ہفتہ، 13 جولائی، 2019

بریلوی مذہب میں مروجہ قوالیوں و رقص پر ایک نظر

بریلوی مذہب میں مروجہ قوالیوں و رقص پر ایک نظر
تحریر:مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی حفظہ اللہ
(ماخوذ نواب احمد رضاخان حیات خدمات اور کارنامے ،ص۱۱۱۸تا۱۱۳۲)
شرابی اور بھنگ نوش ولی
اس کتاب میں ایک نام نہاد ولی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’بعض اوقات آپ اپنے آپے سے گزر جاتے اور جذب کی حالت میں شراب اور بھنگ پی بیٹھتے۔کبھی کبھی اللہ تعالی کی بارگاہ قرب کا شوق اتنا غالب آجاتاکہ
آپ ہلاکت کے قریب ہوجاتے اس وقت آپ سے شراب اور بھنگ کے شوق کا غلبہ اتر جاتااور آپ ہلاکت سے بچ جاتے گویا یہی شراب اور بھنگ آپ کیلئے دوا بن چکی تھی ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۸۱)
حضور ﷺ نے تو شراب کو حرام اقرار دیا بھنگ بھی حرام ہے ۔کیا اس کتاب کو منظو ر کرکے حضور ﷺ نے معاذاللہ شراب کو پھر سے حلال کردیا استغفر اللہ ۔خان صاحب بریلوی نے کتنا بڑا بہتان نبی کریم ﷺ کی ذات پر باندھا ۔نیز آج جو بھنگی موالی مزاروں پر شراب ،چرس،بھنگ پیتے ہیں ان پر آخر بریلوی کس منہ سے اعتراض کرتے ہیںیہ سب تو اس مقبول کتاب کی بنیاد پر ہورہا ہے ۔
گانا اور قوالیوں کا جواز
اس کتاب میں ہے :
’’یکے بعد دیگرے لوگوں نے نقل کیا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ کی مجلس میں گانا اور قوالی بکثرت ہوا کرتا تھا ۔اگرچہ گانا اور قوالی تمام خواجگان چشت قدس اللہ ارواحھم کا طریقہ اورروش ہے مگر آپ کے زمانہ میں اس کا بہت چرچا تھا اور حضرت امیر خسرو نے فنون موسیقی میں کچھ اور ہی بات پیدا کردی تھی ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۴۶)
’’المختصر آپ کی خانقاہ میں اکثر اوقات گانے اور قوالی کا سماں رہتا ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۴۷)
اس بکواس کو بھی ملاحظہ ہو :
’’منقول ہے کہ حضرت سلطان المشائخ کو پوربی پردہ ( ایک قسم کا گانا ) بہت پسند تھا ۔ ایک مرتبہ بعض حاضرین نے دریافت کیا کہ حضرت مخدوم پوربی پردہ بہت سنتے ہیں اور یہ آپ کو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے ۔فرمایا ہاں صحیح ہے ہم نے ندائے السبت بربکم اسی پردہ میں سنی تھی ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۵۰)
استغفر اللہ ! حضور ﷺ تو آلات موسیقی کو توڑنے کیلئے مبعوث کئے گئے تھے ۔آپ ﷺ نے گانے باجے کو حرام قرار دیا مگر ان بدبختوں کے بقول الست بربکم کی صدا بھی گانے کی صورت میں آتی ہے ۔
