ہفتہ، 13 جولائی، 2019

صوفی مسعود احمد لاثانی سرکار کے گستاخانہ عبارات

صوفی مسعود احمد لاثانی سرکار کے گستاخانہ عبارات
ساجد خان نقشبندی
نوٹ: بریلوی فیس بکی محققین سے گزارش ہے کہ صوفی مسعود پر میرے مضامین کو اپنے نام سے شائع کرکے علمی بددیانتی کا ثبوت نہ دیں
حضرت نوح علیہ السلام کی توہین
صوفی صاحب ایک حدیث بیان کرتے ہیں کہ:

’’حضور نبی کریمﷺنے حضرت ابو ذر ؓ کو دوران تعلیم فرمایا اے ابو ذر ؓ!جس طرح تم زمین پر اکیلے چلتے ہو ،فردہوتے ہو،اسی طرح ذات باری تعالی بھی اپنی ذات میں فرد ہے اورصاف ستھری اشیاء کو پسند کرتا ہے ۔ اے تومیرے غم وفکر سے واقف ہے کہ میں کس چیز کا مشتاق ہوں ۔صحابہ کرام ؓنے بارگاہ نبوی میں ﷺ میںعرض کی حضور ﷺآپ ہی فرما دیں توآپ ﷺ نے فرمایا ’’آہ آہ ‘‘میں اپنے رفقاء کی ملاقات کابہت مشتاق ہوں ۔جو میرے بعد ہونگے اور جن کی شان مثل انبیاء کی ہوگی اور وہ اللہ کے نزدیک شہداء کا مرتبہ پائیں گے ،یہ لوگ اپنے مادر پدر اور بھائی بہنوں اور اپنی اولاد سے دور بھاگیں گے اور اللہ تعالی سے واسطہ قائم کر لیں گے یہ لوگ اپنے مال و متاع سے لا پرواہ ہوں گے اور اسے بھی چھوڑ دینگے اور اپنے سرکش نفوس کو عاجزی سے بدل دینگے پہلے وہ مجذوب ہونگے اور ان کے دل اللہ تعالی کی محبت سے پر ہونگے اور ان کا طعام اللہ کا ذکر ہوگا اور ان کا کام اللہ تعالی خود ہی کرتا جائیگا جب کوئی ان میںسے مرض میں مبتلا ھوگا تو اللہ تعالی کے نزدیک اس کا بیمار ہونا ہزار سال کی عبادت سے بہتر ہوگا ۔اے ابوذرؓ تم چاہتے ہو تو اور بیان کروں ؟۔انہوں نے بارگاہ نبوی ﷺمیں عرض کی کیوں نہیں تو آپﷺنے فرمایا!ان میں سے ایک کی موت اللہ کے نزدیک ایسی ہوگی جس طرح آسمان والوں میں سے کوئی مر گیا ہو‘‘۔پھر فرمایا اے ابو ذر ؓاگر تم چاہتے ہو تواور بیان کروں انہوں نے بارگاہ نبوی میں عرض کیا ۔ہاں یا رسول اللہ اور بیان فرمائے آپﷺ نے فرمایا کہ اگر ان میں سے کوئی اپنے کپڑوں کی جوں مارے گا تو اللہ کے نزدیک وہ ایسا ہوگا گویااس نے ستر حج اور عمرے کئے اور ان کیلئے ایسا ثواب ہوگا کہ انہوں نے گویا چالیس غلام آزاد کئے اور فرض کرو کہ وہ غلام بھی حضرت اسمٰعیل ؑ کی نسل سے ہیں اور ہر غلام کی قیمت بارہ ہزار دینار ہو ۔پھر فرمایا !اے ابو ذر ؓ!اگر تم کہو تو اور بیان کروں۔انہوں نے بارگاہ نبوی ﷺ میں عرض کی ہاں یا رسول اللہ !تو آپ ﷺنے فرمایا کہ ان میں سے جب کوئی اہل محبت ذکر کریگا اور سانس لے گا تو ہر سانس کے بدلہ میں ان کے کھاتہ میں ہزار ہزار درجات لکھے جائینگے پھر فرمایا اے ابو ذرؓ اگر تم چاہو تو اور بیان کروںتو انہوں نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ ﷺ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر کوئی ان میں سے جبل نبات کے نیچے دو رکعات نماز پڑھے گا تو اسے حضرت نوح ؑ کی ہزار سال کی زندگی کا ثواب عطا ہوگا پھر فرمایا اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو اورزیادہ بیان کروں ؟انہوں نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ ﷺ کیوںنہیں تو آپ ﷺنے فرمایااگر ان میں سے کوئی ایک تسبیح کرے گا تو وہ بروز حشر اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے بہتر ہوگا کہ اس کے بدلہ میں اس کے ہمراہ دنیا کے پہاڑ سونے اور چاندی بن کر پھرا کرینگے پھر فرمایا اے ابوذرؓ اگر تم چاہو تو اور زیادہ بیان کروں تو انہوں نے عرض کی ہاں یا رسول اللہ ﷺ کیوں نہیں ؟تو آپﷺ نے فرمایا جب کوئی ان میں سے ایک دوسرے پر نظر ڈالے گا گویا اس نے اللہ کو دیکھا اور جو انہیں خوش کر ے گا گویا اس نے اپنے رب کو خوش کیا اور جو انہیں کھانا کھلائے گا گویا اس نے اپنے رب کو کھانا کھلایا پھر فرمایا اے ابو ذرؓ اگر تم چاہو تو اور زیادہ بیان کروں تو انہوں عرض کی ہاں یا رسول اللہ ﷺ آپ نے فرمایا بارگاہ نبوی ﷺ میں عرض کی ہاں یا رسول اللہ ﷺ تو آپ نے فرمایا جو گناہگار اپنے گناہوں پر اصرار بھی کرتے ہوں گے جب ان کے پاس بیٹھ کر اٹھیں گے تو وہ بھی اپنے گناہوں سے پاک ہو جائیںگے ‘‘۔
(رہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص:۱۴۴۔۱۴۵،
میرے مرشد:ص:۱۶۴۔۱۶۵،نوری کرنیں۱۱۸۔۱۱۹)
پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ حدیث نہیں بلکہ صوفی صاحب کی پیٹ کی پیداوار ہے نبی کریم ﷺکی حدیث ہے کہ جو مجھ پر جان بوجھ کر جھوٹ بولے اس نے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لیا صوفی صاحب اور اس کی جماعت میں اگر ہمت ہے تواس حدیث کو صحیح ثابت کرو اور منہ مانگا انعام وصول کریں۔جب حدیث جھوٹی ہو تو اس میں بیان کردہ فقیروں کے فضائل بھی جھوٹے ہیں ۔پھریہ حدیث جھوٹ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی گستاخیوں پر مشتمل ہے مثلا اس میں فقراء کی شان کو انبیاء کی شان کے مثل بتایا گیا ہے حالانکہ تما م مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ امتی انبیاء کی شان تو کیا صحابہ کے گھوڑوں کے سموں سے نکلنے والی دھول کے برابر بھی نہیں ہو سکتے ۔اس کے بعد اس میں حضرت نوح ؑ کی بھی شدید توہین کی گئی ہے کہ جبل نبات کے پاس نماز پڑھنے والے کو حضرت نوح ؑکی ہزارسال کی عبادت کا ثواب ملتا ہے حالانکہ میرے پیارے آقا ﷺ نے فرمایا کہ :
’’لاتسبوا اصحابی فلوان احدکم انفق مثل احد ذھبا ما بلغ مد احدھم ولا نصیفہ ‘‘ (مسلم جلد ۲:ص:۳۱۰)
میرے صحابہ کو برا بھلا مت کہو اگر تم میں سے کوئی احد پہاڑ کے برابر سونا بھی( اللہ کی راہ )میں خرچ کردے تو ان کے ایک سیر جو کو نہیں پہنچ سکتا اور نہ اس کے عشرعشیر کو۔
