ہفتہ، 13 جولائی، 2019

کتاب سبع سنابل پر ایک نظر

کتاب سبع سنابل پر ایک نظر
از افادات :مولانا ساجد خان صاحب نقشبندی
نواب احمد رضاخان صاحب فاضل بریلی کے نظریات کتاب ’’سبع سنابل‘‘ کی روشنی میں
خان صاحب بریلوی اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں:
’’سید سادات بلگرام حضرت مرجع الفریقین ، مجمع الطریقین، حبر شریعت، بحر طریقت، بقیۃ السلف،حجۃ الخلف سیدنا و مولانا میر عبدالواحد حسینی زیدی واسطی بلگرامی قدس اللہ تعالیٰ سرہ السامی نے کتاب مستطاب سبع سنابل شریف تصنیف فرمائی کہ
بارگاہِ عالم پناہ حضور سید المرسلین ﷺ میں موقع قبولِ عظیم پر واقع ہوئی۔‘‘
(فتاویٰ رضویہ ج۲۸ ص۴۸۴-۴۸۵) نیز دیکھئے فتاویٰ رضویہ (ج۱۴ ص۶۵۷)
اور بریلوی محقق علامہ عبدالحکیم شرف قادری نے بھی لکھا:
’’سبع سنابل عمدہ ترین کتابے است در عقائدو تصوف … عظیم ترین امتیاز کہ سبع سنابل را حاصل شد این است کہ درگاہِ محبوب رب ا لعالمین ﷺ مقبول و منظور شد۔‘‘
(عظمتوں کے پاسبان ص۱۶، الممتاز پبلیکیشنز لاہور)
اس فارسی عبارت کا سلیس مطلب بھی یہی ہے کہ (میر عبدالواحد بلگرامی کی کتاب) سبع سنابل عقائد و تصوف کی عمدہ ترین کتاب ہے اور اس کا عظیم ترین امتیاز یہ ہے کہ رسول اللہﷺ کی بارگاہ سے قبول و منظور شدہ ہے۔
قصہ مختصر خان صاحب کے بقول میر عبد الواحد بلگرامی کی یہ کتاب ’’سبع سنابل‘‘ حضور ﷺ کی بارگاہ میں پیش ہوئی اور بارگاہ رسالت ﷺ میں مقبول و منظور ہوئی ۔اب ظاہر سی بات ہے کہ اس کتاب میں جس قسم کے نظریات مرقوم ہوں گے وہ رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں بقول بریلویہ مقبول و منظور ہوں گے اور حضور ﷺ کی بارگاہ میں منظور نظریات و عقائد ہی خان صاحب کے ہونے چاہئیں ۔اب ملاحظہ ہو اس کتاب کے حوالے سے خان صاحب کے خرافاتی نظریات۔
یاد رہے کہ ہمارے پاس ’’سبع سنابل‘‘ کا اردو ترجمہ ہے اور یہ ترجمہ معروف بریلوی عالم خلیل خان برکاتی نے کیا ہے ۔اور اسے فرید بک سٹال لاہور نے شائع کیا ہے ۔
عقیدہ ۱۸:
اللہ کا نبی ولی کی جوتوں کا نگہباں معاذاللہ
’’درویش نے جواب دیا کہ جس روز حضرت سلطان المشائخ کے یہاں مجلس سرود و سماع ہوتی ہے اس روز حضرت خضر علیہ السلام تشریف لاتے ہیں اور لوگوں کی جوتوں کی نگہبانی کرتے ہیں‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۴۷)
معاذاللہ یہ ایک نبی کی شان میں شدید گستاخی ہے۔ کیا کوئی رضوی یہ برداشت کرے گا کہ آج کے کسی بریلوی ملاٹو کی جوتوں کی نگہبانی احمد رضاخان بریلوی کے ذمہ لگائی جائے ؟ بریلوی مفتی اقتدار خان نعیمی نےتنقیدات میں اس حکایت کو گستاخانہ کہا ہے ۔
عقیدہ ۱۹:
نبی ﷺ کے والدین دوزخ میں
’’ایسا ہی حضور پر نور ﷺ کے والد ماجد کا واقعہ منقول و مروی ہے کہ ایک اعرابی نے نبی ﷺ سے سوال کیا کہ میرا باپ کہاں ہے ارشاد فرمایا ’’دوزخ‘‘ میں اس جواب سے حضور نے اس کے چہرہ پر کچھ خشونت محسوس کی تو ارشاد فرمایا کہ میرے والد ،تیرا باپ اور حضرت ابراہیم کا چچا ایک جگہ ہیں‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۹۱)