عبداللہ بن عمر ؄نے ساز بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنے کانوں میں اُنگلیاں دے دیں اور راستہ بدل لیا، دور جاکر پوچھا: نافع کیا آواز آرہی ہے؟ تو میں نے کہا: نہیں، تب انہوں نے انگلیاں نکال کر فرمایا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھا، آپ نے ایسی ہی آواز سنی تھی اور آواز سن کر میری طرح آپﷺ نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں تھیں"
(احمد،ابوداود،ابن حبان)
اسی کتاب میں قاضی حمید الدین کا واقعہ لکھا ہے کہ بغداد کے فقہا نے سماع کے خلاف فتوی دیا ہوا تھا ۔جس کا صاف مطلب ہے کہ وہ سماع غیر شرعی تھا تبھی فتوائے حرمت دیا ہوا تھا ۔ اب جب قاضی صاحب بغداد آئے تو :
’’بغداد میں اس وقت سات سو علما اہل فتوی موجود تھے جبکہ بغداد ہی میں قاضی حمید الدین کے ایک مرید تھے جو بڑے معزز اور صاحب ثروت تھے آپ انہیں کے مکان پر فروکش ہوئے مکان کا ایک حجرہ بند تھا آپ نے پوچھا کہ اس حجرہ میں کیا ہے ْجواب دیاک ہ بانسری بجانے والا میرا ایک دوست ہے جس کا یہی پیشہ ہے ۔قتل کے خوف سے ہم نے اسی حجرہ میں اسے بند کررکھا ہے۔ قاضی حمید الدین بہت خوش ہوئے اور کہا کہ اے بھائی میں توسماع کا شیدائی ہوں اس نئے نواز کو حجرہ سے نکالو اور کہو کہ بانسری بجائے (یہ وہ وقت تھا کہ ) حضرت جنید کے وصال کے دو سو سال گزرچکے تھے اور کسی نے بغداد میں سماع نہ سنا تھا،(آپ کے ارشاد پر) نے بجانے والا حجرہ سے باہر آیا اور نئے بجائی قاضی حمید الدین سماع میں مدہوش ہوگئے ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۴۴۱)
ڈھول باجے اور بریلوی مذہب
آج رضاخانی صاحبان میڈیا پر آکر ٹسوے بہارہے ہوتے ہیں کہ مزارات پر جو کچھ ہورہا ہے اس سے بریلوی مذہب کا کوئی تعلق نہیں ۔حالانکہ مزارات پر کیا ہوتا ہے ؟ یہی بھنگ ، چرس ، شراب ، رقص و سرور ،قوالی ،ناچ گانے۔ ان سب کا ثبوت سبع سنابل سے دے دیا گیا ہے ۔ مزید ثبوت ملاحظہ ہوں۔
ایک بریلوی ولی صاحب فرماتے ہیں:
’’سماع کے متعلق فرمایا میاں میں تو چشتی ہوں میرے کان میں تو ہر وقت ڈھولک کی آواز آتی ہے ‘‘۔
(فتح محمد ،ص۱۲۲)
اس کتاب کا مقدمہ مفتی منیب الرحمن کے مدرسے دارالعلوم نعیمیہ کے ناظم تعلیمات مولوی جمیل احمد نعیمی نے لکھا اور اس کتاب کی مکمل تائید و توثیق کی ہے ۔
بریلوی استاذ العلما جو موجودہ دور کے بڑے بڑے بریلوی مولویوں کے استاذ ہیں یعنی عطا محمد بندیالوی اس نے خرافاتی قوالی کے جواز پر پورا ایک رسالہ ’’قوالی کی شرعی حیثیت‘‘کے نام سے لکھا ہے ۔ اس میں موصوف مروجہ ڈھول ڈھمکا سازو باجے والے قوالی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہی مروجہ قوالی ہے جس سے مانعین کو انکار ہے حالانکہ یہ قوالی شعار دین ہے ‘‘۔
(قوالی کی شرعی حیثیت ،ص۲۸)
معاذاللہ ایک حرام کو ’’شعار دین ‘‘ کہنا صریح کفر ہے ۔مروجہ قوالیوں میں کیا کچھ نہیں ہوتا کس کو معلوم نہیں اسے شعار دین سے تعبیر کرنا اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوگی؟