پھر یہاں تک گستاخی کی گئی کہ فقراء کے دیکھنے والوں کو خدا کودیکھنے کے برابر کر دیا گویا فقراء کو خدا بنا دیا گیا معاذاللہ ۔
حضور ﷺ کا علم دوسرے انبیاء کے واسطے سے تھا
’’کائنات کی تخلیق میں سب سے پہلا علم ،علم لدنی ہے جوکہ دراصل روحانی علم ہی ہے ۔ یہ وہی علم ہے جس کا فرشتوں کو علم نہ تھا لیکن اللہ تعالی نے حضرت آدم ؑ کی روح کو ہی اس سے نواز دیا تھا۔یہ علم انبیاء کرام کے ذریعہ کائنات میں وجہ تخلیق کائنات ،آقا کل ، حضرت محمد مصطفی ﷺ تک پہنچا ‘‘۔ (مخزن کمالات ۔ص:۸)
اللہ انسان میں سما جاتا ہے
’’یہ حقیقت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ حدیث قدسی کے عین مطابق اپنے بندے کی آنکھ ،کان ،ہاتھ ،پائوں اور زبان میں سما جاتا ہے ‘‘۔
(مخزن کمالات :ص:۱۶)
معاذاللہ یہ رب کریم کی شدید گستاخی ہے کہ وہ کسی انسان کے ہاتھ پائوں میں سما جائے ۔ اللہ کی ذات جسم اور کسی مقام میں سما نے سے پاک ہے ۔
قرآنِ پاک کی توہین
’’تمہارا رخ میرا قرآن خواجہ چادر والے ‘‘۔مرشد اکمل :ص:۸)
حضرت عزرائیل علیہ السلام کی توہین
صوفی صاحب اپنے متعلق لکھتے ہیں کہ:
’’رات کا ایک بجا تھا ہم اپنے بستروں پر لیٹ گئے خوف سے بتیاں نہ بجھائیں تقریبا دس منٹ بعد میرے دائیں طرف ایک نورانی جسم نمودار ہوا میں نے اس نورانی وجود کو سر سے پائوں تک غور سے دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ حضرت عزرائیل ؑہیں ۔ آپ شکل ا نسانی میں تھے اور جسم مکمل سفید نور تھا میں تو ایک دم گھبرا گیا کہ ابھی موت آئی ۔انہوں نے میرے دل کی طرف اپنا ہاتھ بڑھانا شروع کیا ابھی ہاتھ میرے دل کی طرف بڑھا ہی تھا کہ میرے آقا شہنشاہ اعظم چادر والی سرکار پرواز کرتے ہوئے تشریف لائے اور میرے پاس پہنچ گئے سرکار کو دیکھ کر حضرت عزرائیلؑ السلام نے اپنا ہاتھ واپس کیا اور میرے آقا کے سامنے با ادب کھڑے ہو گئے آپ نے انہیںفر مایا
جانتے نہیں ہم نے اسے اللہ سے مزید زندگی لے کر دی ہے حضرت عزرائیل ؑ نے کہا ۔جی جی پھر سرکار نے مجھے سرزنش کرتے ہوئے فرمایا
بابو جی جب ہم نے آپ سے کہا تھا کہ فکر نہ کرو تو آپ کا دل قرار کیوں نہ پکڑا ۔میرے دل میں بھی فرشتے کو دیکھ کر خیال آ گیا تھا کہ بس اب وقت ختم ہو چکا ہے لیکن اگلے ہی لمحے اپنے آقا کا فرمان یاد آ گیاکہ آپ نے یہ بھی تو تسلی فرمائی تھی کہ اگر میری روح قبض بھی ہو گئی تو آپ کی نظر کرم سے دوبارہ واپس ہو جائیگی ۔پھرآپ حضرت عزرائیل ؑ سے مخاطب ہوئے
’’دیکھو جی اب جب بھی اللہ کا حکم ہو (یعنی میری موت کا وقت آئے )تو سیدھے ہی اس کے پاس نہ چلے آنا مجھ سے پوچھ کر ادھر کا رخ کرنا ‘‘
حضرت عزرائیل ؑ نے فرمایا ۔’’جی بالکل جی بالکل ‘‘پھر سرکار نے فرمایا ۔’ ’اب جائو جی آپ کا یہاں کیا کام ہے ‘‘۔
(مرشد اکمل :ص۸۵۔۸۶)
قارئین کرام !اس واقعہ کو بار بار پڑھیں اللہ کی کس قدر توہین پر مشتمل ہے کہ اللہ ر ب العزت حضرت عزرائیل علیہ السلام کو ایک انسان کی روح قبض کرنے کے لئے بھیجتے ہیں تو فورا ان صاحب کے پیر صاحب آ جاتے ہیں اور اللہ کے حکم کو کالعدم قرار دے دیتے ہیں ،پیر صاحب کہتے ہیں کہ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ میں نے اس کی زندگی بڑھا دی تو حضرت عزرائیل ؑفورا اس طرح جی جی کرنے لگ جاتے ہیں جیسے ایک سرکاری ملازم اپنے افسر کے سامنے،جب معلوم تھا کہ زندگی بڑھا دی تو روح قبض کرنے آئے ہی کیوں تھے ؟گویا اللہ کا حکم تھا کہ قبض کرو مگر پیر صاحب کا حکم تھاکہ قبض نہ کرو ،اللہ کا حکم ٹالو تو بھی خیر نہیں ،پیر صاحب کا حکم نہ مانو تو بھی خیر نہیں ،اب بیچارے عزرائیل ؑ اللہ کا حکم پا کر روح کھینچنے آتے ہیں تو رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں اور جی جی شروع کر دیتے ہیں غور فرمائیں آخر یہ بدبخت کیا نقشہ پیش کر رہے ہیں ۔پھر بدبختی کی انتہاء دیکھو کہ پیر صاحب کہتے ہیں کہ اب کی بار جب اللہ حکم دیں تو یوں ہی نہ چلے آنا بلکہ پہلے میرے پاس آنا ،مجھ سے اجازت لینا معاذاللہ ۔گویا اللہ اب اتنا مجبور و لاچار ہو چکا ہے کہ اپنے فیصلے نافذ کرنے کے لئے لاثانی صاحب کے پیر کا محتاج ہو گیا ہے،خدا تو حکم دے کہ روح قبض کر لو اور لا ثانی کا پیر بولے کہ ہر گز نہیں معاذ اللہ۔خدا کون ہوتا ہے یہ حکم دینے والا، پہلے میرے پاس آنااگر میری اجازت ہو تو پھر روح قبض کرنا استغفراللہ ۔
آخر میں ایک اور بات بھی عرض کرنا چاہیں گے کہ اس عبارت سے کم از کم اتنا تو ثابت ہوا کہ صوفی صاحب کے پاس نہ تو موت وحیات کا اختیار ہے نہ ہی علم غیب رکھتے ہیں ورنہ فرشتے کے آنے پر اتنا نہ گھبراتے اور نہ ہی اپنے پیر صاحب کی تسلی کو بھولتے ۔
پھر صوفی صاحب نے اپنے پیر کو ’’شہنشاہ اعظم‘‘ کہا حالانکہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ :
اخنی الاسماء یوم القیامۃ عند اللہ رجل یکنی ملک الاملاک
قبیح ترین ناموں میں سے قیامت کے دن اس شخص کا نام ہوگا جسے شہنشاہ کہا جائے ۔
ایک حدیث میں ہے کہ ایسانام رکھنے والے پر سب سے زیادہ غضب ہوگا اس لئے کہ
لا ملک الا اللہ ،اللہ کے سوا کوئی بادشاہ نہیں۔(مشکوۃ ۔ج:۲۔ص:۴۲۱)
نبی کریم ﷺ گالی دیتے ہیں ۔معاذ اللہ
’’میرے آقا حضور ﷺ پرواز کرتے ہوئے تشریف لائے آپ نے اسے زوردار تھپڑ مارا اور جلال میں فرمایا
کتے ! تو جانتا نہیں کہ کس کو تنگ کر رہا ہے ،یہ ہمارا بیٹا ہے تو ہمارے بیٹے کو تنگ کر رہا ہے ‘‘۔(مرشد اکمل :ص۱۵۲)
