ معھم فیما یفلعون فی ذالک الیوم یوجب الکفر‘‘
یعنی اسی طرح مجوسیوں کے نوروز کے جشن کے دن نکلنا اور جو کچھ مجوسی اس دن کرتے ہیں ان میں ان کی مواقفت کرنا یہ بھی کفر کو لازم کرتی ہے ۔
اب نام نہاد مسلمان اور ان کے چیلے جو کرسمن کے دن کیک کاٹتے ہیں عیسائیوں کی طرح گیت گاتے ہیں جشن مناتے ہیں کیا یہ مسلمان رہے؟
علامہ محمد بن شھاب یوسف الکردری الحنفی ؒ لکھتے ہیں کہ:
’’وکذا اجتماع السملمین یوم فصح النصاری لو موافقۃ لھم۔(فتاوی بزازیہ:ج۳:ص ۱۸۶)
اسی طرح مسلمانوں کا اجتماع عیسائیوں کی عید کے دن اگر ان کی موافقت کرنے کیلئے ہے تو یہ سب بھی کافر ہوگئے۔
علامہ بزازی نے ایک بڑی عجیب بات کی جو صوفی مسعود کے حالات کے بالکل موافق ہے وہ کہتے ہیں کہ نوروز کے دن نکلنا اور وہ افعال سرانجام دینا جو مجوسی اس دن کرتے ہیں اس دن کی تعظیم کی وجہ سے تو یہ کفر ہے ،اور یہ کام اکثر وہ مسلمان کرتے ہیں جو مجوسیت چھوڑ کر اسلام لائے پس وہ اس دن ان مجوسیوں کی طرف نکلتے ہیں اور مجوسیوں کی موافقت کرتے ہیں اور اس کی وجہ سے کافر ہوجاتے ہیں اور افسوس کہ انہیں علم بھی نہیں ہوتا‘‘۔ (فتاوی بزازیہ :ج۳:ص ۱۸۶)
قارئین کرام ان تمام حوالہ جات سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ کفار کے مذہبی تہواروں کی تعظیم کرنا ،اس دن ان کے ساتھ جمع ہونا،وہ جو افعال کرتے ہیں ان کو کرنا یہ سب کفر ہے اور ان سب کا کرنے والا اسلام کی نظر میں کافر ہے ۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