مزید لکھتے ہیں :
’’صحابہ تابعین ،تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین نے قوالی مع مزامیر سنی ہے ‘‘۔
(قوالی کی شرعی حیثیت ،ص۲۷)
اس کے علاوہ اس پورے رسالے کا موضوع ہی ساز و آلات کے ساتھ قوالی کے جواز پر ہے اور موصوف کا دعوی ہے کہ ایسی سازوں والی قوالی صحابہ ،تابعین تبع تانعین سے لیکر ائمہ مجتہدین تک نے سنی ہے ۔العیاذباللہ۔
بریلوی عبد الحکیم شرف قادری اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں:
’’آخرالذکر رسالہ ’’قوالی کی شرعی حیثیت ‘‘ کو اس مقصد کے پیش نظر شائع کیا جارہا ہے کہ حضرت استاذ مکرم کی یہ تحریر محفوظ ہوجائے اور اہل علم آپ کے علوم و معارف سے استفادہ کرسکیں‘‘۔
(قوالی کی شرعی حیثیت ،ص۱۶)
یعنی بقول قادری صاحب آل رضاخانیہ کو چاہئے کہ بجائے بھانڈوں کا رد کرنے کے اپنے ان مولویوں کی ان خرافات سے استفادہ کرتے ہوئے ان مجالس کو منعقد کریں۔
حیرت ہے رضاخانی آج کس منہ سے اس کا انکار کررہے ہیں؟۔
مفتی منیب الرحمن کی پوری کیبنٹ نے یہ لکھا کہ :
’’کچھوچھ شریف کے علما یعنی شیخ المشائخ علامہ شاہ علی حسین صاحب اشرفی میاں ۔۔ آلات موسیقی کے ساتھ قوالی سنتے تھے ‘‘۔
(اصلاح عقائد و اعمال ،ص۵۴)
غرض بریلویوں کو قوالوں اور بھانڈوں اور پر رد و قدح کرنے سے پہلے اپنے گھرکے ان بھانڈوں کی خبر لینی چاہئے۔
اسی طرح مولوی منظور فیضی نے بھی اس کے جواز پر ایک رسالہ لکھا ہے اور اس میں وہ بدبخت لکھتا ہے :
’’صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ گاناباجاہادی عالم ﷺ کے گھر میں حضور ﷺ کی موجودگی میں ہوا ‘‘۔
(حلت سماع اور احادیث،ص۲)
العیاذباللہ نقل کفر کفر نہ باشد۔مزید بریلوی مذہب کا گند ملاحظہ ہو:
’’ایک حدیث میں آیا ہے کہ حبشی لوگ مسجد نبوی میں گارہے تھے دف بجارہے تھے ناچ رہے تھے آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو اوپر اٹھا کر یہ تماشہ دکھایا۔اس حدیث کی روسے بھی مسجد میں گانا،باجابجانااور ناچنا جائز ہوا‘‘۔
(مقابیس المجالس،ص۱۴۱)
راقم الحروف نے آج سے کئی سال پہلے بریلوی شیخ الاسلام طاہر القادری کی ایک ویڈیو کا جواب جس میں وہ رقص کا جواز پیش کررہے تھے لکھا تھا موقع کی مناسبت سے اسے یہاں پیش کررہا ہوں۔
مروجہ قوالیوں اور جاہل نام نہادصوفیاء کے رقص کے جواز پر
طاہر القادری صاحب کے دلائل کا تجزیہ
طاہر القادری صاحب کا یہ بیان جو ’’خطاب بھائی ‘‘ نے دیا ہے انگریزی زبان میں ہے جس کو ہم پورے طور پر سمجھنے سے قاصر ہیں البتہ تھوڑا بہت جو سمجھ آیا اور آپ لوگوں کے مراسلوں سے معلوم ہوا کہ طاہر القادری صاحب جیسا کہ اپنی محافل میں فاسق فاجر قوالوں کو بلاتے ہیں اس میں ’’مروجہ قوالی ‘‘ ہوتی ہے ان کے مرید ناچتے ہیں تو اس پر کسی نے اعتراض کیا ہوگا کہ یہ سب فعل حرام ہے تو وہ اس کا جواب دے رہے تھے اور کہہ رہے ہیں کہ آج لوگ صوفیاء کے رقص اور ناچ گانے کو حرام کہتے ہیں حالانکہ معاذ اللہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین حضور ﷺ کے سامنے رقص کیا کرتے تھے۔(معاذ اللہ)