میرے دوستو ! اس گستاخی کو ملا حظہ کریں وہ ذات جس کے بارے میں رب فرماتا ہے کہ ہم نے آپ کو سارے جہاں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ،وہ ذات جو اپنے امتیو ں کو یہ حکم دے کہ کسی مسلمان کو گالی دینا فسق ہے،ارے جس ذات کے بارے میں اماں عائشہ ؓ فرمائیں کہ حضور ﷺ نہ تو فحش گوئی کرنے والے تھے نہ لعنت کرنے والے تھے ،جس ذات نے ساری زندگی اپنے کسی بڑے سے بڑے دشمن کو کوئی گالی نہ دی اس ذات کی طرف گالی کی نسبت کرنا کس قدر کھلی ہوئی توہین ہے ۔
حضرت مجدد الف ثانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ:
’’اگر کسی کو گالی دینے میں کوئی بھلائی اور عبادت ہوتی تو ابو جہل اور ابو لہب کو گالی دینا جو نصوص قرآنی کے مطابق ملعون و مطرود آدمی ہیں اس امت کا وظیفہ ہوتا اور اس کے ضمن میں بہت سی نیکیاں حاصل ہوتیں ۔گالی دینے میں کونسی بھلائی ہے کہ جو کہ بے حیائی اور برائی کو شامل نہیں ‘‘۔
(ملتوب ۲۴۔دفتر سوم)
حضور ﷺ روضہ منورہ کو چھوڑ کر فیصل آباد آرام فرمانے آتے ہیں
’’محمد حسین نقشبندی صاحب (نور پور ،فیصل آباد)آستانہ عالیہ پر حضور ﷺ اور حضرت علی المرتضیٰ ؓ کی زیارت ہوئی اور فرمایا ’’ہم اکثر اس جگہ آتے اور آرام فرماتے ہیں ‘‘۔(فیوض و برکات:ص۱۳۳)
قارئین کرام! نبی کریم ﷺ کی قبر مبارک کے بارے میں خود آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ:
ما بین بیتی و منبر ی روضۃ من ریاض الجنۃ(مشکوۃ۔ج:۱۔ص:۲۵۲)
جب حضور ﷺ کی قبر مبارک کی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے تو نبی ﷺ کو کیا ضرورت آن پڑی کہ جنت کو چھوڑ کر فیصل آباد کی بدبودار گلیوں میں لاثانی کے آستانے پر آتے ہیں وہ بھی آرام کرنے ،گویا معاذاللہ حضورﷺ اپنی قبرمبارک میں ،جو مدینے میں ہے ،بے آرام ہیں یا وہاں انہیں کوئی آرام کرنے نہیں دیتا تو اکثر لاثانی کے آستانے پر تشریف لاتے ہیں ۔
لاثانی کا پیر پیچھے سے بھی دیکھتا ہے ۔
لاثانی اپنے پیر کے متعلق کہتا ہے کہ:
’’میرے آقا پیچھے بھی اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح آپ آگے موجود اشیاء اور لوگوں کو دیکھتے ہیں ‘‘۔(مرشد اکمل :ص۱۶۶)
حالانکہ اہل علم جانتے ہیںکہ یہ میرے پیارے آقا ﷺ کا معجزہ ہے کہ و ہ پیچھے بھی اسی طرح دیکھتے جس طرح اپنے آگے دیکھتے ہیں ۔
حضرت امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی توہین
قرآن پاک میں ارشاد ربانی ہے :
’’قیامت کے روز ہم ہر گروہ کو اس کے امام کی طرف سے بلائیں گے۔(بنی اسرائیل۔۷)
ایک مرتبہ عالم رئویا میں ایک مجلس پاک دیکھی جس میں عام لوگو ں کے علاوہ اہل سلسلہ علماء کرام اور اولیاء بھی تشریف فرما ہیں ۔ حضرت امام ابو حنیفہ اورقبلہ لاثانی سرکار بھی محفل پاک میںتشریف فرما ہیں ۔حضرت امام ابو حنیفہ نے لا ثانی سرکار کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے تمام اہل سلسلہ سے مخاطب ہو کر فرمایا :
’’تمہارے امام یہ لاثانی سرکار ہیں‘‘۔
(نوری کرنیں :ص۲۰۲)
گویا امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی امامت منسوخ ہے اور بقول لاثانیوں کہ قرآن کی اس آیت کی رو سے قیامت کے روز لا ثانی سرکار کی امامت میں لوگوں کواٹھایا جائیگا ۔معاذ اللہ۔
نبی ﷺ سے پہلے لاثانی کی قدم بوسی کرو
’’ذوالفقار صاحب (فیصل آباد )بیان کرتے ہیں آستانہ عالیہ پر محفل پاک ہو رہی تھی اسی دوران میں نے دیکھا کہ یہ محفل یہاں نہیں بلکہ روضہ رسولﷺ پر ہو رہی ہے اور ہم سب بھی وہاں محفل میں موجود ہیں میں نے دیکھا کہ محفل میں حضور نبی کریم ﷺ ،حضرت قبلہ ولی محمد شاہ صاحب المعروف
چادر والی سرکار ا ور قبلہ لا ثانی سرکاربھی محفل میں تشریف فرما ہیں ۔
میں نبی کریم ﷺ کی قدم بوسی کرنے لگتا ہوں تو آپ ﷺہٹ جاتے ہیں اور آپ نے ارشاد فرمایا پہلے اپنے آقا کے قدم چومو ‘‘۔
(نوری کرنیں :ص۶۱)
گویا نبی کریم ﷺ پر لاثانی کو ترجیح حاصل ہے ۔
مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی توہین
٭ ’’فردوس صاحب نے دیکھا کہ آستانہ عالیہ پر ہونے والی محفل حقیقت میں مدینہ منورہ میں ہو رہی ہے ‘‘۔
(فیوض و برکات :ص۱۲۷)
٭ ’’محمد ارشد صاحب (لاہور )نے محفل ذکر کو روحانی طور پر مدینہ شریف میں دیکھا ‘‘۔(فیوض و برکات :ص۱۲۸)
٭ ’’غلام عباس صاحب ۔ حضرت سیدنا صدیق اکبر ؓ،حضرت غوث الاعظم سرکارؒ،بابا نورشاہ ولی ؒ،اور حضرت داتا علی ہجویری ؒکی حضرت لاثانی سرکار کے ہمراہ زیارت ہوئی، محفل خانہ کعبہ میں نظر آئی ‘‘۔
(فیوض و برکات :ص۱۳۰)
٭ ’’رفیع صاحب (فیصل آباد )دوران ذکر محفل کو خانہ کعبہ میں دیکھا اور درود شریف پڑھتے وقت مشاہدہ کیا کہ محفل روضہ رسولﷺپر ہو رہی ہے اورسفید نور کی بارش ہو رہی ہے ‘‘۔(فیوض و برکات :ص۱۳۲)
٭ ’’محمد یٰسین صاحب دو مرتبہ حضور ﷺکی محفل میں زیارت ہوئی اور دیکھا کہ خانہ کعبہ میںمحفل ہے ‘‘۔(فیوض و برکات:ص۱۳۴)
پہلے تو محفل خانہ کعبہ میں ہو رہی تھی اب خود خانہ کعبہ محفل میں چلا آیا معاذ اللہ ۔
در مرشد اساںپہچان لیا اس در نوں کعبہ جان لیا
جس در تے ساڈا حج ہووے او در کناں لا ثانی اے
(نوری کرنیں :ص۲۲)
