ہفتہ، 13 جولائی، 2019

امیر المومنین حضرت امیر معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم
(راقم کی کتاب الاربعین فی مناقب امیر المومنین سے ماخوذ۔ ساجد خان نقشبندی)
امیر المومنین حضرت امیر معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ
نام و نسب : معاویۃ بن ابی سفیان صخر بن حرب بن امیۃ بن عبد شمس بن عبد مناف بن قصی القرشی الاموی۔
والدہ کا نام :حضرت ھند بنت عتبۃ بن ربیعۃ بن عبد شمس
( معرفۃ الصحابۃ لابن النعیم ،ص2496،دارالوطن للنشر الریاض ،البدایۃ والنہایۃ لابن کثیر ،ج8،ص171دارابن کثیر ،بیروت ،الاصابۃ فی تمیز الصحابۃ لابن حجر العسقلانی ،ج6،ص 120،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت ، تاریخ الاسلام للذہبی ،ج4،ص306، دارالکتاب العربی ،بیروت،اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃلابن الاثیر ،ج4ص433)
عبد مناف پر جا کر آپ رضی اللہ تعالی عنہ کا نسب نبی کریم ﷺ سے جاملتا ہے۔
کنیت :
ابو عبد الرحمن ۔
تاریخ پیدائش :نبی کریم ﷺ کی بعثت سے پانچ سال قبل آپ کی ولادت ہوئی۔ یہی مشہور قول ہے ۔ایک قول چھ سال اور ایک قول تیرہ سال کا بھی ہے ۔
(الاصابۃ ج6ص120)
قبول اسلام :حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کے قبول اسلام کے بارے میں دو قسم کی روایات ملتی ہیں ۔ایک روایت فتح مکہ سن ۸ ہجری اور دوسری روایت فتح مکہ سے قبل کی ہے ۔ چنانچہ حضرت امیر معاویۃ رضی اللہ تعالی ہی سے روایت ہے کہ
قصرت عن رسول اللہ بمشقص
میں نے نبی کریم ﷺ کے بال مبارک ( مروہ کے مقام پر) چھوٹے کئے ۔
امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
کہ ان کا نبی کریم ﷺ کے یہ بال کاٹنا ’’مروۃ ‘‘ کے مقام پر تھا۔
اس سے معلوم ہوا کہ نبی کریم ﷺ کا یہ بال ترشوانا کسی عمرہ میں تھا ۔کیونکہ نبی کریم ﷺ نے صرف ایک حج کیا وہ بھی فتح مکہ کے بعد اور اس میں حلق کروایا تھا نہ کے قصر ۔اورحج میں منی کے مقام پر حلق کروایا جاتا ہے نہ کہ مروہ کے مقام پر ۔ چنانچہ امام نووی نے تصریح کی ہے کہ آپ حج قران کررہے تھے اور آپ نے منی پر مقام پر حلق کروایا تھا اور ابو طلحہ رضی اللہ تعالی عنہ نے آپ کے بال مبارک لوگوں میں تقسیم کئے ۔(نووی
پتہ چلاکہ یہ بال تراشنے کا واقعہ کسی عمرہ کے دوران ہوا۔اورنبی کریم ﷺ ہجرت مدینہ کے بعد ۶ ہجری کو عمرہ کی نیت سے مکہ کیلئے روانہ ہوئے تھے مگر آپ کو مقام حدیبیہ پر روک لیا گیا تھا ۔ جس کے بعد اگلے سال آپ نے یہ عمرہ ادا کیا ۔
پس ثابت ہوا کہ حضرت امیر معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ صلح حدیبیہ اور عمرۃ القضا کے درمیان کسی وقت میں ایمان لائے تھے اور عمرۃ القضاہ میں وہ آپ کے ساتھ شامل تھے۔
خود حضرت امیرمعاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ سے اس بات کی تصریح موجود ہے کہ جب کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان حدیبیہ کا واقعہ پیش آیا تو اسلام میرے دل میں گھر کرچکا تھا میں نے اس بات کا ذکر اپنی والدہ ہند سے کیا تو آپ نے فرمایا کہ خبردار اگر تو نے اپنے باپ کے مذہب کی مخالفت کی ورنہ ہم تیرا خرچہ پانی بند کردیں گے ۔مگر بہرحال میں اسلام لاچکا تھا اور خدا کی قسم نبی کریم ﷺ اس حال میں حدیبیہ سے لوٹ رہے تھے کہ میں آپ کی تصدیق کرنے والا تھا اور خدا کی قسم جب آپ عمرۃ القضاء کیلئے تشریف لائے تو میں اس وقت بھی مسلمان تھا مگر والد کے خوف سے اپنے اسلام کو چھپائے رکھااور فتح مکہ کے دن کھل کر اس کا اظہار کیا:
اسلمت یوم القضیۃ و لکن کتمت اسلامی من ابی
( البدایۃ والنہایۃ ،ج8،ص171،دارابن کثیر ،بیروت،تاریخ دمشق لامام ابی القاسم بن ہبۃ اللہ بن عبد اللہ الشافعی المعروف بابن عساکر ،ج59،ص55،دارلفکر ،بیروت،اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ ،ج4،ص433،الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب ، ص668،دارالاعلام ،اردن)
قال معاویۃ بن ابی سفیان لما کان عام الحدیبیۃ و صدت قریش رسول اللہ ﷺ عن البیت و دافعوہ بالراح و کتبوا بینہم القضیۃ وقع الاسلام فی قلبی فذکرت ذالک لامی ہند بنت عتبۃ فقالت ایاک ان تخالف اباک و ان تقطع امرا دونہ فیقطع عنک القوت و کان ابی یومئذ غائبا فی سوق حباشۃ ۔قال فاسلمت و اخفیت اسلامی فواللہ لقد رحل رسول اللہ ﷺ من الحدیبیۃ و انی مصدق بہ و انا علی ذالک اکتمہ من ابی سفیان و دخل رسول اللہ ﷺ عمرۃ القضیۃ و انا مسلم مصدق بہ و علم ابو سفیان باسلامی فقال لی یوما لکن اخوک خیر منک وھو علی دینی فقلت لم آل دینی خیرا۔قال فدخل رسول اللہ ﷺ عام الفتح فاظھرت اسلامی ولقیتہ فرحب بی و کتبت لہ
( مختصر تاریخ دمشق لابن منظور ،ج24،ص403،دارالفکر بیروت)
اس کے علاوہ مندرجہ ذیل افراد نے بھی آپ کا فتح مکہ سے قبل اسلام لانے کا ذکر کیا ہے ۔
(معرفۃ الصحابہ لابن ابی نعیم ،ص2496،تاریخ الاسلام للذہبی ، ج4،ص308، تقریب التہذیب ،ص537دارالقلم دمشق،سیر اعلام النبلاء ، ج2،ص119،الاصابۃ ، ج6،ص120)
جن حضرات نے فتح مکہ کا قول نقل کیا ہے وہ بھی اس قول کے معارض نہیں کیونکہ خود آپ ؓ نے فرمایا کہ میں نے اسلام کو چھپائے رکھا تھااور فتح مکہ کے دن اظہار کیا تھا ۔پس فتح مکہ کے دن اسلام لانے کا مطلب یہ ہوا کہ اس وقت اپنے والد کے ساتھ ایمان کا اظہار کیا۔
شمائل و خصائل :طویل القامۃ ،سفید رنگ ، حسین و جمیل چہرہ۔کشادہ پیشانی ۔انتہائی حلیم بردبار،باخلاق ،مدبر ،فصیح اللسان ،ذی شعور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور تجربہ کارپاکیزہ صفات سیاست دان تھے۔آپ کا حلم و عقل ضرب المثل تھا۔زرد رنگ کا خضاب لگاتے تھے ابن عبد ابی رب فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دن حضرت امیر معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ کو دیکھا کہ وہ اپنی داڑھی کو زرد خضاب لگارہے تھے اور اس رنگ سے داڑھی ایسے چمک رہی تھی جیسے سونا(البدایۃ والنہایۃ ،ج8،ص172)اللہ اکبر کیا منظر ہوگا۔
آپ نبی کریم ﷺ کے کاتب تھے چنانچہ اس پرمستقل روایات اپنے مقام پر آرہی ہیں۔آپ کی ہمشیرہ محترمہ حضرت ام حبیبہ رضی اللہ تعالی عنہا نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ یعنی ام المومنین تھیں ۔اس حیثیت سے آپ رضی اللہ تعالی عنہ خال المومنین تھے جو بہت بڑی فضیلت ہے چنانچہ تفصیل آگے آرہی ہے۔
ازواج و اولاد: حضرت عبد ارحمن رحمۃ اللہ علیہ ،حضرت عبد اللہ رحمۃ اللہ علیہ ،یزید ، رملۃ ؒ ، صفیۃ ، عاتکہؒ ۔جبکہ ازواج مطہرات میں سے حضرت نائلۃؒ ،قریبۃؒ بنت ابی امیہ ،و کتوۃ بنت قرظۃ ؒشامل ہیں۔