جواب
اس سلسلے میں عرض ہے کہ آلا ت موسیقی کے ساتھ اشعار اور گانے گانا جس طرح کے آج مروجہ قوالیوں میں ہوتا ہے اس پر رقص کرنا تالیاں بجانا فقہاء کرام اور محدثین کرام کی تصریحات کے مطابق ناجائز اور حرام ہیں ۔
بعض حضرات نے قرآن پاک کی آیت ولاتمش فی الارض مرحا سے رقص کے حرام ہونے پر استدلال کیا ہے کہ اس لئے کہ اس میں بھی ایک قسم کا اترانا ہوتا ہے۔
واستدل بعض اہل العلم بقولہ تعالی ولا تمش فی الارض مرحا علی منع الرقص و تعاطیہ لان فاعلہ ممن یمشی مرحا
{اضواء البیان فی ایضاح القرآن بالقرآن ،ج۱۸،ص۲۹۲}
ہر مسلمان پران چیزوں سے بچنا لازم ہے جو لوگ آج کی مروجہ قوالی (جس میں آلات موسیقی کے ساتھ اشعار پڑھے جاتے ہیں ) اور رقص کودین اور ثواب کاکام سمجھتے ہیں وہ گمراہی میں تو یقینا ہیں بلکہ بعض فقہاء نے ایسے شخص پر کفر کا فتوی بھی لگایا ہے جیسا رد المختار میں ہے کہ :
قولہ و من یستحیل الرقص قالوا بکفرہ المراد بہ التمایل الخفض والرفع بحرکات موزونۃ کما یفعلہ بعض من ینتسب الی التصوف وقد نقل فی الزازیۃ عن القرطبی اجماع الامۃ علی حرمۃ ھذاالغناء وضرب القضیب والرقص ۔
قال: ورایت فتوی شیخ الاسلام جلال الملۃ والدین الکرمانی ان مستحل ھذا الرقص کافر وتمامہ فی شرح الوھابیۃ ونقل فی نور العین عن التمھید انہ فاسق لاکافر۔
{رد المختار ،ج۴،ص۲۱۳}
مندرجہ بالاعبارت سے معلوم ہوا کہ قوالی وغیرہ اور اس میں رقص کرنا نہ صرف حرام ہے بلکہ اس کو جائز سمجھنے والاکافر ہے اس قسم کے گانوں کے حرام ہونے پر اجماع امت نقل کیا گیا اور علامہ کرمانی رحمۃ اللہ علیہ نے تو رقص کو جائز کہنے والے پر بھی کفر کا فتوی لگایا ہے جیسا کہ مندرجہ بالا عبارت سے مصرح ہے۔
اسی طرح طحطاوی علی مراقی الفلاح میں بھی رقص تالیاں بجانے مزامیر بانسریاں بجانے بگل بجانے رباب وغیرہ جیسا کہ آج کل کے بدعتی صوفیوں کی محفلوں میں ہوتا ہے کو بالاجماع حرام کہا کہ یہ کافروں کے کرتوت ہیں۔
واما الرقص والتصفیق والصریخ و ضربالاوتاد الصنج والبوق الذی یفعلہ بعض من یدعی التصوف فانہ حرام بالاجماع لانھازی الکفار۔
{طحطاوی علی مراقی الفلاح ،ج۱،ص۲۱۵}
واما الرقص الذی یشتمل علی التثنی والتکسر والتمایل والخفض والرفع بحرکات موزونۃ فھو حرام و مستحلہ فاسق۔
{الفقہ الاسلامی وادلتہ ،ج۴،ص۲۱۳}