قارئین کرام! وہ مقامات متبرکہ جو کہ وحی الٰہی اور نزول قرآن مجید اور فرقان حمید سے آباد رہے اور جن میں کہ جبرائیل علیہ السلام اور میکائیل علیہ السلام نے آمدو رفت رکھی اور جن سے فرشتے اور ارواح طیبہ آسمان کو چڑھتے اور جن کے میدان رب جلیل کی تسبیح و تقدیس سے گونجتے ہیں اور جس سرزمین کی خاک پاک افضل الانبیاء ،سید البشر ،خیر البشر ، امام الانبیاء حضرت محمد مصطفی احمد مجبتی ﷺ کو مشتمل ہے اور جس مقام سے عالم میں دین الٰہی اور سنت نبوی پھیلی ہے اور جو آیات الٰہی اور عبادات کی درسگاہ بنی ہے اور فضائل و حسنات کے مشہد و براہین و معجزات کے مستقر اور مسلمانوں کے مناسک اور سید المرسلین ،شفیع المذنبین ، خاتم النبیین ﷺ کی مسکن رہی ہے اور جس جگہ چشمہ نبوت جاری اور اس کا دریا موجزن ہوا ہے اور جہاں کہ رسالت نازل ہوئی اور جس سرزمین کی مٹی کو سیدنا نبی کریم ﷺ کے چھونے کا شرف حاصل ہوا ہے اس جگہ کیلئے یہی مناسب ہے کہ اس کے میدانوں کی تعظیم و توقیر کی جائے اور اس مقام مقدس کی ہوائیں سونگھی جائیں اور اس کے درو دیوار کو بوسہ دیا جائے مگر افسوس کہ آج لاثانی فرقے کے یہ لوگ مقدس مقامات کی قدر مسلمانوں کے دل سے مٹانے کیلئے درپردہ ان جھوٹے خوابوں کی بنیاد پر فیصل آباد میں صوفی مسعود کے آستانے اور اس میں ہونے والی محفل جس میں بے پردہ عورتوں کی بھرمار ،ناچ گانے ،قوالیاں ہوتی ہیں، گناہوں کی اس محفل کے بارے میں یہ باور کرایاجارہا ہے کہ یہ محفلیں گویا فیصل آباد میں نہیں بلکہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں ہورہی ہیں ۔
جس مدینے کی مٹی کے بارے میں امام مالک ؒ کا یہ فتوی ہے کہ جو کہے کہ مدینے کی مٹی کی کوئی وقعت نہیں اس کی گردن اڑادو اور اس پر کوڑے برساؤ ارے جس مٹی میں انبیاء کے سردار مدفون ہیں یہ کہتا ہے کہ اس کی کوئی وقعت نہیں (الشفاء ۔ج:۲۔ص: ۳۶)
ہائے افسوس آج اس بابرکت شہر کی برکتوں کا نزول کہاں ثابت کیا جارہا ہے ۔اگر مرزا قادیانی کا لڑکا مرزا بشیر الدین یہ کہے کہ
’’یہ بالکل درست ہے کہ یہاں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ والی برکات
نازل ہوتی ہیں حضرت مسیح ۔۔بھی فرماتے تھے
زمین قادیان اب محترم ہے ہجوم خلق سے ارض حرم ہے
(منصب خلافت ۔ص:۶۶ مطبوعہ الٰہ بخش پریس قادیان)
تو سب کی آنکھیں نکل آئیں کہ ہائے گستاخی کردی مگر یہاں صوفی صاحب کے خلاف کسی کی حرارت ایمانی جوش میں نہیں آتی ،کسی کو لب کشائی کی جرات نہیں اس لئے کہ یہاں ڈر ہے کہ کہیں ہمارے خلاف لاثانی صاحب پر چہ نہ کٹادے ؟کہیں لاثانی کے غنڈے ہمیں گولی کا نشانہ نہ بنادے ؟مگر اے باطل تو لاک ہماری زبان کاٹ دے اس دل کو چھلنی بنادے مگر میں حق بیان کرنے سے باز نہیں رہوں گا
داڑھی کی توہین
قارئین کرام! داڑھی نبی کریم ﷺ کی پیاری سنت ہے آپ کا ارشاد گرامی ہے کہ مشرکین کی مخالفت کرو مونچھیں کتروائو اور ڈاڑھی بڑھائو ۔ایک مٹھی داڑھی رکھنے کو علماء نے واجب کہا ہے ۔دیگر سنتوں کی طرح اس سنت کی ادنیٰ تحقیر بھی نبی کریم ﷺ گستاخی شمار ہوگی۔آئے ملاحظہ فرمائیں کہ لوگوں نے کس طرح اس پیاری سنت کی توہین کی ہے ۔
’’یہ جو تم نے اپنے چہروں پر ڈاڑھیاں لٹکائی ہوئی ہیں یہ ڈاڑھیاں نہیں جھاڑیاں ہیں جو دکھاوے کے لئے چہروں پر سجا رکھی ہیں ‘‘۔
(مرشد اکمل:ص۹۵)
داڑھی کو جھاڑیاں کہنا ڈاڑھی کی کس قدر توہین اور اس سے بے زاری کا اظہار ہے اور لٹکانا کتنا عامیانہ جملہ ہے۔
لاثانیوں کا عقیدہ داڑھی رکھنا سنت نہیں ہے
’’مسلمان کو حضور ﷺ کی سنتوں پر عمل کرنا چاہئے لیکن ڈاڑھی ہی سب کچھ نہیںدین بہت وسیع ہے اگر ڈاڑھی ہی سب کچھ ہوتی تو علامہ اقبال ؒاور قائد اعظم ولی نہ ہوتے کہ اولیاء انہیں ولی کہتے ہیں ۔ڈاڑھی کی سنت کو پورا نہ کرنے والا ایک سنت کو پورا نہیں کر رہا لیکن ہم اسے تارک سنت نہیں کہہ سکتے کیونکہ تارک سنت وہ ہوتا ہے جو سنت کو نہ مانے اور اس سے انکار کرے یا گستاخی کرے ‘‘۔(میرے مرشد:ص۱۳۳)
ہم نے ہرگز یہ نہیں کہا کہ داڑھی ہی سب کچھ ہی لیکن اسکا یہ مطلب کہاں کہ دین کی وسعت کا بہانہ بنا کر سنتوں پر عمل ہی ترک کر دو کل کو آپ کی طرح کوئی کہہ دے کہ نماز ہی سب کچھ نہیں دین بہت وسیع ہے تو خود اندازہ لگائیںاس دین کا حلیہ کس طرح بگڑ جائیگا ،علامہ اقبال ؒاور قائد اعظم کا ادب اپنی جگہ لیکن کونسے ولیوں نے ان دو افراد کو اولیاء اللہ میں شمار کیا ہے ؟پھر جہالت کی انتہاء دیکھیں کہ داڑھی نہ رکھنے والا تارک سنت نہیں داڑھی کا انکار کرنے والا تارک سنت ہے حالانکہ اس جاہل کواتنا بھی پتہ نہیں کہ انکار کرنے والا منکر سنت ہے کم سے کم لغت میں انکار اور ترک کے معنیٰ ہی دیکھ لیتے ۔ایم ٹی طاہر صاحب کی چونکہ خود داڑھی نہیں اور وہ تھری پیس سوٹ میں گھومتے ہیں اس لئے انہوں نے خود پر ولایت کا لیبل چسپاں کرنے کے لئے یہ خود ساختہ تاویلیں شروع کر دیں ۔انہی گمراہ کن تعلیمات کا نتیجہ ہے کہ آپ سالانہ مجلس ان لوگوں کی دیکھ لیں مشکل سے دس افراد بھی ایسے نہیں ملیںگے جن کے چہروں پرمکمل سنت کے مطابق داڑھی ہو۔
امہات المومنین کی توہین
’’اس مقام پر حضورﷺ بطور مرشد طالب حق کی تربیت فرماتے ہیں اور اسے قبول فرما کر پرورش کے لئے امہات المومنین ؓ میں سے کسی ایک کے سپرد فرما دیتے ہیں حضور ﷺ کی ازواج مبارکہ کو ’’امہات المومنین ‘‘بھی اسی نسبت سے کہا جاتا ہے کہ عالم باطن میں بھی حضور ﷺ اس ’’معصوم نوری بچہ‘‘کو اپنی جانب سے ایک نام عطا فرماتے ہیں پھر وہ روحانی دنیا میں اپنے ’’باطنی نام ‘‘ سے ہی پکارا جاتا ہے ۔طالب حق (کئی سال )حضور ﷺ اور امہات المومنین ؓ کی صحبت میں پرور ش پاتا رہتا ہے یہاں ہمہ وقت ان کی قرابت اور حضوری میں رہنے کی وجہ سے پھر وہ ’’معصوم نوری بچہ‘‘’’نوری حضوری‘‘بن جاتا ہے اور اسے حضور ﷺ کی جو قربت اور محبت نصیب ہوتی ہے وہ کسی دوسرے ولی کو حاصل نہیں ہوتی یہی وجہ ہے کہ اس مقام کو ولایت کبریٰ کے اولیاء کرام بھی سمجھنے سے قاصر ہوتے ہیں حضورﷺاور امہات المومنین کی گود (بارگاہ)میں پرورش پانے کی بدولت باطنی طور پر وہ اہل بیت میں شامل ہو چکا ہوتا ہے۔اس لئے فقیر کو ’’سید‘‘ بھی کہاجاسکتا ہے ۔