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بارے میں فرمایا :
ابراہیم خلیل اللہ آزر بت پرست سے پیدا ہوئے ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۹۴)
یاد رہے کہ بریلوی حضرات کے یہاں یہ تمام عقاید صریح کفریات اور انبیا ء علیہم السلام کی توہین پر مشتمل ہیں ۔ تفصیل کیلئے میری کتاب ’’آزر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے والد تھے بجوا ب آزر کون؟‘‘ کا مطالعہ فرمائیں۔
عقیدہ ۲۰:
شرابی اور بھنگ نوش ولی


اس کتاب میں ایک نام نہاد ولی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’بعض اوقات آپ اپنے آپے سے گزر جاتے اور جذب کی حالت میں شراب اور بھنگ پی بیٹھتے۔کبھی کبھی اللہ تعالی کی بارگاہ قرب کا شوق اتنا غالب آجاتاکہ آپ ہلاکت کے قریب ہوجاتے اس وقت آپ سے شراب اور بھنگ کے شوق کا غلبہ اتر جاتااور آپ ہلاکت سے بچ جاتے گویا یہی شراب اور بھنگ آپ کیلئے دوا بن چکی تھی ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۸۱)
حضور ﷺ نے تو شراب کو حرام اقرار دیا بھنگ بھی حرام ہے ۔کیا اس کتاب کو منظو ر کرکے حضور ﷺ نے معاذاللہ شراب کو پھر سے حلال کردیا استغفر اللہ ۔خان صاحب بریلوی نے کتنا بڑا بہتان نبی کریم ﷺ کی ذات پر باندھا ۔نیز آج جو بھنگی موالی مزاروں پر شراب ،چرس،بھنگ پیتے ہیں ان پر آخر بریلوی کس منہ سے اعتراض کرتے ہیںیہ سب تو اس مقبول کتاب کی بنیاد پر ہورہا ہے ۔
عقیدہ ۲۱:
گانا اور قوالیوں کا جواز
اس کتاب میں ہے :
’’یکے بعد دیگرے لوگوں نے نقل کیا ہے کہ حضرت سلطان المشائخ کی مجلس میں گانا اور قوالی بکثرت ہوا کرتا تھا ۔اگرچہ گانا اور قوالی تمام خواجگان چشت قدس اللہ ارواحھم کا طریقہ اورروش ہے مگر آپ کے زمانہ میں اس کا بہت چرچا تھا اور حضرت امیر خسرو نے فنون موسیقی میں کچھ اور ہی بات پیدا کردی تھی ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۴۶)
’’المختصر آپ کی خانقاہ میں اکثر اوقات گانے اور قوالی کا سماں رہتا ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۴۷)
اس بکواس کو بھی ملاحظہ ہو :
’’منقول ہے کہ حضرت سلطان المشائخ کو پوربی پردہ ( ایک قسم کا گانا ) بہت پسند تھا ۔ ایک مرتبہ بعض حاضرین نے دریافت کیا کہ حضرت مخدوم پوربی پردہ بہت سنتے ہیں اور یہ آپ کو بہت بھلا معلوم ہوتا ہے ۔فرمایا ہاں صحیح ہے ہم نے ندائے الست بربکم اسی پردہ میں سنی تھی ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۵۰)
استغفر اللہ ! حضور ﷺ تو آلات موسیقی کو توڑنے کیلئے مبعوث کئے گئے تھے ۔آپ ﷺ نے گانے باجے کو حرام قرار دیا مگر ان بدبختوں کے بقول الست بربکم کی صدا بھی گانے کی صورت میں آتی ہے ۔معاذاللہ۔
عبداللہ بن عمر ؄نے ساز بانسری کی آواز سنی تو انہوں نے اپنے کانوں میں اُنگلیاں دے دیں اور راستہ بدل لیا، دور جاکر پوچھا: نافع کیا آواز آرہی ہے؟ تو میں نے کہا: نہیں، تب انہوں نے انگلیاں نکال کر فرمایا کہ ایک دفعہ میں رسول اللہ ﷺکے ساتھ تھا، آپ نے ایسی ہی آواز سنی تھی اور آواز سن کر میری طرح آپﷺ نے اپنے کانوں میں انگلیاں دے لیں تھیں"