یہ بھی یادر ہے کہ رقص کی ایجاد سامری اور اس کے ساتھیوں نے کی تھی جب سامری نے ان کی عبادت کیلئے بچھڑا بناکر پیش کیا توانھوں نے اس کے گرد رقص کے عمل کامعمول بنالیا اور اسے بھی دین کا ایک کام سمجھنے لگے لہٰذا رقص کو بطور ثواب انجام دینا مفسرین کی تصریحات کے مطابق کفار کے ساتھ عبادات میں مشابہت کی وجہ سے بھی حرام ہوا۔
اما الرقص والتواجد فاول من احدثہ الصحاب السامری لما اتخذ لھم اجلا جسدا لہ خوار ،قاموا یرقصون حوالیہ ویتواجدون فھو دین الکفار وعبادۃ العجل واما القضیب فاول من اتخذہ الزنادقۃ لیشغلوا بہ المسلمین عن کتاب اللہ تعالی وانماکان یجلس النبی ﷺ مع اصحابہ کانما علی روسھم الطیر من الوقار۔
{اضواء البیان فی الضاح القرآن بالقرآن ،ج۲۱،ص۱۷۳}
امام طرطوسی سے کسی نے سوال کیا کہ آج کل بعض بدعتی صوفی جو رقص کرتے ہیں اور ان پر جو اس رقص کے دوران وجد وغیرہ آجاتا ہے اس کے بارے میں کیافتوی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ اس رقص کوسب سے پہلے سامری نے ایجاد کیالہٰذا یہ دین نہیں بلکہ بچھڑے کی عبادت اور کفار سے مشابہت ہے۔
و قال الامام ابو بکر الطرطوسی و سئل عن مذہب الصوفیۃ فقال:واما الرقص والتواجد فاول من احدثہ اصحاب السامری لما اتخذ لھم عجلا جسدا لہ خوار قاموا یرقصون حوالیہ ویتواجدو ن فھو دین الکفار وعباد العجل علی مایاتی۔
{التفسیر الموضوعی لسور القرآن،ج۵،ص۳۸}
امام قرطبی نے علماء کا قول نقل کیا ہے کہ قرآن پاک کی آیت ولا تمش فی الارض مرحا رقص کے حرام ہونے پر نص ہے اس لئے کہ رقص میں تو آدمی مرحاسے بھی زیادہ اتراتا ہے اور اکڑتا ہے:
الخامسۃ استدل العلماء بھذہ ا الایۃ علی ذم الرقص و تعاطیہ قال الامام ابو الوفاء بن عقیل قد نص القرآن علی النھی عن الرقص فقال ولا تمش فی الارض مرحا و ذم المختال والرقص اشدالمرح والبطر۔
{الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ،ج۱۰،ص۲۶۳}
کسی نے امام ابو بکر رحمۃاللہ علیہ سے بدعتی صوفیاء کی ایک مجلس کے متعلق سوال کیا کہ یہ لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں وہاں اللہ کا ذکر کرتے ہیں نبی کریم ﷺ پر درود سلام پڑھتے ہیں پھر مزامیر وغیرہ کے ساتھ گانا شروع کردیتے ہیں اور سب رقص کرنا شروع کردیتے ہیں حتی کے ناچتے ناچتے ان پر وجد کی ایسی حالت طاری ہوجاتی ہے کہ بے ہوہوشی کی حالت میں ہوجاتے ہیںگویا کہ ان پر غشی چھا گئی ہو اس کے بعد مجلس کے آخر میں کھانے پینے کی کوئی چیز لائی جاتی ہے جن میں سے بطور تبرک کے کھایا جاتا ہے ۔۔آیا ایسے لوگوں کی مجلس میں حاضر ہونا جائز ہے یا نہیں؟۔