فقیر کی پرواز ابتداء عام طور پر چھٹے آسما ن یا ساتویں آسمان سے شروع ہوتی ہے اور مرشد تربیت کے لئے ساتویں آسمان پر یا اس سے بھی اوپر موجود ہوتا ہے ۔جس مقام پر دیگر اولیاء کرام (قطب و غوث وغیرہ )کے مقام و مرتبہ کی انتہاء ہوتی ہے ،وہاں سے فقیر کی پرواز شروع (ابتداء) ہوتی ہے پھر اس کو ترقی کر کے ساتویں آسمان پر لے جایا جاتا ہے ‘‘۔
(رہنمائے اولیاء مع روحانی نکات :ص۱۵۲)
قارئین کرام !یہ حوالہ کئی گستاخیوں پر مشتمل ہے اولاوہ امہات المومنین جو اپنی حیات میں کسی کے سامنے بے پردہ نہیں ہوئیں صحابہ فرماتے ہیں کہ جب ہمیں کوئی مسئلہ پوچھنا ہوتا تو پردے کے پیچھے سے پوچھتے ان کے متعلق یہ گستاخی کی جا ر ہی ہے کہ ایک غیر مرد جسے لاثانی فقیر کہتا ہے انکی گود میں معاذ اللہ پرورش پاتا ہے کیا لاثانی صاحب مجھے اجازت دینگے کہ میں ان کی بیگم کی گود میں جا کر لیٹ جائوں اور کہوں کہ میری پرورش کرو ؟پھر یہ عجیب ڈرامہ بنایا ہوا ہے کہ باطنی دنیا ظاہری دنیاحالانکہ یہ عقیدہ تو باطنی فرقہ کا ہے کہ قرآن کے ایک معنیٰ تو ظاہری ہیں اور ایک معنیٰ باطنی اور پھر اس باطنی معنیٰ کی بنیاد پر دین کا حلیہ بگاڑنا شروع کر دیتے یہی کام صوفی صاحب نے لگایا ہوا ہے امہات المومنین تمام مسلمانوں کی مائیں ہیں اس وجہ سے انہیں امہات المومنین کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہے کہ :
النبی اولیٰ بالمومنین من انفسھم وازواجہ امہاتھم (الاحزاب۔۶)
پھر انہیں صرف باطنی دنیا کی مائیں کہنا اور وہ بھی صرف فقراء کی کس قدر ان کی مادرانہ شفقت کو محدود کرنا ہے پھر یہ کہنا کہ فقراء یعنی مومنین کی مائیں ۔گویا صوفی صاحب کے نزدیک مومنین صرف فقراء ہوتے ہیں باقی سب کافر منافق ہیں ؟پھر اس ڈرامے کا سہارا لے کر کس طرح ایک دم سے صوفی صاحب ’’سید‘‘کی مسند پر جا کر بیٹھ گئے کہ اس طرح اسے سید بھی کہاجاتا ہے بھائی یہ شریعت ہے یا ابا جی کی حساب کتاب کی کاپی کہ جو چاہے کہتے پھرو نبی کریم ﷺ کا ارشاد پاک ہے کہ جو اپنے ماں باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف نسبت کرے تو اس پر تمام جہاں والوں کی لعنت ہے ۔پھر حضور ﷺ کی تربیت تو زمین پر ہو اور زمین سے ساتویں آسمان کی طرف پرواز کریں مگر یہ صوفی کہتا ہے کی فقیرکی پروازکی تو ابتداء ہی ساتویں آسمان سے ہوتی ہے۔اور اس کا مرشد ساتویں آسمان سے بھی اوپر ہوتا ہے بھائی کہاں ہوتا ہے کیا عر ش پر ؟صاف صاف کیوں نہیں کہتے؟
صوفی مسعود احمد لاثانی سرکار حضرت امیرمعاویہ
رضی اللہ تعالی عنہ کا گستاخ
نام نہاد صوفی لاثانی نامسعود احمد کی تنظیم کے ترجمان رسالے’’ماہنامہ لاثانی انقلاب ‘‘ میں کاتب وحی صحابی رسول ﷺ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کی گستاخی بایں الفاظ کی جاتی ہے کہ:
’’حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ نے یزید کو اپنا جانشین نامزد کرکے اسی اصول دین کی خلاف ورزی کی تھی‘‘
(ماہنامہ لاثانی انقلاب انٹرنیشنل :دسمبر ۲۰۱۰،ص۸)
معاذ اللہ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ تعالی عنہ کو ’’اصول دین‘‘ کا مخالف کہنا کتنی بڑی جسارت ہے؟صوفی صاحب خود تودین کے تمام اصولوں پر کاربند اوراللہ کے نبیﷺ کا صحابی اصول دین کا مخالف ہو؟
حضور ﷺ کا ظاہر خیالی پیالہ
ایم ٹی طاہر صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’لیکن آج ہم مسلمانوں نے آنحضور ﷺ کی سیرت اور آپکے مزاج یعنی کل کو چھوڑ کر جز پر توجہ مرکوز کرلی ہے ۔ہم نے دودھ(حضور کا کردار و عمل)تو نظر انداز کردیا البتہ خالی پیالے (وضع قطع)کی آرائیش و زیبائیش پر توجہ مرکوز کرلی‘‘۔(میرے مرشد۔ص:۱۱۰)
العیاذ باللہ ،استغفر اللہ حضور ﷺ کے ظاہر کو خیالی پیالہ کہنا بد ترین شقاوت قلبی نہیں تو اور کیا ہے ؟حضور ﷺ کا ظاہربھی حضور ﷺ کی سیرت ہی کا حصہ ہے مگر نہ معلوم انہیں حضور ﷺ کے ظاہر سے ایسی کیا دشمنی ہے؟ ۔
روضہ رسول ﷺ کی توہین
’’نذر حسین (منصورہ آباد،فیصل آباد ) بیان کرتے ہیں کہ اللہ کے رسول ﷺ نے مرشد پاک کے صدقے بڑا کرم فرمایا مجھے آستانہ عالمیہ کی عظمت دکھائی گئی ۔میں نے خواب میں دیکھا کہ قبلہ حضور لاثانی سرکار کے حجرہ مبارک کے اوپر روضہ رسول بناہوا ہے ۔فرشتے سبز گنبد کو سجارہے ہیں میں عرض کرتا ہوں کہ یہ آپ کس کے لئے کررہے ہیں ارشاد ہوا کہ جشن عید میلاد النبی ﷺ کی محفل آرہی ہے اس لئے ہم یہ سجا رہے ہیں‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص:۱۹۳)
کعبہ شریف کی توہین
’’ایک رات قبلہ لاثانی سرکار خواب میں تشریف لائے اور آپ نے فرمایا کہ کیا کعبۃ اللہ میں بیعت ہونا چاہتے ہو ؟ میں نے عرض کی کہ جی حضور اس گناہ گار کی یہی خواہش ہے ۔آپ نے فرمایا کعبہ کو یہاں نہ بلالیا جائے ۔آپ کا یہ فرمانا تھا کہ میں نے دیکھا کہ کعبہ شریف حاضر ہے پھر میں نے بیعت اللہ میں آپ کے دست حق پر بیعت کی‘‘۔
(نوری کرنیں:ص:۲۹۵)
اللہ کے گھر میں ڈھول کی تھاپ
’’روبینہ اشرف صاحبہ (فیصل آباد) سالانہ محفل بسلسلہ جشن ولادت لاثانی سرکار کی تیاریاں اپنے عروج پر تھیں کہ خواب میں دیکھا کہ ایک عظیم الشان جلوس جس کی قیادت پیر و مرشدقبلہ لاثانی سرکار فرمارہے ہیں اور ڈھول کی تھاپ پر ’’اللہ ہو‘‘کا ورد ہورہا ہے ۔یہ جلوس چلتے چلتے خانہ کعبہ شریف پہنچ گیا اور ایک بہت بڑے اسٹیج پر قبلہ لاثانی سرکار جلوہ افروز ہوئے اور محفل پاک لاثانی کا آغاز ہوا ’’سبحان اللہ‘‘ جو محفل اللہ عز و جل کے گھر میں ہورہی ہو اس کی فضیلت و اہمیت کا اندازہ کون کرسکتا ہے ‘‘۔