(احمد،ابوداود،ابن حبان)
اسی کتاب میں قاضی حمید الدین کا واقعہ لکھا ہے کہ بغداد کے فقہا ءنے سماع کے خلاف فتوی دیا ہوا تھا ۔جس کا صاف مطلب ہے کہ وہ سماع غیر شرعی تھا تبھی فتوائے حرمت دیا ہوا تھا ۔ اب جب قاضی صاحب بغداد آئے تو :
’’بغداد میں اس وقت سات سو علما ءاہل فتوی موجود تھے جبکہ بغداد ہی میں قاضی حمید الدین کے ایک مرید تھے جو بڑے معزز اور صاحب ثروت تھے آپ انہیں کے مکان پر فروکش ہوئے مکان کا ایک حجرہ بند تھا آپ نے پوچھا کہ اس حجرہ میں کیا ہے ْجواب دیاک ہ بانسری بجانے والا میرا ایک دوست ہے جس کا یہی پیشہ ہے ۔قتل کے خوف سے ہم نے اسی حجرہ میں اسے بند کررکھا ہے۔ قاضی حمید الدین بہت خوش ہوئے اور کہا کہ اے بھائی میں توسماع کا شیدائی ہوں اس نئے نواز کو حجرہ سے نکالو اور کہو کہ بانسری بجائے (یہ وہ وقت تھا کہ ) حضرت جنید کے وصال کے دو سو سال گزرچکے تھے اور کسی نے بغداد میں سماع نہ سنا تھا،(آپ کے ارشاد پر) نئے بجانے والاحجرہ سے باہر آیا اور نئے بجائی قاضی حمید الدین سماع میں مدہوش ہوگئے ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۴۴۱)
ڈھول باجے اور بریلوی مذہب
آج رضاخانی صاحبان میڈیا پر آکر ٹسوے بہارہے ہوتے ہیں کہ مزارات پر جو کچھ ہورہا ہے اس سے بریلوی مذہب کا کوئی تعلق نہیں ۔حالانکہ مزارات پر کیا ہوتا ہے ؟ یہی بھنگ ، چرس ، شراب ، رقص و سرور ،قوالی ،ناچ گانے۔ ان سب کا ثبوت سبع سنابل سے دے دیا گیا ہے ۔ مزید ثبوت ملاحظہ ہوں۔
ایک بریلوی ولی صاحب فرماتے ہیں:
’’سماع کے متعلق فرمایا میاں میں تو چشتی ہوں میرے کان میں تو ہر وقت ڈھولک کی آواز آتی ہے ‘‘۔
(فتح محمد ،ص۱۲۲)
اس کتاب کا مقدمہ مفتی منیب الرحمن کے مدرسے دارالعلوم نعیمیہ کے ناظم تعلیمات مولوی جمیل احمد نعیمی نے لکھا اور اس کتاب کی مکمل تائید و توثیق کی ہے ۔
بریلوی استاذ العلماء جو موجودہ دور کے بڑے بڑے بریلوی مولویوں کے استاذ ہیں یعنی عطاء محمد بندیالوی اس نے خرافاتی قوالی کے جواز پر پورا ایک رسالہ ’’قوالی کی شرعی حیثیت‘‘کے نام سے لکھا ہے ۔ اس میں موصوف مروجہ ڈھول ڈھمکا سازو باجے والے قوالی کے متعلق لکھتے ہیں:
’’یہی مروجہ قوالی ہے جس سے مانعین کو انکار ہے حالانکہ یہ قوالی شعار دین ہے ‘‘۔
(قوالی کی شرعی حیثیت ،ص۲۸)
معاذاللہ ایک حرام کو ’’شعار دین ‘‘ کہنا صریح کفر ہے ۔مروجہ قوالیوں میں کیا کچھ نہیں ہوتا کس کو معلوم نہیں اسے شعار دین سے تعبیر کرنا اس سے بڑی بدبختی اور کیا ہوگی؟
مزید لکھتے ہیں :
’’صحابہ تابعین ،تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین نے قوالی مع مزامیر سنی ہے ‘‘۔
(قوالی کی شرعی حیثیت ،ص۲۷)
اس کے علاوہ اس پورے رسالے کا موضوع ہی ساز و آلات کے ساتھ قوالی کے جواز پر ہے اور موصوف کا دعوی ہے کہ ایسی سازوں والی قوالی صحابہ ،تابعین تبع تانعین سے لیکر ائمہ مجتہدین تک نے سنی ہے ۔العیاذباللہ۔
بریلوی عبد الحکیم شرف قادری اس کتاب کے متعلق لکھتے ہیں:
’’آخرالذکر رسالہ ’’قوالی کی شرعی حیثیت ‘‘ کو اس مقصد کے پیش نظر شائع کیا جارہا ہے کہ حضرت استاذ مکرم کی یہ تحریر محفوظ ہوجائے اور اہل علم آپ کے علوم و معارف سے استفادہ کرسکیں‘‘۔
(قوالی کی شرعی حیثیت ،ص۱۶)
یعنی بقول قادری صاحب آل رضاخانیہ کو چاہئے کہ بجائے بھانڈوں کا رد کرنے کے اپنے ان مولویوں کی ان خرافات سے استفادہ کرتے ہوئے ان مجالس کو منعقد کریں۔
حیرت ہے رضاخانی آج کس منہ سے اس کا انکار کررہے ہیں؟۔
مفتی منیب الرحمن کی پوری کیبنٹ نے یہ لکھا کہ :
’’کچھوچھ شریف کے علماء یعنی شیخ المشائخ علامہ شاہ علی حسین صاحب اشرفی میاں ۔۔ آلات موسیقی کے ساتھ قوالی سنتے تھے ‘‘۔
(اصلاح عقائد و اعمال ،ص۵۴)
غرض بریلویوں کو قوالوں اور بھانڈوں پر رد و قدح کرنے سے پہلے اپنے گھرکے ان بھانڈوں کی خبر لینی چاہئے۔
اسی طرح مولوی منظور فیضی نے بھی اس کے جواز پر ایک رسالہ لکھا ہے اور اس میں وہ بدبخت لکھتا ہے :
’’صحیح حدیث سے ثابت ہوا کہ گاناباجاہادی عالم ﷺ کے گھر میں حضور ﷺ کی موجودگی میں ہوا ‘‘۔
(حلت سماع اور احادیث،ص۲)
العیاذباللہ نقل کفر کفر نہ باشد۔مزید بریلوی مذہب کا گند ملاحظہ ہو:
’’ایک حدیث میں آیا ہے کہ حبشی لوگ مسجد نبوی میں گارہے تھے دف بجارہے تھے ناچ رہے تھے آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ کو اوپر اٹھا کر یہ تماشہ دکھایا۔اس حدیث کی روسے بھی مسجد میں گانا،باجابجانااور ناچنا جائز ہوا‘‘۔
(مقابیس المجالس،ص۱۴۱)
عقیدہ ۲۲:
حضور ﷺ کی شفاعت سے انکار
مسلمانوں کا عقیدہ ہےکہ نبی کریم ﷺ یوم القیامۃ میں امتیوں کی شفاعت فرمائیں گے مگر اس کتاب کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو کہ شفاعت نبوی ﷺ کی کس طرح توہین کی گئی ہے :
’’ہم نے تو پیر کے نعمتوں کو اپنا پشت پناہ بنالیا ہے ۔ہمیں (کسی اور کی شفاعت سے ) مغفرت کی حاجت نہیں ‘‘۔
(سبع سنابل ،ص۱۵۲)
عقیدہ ۲۳:
توہین ہی توہین
اسی کتاب میں ایک واقعہ ملاحظہ ہو کہ کس قدر خرافات پر مشتمل ہے ۔
’’مختصر قصہ یوں ہے کہ حضرت شاہ مدار صاحب کا قیام کالپی شریف میں ایک مدت تک رہا اس وقت اس ولایت کا والی ایک نیک مرد تھا جس کا نام قادر بخش تھا جو درویشوں کی خدمت کرتا اور ٹوٹے دلوں کو سہارا دیتا اور فقیروں سے محبت رکھتا تھا۔اکثر اوقات شاہ مدار کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا مگر آپ کچھ توجہ نہ فرماتے اور نہ اس کو اپنے حضور حاضری کی اجازت دیتے وہ والی ہر بار لوٹ جاتا ایک روز قادر شاہ ملاقات کیلئے حاضر ہوا تو دیکھا کہ دو شخص شاہ مدار کے مکان میں گفتگو کررہے ہیں ۔یہ ایک اونچے گھوڑے پر سوار تھا گردن اٹھا کر دیکھا تو معلوم ہوا شاہ مدار صاحب اور ایک جوگی باہم بات چیت کررہے ہیں کہنے لگا یہ عجیب درویش ہیں کہ میں دین کی طلب میں ان کے پاس بار بار آتا ہوں مجھ سے ملاقات نہیں کرتے اور ایک جوگی سےکلام میں مشغول ہیں۔ یہ کہا اور لوٹ آیا ۔(یہ سن کر) اس جوگی نے کچھ ایسی حرکت کی کہ قادر شاہ کے بدن میں جگہ جگہ سفید دھبے پڑ گئے ۔قادر شاہ اپنے پیر کی خدمت میں جن کا نام شیخ سراج تھا حاضر ہوا اور ان سے تمام ماجرا بیان کیا ۔