تو حضرت امام رحمۃ اللہ علیہ نے ان بدعتی صوفیوں کی خوب خوب خبر لی اورکہا کہ رقص کو سب سے پہلے سامری نے ایجاد کیا اور مزامیر وغیرہ زندیقوں نے ایجاد کئے تاکہ مسلمانوں کو اللہ کی عبادت سے غافل کرسکیں یہ لوگ آج اچھل اچھل کر ناچتے ہیں اور ہڑبونگ مچاتے ہیں حالانکہ صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہ تو حضور ﷺکی مجلس میں اسقدر وقار سے اور اطمینان سے بیٹھے ہوئے ہوتے گویا ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوئے ہیں یہ بدعتی صوفی کس منہ سے ان کی پیروی کا دعوی کرتے ہیں۔مسلمانوں کے حاکم یا اسکے نائب پر لازم ہے کہ ایسی بدعتی اور جاہل لوگوں کو مسجدوں یادوسرے عوامی مقامات میں حاضر ہونے سے روکیں اور کسی شخص کیلئے جائز نہیں کہ جواللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتاہے کہ وہ ان کی مجلس میں حاضر ہویا ان کے اس باطل فعل پر کسی قسم کا تعاون کرے ۔یہی امام ابو حنیفہ امام شافعی امام مالک اور امام احمدبن حنبل رحمھم اللہ تعالی اجمعین کا مسلک و مذہب ہے۔
وسئل الامام ابو بکر الطرطوشی رحمہ اللہ مایقول سیدنا الفقیہ فی مذہب الصوفیۃ ؟واعلم حرس اللہ مدتہ انہ اجتمع جماعۃ من رجال فیکثرون من ذکراللہ تعالی وذکر محمد ﷺثم انھم یوقعون باالقضیب علی شیء من الادیم و یقوم بعضھم یرقص ویتواجد حتی یقع مغشیا علیہ ویحضرون شیئا یاکلونہ ھل الحضور معھم جائز ام لا؟افتوناماجرون۔
الجواب۔یرحمک اللہ مذھب الصوفیۃ بطالۃ و جھالۃ وضلالۃ وما الاسلام ولا کتاب اللہ وسنۃ رسول واما الرقص والتواجد فاول من احدثہ اصحاب السامری لما اتخذ لھم عجلا جسدا لہ خوار قاموا یرقصون حوالیہ ویتواجدون فھو دین الکفار وعباد العجل واما القضیب فاول من اتخذہ الزنادقۃ لیشغلو ا بہ المسلمین عن کتاب اللہ تعالی ۔وانما کان یجلس النبی ﷺمع اصحابہ کانما علی روسھم الطیر من الوقار،فینبغی للسلطان و نوابہ ان یمنعھم عن الحضور فی المساجد و غیرھا ولا یحل لاحد یومن باللہ والیوم الاخر ان یحضر معھم ولا یعینھم علی باطلھم ۔ھذا مذہب مالک و ابی حنیفۃ الشافعی و احمد بن حنبل و غیرھم من ائمۃ المسلمین باللہ التوفیق۔
{الجامع لاحکام القرآن ،ج۱۱،ص۲۳۷}
طاہر القادری صاحب اور ان کے ہمنوا بدعتی صوفی آج جن قوالیوں اور رقص وسرور کی محفلوں وجد کی کیفیتوں کو صحابہ کرام رضی اللہ تعالی عنہم اجمعین کی سنت ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کازور لگارہے ہیں بتائیں کیا اس عبارت اور فتوے کے بعدان کیلئے منہ چھپانے کی کوئی جگہ بچی ہے؟۔
پھر یہ رقص وغیرہ عورتوں کی مشابہت کی وجہ سے بھی حرام ہے حدیث میں ایسے لوگوں پر لعنت کی وعیدیں آئی ہیں۔پھر یہ بدعتی صوفیاء کہتے ہیں کہ اس رقص اور وجدکی کیفیت کی وجہ سے ہمارا رابطہ اللہ سے ہوجاتا ہے ہمارا دل اس کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے ۔۔۔علامہ آلوسی رحمۃ اللہ علیہ نے ایسے لوگوں کی خوب خبر لی ہے کہ رابطے کا یہ طریقہ حضور ﷺکے دل ودماغ میں کیوں نہ آیا صحابہ کرام کو اس کا خیال کیوں نہ آیا؟ حالانکہ ان کا زمانہ سب سے بہتر زمانہ رہا۔پس کیا ہی جھوٹے گمراہ لوگ ہیں۔علامہ آلوسی نے ان حرکات کو جہالت اور بے وقوفی سے تعبیر کیا ہے کہ ان لوگوں پر شیطان مسلط ہوچکا ہے جو ان کو اپنی راہ پر ہنکائے جارہا ہے۔