(نوری کرنیں۔ص:۴۰۴)
اولیاء اللہ کی توہین (انگریزی ولی)
’’کافی عرصہ پہلے کی بات ہے کہ ایک دن میں خانیوال میں تھا ۔دوپہر کا وقت تھا آرام کی غرض سے چارپائی پر لیٹ گیاابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ میں نے دیکھا (اس وقت میری آنکھیں بند تھیں لیکن میں جاگ رہا تھا) ایک بزرگ فضا میں پرواز کرتے ہوئے وہاں سے جارہے ہیں ۔مجھے القاء ہوا کہ یہ قبلہ چادر والی سرکار ؒ کے آستانہ عالیہ سے حاضری دے کر آرہے ہیں ۔مجھے ان کی جانب کشش محسوس ہوئی ۔اور میں ان سے ملنے کیلئے اٹھ کھڑا ہوا ۔ وہ بھی مجھے دیکھ کر رک گئے اور میرے قریب آئے۔
میں نے دیکھا کہ وہ بزرگ کلین شیو تھے ان کا حلیہ بھی انگریزوں والا تھا ۔ ایسا لگتا تھا وہ کسی مغربی ملک کے باشندے ہیں ۔انہوں نے آتے ہی مجھے سلام کیا اور ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوگئے پھر مجھے بتایا کہ میں چادر والی سرکار کے آستانہ عالیہ سے حاضری دے کر آرہا ہوں ۔اسی وقت چادر والی سرکار کے آستانہ عالیہ کا نقشہ میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور میں نے دیکھا کہ وہاں پیر و مرشد حضورچادر والی سرکار ؒاور ان کے ہمراہ پیران پیر غوث الاعظم سرکار ؒ بھی تشریف فرماہیں۔آپ نے میری طرف دیکھ کر اس انداز میں سر ہلایا جیسے آپ ان بزرگ کی بات کی تصدیق فرمارہے ہوں ۔(کہ ا نہوں نے سچ کہاہے)
پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں جارہے ہیں ۔تو انہوں نے بتایا کہ میں امریکہ جارہا ہوں۔اور صرف دو تین منٹوں ہی میں وہاں پہنچ جاؤں گا ۔ان کی بات سن کر مجھے بہت حیرت ہوئی کہ جہاں جہاز بھی کئی گھنٹوں میں پہنچتا ہے وہاں میرے آقا کا منظور نظر بندہ منٹوں ،سیکنڈوں میں پہنچ جاتا ہے ۔پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو یہ مقام کیسے حاصل ہوا کہ آپ جسم سمیت پرواز کرکے لمحوں میں کہیں جاسکتے ہیں۔
انہوں نے جواب دیا مجھے حضرت چادر والی سرکارؒ نے ہی مسلمان کرکے پھر بیعت کیا اور پھر میرے باطن کو دیکھتے ہوئے آپ نے اپنی نظر کرم سے مجھے یہ مقام عطا فرمایا۔آپ سرکار ؒ نے مجھے یہ مقام خاص عطا کرنے کی وجہ بیان فرمائی اور فرمایا کہ ہم اس پورے علاقہ پر نظر ڈال کرکر دیکھا۔(انتخاب کے لئے) لیکن تم ہمیں اس پورے علاقہ میں دوسروں کی نسبت زیادہ درد مند دل رکھنے والے (نرم دل)یعنی دوسروں کا دکھ درد اور پریشانیوں کو محسوس کرکے انہیں حل کرنے کی کوشش کرنے والے نظر آئے ۔اس کے علاوہ یہ بھی کہ تم رزق حرام نہیں کھاتے۔اس لئے ہم نے تم پر یہ کرم کیا ہے ۔
پھر وہ بزرگ مجھے کہنے لگے کہ مقام و مرتبہ تو آپ کا بلند ہے لیکن مجھے یہ طاقت پرواز اس لئے عطا کی گئی ہے کہ میری ڈیوٹی اس قسم کی ہے کہ مجھے کام کی وجہ سے بار بار آپ کے پاس آنا پڑتا ہے۔ابھی جب میں یہاں سے گزر رہا تھا تو مجھے کشش ہوئی اور ایسا محسوس ہوا کہ یہاں کوئی کامل ہستی موجود ہے ۔تو میں آپ کو سلام کرنے کیلئے حاضر ہوا تھا۔
اس کے بعد وہ مجھے ظاہری طور پر امریکہ لے کر گئے اور ہم نے یہ فاصلہ محض چند سیکنڈوں میں طے کرلیا۔میں وہاں کافی دیر موجود رہا ۔میں نے دیکھا کہ وہ بزرگ وہاں کے ماحول میں انہی کی طرح رہن سہن اپنائے ہوئے ہیں لیکن اس کے باوجود وہ صاحب تصرف ولی تھے‘‘۔
(مرشد اکمل۔ص:۱۳۵۔۱۳۶)
ایک اور جگہ لکھتا ہے کہ :
’’ایک مرتبہ آستانہ پر چند ایسے آدمی آئے جس کا حلیہ انگریز والا تھا۔ نیکر شٹ پہنے ہوئے ایسا لگتا تھا وہ کسی ملک کی سیاحت پر نکلے ہوئے ہیں۔وہ پرواز کرکے آتے اور کسی کو آتے ہوئے دیکھائی نہ دیتے اور آستانہ عالیہ کے قریب چند قدم پر ظاہر ہوجاتے اور نہ ہی جاتے ہوئے کسی کو نظر آتے‘‘۔(مرشد اکمل۔ص:۱۵۷)
جبکہ لاثانی سرکار کے ایک مریدلکھتے ہیں کہ:
طریقت و تصوف کی وضاحت کیلئے مرشد کریم جناب صدیقی لاثانی سرکار صاحب کا ظاہر میں پیش آنے والا ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں جو آپ سرکار نے خورشید ہاؤ س لاہور میں ہونے والی ایک محفل میںاس طرح بیان فرمایا کہ ایک مرتبہ میں (جناب صدیقی لاثانی سرکار صاحب)خانیوال میں تھا اور چارپائی پر لیٹا تھا کہ میں نے ایک بزرگ کو ہوا میں اڑتے دیکھا ، مجھے ان کی جناب کشش کوئی اور محسوس ہوا کہ جیسے وہ حضور سیدنا چادر والی سرکار کے آستانہ عالیہ پر حاضری دے کرآرہے ہیں اور انہیں بھی میری جناب کشش محسوس ہوئی اور وہ زمین پر اتر آئے۔وہ بزرگ کلین شیو تھے اور کسی یورپی ملک سے تعلق رکھتے تھے ،سو فی صدانگریز وں والا حلیہ تھا ۔انہوں نے زمین پر اترتے ہی مجھے سلام کیا دست بوسی کی اورفرمایا کہ میں چادر والی سرکار کے آستانہ سے حاضری دے کر آرہا ہوں۔ میں (لاثانی سرکار صاحب)نے باطنی طور پر نگاہ دوڑائی تو دیکھا کہ اس وقت آستانہ عالیہ ملتان شریف پر حضور سیدنا چادر والی سرکار اپنے حجرے میں تشریف فرما ہیں اور آپ کے ہمراہ حضور داتاؒ صاحب اور غوث الاعظم ؒ سرکار بھی تشریف رکھتے ہیں جبکہ کوئی ملاقاتی یا خادم نہیں اور سیدنا چادر والی سرکار ؒ نے مجھے متوجہ پاکر تصدیق فرمائی کہ یہ درست کہہ رہے ہیں۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کو اتنا خاص مقام حاصل ہے کہ آپ لمحوں میں ظاہری پرواز کرکے کہیں بھی جاسکتے ہیں ، اس کے باوجود آپ اتنی زیادہ عقیدت اور احترام سے میری دست بوسی کررہے ہیں۔ فرمانے لگے کہ حضور سیدنا چادر والی سرکار ؒ کے مزار مبارک پر حاضری دینے کے بعد مجھے خانیوال کی جانب کشش محسوس ہوئی اور مجھے علم ہوگیا کہ اس وقت خانیوال میں کوئی کامل و مکمل ہستی موجود ہیں،اسی لئے میں سلام عرض کرنے حاضر ہوا۔آپ سرکار(حضور سیدنا صدیقی لاثانی سرکار) کا مقام مجھے سے بہت زیادہ بلند ہے لیکن ظاہری پرواز کرنے کی طاقت مجھے اس لئے دی گئی کہ میری ڈیوٹی اس قسم کی ہے ۔میں (جناب صدیقی لاثانی سرکار صاحب) نے پوچھا کہ اگر چہ آپ کلین شیو ہیں ۔حلیہ ،لباس ،زبان اور چال ڈھال بھی انگریزوں والی ہے لیکن اس کے باوجود آپکو یہ ولایت کا اتنا بلند مقام کیسے عطا ہوا؟انہوں نے فرمایا حضور سیدنا چادر والی سرکار کی نظر کرم سے مسلمان ہوا اور میرے باطن کو دیکھتے ہوئے مجھے یہ مقام عطا کیا گیا اور سیدنا چادر والی سرکار ؒ نے بعد ازاں فرمایا کہ تم پر یہ کرم اس لئے کیا گیا کہ تم مجھے اس پورے علاقہ میں سب سے بہتر محسوس ہوئے اور مزیدارشادفرمایا کہ آپ درد مند دل رکھنے والے ہیں اور دوسروں کی مشکلات دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔پھر وہ مجھے ظاہری طور پر امریکہ لے گئے یہ فاصلہ محض چند سیکنڈوں میں طے ہوگیا۔ان کا حلیہ اور لباس انگریزوں والا تھا اور ایک ماڈرن شخص دکھائی دیتے تھے۔میں (صدیقی لاثانی سرکار صاحب)وہاں کافی دیر جسمانی طور پر موجود رہا اور میں نے دیکھا کہ وہ مکمل طور پر مغربی ماحول میں گھلے ملے ہیں ،لوگ آتے ہیں اور اپنے اپنے انداز میں ان سے مسائل حل کراتے ہیں۔کوئی خاتون اپنا کام ہوجانے کی خوشی میں ڈانس کی دعوت دے دیتی ہے تو کوئی کھانے کی ،ان کی محافل ،گفتگو،انداز سب کچھ ہی ماڈرن اور انگریزوں والا ہی تھا لیکن اس سب کے باجود وہ صاحب تصرف ولی تھے‘‘۔ (میرے مرشد۔ص:۱۴۱۔۱۴۲)
یہ خود ساختہ واقعات اس بات کی دلیل ہے کہ صوفی مسعود احمد امریکہ اور انگریزوں کا ایجنٹ ہے ۔اور دین اسلام اور صوفیت کے نام پر ماڈرن اور میڈ ان امریکہ اسلام کا ورژن پاکستان میں پروموٹ کررہاہے۔اس واقعات کا اس کے سوا کیا مقصد ہوسکتا ہے کہ تم بش ،ٹونی بلیئیر،اوباما ، کو برا بھلا مت کہو تمہیں کیا پتہ ہوسکتا ہے کہ یہ لوگ صاحب تصرف ولی اللہ ہوں۔ معاذ اللہ ۔کلین شیو اللہ کے رسول ﷺ کا باغی ہے اور اللہ اور اس کے رسول کا باغی کبھی ولی اللہ نہیں ہوسکتا ۔صوفی صاحب کے ممدوح مولانا احمد رضاخان صاحب بریلوی لکھتے ہیں کہ:
’’داڑھی منڈانے اور کتروانے والا فاسق ملعون ہے اسے امام بنانا گناہ ہے فرض ہو یا تراویح کسی نماز میں اسے امام بنانا جائز نہیں حدیث میں اس پر غضب اور ارادہ قتل وغیرہ کی وعیدیں وارد ہیں اور قرآن عظیم میں اس پر لعنت ہے نبی ﷺ کے مخالفوں کے ساتھ اس کا حشر ہوگا‘‘۔
(احکام شریعت ۔ج۲۔ص:۱۸۹ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
آپ کے ممدوح تو کلین شیو کو فاسق ملعون ،بتارہے ہیں آپ اسے ولی اللہ مان رہے ہیں ، آپ کے ممدوح اسے امام بنانے کو گناہ بتاررہے ہیں آپ نے ولی اللہ بنادیا آپ کے ممدوح فتوی دیتے ہیں کہ ایسے شخص کا شمار نبی ﷺ کے مخالفوں کے ساتھ ہوگا آپ نے ایسے لوگوں کو شمار صاحب تصرف اولیاء اللہ میں کردیا
ایں چہ بو العجمی است
پھر ایک طرف تو لاثانیوں کا دعوی ہے کہ ان کے پیر و مرشد لاثانی سرکار کو ساری دنیا کی خبر حکومتیں اس کی مرضی سے چلتی ہیں مگر دوسری طرف جب اس نے کہا کہ دوتین منٹ میں امریکہ پہنچ جاؤںگا تو صوفی صاحب کو حیرت ہوئی ! اس کا مطلب ہے کہ صوفی صاحب کو اپنے سامنے موجود آدمی کا بھی پورا علم نہیں تو ساری دنیا کا علم خاک ہوگا؟
پھر صوفی صاحب کے جھوٹ کو دیکھیں پہلے کہتا ہے کہ دو تین منٹ میں امریکا پہنچ جاتا ہے مگر لاثانی کو لیکر چند سیکنڈوں میں پہنچ جاتا ہے اسے کہتے ہیں
دروغ گو راحافظہ نہ باشد
پھر کہتے ہیں کہ وہ ولی امریکا جاکر انگریزوں ہی کی طرح حلیہ میں ان کی طرح رہن سہن اپنائے ہوئے ہے یعنی جس طرح انگریز اپنی معشوقہ اور ماں بہن کے درمیان کوئی امتیاز نہیں کرسکتے اس نام نہاد ولی کا بھی یہی حال تھا جس طرح شراب اور سور انگریز کے رہن سہن کا لازمی جز ہے ڈانس اور نائٹ کلبس وہاں کی ثقافت ہے ان تمام تر منکرات میں لاثانیوں کا وہ ولی برابر کا شریک رہتا ۔خدار ادل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کسی ولی کی اس سے زیادہ توہین ہوسکتی ہے ؟۔صوفی صاحب کچھ مولویوں کے ساتھ اپنی بحث کا ذکر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ:
’’اللہ و رسول ﷺ کے فیض و کرم سے متعلق بہت سے سوالوں میں سے چند سوال یہ بھی تھے کہ بغیر داڑھی والا ولی کس طرح ہوسکتا ہے ؟اور اسے حضور نبی کریم ﷺ یا مشائخ کاملین کی زیارت کس طرح ہوسکتی ہے جبکہ ان کے خیال میں وہ تارک سنت تھا میں نے قرآن و احادیث اور اقوال مشائخ سے ثابت کیا اور انہیں مطمئن کردیا‘‘۔
(راہنمائے اولیاء۔ص:۲۳)
صوفی صاحب ہمارا بھی آپ سے یہی سوال ہے کہ امید کرتے ہیں کہ آپ بھی ایف آئی آر کٹوانے ،غنڈوں کے ذریعہ ہمیں دھمکیاں دینے کے بجائے قرآن و حدیث پیش کرکے ہمیں مطمئن کردیں گے۔
جس کو وضوء نہ آتا ہو وہ ولی ہے