اور وہ سفید داغ دکھائے ۔شیخ سراج قدس اللہ روحہ نے اپنے لعاب ِ دہن ان داغوں پر مل دیا وہ داغ دور ہوگئے اور قادر شاہ تندرست ہوگیا ۔جب رات ہوئی تو شاہ مدار تلوار لئے نمودار ہوئے اور آپ نے چاہا کہ قادر شاہ کو ختم کردیں ۔حضرت شیخ سراج آئے کہ یہ تو ہمارا مرید ہے ۔بے گناہ کو کیوں مارتے ہیں ۔شاہ مدار نے فرمایا کہ اس نے مجھے تکلیف پہنچائی ہے ۔ شیخ نے فرمایا کہ یہ تو دین کی طلب کیلئے حاضر ہوتا تھا اس نے کوئی تکلیف نہیں پہنچائی ۔ دونوں حضرات میں تکرار بڑھ گئی کہ اتنے میں جناب رسول اللہ ﷺ تشریف لائے اور شاہ مدار سے منع فرمایا کہ اس بے گناہ کو مارنا چاہتے ہو یہ کون سی درویشی ہے ؟ حضرت شاہ مدار نے عرض کیا یا رسول اللہ درویش جب اپنی تلوار نیام سے نکال لیتا ہے کسی نہ کسی پر ضرور چلاتا ہے ۔اب کہ میں اپنی تلوار کھینچ چکا ہوں کس پر چلاؤں ؟شیخ سراج نے فرمایا تمہارے اس وار کو میں اپنے اوپر لیتا ہوں لیکن اپنے مرید کو کوئی تکلیف پہنچانا مجھے پسند نہیںن۔شاہ صاحب نے فرمایا اچھا تو ہم نے تمہیں سوخت کردیا۔ شیخ سراج نے فرمایا کہ ہم نے تمہارے مریدوں کو گمراہ کیا ۔ شاہ مدار نے فرمایا کہ میں نے گنتی کے چند آدمی مرید کئے ہیں اور آج کی تاریخ سے کسی کو مرید بھی نہیں کروں گا رہی خلافت وہ میں نے نہ کسی کو دی ہے اور نہ اب دوں گا ۔چنانچہ شیخ سراج کے باطن میں کچھ سوزش شروع ہوئی اور آپ تمام عمر اس میں مبتلا رہے ۔اسی لئے ان کو شیخ سراج (سوختہ) کہا جاتا ہے ۔ (سراج بمعنی چراغ ،سوختہ بمعنی جلاہوا)۔
لیکن شاہ مدار کے وہ چند مرید بغیر رخصت ،بغیر اجازت اور بغیر خلافت کے مرید کرتے تھے اور سلسلہ بڑھاتے تھے اور اپنا خلیفہ بناتے ،یہی ان کی گمراہی ہے ۔۔۔جب حضرت شاہ مدار کی رحلت کا وقت قریب آیا تو آپ نے اپنی فراست باطنی سے جاناکہ میرے مرید ایک عارف کے گمراہ کئے ہوئے ہیں ‘‘۔
(سبع سنابل،ص۱۱۳،۱۱۴)
یہ واقعہ اول تا آخر خرافات اور مقدس شخصیات کی توہین پر مبنی ہے ۔
اول اگر شاہ مدا ر ایک ولی ہے تو یہ ولی کی کس قدر توہین ہے کہ اس کے پاس ایک آدمی دین سیکھنے کیلئے آتا ہے اس کی طرف تو توجہ نہیں کرتا اور ایک ہندو پلید جوگی اس کے پاس آتا ہے تو اس کے ساتھ گپوں میں لگ جاتا ہے ۔
ثانیا والی قادر بخش بالکل بے گناہ تھا جیسا کہ اس واقعہ میں موجود ہے اس پر اپنی ذات کیلئے تلوار نکالنا اور اس کے قتل کا ارادہ کرنا گناہ کبیرہ اور فعل حرام ہے جو کسی ولی سے متصور نہیں ۔
قرآن کا فرمان یہ ہے :
وَمَن يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُّتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا
(سورۃ النسا،آیت ۹۳)
اور جو شخص کسی مسلمان کو قصداً قتل کرے تو اس کی سزا دوزخ ہے کہ مدتوں اس میں رہے گا اور اس پر اللہ غضب ناک ہوگا اور اس پر لعنت کرے گا اور اس نے اس کے لیے زبردست عذاب تیار کر رکھا ہے۔
نبی ﷺ کا فرمان ہے :
عَنْ عَبْدِ اﷲِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم : قَتْلُ الْمُوْمِنِ أَعْظَمُ عِنْدَ اﷲِ مِنْ زَوَالِ الدُّنْيَا.
(نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم،۷:۸۲،۸۳)
’’حضرت عبد اﷲ بن بریدہ ؄اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا: مومن کو قتل کرنا اللہ تعالیٰ کے نزدیک تمام دنیا کے برباد ہونے سے بڑا ہے۔‘‘
عقیدے کے امام ماتریدی فرماتے ہیں:
من استحل قتل نفس حَرَّمَ اﷲ قتلها بغير حق، فکأنّما استحل قتل الناس جميعًا، لأنه يکفر باستحلاله قتل نفس محرم قتلها، فکان کاستحلال قتل الناس جميعًا، لأن من کفر بآية من کتاب اﷲ يصير کافرًا بالکل. ... وتحتمل الآية وجها آخر، وهو ما قيل: إنه يجب عليه من القتل مثل ما أنه لو قتل الناس جميعًا. ووجه آخر: أنه يلزم الناس جميعا دفع ذلک عن نفسه ومعونته له، فإذا قتلها أو سعی عليها بالفساد، فکأنما سعی بذلک علی الناس کافة. ... وهذا يدل أن الآية نزلت بالحکم في أهل الکفر وأهل الإسلام جميعاً، إذا سعوا في الأرض بالفساد.
(تاويلات أهل السنة،۳:۵۰۱)
’’جس نے کسی ایسی جان کا قتل حلال جانا جس کا ناحق قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر رکھا ہے، تو گویا اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ ایسی جان جس کا قتل حرام ہے، وہ شخص اس کے قتل کو حلال سمجھ کر کفر کا مرتکب ہوا ہے، وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ جو شخص کتاب اللہ کی ایک آیت کا انکار کرتا ہے وہ پوری کتاب کا انکار کرنے والا ہے۔ ... یہ آیت ایک اور توجیہ کی بھی حامل ہے اور وہ یہ کہ کہا گیا ہے کہ کسی جان کے قتل کو حلال جاننے والے پر تمام لوگوں کے قتل کا گناہ لازم آئے گا (کیونکہ عالم انسانیت کے ایک فرد کو قتل کرکے گویا اس نے پوری انسانیت پر حملہ کیا ہے)۔ ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ تمام لوگوں پر لازم ہے کہ اجتماعی کوشش کے ساتھ اس جان کو قتل سے بچائیں اور اس کی مدد کریں۔ پس جب وہ اس کو قتل کر کے فساد بپا کرنے کی کوشش کرے گا تو گویا وہ پوری انسانیت پر فساد بپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ ... اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت اس حکم کے ساتھ تمام اہل کفر اور اہل اسلام کے لئے نازل ہوئی ہے جبکہ وہ فساد فی الارض کے لئے سرگرداں ہو۔‘‘
ایسا گناہ کبیرہ اور فعل حرام کرنے والے کو کسی صورت اللہ کا ولی نہیں کہاجاسکتا۔
ثالثا:شاہ مدار جن کا اس واقعہ میں ذکر کیا جارہا ہے ان کی دریدہ دہنی اور بے باکی ملاحظہ ہو کہ نبی کریم ﷺ فرمارہے ہیں کہ تلوار اندر رکھو کیوں ایک بے گناہ کو قتل کررہے ہو ؟ حضور ﷺ اس فعل شنیع سے منع فرمارہے ہیں شاہ مدار صاحب بجائے شرمندہ ہونے کے اور حضور ﷺ کے فرمان عالیشان کے آگے سرتسلیم خم کرنے کے بجائے الٹا بدمعاشی اور دھمکیوں پر اتر آئے کہ ولی کی تلوار ایک دفعہ نیام سے نکل آئے تو پھر خالی واپس نہیں جاسکتی ۔قرآن کہتا ہے :
وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا
(سورۃ الاحزاب ،آیت ۳۶)
کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو جب اللہ اور اس کے رسول کسی معاملے میں فیصلہ کر دیں اپنے معاملات میں کوئی حق نہیں رہتا۔
جب اللہ کے رسول ﷺ نے فیصلہ کردیا تھا کہ قتل نہ کرو تو کس مومن کی جرات کہ وہ آگے سے زبان چلائے ؟ ہائے کاش آج عمر فاروق؄ زندہ ہوتے تو اس نیام سے نکلی ہوئی تلوار کا صحیح فیصلہ کرتے ۔ ہمارے نزدیک یہ سرادر نبی کریم ﷺ کی توہین اور مقدس شخصیات پر الزام تراشی ہے ۔
خامسا:پھر ان شاہ مدار نے ایک اور گناہ کیا کہ ایک اور اللہ کے ولی شاہ سراج کے جسم میں سوزش پیدا کردی ۔ یہ حرکت دو گناہوں کا مجموعہ ہے ایک تو اسلامی کے مسلمہ قانون یعنی جس کا گناہ اسی کو سزا اگر بالفرض گناہ قادر بخش کا تھا تو اس کی سزا شیخ سراج کو دے کر اس قانون کو توڑا گیا ہے ۔ دوسرا گناہ کہ اگر شیخ سراج اللہ کے ولی تھے تو ان کو تکلیف پہنچانے والاشیطان ہوسکتا ہے اللہ کا ولی نہیں۔
سادسا: اس واقعہ کے آخر میں کہا گیا کہ شیخ سراج نے شاہ مدار کے مریدوں کو گمراہ کردیا۔ معاذاللہ یہ کس قدر الزام تراشی ہے اللہ کے ولی تو بھٹکے ہوؤں کو سیدھی راہ دکھاتے ہیں مگر بریلویوں کے ولی سیدھی راہ والوں کو گمراہ کررہے ہیں ۔مسلمانوں کو گمراہ کرنا شیطان کا کام ہوسکتا ہے کسی ولی کا نہیں۔ لہذا آج تک مداری سلسلے کے جتنے لوگ گمراہ ہوئے ان سب کا وبال اس شیخ سراج پر ہے۔ کل کو اگر مداری جہنم میں جائیں گے تو شیخ سراج اس جہنمی قافلے کا سالار ہوگا۔
سابعا: یہ بھی معلوم ہوا کہ شاہ مدار ہر گز ولی نہیں تھا کیونکہ اسی واقعہ کے آخر میںلکھا ہے کہ اس کے مرید شاہ مدار کی اجازت کے بغیر لوگوں کو مرید و خلیفہ کررہے تھے ظاہر یہ ایک کھلا ہوا فراڈ ہے جو کسی ولی اللہ کے صحبت یافتہ نہیں کرسکتے ایسے فراڈ فراڈیوں کے ہم نشین کرتے ہیں۔
قارئین کرام ! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ یہ قصہ کس قدرخرافات پر مشتمل ہے ۔مگر خان صاحب کی دیدہ درہنی اللہ کے رسول ﷺ اور ولیوں کی دشمنی کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس واقعہ کو بالکل درست قرار دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’الجواب:حضرت شاہ بدیع الدین مدارقدس سرہ الشریف اکابراولیائے عظام سے ہیں،مگر ولی ہونے کو یہ ضرورنہیں کہ اس سے سلسلہ بیعت بھی جاری ہو۔ہزاروں صحابہ کرام رضی اﷲ تعالٰی عنہم میں صرف چندصاحبوں سے سلسلہ بیعت ہے،باقی کسی صحابی سے نہیں۔پھر ان کی ولایت کو کس کی ولایت پہنچ سکتی ہے۔اس خاندان کاجوسلسلہ اکابرمیں چلاآیاہے وہ محض تبرك کے لئے ہے۔