اما الرقص التصفیق فخفۃ و رعونۃ مشبھۃ برعونۃ الاناث لایفعلھا الا ار عن او متصنع کذاب و کیف یتاتی الرقص المتزن باوزان الغناء ممن طاش لبنہ و ذھب قلبہ و قد قال علیہ السلام خیر القرون قرنی ثم الذین یلوھم ثم الذین یلونھم ولم یکن احد من ھولاء الذین یقتدی بھم یفعل شیئا من ذالک وانما استحوذ الشیطان علی قوم یظون ان طربھم عند السماع انما ھو متعلق باللہ تعالی شانہ ولقد مانوافیما قالواوکذبوا فیما ادعوا۔
{تفسیر الآلوسی ،ج۱۵،ص۴۱۶}
و لعن رسول اللہ ﷺالمتشبھات من النساء بالرجال والمتشبھین من الرجال بالنساء ومن ھاب الالہ وادرک شیئا من تعظیمہ لم یتصور منہ رقص ولا تصفیق ولا یصدرالا من جاھل یدل علی جھالۃ فاعلھما ان الشریعۃ لم ترد بھما فی کتاب اللہ ولا سنۃ ولم یفعل ذالک احد من الانبیاء ولا معتبر من اتباعھم و انما یفعل ذالک الجھلۃ السفھاء الذین التبست علیھم الحقائق بالاھواء و قد قال اللہ تعالی ونزلنا علیک الکتاب تبیانا لکل شیء ولقد مضی السلف و افاضل الخلف ولم یلابسوا شیئا من ذالک فما ذاک الا غرض من اغراض النفس و لیس بقربۃ الی الرب جل و علا۔
{تفسیر آلوسی ،ج۱۵ ،ص ۴۱۷}
ان تمام عبارات سے یہ بات بھی روز روشن کی طرح ثابت ہوگئی کہ آج طاہر القادری صاحب اور بریلوی ٹبر جس چیز کو ثابت کررہے ہیں یا جیسا کہ آج جاہل صوفی جو رقص وغیرہ کرتے ہیں یہ کوئی نئی چیز نہیں ان آئمہ کے ادوار میں بھی بدعتی صوفیاء اس عمل کو سرانجام دیتے رہے ہیں اور اعلام امت نے ان جاہلوں اور ان کے دلائل کاخوب رد کیا اور ان کے اس نفسانی عمل کی خوب خوب خبر لی۔ اللہ تعالی ان پاک ہستیوں پر اپنی کامل رحمت فرمائے جنھوں نے ہر شعبے میں امت مسلمہ کی رہنمائی کافریضہ خوب سرانجام دیا۔
طاہر القادری صاحب کے دلائل کامختصر تجزیہ:
اس تمام تر تفصیل کے بعد ضرورت تو نہیں رہی کہ طاہر القادری صاحب کی پیش کردہ احادیث کاکوئی جواب دیاجائے مگر کسی سطحی ذہن والے کو مغاطہ نہ ہو اس لئے مختصرا اس کاجواب بھی سن لیجئے۔
پہلی حدیث جوانھوں نے مسند امام احمد بن حنبل سے نقل کی حبشہ کے لوگ حضور ﷺ کے سامنے رقص کررہے تھے معاذاللہ اس سے مروجہ رقص مرادلینا طاہر القادری صاحب کی جہالت بلکہ حدیث رسول ﷺ میں تحریف ہے۔
اس لئے کہ اول تو ان احادیث میں کہیں بھی طبلہ ڈھول سارنگی باجوں کا دور دور تک ذکر نہیں اور اس میں جو یزفنون وغیرہ کے الفاظ آئے ہیں ان کا بھی بالکل غلط مطلب طاہر القادری صاحب نے لیا ہے ۔