’’قبلہ حضور جناب صدیقی لاثانی سرکار صاحب ارشاد فرماتے ہیں کہ حضور سیدنا چادر والی سرکار ؒ کے آستانہ عالیہ پر کئی مرتبہ انگریزوں کے حلیہ والے لوگ حاضری دیتے تھے جو اڑکر آتے تھے اور آستانہ عالیہ کے قریب ہی ظاہر ہوجاتے تھے ،اکثر اوقات خادمین ایسے لوگوں کو پہچان نہیں پاتے تھے مثلا ایک مرتبہ اس طرح ہوا کہ چند اسی طرح کے اولیاء جب تشریف لائے تو انہوں نے قبلہ چادر والی سرکارسے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا ۔ چونکہ خادمین کوان کے متعلق علم ہی نہ تھا وہ ٹوٹی پھوٹی اردو بول رہے تھے ۔ اور محسوس ہوتا تھا جیسے کچھ سیاح چلتے پھرتے آگئے ہیں ۔خادمین ان سے کچھ سختی سے پیش آئے مثلا جب وہ وضو کرنے لگے تو انہیں وضوء کا صحیح مسنون طریقہ نہ آتا تھا۔اس پر خادمین نے انہیں ذرا سختی سے درست طریقہ بتایا لیکن بعد ازاں جب سیدنا چادر والی سرکار ؒ ان کے ساتھ نہایت محبت کے ساتھ پیش آیے تو احساس ہوا کہ کہیں یہ صاحب ڈیوٹی درویش تو نہیں ؟اور پھر جب وہ جانے لگے تو خادمین نے ان کے متعلق عرض کی اور علم ہوا کہ واقعی وہ صاحب ڈیوٹی درویش ہیں ۔خادمین نے ان کے پیچھے جا نا چاہا کہ ان کی صحیح انداز میں خدمت کی جائے اور گستاخی کی معافی مانگی جائے تو سرکار نے ارشاد فرمایا کہ ان کے پیچھے جانے کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ اڑ کر جاچکے ہیں ‘‘۔ (میرے مرشد۔ص:۱۴۲۔۱۴۳)
مجھے تو پکا یقین ہے کہ یہ انگریز جنہیں وضو کا طریقہ بھی نہیں آتا کسی خفیہ ایجنسی کے ایجنٹ تھے اور چادر والی سرکار کو گورے آقا کا کوئی پیغام دینے آئے تھے ’’صاحب ڈیوٹی درویش‘‘ کی اصطلاح کافی کچھ بتارہی ہے۔
ولی بھنگڑے ڈالتے ہیں
اے جشن ولاد ت مناون دا اللہ نے حکم فرمایا اے
جشن پاک تے دیکھو دیوانے نچدے ولیاں نے وی بھنگڑا پایا اے
(لاثانی کرنیں۔ص:۵۷)
لاثانی کی طرف سے نبوت کا دعوی
’’آپ ﷺ ان ہستی کی جانب سے اشارہ فرماکر کہتے ہیں کہ یہ میرے بیٹے ہیں یہ صدیقی لاثانی سرکار (فیصل آباد) ہیں جس نے انکو (صدیقی لاثانی سرکار صاحب) مانا اس نے مجھے ماناجس نے اس کے ساتھ محبت کی اس نے میرے (حضور ﷺ ) سے محبت کی جس نے ان سے انکار کیا یا حسد کیا درحقیقت اس نے میرا انکار کیا‘‘۔(نوری کرنیں۔ص:۴۱۲)
قارئین کرام! کیا یہ وہی دعوی نہیں جو مرزا قادیانی کرتا تھا کہ میرے آنے سے حضور ﷺ کے خاتم النبیین ہونے پر کوئی اثر نہیں پڑتا اس لئے کہ میں کوئی نیا نبی تو نہیں میں تو وہی ہستی ہوں جو آج سے ۱۴۰۰ سال پہلے عرب میں مبعوث ہوئے تھے آج یہی دعوی لاثانی کیلئے کیا جارہا ہے ہے کہ لاثانی سے انکار حضور ﷺ سے انکار ہے ان سے حسد حضور ﷺ سے حسد ہے ان سے محبت حضور ﷺ سے محبت ہے ،کہیں لاثانی محمد رسول اللہ کے دعوے کی طرف پیش قدمی تو نہیں کررہے ؟پھر حضور ﷺ کا انکار کفر ہے گویا لاثانیو ں کے ہاںلاثانی سرکار کا انکار کفر ہے ،یعنی اب حضور ﷺ کی رسالت کے ساتھ ساتھ لاثانی کی رسالت پر بھی ایمان لانا ہوگا ورنہ ایمان کا کوئی فائدہ نہیں ،میں کہتا ہوں کہ کیا یہ لاثانی کی نحوست تو نہیں اس لئے کہ لاثانی سے پہلے نجات کیلئے تما انبیاء علیہم السلام کے ساتھ حضور ﷺ کی رسالت پر ایمان لانا کافی تھا مگر اب لاثانی پر ایمان لانا بھی ضروری ہوگا اب نجات صرف حضور ﷺ کی رسات کے اقرار پرنہ ہوگی بلکہ لاثانی کی رسالت و نبوت کا بھی اقرار کرنا ہوگا۔
لاثانی کا ایک مرید لکھتا ہے کہ :
’’اس بات کو خواہ آپ کوئی ہی رنگ دیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضور ﷺ کا شرح صدر چالیس سال کی عمر میں ہوا اور جناب لاثانی سرکار صاحب کو بھی چالیس سال کی عمر میں دل کی تکلیف والا معاملہ پیش آیا‘‘۔(میرے مرشد۔ص:۴۶)
سب لوگ جانتے ہیں کہ۴۰ سال کی عمر میں نبی پاک ﷺ نے اپنی نبوت کا اعلان کیا تھا الفاظ کے ہیر پھیر کے باوجود ہر صاحب عقل سمجھ سکتا ہے کہ اس عبارت میں صوفی مسعود کو کس منصب پر بٹھایاجارہا ہے ۔
لاثانی سرکار کی بیعت انبیاء علیہم السلام کی بیعت
’’سرکار مدینہ ﷺ اور انبیاء کرام ؑ پر ہی موقوف نہیں،حضور نبی کریم ﷺ کے اہل بیت ؓ ، ازواج مطہراتؓ،خلفائے راشدینؓاور برزگان دین ؒ نے بھی حضرت لاثانی سرکار کے آستانہ عالیہ کو اپنا آستانہ عالیہ اور آپ کی بیعت کو درحقیقت اپنی بیعت فرمایا‘‘۔ (فیوض و برکات ۔ص:۲۵)
لاثانی کا چہرہ حضور ﷺ کا چہرہ
لاثانی کی ایک مریدنی کہتی ہے:
’’آج سے تقریبا بارہ سال پہلے کی بات ہے کہ مجھے آقائے نامدار حضور ﷺ کی زیارت پاک کا بہت شوق تھا،دل چاہتا تھا کہ زندگی میں ایک مرتبہ سہی حضور پر نور ﷺ اپنا دیدار کرادیں ،بے شک میرے آقا قارب و بعید کی سننے والے ہیں۔قربان جاؤںآپکی شان کریمی پر ایک رات عالم رویا میں اپنا نورانی جلوہ دکھایا۔آپ سرکار ﷺ مسکرارہے تھے اور وہ مسکراہٹ اتنی دلنشین تھی کہ میرے قلب و ذہن پر نقش ہوگئی ۔آپ نے فرمایا !
’’ہم محمد ﷺ ہیں‘‘
اس کے بعد آپ سرکار تو تشریف لے گئے لیکن میرے دل پر رخ والضحیٰ کے انمٹ نقوش رہ گئے،آج بار ہ سال گزرنے کے بعد بھی لگتا ہے ،جیسے کل ہی کی بات ہے اب جب میں آستانہ عالیہ آئی اور آپ کی تصویر مبارک پر نظر پڑی تو بارہ سال پہلے کا خواب یاد آگیا کیونکہ یہ تو وہی چہرہ ہے جس میں آپ ﷺ نے مجھے اپنا دیدار کروایا تھا ‘‘۔
(فیوض و برکات۔ص:۹۷)
قارئین کرام! آپ لاثانی سرکار کی تصویر دیکھ لیں اس کے چہرے پر جو نحوست ٹپک رہی ہے آقا ﷺ کے چہرہ مبارک کو لاثانی کے چہرے کی طرح کہنا حضور ﷺ کی کھلی توہین ہے۔
حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ کی توہین
’’حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کی جانب سے خاص کرم فرمایاگیا،باطنی خلافت عطا فرمائی گئی اور آپ کے آستانہ کو اپنا آستانہ فرمایا نیز آپ کو الذوالفقار کے تصرفات عطا فرمائے گئے ، نیز ارشاد فرمایا کہ جس کا یہ(صدیقی لاثانی سرکار) مولا اس کا علی مولا‘‘۔
(میرے مرشد۔ص:۵۶)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