جیسے حدیث شریف کاسلسلہ،باقی افاضہ کااجراء اس سے نہ ہوا،جیساکہ حضرت سیدنامیرعبدالواحد بلگرامی قدس سرہ السامی نے سبع سنابل شریف میں فرمایا:توجسے بیعت صحیحہ سلاسل نافذہ منفقہ میں ہو وہ اپنے مشائخ سے تبرکًا اس سلسلہ کی بھی سندلے لے توحرج نہیں،اوراسی پراکتفاء،اورخصوصًا اہل فسق جواکثر اس سلسلہ کاغلط نام بدنام کرنے والے ہیں ان سے رجوع،یہ باطل اورممنوع ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم‘‘۔
(فتاوی رضویہ ،ج۲۶،ص۵۵۷)
اسی واقعہ کی عبارت کو ان الفاظ میں نقل کرتے ہیں:
’’الجواب:
بے اصل وبے سروپاباتیں ہیں جن کاکہیں پتانہیں،سبع سنابل شریف میں ہے:حضرت مدارصاحب قدس سرہ نے فرمایاہے: خلافت نہ کسے دادہ ام نخواہم داد،میں نے خلافت نہ کسی کودی ہے نہ آگے دوں۔واﷲ تعالٰی اعلم‘‘۔
(فتاوی رضویہ ،ج۲۶،ص۴۳۵)
بعد کے بریلویوں نے خان صاحب کی ایسی اندھی تقلید کی کہ سبع سنابل کے اس واقعہ کو من و عن صحیح تسلیم کرتے ہوئے ’’سلسلہ مداریہ ‘‘ کے سوخت ہونے کا فتوی جاری کردیا۔ سلسلہ مداریہ کی گمراہی اور کفر کے فتوے جاری کئے گئے۔ملاحظہ ہو:
’’فیصلہ شرعیہ دربارہ مداریہ‘‘
اس کے جواب میں مدارسی سلسلہ کے لوگوں نے دو کتابیں لکھیں:
’’صاعقہ بر خرمن مفتیان رضویہ :ناشرانجمن تحفظ سلسلہ مداریہ شاخ بمبئی ‘‘
’’سلسلہ مداریہ :مولف مولانا محمد قیصر رضا علوی مداری :ناشر المجمع المداری جھہبراؤں شریف پوسٹ سواڈانڑ ضلع سدھارتھ نگر یوپی ‘‘۔
یاد رہے کہ ہمارا یہ سارا تبصرہ اس خرافاتی حکایت کی بنیاد پر ہے ورنہ ہم شاپ بدیع الدین مدار علیہ الرحمۃ کو اس قسم کی خرافات سے مبرا سمجھتے ہیں۔
عقیدہ ۲۴:
حضرت داود علیہ السلام پر صریح بہتان و گستاخی
اسی کتاب میں ایک جلیل القدر نبی کی یہ لرزہ خیز گستاخی کی گئی:
’’مرو ی ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام بحالت رقص تابوت سکینہ کی طرف متوجہ ہوئے تو آپ کی زوجہ نے عرض کیا کہ آپ رقص کرتے ہیں حالانکہ آپ نبی ہیں ۔ارشاد فرمایا کیا تومیرے دل کی محویت اور عالم بے خودی پر حکم لگاتی ہے جا میں نے تجھے طلاق دی ‘‘۔
(سبع سنابل،ص۳۶۱)
ایک نبی رقص جیسی بے ہودہ گوئی کررہا ہے اور جب اس کی بیوی اس پر تعجب کا اظہار کرے تو اس بیچاری کو طلاق دے دی جائے ۔کیا اس قسم کی خرافات نقل کرتے ہوئے بریلویوں کے قلم پر لرزہ طاری نہیں ہوتا؟ حقیقت یہ ہے کہ خان صاحب بریلوی کو اس کتا ب میں اپنے گندے نظریات کا آئینہ نظر آرہا تھا اس لئے یہ شوشہ چھوڑا کہ مقبول بارگاہ نبوی ﷺ ہے ۔معاذاللہ۔
(ماخوذ کتاب :نواب احمد رضاخان بریلوی حیات ،خدمات اور کارنامے غیر مطبوعہ ،ص۱۱۱۶تا۱۱۳۲)

0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

نوٹ: اس بلاگ کا صرف ممبر ہی تبصرہ شائع کرسکتا ہے۔