ثانیاشارحین نے اس حدیث کی شرح میں کھل کر یہ بات فرمائی ہے کہ اس حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ حبشہ کے لوگوں نے کوئی مجلس رقص مسجد نبوی ﷺ کے اندر منعقد کی تھی بلکہ وہ اسلحوں اور نیزوں سے جہاد میں استعمال ہونے والے کرتب دکھارہے تھے جس میں ایک مجاہد اسلحہ لے کر جھپٹ کر لیٹنے اور لیٹ کر جھپٹنے کے عمل کا مظاہرہ کیا کرتا تھا جس کی ظاہری حیثیت رقص کی طرح لگ رہی تھی لیکن کہاں طاہر القادری صاحب کی مجلس میں عورتوں کی طرح کا رقص اور کہاں ان مجاہدین کا میدان جہاد میں جنگی کرتبوں کا مظاہرہ کرنا؟ ان دونوں میں کیا نسبت اور مشابہت ہوسکتی ہے جس کی بنیاد پر حدیث سے استدلال کیا جارہا ہے۔
طاہر القادری صاحب کواللہ ہدایت دے کہ وہ یہ تو کہتے ہیں کہ اس حدیث کے راوی مسلم اور بخاری کے ہیں مگر مسلم شریف میں اس حدیث کی جو شرح ہے اسکو نقل نہیں کرتے اور وہ وہی ہے جو ہم نے اوپر نقل کی۔
یزفنون معناہ یرقصون و حملہ العلماء علی التوثب بسلاحھم و لعبھم بحرابھم علی قریب من ھیئۃ الرقص لان معظھم الروایات انما فیھا لعبھم بحرابھم فیتاول ھذہ اللفظۃ علی موافقۃ سائر الروایات۔
{مسلم ج۲ص۶۰۷}
جہاں تک دوسری حدیث کا تعلق ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت جعفر رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ نے ’’حجل ‘‘ کیا اور پھر اس کو طاہر القادری صاحب نے ایک ٹانگ سے ناچنے سے تعبیر کیا معاذ اللہ یہ بھی ان کی جہالت ہے اسلئے کہ اس کامطلب یہ ہے کہ وہ خوشی سے کچھ دیر ایک پاؤں پر کھڑے ہوکر چلنے لگ گئے جسے آج کل ہماری اردو زبان میں ’’خوشی سے اچھلنا‘‘ کے لفظ سے تعبیر کیا جاسکتا ہے مگر کہاں کچھ دیر کیلئے ایک پاؤں پر چلنا اور کہاں آج کل کا مروجہ رقص۔؟
ان دو احادیث سے طاہر القادری صاحب پہلے شخص نہیں ہیں جو استدلال کررہے ہیں بلکہ ان سے پہلے بھی جاہل صوفیوں اور مولویوں نے ان احادیث کو اپنے اس ناجائز عمل کیلئے دلیل بنانے کی کوشش کی تو علماء نے ان کا خوب رد کیا اور وہی جوابات دئے جو ہم نے نقل کردئے ہیں ملاحظۃ ہوں:
وقد احتج بعض قاصریھم بان رسول اللہ ﷺ قال لعلی انت منی وانا منک فحجل قال لجعفر اشبھت خلقی فحجل وقال لزید انت اخونا و مولانا فحجل ومنھم من احتج بان الحبشۃ زفنت والنبی ﷺ ینظر الیھم ۔
والجواب:اما الحجل فھونوع من المشی یفعل عند الفرج فاین ھو الرقص و کذالک زفن الحبشۃ نوع من المشی یفعل عند اللقاء للحرب۔{الجامع لاحکام القرآن للقرطبی ،ج۱۵،ص۲۱۵}
قال الشیخ احمد رحمہ اللہ والحجل ان یرفع رجلا و یقفر علی الاخری من الفرح فاذا فعلہ انسان فرحا بما اتاہ اللہ تعالی من معرفتہ او سائر نعمہ فلا باس بہ وما کان فیہ نتن و تکسر حتی یبیان اخلاق الدکور فھو مکروہ لما فیہ من التشبہ بالنساء۔
{الادب للبیھقی ،ج۱،ص۳۷۹}۔

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