امارت و خلافت : حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالی عنہ نے شام کی امارت آپ کے سپرد کی حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے دور خلافت میں بھی آپ شام کے امیر رہے اور واقعہ تحکیم کے بعد بالاتفاق پوری امت مسلمہ کے امیر المومنین منتخب ہوئے ۔امیر المومنین منتخب ہونے سے قبل بیس (۲۰) سال تک عہدہ امارت پر فائز رہے اور بیس سال تک پوری مملکت اسلامیہ پر امارت کی گویا چالیس (۴۰) سال تک امارت کے فرائض باحسن خوبی انجام دئے۔
فتوحات :آپ رضی اللہ تعالی عنہ کے دور میں سجستان ،خراسان ،ترکستان ،سمرقند وغیرہ فتح ہوئے جبکہ روم کا علاقہ اور قسطنطینہ کا علاقہ بھی آپ کے دور حکومت میں فتح ہوا۔بحری جنگوں کو کافی وسعت دی ۔مزید تفصیل کیلئے مفتی محمد محذورہ مدظلہ العالی کی کتاب :
فتوحات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ،ص:551تا584کا مطالعہ کریں۔
وفات حسرت آیا ت:
تُوُفِّیَ مُعَاوِیَۃُ بِدِمَشْقَ یَوْمَ الْخَمِیْس لِثَمَانٍ بَقِیْنَ مِنْ رَّجَبٍ سَنَۃَ سِتِّیْنَ وَ کَانَتْ وِلاَیَتُہ‘ تِسْعَ عَشَرَۃَ سَنَۃً وَّ أَرْبَعَۃَ أَشْھُرٍ أِلاَّ لَیَالٍ وَّ کَانَتْ لَہ‘ یَوْمَ مَاتَ ثَمَانٍ وَّ سَبْعُوْنَ سَنَۃً .(صحیح ابن حبان ،ج:15،ص:39،حدیث نمبر:6657)
حضرت امیر معاویہ ؓ کی وفات دمشق میں 22رجب بروز جمعرات 60؁ھ میں ہوئی آپ کی خلافت 19سال 4ماہ سے ایک دن کم تھی اور اس وقت آپ کی عمر مبارک 78سال تھی۔
اسی طرح ابو جعفر طبری لکھتے ہیں:
و قال علی بن محمد: مات معاویۃ بدمشق سنۃ ستین یوم الخمیس لثمان بقین من رجب حدثنی بذالک الحارث عنہ۔
(تاریخ الطبری،ج5ص324،دارالمعارف بمصر۔ذکر وفات معاویہ بن ابی سفیان)
اور علی بن محمدکہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہؓ کی وفات دمشق میں 22رجب بروز جمعرات 60؁ھ میں ہوئی اسی طرح مجھے حارث نے بھی بیان کیا ۔
ابو القاسم علی بن الحسن المعروف ابن عساکر تحریر کرتے ہیں:
ان معاویۃ ابی سفیان مات بدمشق یوم الخمیس لثمان بقین من رجب
( تاریخ ابن عساکر حرف المیم)
حضرت امیر معاویہ ؓ کی وفات دمشق میں 22 رجب بروز جمعرات کو کوئی۔
جدید دور کا مورخ الصلابی لکھتا ہے :
تنازل الحسن بن علی لمعاویۃ بالتخلیۃ و تمت بیعتہ فی شھر ربیع الاول من عام 41ھ و مات بدمشق سنۃ 60ھ یوم الخمیس لثمان بقین من رجب و کانت ولایتہ تسع عشرۃ سنۃ و ثلاثۃ اشھر و سبعۃ و عشرین یوما
(معاویہ بن ابی سفیان شخصیتہ و عصرہ،ص113 لعلی محمد محمد الصلابی)
حضرت حسن بن علی ؓ حضرت معاویہ ؓ کیلئے ربیع الاول 41ھ میں دستبردار ہئے حضرت امیر معاویہ ؓ کی وفات دمشق میں 22رجب بروز جمعرات 60؁ھ کو ہوئی اور آپ کی خلافت 19سال3ماہ اور27دن پر مشتمل تھی۔
ابو عمر یوسف بن عبد اللہ النمری القرطبی فرماتے ہیں:
توفی معاویۃ بدمشق و دفن بھا یوم الخمیس لثمان بقین من رجب
(الاستیعاب فی معرفۃ الاصحاب،ص669 باب معاویۃ،دارالاعلام، اردن)
آپ ؓ کی وفات دمشق میں 22 رجب بروز جمعرات ہوئی ایس دن دفن ہوئے۔
ابو الحسن عز الدین بن الاثیر کا فرمانا ہے
توفی یوم الخمیس لثمان بقین من رجب سنۃ تسع و خمسین وھو ابن اثنتین و ثمانین سنۃ والاصح فی وفاتہ انھا سنۃ ستین.
(اسد الغابۃ،ج4،ص425 )
آپ ؓ کی وفات دمشق میں 22 رجب بروز جمعرات 59ھ کو ہوئی اور آپ کی عمر 82سال تھی اور صحیح یہ ہے کہ وفات 60ھ میں ہوئی۔علامہ ابن کثیر ؒ کے مطابق:
ولا خلاف انہ توفی بدمشق فی رجب سنۃ ستین و قیل لیلۃ الخمیس لثمان بقین من رجب سنۃ ستین
(البدایۃ والنھایۃ سنۃ سبعین من الھجرۃ النبویۃ)
اس میں کوئی اختلاف نہیں آپ کی وفات دمشق میں رجب 60ھ کو ہوئی اور یہ بھی کہا گیا کہ 22رجب بروز جمعرات 60ھ کو کوئی۔
تنبیہ:روافض اور ان کے ساتھ اہل بدعت22رجب کو حضرت امیر معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کی خوشی میں معاذ اللہ کونڈوں کی رسم کرتے ہیں اور اہل السنت کے رد عمل سے بچنے کیلئے اسے امام جعفر صادق کی نیاز کہتے ہیں۔چنانچہ
شیعہ فرقہ کے معروف عالم اکبر جاڑوی کونڈوں کے متعلق فرماتے ہیں:
’’اس کی شرعی حیثیت تو کوئی نہیں ،یہ تو صرف امیر شام (یعنی امیر معاویہ ؓ )کی موت کا دن ہے اور زمانہ تقیہ کا تھا اس کی خوشی کی گئی ‘‘۔
(مولانا اکبر جاڑوی صاحب سے 150سوالات ،ص:۴۲،مولفہ صفدر حسین ڈوگر مطبوعہ القائم پبلیکیشنز لاہور)
شیعوں کی معروف کتاب ’’تحفت العوام ‘‘ جدید میں جہاں نیک و نجس تاریخوں کا ذکر ہے وہاں 22 رجب میں آگے ’’نیک روز مرگ معاویہ‘‘لکھا ہوا ہے۔معاذاللہ
( تحفۃ العوا م ،ص246،افتخار بک ڈپواسلام پورہ لاہور،ازمنظور حسین نقوی)
نیز تحفۃ العوا م میں امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات تاریخ 15رجب لکھی گئی ہے۔
(تحفۃ العوام ،ص:479)
اہل بدعت کے سرخیل نواب احمد رضاخان صاحب بریلوی فرماتے ہیں:
کونڈوں کی یہ رسم بدعت سیئہ ہے ہرگز نہ کرنا چاہئے خداان حضرات کو ہدایت دے۔
تفصیلی حالالت کیلئے : اردو خواں طبقہ :
حضرت مولانا محمد نافع صاحب مدظلہ العالی کی کتاب :
’’ سیرت امیر معاویۃ رضی اللہ تعالی عنہ ‘‘
دو جلدوں کا مطالعہ کریں۔
جبکہ اہل علم حضرات مندرجہ ذیل کتب کو ملاحظہ فرمائیں :
مختصر تاریخ دمشق لابن عساکر،سیرت ابن ہشام ،تاریخ کبیر، تاریخ الطبری ،تاریخ بغداد ، الکامل فی التاریخ ،تاریخ الخلفاء ، معرفۃ الصحابۃ، الاستیعاب ،الاصابۃ ،البدایۃ والنہایۃ ، تاریخ الاسلام للذہبی ،طبقات الخلیفۃ ،السیر والمغازی ،وفیات الاعیان ،سیر اعلام النبلاء ، جمھرۃ الانساب العرب ، اخبار الدول للقرمانی ۔ وغیرہا

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